کابلی والا میری پانچ برس کی نیکی، جس کا نام منی ہے، گھڑی بھر کو خاموش نہیں رہتی۔ ایک دن صبح سویرے میں اپنے ناول کا سترہواں باب لکھ رہا تھا متی نے آ کر کہا: ”بابودی استیو ده( میرانوکر) کوے کوکا گ کہتا ہے، وہ بھی نہیں جانتا۔ اور اس سے پہلے کہ میں کچھ کہوں اس نے دوسری بات شروع کر دی: دیکھیے بابو ہی بھول کہتا ہے کہ آسمان میں ہاتھی اپنی سونڈوں سے پانی برساتے ہیں، جھولا امی ہی جھوٹی باتیں کرتا ہے۔ میں نے ہنس کرتی سے کہا : مئی تو کھولا کے ساتھ جا کرکھیل، مجھے اس وقت کام کرنا ہے۔“ میرا گھر سڑک کے کنارے ہے۔ ایک دن مئی میرے کمرے میں کھیل رہی تھی، اچانک وہ کھیل چھوڑ کر برآمدے میں دوڑ گئی اور زور زور سے کابلی والے او کا بھی والے‘‘ پکارنے گی۔ 96 اپنی زبان کابلی والے کے کندھے پر میوے کا تھیلا اور ہاتھ میں انگوروں کی پیاری تھی۔ موٹے موٹے کپڑے کا ڈھیلا ڈھالا گرتا پہنے، صافہ باندھے، لیے ڈیل ڈول کا ایک کابلی والا سڑک پر آہستہ آہستہ چلا جارہا تھا۔ مئی کی آواز سن کر ہنس مکھی کا بھی والے نے گھوم کر دیکھا۔ متی گھبرا گئی اور اس کابلی والے کو چھا کہ میں اندر آتا دیکھ کر بھاگ گئی۔ اس لیے کئی کی ماں کہا کرتی تھی کہ کابلی والے بچوں کو تھیلے میں ڈال کر لے جاتے ہیں۔ میں نے مئی کا خوف دور کرنے کے لیے اس کو اندر سے بلایا۔ کابلی والا اپنی جھولی سے شمش نکال کر مئی کو دینے لگا۔ مئی کسی طرح لینے پر راضی نہ ہوئی، اس کا شبہ اور بھی بڑھ گیا۔ وہ ڈر کر مجھ سے لپٹ گئی۔ کاملی والے سے میرا تعارف اس طرح ہوا۔ میں ایک روز کسی ضروری کام سے باہر جارہا تھا، دروازے پر دیکھا کمنی اس کا بھی والے سے بڑے مزے سے باتیں کر رہی تھی۔ وہ بادام اور شمش لیے ہوئے تھی۔ میں نے کابلی والے سے کہا : یہ سب کیوں دیا؟ اب مت دینا۔“ یہ کہ کر میں نے جیب سے کشتی نکال کر کابلی والے کو دی۔ اس نے بلا جھوک بھی لے کر جیب میں ڈال لی۔ جب میں کام سے لوٹ کر گھر آیا تومیں نے دیکھا کہ اس نشستی کی وجہ سے گھر میں بڑا شور مچا ہوا ہے منی کی ماں اس سے ڈانٹ کر پوچھ رہی تھی کہ تو نے اس سے کوئی کیوں لی؟ مئی کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اس نے کہا: ” میں نے نہیں مانگی ، وہ اپنے آپ دے گیا۔‘‘ میں مئی کو لے کر باہر چلا گیا۔ معلوم ہوا کہ بی کا بھی والے کا دوسرا پھیرا نہیں تھا، وہ روز روز گھر آتا تھا۔ اور پستے بادام دے کر اس نے مئی سے دوستی کر لی تھی۔ کابلی والا کابلی والے کا نام رحمت تھا۔ رحمت اورٹی کی عمر میں زمین آسمان کا فرق تھا، پھر بھی دونوں ایک دوسرے کے دوست ہو گئے۔ ان دونوں میں کچھ بندگی کی باتیں ہوتی تھیں۔ کابلی والا کہتا :”مئی سسرال جاو گی ؟، متی نہیں جانتی تھی کہ سسرال کسے کہتے ہیں؟ لیکن بھلا وہ چپ رہنے والی کہاں تھی۔ وہ الٹا کابلی والے سے پچیستی:” تم سسرال جاو گے؟ رحمت گونسا تان کر کہتا :” میں توسرے کو ماروں گا۔ ین کوئی خوب نستھی۔ ہرسال جب جاڑے کا موسم ختم ہونے لگتا، تو رحمت اپنے وطن جانے کی تیاری کرتا اور گھر گھر جا کر اپنا روپیہ وصول کرتا مگر ایک بارگی سے لے ضرور آتا۔ ایک دن میں اپنے کمرے میں بیٹا پڑھ رہا تھا، اچانک گھی میں بڑا شور ونک سنائی دیا۔ میں نے کھڑے ہو کر دیکھا رحمت کو دو سپاہی باندھے لیے جارہے تھے، پیچھے سے لڑکوں اور راہ گیروں کا مجمع چلا آرہا تھا۔ رحمت کے گرتے پر خون کے دھے تھے اور ایک سپاہی کے ہاتھ میں خون سے بھری چھری تھی۔ میں بھاگا گیا اور سپاہیوں کو روک کر پوچھا: ” کیا بات ہے؟ معلوم ہوا کہ پڑوس میں ایک چرای نے رحمت سے ایک چادر لیکھی اور اب وہ دام دینے سے انکار کرتا تھا، اس پر جھگڑا ہو گیا اور رحمت نے غلے میں چپراسی پر چھری سے حملہ کر دیا۔ رحمت اس بے ایمان چپراسی کو پکڑوں گالیاں دے رہا تھا۔ اس چ میں ’’ کابلی والے ادکابلی والے‘ پارتی ہوئی مئی بھی وہاں آگئی۔ تست کا چہرہ دم بھر کے لیے خوشی سے کھل اٹھا۔ متی نے آتے ہی اس سے پوچھا : تم شرال جاؤ گے؟ رحمت نے ہنس کر کہا : ’ہاں وہیں جارہا ہوں۔ اس نے دیکھا کہ اس جواب سے مئی کوئی آ گئی تب اس نے گھونسا کھا کر کہا : میں سرے کو مارتا تو ضرور لیکن کیا کروں میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ کچھ دنوں کے بعد اس جرم میں رحمت کو سات سال کی سزا ہوگئی۔ اس واقعے کے بعد کئی دن گزر گئے مئی کابلی والے کو بھول گئی۔ مئی بڑی ہوگئی اور پھر اس کی شادی بھی طے ہوگئی۔ آخرکار شادی کی تاریخ آپی ۔ مہمانوں سے گھر بھرا ہوا تھا۔ میں اپنے کمرے میں بیٹھا کچھ کام کر رہا تھا، اچانک اس وقت رحمت وہاں آ گیا۔ 98 اپنی زبان پہلے تو میں اس کو پہچان نہ سکا ، اس کی پی سے بجھ گیا کہ یہ رحمت ہے، میں نے پوچھا : کیوں رحمت کب آئے ؟ کل ہی شام کوجیل سے چھوٹا ہوں۔“ میں نے کہا : ’’آج تو میں بہت مصروف ہوں، پھر بھی آنا ‘‘ وہ اداس ہوکر جانے لگا لیکن پھر چکر تے ہوئے بولا : ”بابوی! منی کہاں ہے؟“ میں نے کہا:’آج گھر میں کام ہےگی سے بھی ملاقات نہ ہوگی وہ اداس ہو گیا۔ ”اچھا .... بابوجی سلام ‘‘ کہہ کر جانے لگا۔ مجھے جیسے دھکا سا لگا۔ جی چاہا کہ اس کو بلا لوں۔ اتنے میں دیکھا کہ وہ خودہی واپس آرہا ہے۔ واپس آ کر اس نے کہا : کچھ شمش بادام مئی کے لیے لایا تھا، اس کو دے دیے۔“ میں نے اس کی قیمت ادا کرنی چاہی۔ تب اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا: ”آپ کی مہربانی میں بھی نہیں بھول سکتا۔ مجھے قیمت نہ دیکھے، بابوی! مئی جی میری بھی بیٹی ہے، اسی لیے میں اس کے لیے میوہلاتا تھا۔ میں یہاں سودا بھی نہیں آتا۔“ اتنا کہ کر اس نے گرتے کے اندر سے ایک میل کاغذ کی پڑیا نکالی۔ بڑی احتیاط سے پڑی کھول کر میرے سامنے رکھ دی۔ اس کاغذ پر ایک چھوٹے سے ہاتھ کا نشان تھا۔ اپنی بیٹی کی اس نشانی کو چھاتی سے لگا کر رحمت اتنی دور سے میوہ پینے ک ے آیا تھا۔ 99 کابلی والا یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے، میں سب کچھ بھول گیا، بس یہ بات یاد رہی کہ میں بھی باپ ہوں اور وہ بھی باپ ہے۔ میں نے اسی وقت مئی کو اندر سے بلایا۔ مئی شادی کے کپڑے اور زیور پہنے ہوئے آئی، اور شرمائی شرمائی میرے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس کو دیکھ کر کابلی والا گبر اسا گیا اور بات بھی نہ کر سکا۔ پھر اس نے ہنس کر کہا: و متی! تورال جارہی ہے؟ اب نئی شرال کے معنی سمجھنے گئی تھی، اس نے شرما کے سر جھکا لیا۔ رحمت کچھ سوچ کر زمین پر بیٹھ گیا جیسے اس کو کا ایک احساس ہوا کہ اس کی لڑکی بھی اتنے دنوں میں بڑی ہوگئی ہوگی ۔ ان آٹھ برسوں میں اس کا کیا ہوا، کون جانے اوہ اس کی یاد میں کھو گیا۔ رابندر ناتھ ٹیگور می باد ھے باب صافی زمین آسمان کا فرق : : : : : کتاب کا ایک عمل حصته، دروازه حصے، دروازه پڑی بہت بڑافرق ڈر بھیڑ * * .. شک .. .. * not to be resou bol : : : : : کام میں لگا ہوا چوی سوکھے پھول جیسے پستہ، بادام ، شمش وغیرہ کاغذ کا چھوٹا سا نکڑ ا جس میں کوئی چیز پیٹی جائے وہ سامان جور پیدا اور بچاجائے اچانک 100 اپنی زبان م ن سوچنے اور بتایئے 1 مئی کون تھی؟ د. متی نے بابوجی سے سبودھ کی کیا شکایت کی؟ 3. کابلی والے کا حلیہ کیسا تھا؟ 4. کابلی والے کو دیکھ کر مئی کیوں گھبرا گئی؟ 5. مئی کی ماں اسے کس بات پر ڈانٹ رہی تھیں؟ 6. وطن جانے سے پہلے کا بھی والا گھر کیوں جاتا تھا؟ 7. کابلی والے کو جیل کیوں بھیجا گیا؟ 8. کابلی والامتی کو اپنی جھولی سے کیا دیا کرتا تھا؟ و کابلی والے کے پاس اپنی بیٹی کی کیا نشانی تھی؟ 10. متی کو دیکھ کر کابلی والے کو کی یاد آیا؟ خالی جگہ کوئی لفظ سے کریے 1. میں اپنے ناول کا - باب لکھ رہا تھا۔ 2. کابلی والے سے میرا اس طرح ہوا۔ 3. کابلی والے کا نام تھا۔ 4. پچھے سے لڑکوں اور راہ گیروں کا - چلا آرہا تھا۔ 5. کابلی والا کہتا : « مئی – جاؤ گی؟ 6. رحمت گونسا تان کر کہتا میں تو کو ماروں گا۔“ 7. رحمت گھر گھر جا کر اپنا روپیہ کرتا۔ D به Ottooee 101 کابلی والا 8. میں نے کہا : ’آج تو میں بہت ہوں۔ 9. اس کاغذ پر ایک چھوٹے سے کانشان تھا۔ 10. اس کو احساس ہوا کہ اس کی لڑکی بھی اتنے دنوں میں پڑی ہوئی ہوگی۔ نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعال پھے صافہ ڈیل ڈول خوف معروف احتياط ان لفظوں کے اتنا لکھے دوست بھی بے ایمان خوشی خوشنما الثا انگار نے لکھے ہوئے محاوروں کو اپنے جملوں میں استعمال کے دام وصول کرنا لین دین کرتا دارای جانا حق مارنا مال دبالیتا۔ واحد سے تم اور تم سے واحد بنا کرلکھے باتیں آنو راہ گیر لڑکی می سپاہیوں اور مہمانوں نیچے دیے ہوئے جملوں کو کہانی کی ترتیب سے لکھے 1. مئی کی ماں اس سے ڈانٹ کر پوچھ رہی ہے کہ تو نے اس سے آگئی کیوں لی؟ 2. رحمت کا چہرہ دم بھر کے لیے خوشی سے کھل اٹھا۔ 3. دروازے پر دیکھا کئی اس کابلی والے سے بڑے مزے سے باتیں کر رہی تھی۔ برسوں 102 اپنی زبان 4 مئی بڑی ہوگئی اور پھر اس کی شادی بھی طے ہوگئی۔ 5. میری پانچ برس کی پی، جس کا نام تی ہے۔ گھڑی بھر کو خاموش نہیں رہتی۔ 6. اب مئی سسرال کے معنی سمجھنے کی تھی، اس نے شرما کے سر جھکا لیا۔ 7. بی بھ شمش بادام مئی کے لیے لایا تھا، اس کو دے دیے۔ من جملوں کے سامنے ح ا اور غلط کے سامنے غلط ل کا نشان لگایئے 1. میری چھ برس کی پی، جس کا نام پتی ہے۔ 2. شیو ده نوکر کا نام ہے جوکوے کوکا گ کہتا ہے۔ 3. میرا گھر سڑک سے دور ہے۔ 4 کابلی والا ہنس مکھ تھا۔ 5. کابلی والے نے کہا: مئی سسرال جاو گی ؟ 6. کا بھی والا ہر سال جاڑے کے موسم میں آتا تھا۔ 7. کابلی والے کا نام عظمت تھا۔ ) ) ) ) ) ) ) ( |( ( ( ( ( ( ب غور کرنے کی بات و سباق میں ایک لقس رے‘‘ آیا ہے جس کے معنی سسر ہیں لیکن بی لفظ چھیڑ چھاڑ ہنسی مذاق، پیار، اور طنز کے طور پربھی استعمال کیا جاتا ہے۔

RELOAD if chapter isn't visible.