آخری قدم آو، آج تمھیں ایک بہت اچھلے آدی کا حال سنائیں جسے اس کے جیتے ہی میرے لوگ برا برا کہتے تھے اور مرنے کے بعد بھی اس کی نیکی کا حال بس وہی جانتے ہیں جن کے ساتھ اس نے بھلائی کی تھی۔ اور شاید بعضے تو ان میں سے بھی بھول گئے ہوں گے۔ اس نیک آدمی کے پاس بڑی دولت تھی مگر یہ ان لوگوں میں تھا جو اپنے دھن دولت کو اپنا نہیں سمجھتے بلکہ اللہ میاں کی امانت جانتے ہیں، جو بس اس لیے ان کے سپرد کی جاتی ہے کہ اسے اس کے بندوں پرظرف کریں۔ خود ان کی أجرت یہ ہے کہ اس میں سے یہی بس موٹا جھوٹا پہن لیں اور دال دلیا کھا کر گزر کر لیں۔ ہاں، تو یہ نیک آدی بھی اپنی دولت سے خود بہت کم فائدہ اٹھاتا تھا۔ ایک صاف سے مگر بہت چھوٹے مکان میں رہتا تھا۔ گزی گاڑھے کے بہت معمولی کپڑے پہنتا تھا۔ اور کھانے کا کیا بتاؤں بھی چنے چاب لیے بھی متکا کی کھیلیں کھالیں۔ ایک وقت ہنڈیا پڑھی تو تین وقت کے کھانے کا انتظام ہو گیا۔ دوست احباب میں اس کے حال کی خبری طرح طرح سے اسے کھیل تماشوں میں رنگ رلیوں میں گھسیٹنا چاہتے تھے مگر یہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ بہانا کرکے ٹال دیتا تھا۔ آخر کوسب سے بڑا کنویں مشہور ہو گیا۔ اس کے دوست اسے میاں بھی چوں‘‘ کہا کرتے تھے۔ بعض دوست اس کی دولت کی وجہ سے جلتے تھے۔ وہ اسے اور بھی چھیڑتے اور بدنام کرتے تھے۔ مگر بیریشن کا پکا تھا۔ برابر چھپ چھپ کر چپ چپاتے اپنی دولت سے کسی نیست کی مدد کرتا ہی رہتا تھا، اور اس طرح کہ سیدھے ہاتھ سے دیتا تو الٹے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی اور زبان پرذکر آنے کا تو ذکر ہی کیا۔ نہ جانے کتنی بیوائیں اس کے روپے سے لیتی تھیں ! کتے یتیم اس کی مدد سے پڑھ پڑھ کر اچھے اچھے کاموں سے لگ گئے تھے۔ کتنے مدرسے اس کی سخاوت سے چل رہے تھے۔ کتے قومی کام کرنے والوں کو اس نے روٹی کپڑے سے ہے فل کر دیا تھا اور وہ یکسوئی سے اپنی اپنی دھن میں لگے ہوئے تھے۔ کئی شفاخانوں میں دوا کا سارا خرچ اس نے اپنے سر لے لیا تھا اور ہزاروں ڈھی پیاروں کو لے جانے اس کے روپے سے روز آرام پہنچتا تھا لیکن مشہور تھا 126 اپنی زبان کوئی اس پر ہنستا تھا کوئی خفا ہوتا تھا سب سے بڑا وہی کنویں ھی چوں، دنیا کا کتا نہ اپنے کام آئے نہ کسی اور کے آوئی کتناہی نیک ہو، دوسروں کے ہردم برا کہنے سے، بی ڈکستانی ہے۔ اس کے دل کو بھی بھی بھی بڑی فیس لگتی بھی جھنجھلاتا تھا، آنکھوں میں آنسو جھر جھر آتے تھے مگر پھر صبر کر لیتا تھا۔ اس کے پاس ایک خوب صورت سی کتاب تھی، چکنا چکنا موٹا کاغذ، نیلے کپڑے کی شیک کیا جلد۔ پشتے پہرے حرفوں میں لکھا ہوا حساب امانت‘‘۔ اس کتاب میں ہی اپنا پیسے پیسے کا حساب کھا کرتا تھا۔ جس کو بھی کچھ دیا تھا سب اس میں درج تھا۔ کہیں کہیں کیفیت کے خانے میں بڑی دلچسپ باتیں لکھی گئی تھیں ۔کسی یتیم کو پڑھنے کے لیے وظیفہ دیا ہے۔ 15 سال بعد تاریخ دے کر کیفیت کے خانے میں درج ہے اب احمد آباد میں ڈاکٹر ہیں اور وہاں کے یتیم خانے کے ناظم ‘‘کتابوں کے ایک کاروبار کو تخت پریشانی کے زمانے میں دو ہزار روپے دیے ہیں۔ کئی سال بعد کیفیت کے خانے میں لکھا ہے۔ آج خط آیا ہے کہ انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک نہایت صاف اور سادہ زبان میں لکھوا کر ایک لاکھ سے طلبہ میں مفت تقسیم کیے ہیں ۔ خدا جزائے خیر دے۔‘دتی کے ایک مدرسے کو ایسے وقت کہ اس کا کوئی مددگار نہ تھا دس ہزار روپے دیے تھے۔ اندراج رقم کے سامنے کیفیت میں لکھا تھا۔ سالانہ رپورٹ پڑھی۔ ہر صوبے میں اس کی ایک ایک شاخ قائم ہوگئی ہے۔ اس صوبے میں تو گاوں میں تعلیمی مرکز قائم کر دیے ہیں۔ یہ کام نہ ہوتا تو اس ملک میں مسلمانوں کی تدفی 127 آخری قدم و قار سے جمعرات کو کیسے لینا یا اس سے اسے بیان ہستی بھی کی ختم ہو چکی تھی ۔‘‘ اسی قسم کے بے شماراندراجات تھے۔ اس کتاب کو پیداکثر شا کر پڑھنے لگتا تھا۔ خصوصا جب کسی نادان دوست کی زبان سے دل دکھتا تو ضرور اس کتاب کی ورق گردانی کی جاتی تھی۔ اسے دیکھ کر بھی بھی مسکراتا بھی تھا۔ اس کا ارادہ تھا کہ مرتے وقت یہ کتاب ان لوگوں کے لیے چھوڑ جائوں گا جو عمر بھر مجھے پہچانے بغیر میرا دل دکھاتے رہے۔ اس ارادے سے اسے بڑی تسکین ہوتی تھی۔ سونار کی ایک لوہار کی۔ انھوں نے ہزار دفعہ میرابی خون کیا ہے۔ میں ایک دفعہ میں ایسا شرماؤں گا کہ بس سرنا ٹھے گا۔ یہ سوچا تھا اور خوش ہوتا تھا۔ ہوتے ہوتے بڑھاپا آن پہنچا۔ بدن جواب دینے لگا۔ روز کوئی نہ کوئی بیماری کھڑی ہے۔ ایک دفعہ دسمبر کا مہینہ تھا۔ سخت بیمار ہوا۔ بخار اور کھائی۔ ایک دن ، دودن، تیسرے دن سینے میں سخت درد شروع ہوا۔ کوئی دوپہ غفلت رہی۔ ہوش آیا تو سانس لینے میں بھی تکلیف ہوتی تھی۔ نمونیا کا حملہ تھا اور سخت حملہ شام سے حالت غیر ہونے لگی۔ بار بارغفلت ہو جاتی۔ تھوڑی دیر کو ہوش آتا، پھر غفلت۔ کوئی چار بجے کے قریب ہوش آیا تو اس کی سمجھ میں آ گیا کہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے جو سب کے لیے آتا ہے اور جس سے کوئی بھاگ کر نہیں سکتا۔ ہے۔ ایک دن اور مجال چارپائی کے پاس ہی میز پر وہ نیلی خوب صورت کتاب ’’ حساب امانت رکھی تھی جسے ابھی بیماری میں بھی دو دن پہلے اٹھا کر پڑھا تھا۔ چند لے اس کی طرف غور سے دیکھا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ایسے کہ تھمتے ہی نہ تھے۔ کتاب کی طرف ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھانا چاہا۔ کئی مرتبہ کی کوشش میں اسے مشکل سے اٹھا پایا۔ پھر کچھ سوچ میں پڑ گیا۔ بی عظیم الشان گھڑی اور یہ چھوٹا خیال.................. ان کو شرما کر مجھے کیا ملے گا....................... تو اپنا کام کر * اپنی زبان چلا................. اپنے کام سے کام .................. منزل آ پچی................ آخری قدم کیوں ڈگمگائے؟................ دونوں ہاتھوں میں کتاب تھالی ہاتھ تھر تھرارہے تھے جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ اٹھایا ہو۔ بڑی مشکل سے تکیے پر سے سبھی کچھ لٹایا اور اتواں جسم کی ساری آخری قوت صرف کر کے کتاب کو اس پاس والی بڑی گیٹھی میں پھینک دیا جس میں کوئی ڈھائی کے نوکر نے بہت سے کر کے ڈالے تھے اور میاں کو سوتا جان کر دوسرے کمرے میں جا کر سو گیا تھا۔ کتاب جلنے گی۔ اس کی نظر اسی پر بھی تھی۔ جلد کے جلنے میں دی گئی۔ پھر اندر کے کاغذوں میں آگ لگی تو ایک شعلہ آھا۔ اس کی روشنی میں اس کے ہونٹوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ دکھائی دی اور چہرے پر عجیب اطمینان۔ ادھر موڑن نے اشهد ان محمد الأشول الله کہا۔ اور نیکیوں کے اس کا رواں سالار کی رسالت کے اعلان کے ساتھ ہی اس کی امت کے اس نیک راہرو نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیں۔ ڈاکٹر ذاکر حسین 129 آخری قدم معنی یاد کیجیے بہتیرے .. پردکرنا .. . اجرت موٹا جھوٹا دال دلیا : بہت سارے : حوالے کرنا : بدلے، معاوضہ : بہت معمولی، جوستنا ہو : معمولی کھانا : معمولی طریقے سے زندگی گذارنا : ایک ستم کا معمولی موٹا کپڑا : میل کی جمع، بھنا ہوا اناج جو کر پھول گیا ہو گذر کرنا گزی گاڑھ میں : ساھی ، دوست احباب رنگ رلیاں دھن کا پکا ہونا ( محاوره) کھی چوں پچپاتے سخاوت : عیش و عشرت : ارادے کا پکا ہونا : بہتی گنجوں : خاموشی کے ساتھ، چھپ کر کسی کو بتائے بغیر : ضرورت مندوق دار : دوسروں پر زیادہ خرچ کرنا، در یادگی : قوم کی بھلائی کے کام : بہت توجہ کے ساتھ، اطمینان : نے لینا : ناراض : کی پنچا : نازک ہلکی قومی کام یکسوئی سے سرلینا Otto خفا میں گنا . * اپنی زبان * * * * * شارخ تتنی ہستی : وہ چھڑایا کپڑا جس میں کتاب کے پٹھے جوڑے جاتے ہیں : لکھا ہوا : تفصیل، حالت : انتظام کرنے والا تنظم : مراد کتاب جزائے خیر دعائیکلمه) : اچھا بدلہ اندراج : درج کیا ہوا : برای کسی بڑے ادارے کا چھوٹا حصہ جو اسی نام سے کسی دوسری جگہ قائم ہو : تهذی پیان ورق گردانی : ورق پلٹن سوسنار کی ایک لوہار کی (کہاوت) : وہ ایک بڑی بات جو سو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھاری پڑے ہزار دفعہ : کئی بار .ی خون کرما(محاوره) : سخت تکلیف پہنچانا غفلت : بے ہوشی جیسی حالت حالت غیر ہونا (محاورہ) : حال خراب ہونا : بڑی شان والا : کنزور : ہلکی اشهدان محمد الرسول الله : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے رسول ہیں عظیم الشان اتواں not to be خفيف 131 آخری قدم موڑن کارواں سالار رسالت : اذان دینے والا : قافلے کا سردار : رسول ہونا : وہ قوم جوی رسول کی پیروی کرے ن سوچیے اور بتایئے 1. نیک آدی میں کیا خوبیاں تھیں؟ 2. لوگ اس نیک آدمی کو برا کیوں کہتے تھے؟ 3. بعض لوگ اس کی دولت سے کیوں جلتے تھے؟ وہ نیک آدی اپنی دولت کن کاموں پر خرچ کرتا تھا؟ 5. وہ سیدھے ہاتھ سے دیتا تو الٹے ہاتھ کوخبر نہ ہوتی اس جملے کا کیا مطلب ہے؟ 6. نیک آدی کی’’ حساب امانت میں کیا درج تھا؟ 7. لوگوں کی باتوں سے تنگ آ کر نیک آدمی کیا کرتا تھا؟ 8. نیک آدی کا ارادہ کیا تھا؟ و. نیک آدی نے آخری وقت میں اپنے ارادے پرمل کیوں نہیں کیا؟ OOe نیچے دیے اس سبق میں لفظ امانت دار آیا ہے۔ جس کے معنی ہیں امانت رکھنے والا ہوے لفظوں کے آگے دالگا کر لفظ پائے دم مجھے شان عزت خبر طرح وفا ہوا جان خار 132 اپنی زبان نیچے دیے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استحال ہے دھن کا پکا ہونا تھیں لگنا بھی خون ہونا مرناٹھنا حالت غیر ہونا نیک آدمی کی کہانی اپنے لفظوں میں لکھے اس کہانی کا کوئی اعوان لکھے غور کرنے کی بات و ’’اس نیک آدمی کے پاس بڑی دولت تھی۔ مگر یہ ان لوگوں میں تھا جو اپنے دھن دولت کو اپنا نہیں سمجھتے بلکہ اللہ میاں کی امانت جانتے ہیں ۔ جو بس اس لیے ان کے سپرد کی جاتی ہے کہ اسے اس کے بندوں پرظرف کریں۔ خودان کی اجرت یہ ہے کہ اس میں سے بھی بس موٹا جھوٹا جان لیں اور دال دلیا کھا کر گذرکر لیں۔ اس عبارت میں مصنف نے نیک لوگوں کی کتنی اچھی تعریف کی ہے کہ وہ نیک لوگ جنھیں اللہ نے دولت دی ہے مغرور اور گھمنڈی نہیں ہوتے بلکہ اپنی دولت کو ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کے لیے اللہ کی امانت سمجھتے ہیں اور خود سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ و ” آؤ آج تمھیں ایک بہت اچھے آدی کا حال سنائیں جسے اس کے جیتے گی بہتیرے لوگ برا برا کہتے تھے‘‘ ہی آپ کے سبق کا پہلا جملہ ہے۔ اس جملے میں لفظ " را دو بار ایک ساتھ آیا ہے۔ لفظ کے دو بار ایک ساتھ آنے کو تکرار کہتے ہیں جیسے ساتھ ساتھ بیٹھنا، بار بار کہنا مزے مزے کی با تیں وغیرہ۔ OL

RELOAD if chapter isn't visible.