ما گر قوم کی خدمت کرتا ہے احسان تو کس پر دھرتا ہے کیوں غیروں کا دم بھرتا ہے کیوں خوف کے مارے مرتا ہے آٹھ باندھ کر، کیا ڈرتا ہے؟ پھر دیکھ، خدا کیا کرتا ہے۔ جو عمریں مفت گنوائے گا وہ آخر کو پچھتائے گا کچھ بیٹھے ہاتھ نہ آئے گا جو ڈھونڈے گا، وہ پائے گا تو کب تک دیر لگائے گا یہ وقت بھی آخر جائے گا آٹھ باندھ کر، کیا ڈرتا ہے؟ پھر دیکھی، خدا کیا کرتا ہے؟ 122 اپنی زبان جو موقع پا کر کھوئے گا وہ اشکوں سے منہ دھوئے گا جو سوئے گا، وہ روئے گا اور کانٹے گا جو بوئے گا تو غافل کب تک سوئے گا جو ہونا ہوگا، ہوئے گا آٹھ باندھ کر، کیا ڈرتا ہے۔ پھر دیکھیں خدا کیا کرتا ہے؟ یہ دنیا آخر فانی ہے اور جان بھی اک دن جانی ہے پھر تجھ کو کیوں پرانی ہے کر ڈال جو دل میں ٹھانی ہے جب ہمت کی تو لانی ہے تو پھر بھی پھر پانی ہے اٹھ باندھ کر، کیا ڈرتا ہے۔ چھر دیکھیں، خدا کیا کرتا ہے؟ محمد فاروق دیوانہ معنی یاد کے غافل : بے خبر غفلت کرنے والا فانی : ختم ہونے والا، جسے فنا ہو جانا ہو جولانی : جوش طبیعت کی روانی ، ہمت خوف : ڈر | O OU 123 پیامل سوچنے اور بتایئے 1. قوم کی خدمت کس جذبے سے کرنی چاہیے؟ 2. وقت برباد کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے؟ 3. نظم کے تیسرے بند میں شاعر نے کیا کہا ہے؟ 4. وقت پر کام نہ کرنے کا کیا انجام ہوتا ہے؟ 5. ہمت کی جولانی سے شاعر کا کیا مطلب ہے؟ 6. پیر کے پانی ہونے سے کیا مراد ہے؟ : ۸ دی جان اشکوں سے منہ دھونا محاورہ ہے اس کے معنی رونا اور آنسو بہانا ہیں۔ نیچے کچھ ادارے اور ان کے معنی دیے گئے ہیں ان محاوروں کو جملوں میں استعمال کیے۔ محاوره احسان دھرتا : کسی کی مدد کر کے اسے جتانا کسی کو بہت زیادہ یاد کرنا کسی ہر وقت تعریف کرتے رہنا کمر باندھنا تیار ہونا ہاتھ آنا حاصل نہ ہونا، نہ ملنا پھر پانی ہونا : بہت مشکل کام کا آسان ہو جانا دم بھرنا .. .. .. .. . 124 اپنی زبان غور کرنے کی بات آٹھ باندھ کر کیا ڈرتا ہے پھر دیکھو خدا کیا کرتا ہے و آپ نے دیکھا کہ بی شعظم میں بار بار آیا ہے۔ اگرکسی نظم میں اسی طرح کوئی مصرعه با شعر بار بار آئے تو ایسی نظم کو ترجیع بند“ کہتے ہیں۔ not to be republis

RELOAD if chapter isn't visible.