کانیی سنہ انیس سو اکیس (1921) کا ذکر ہے، میں ایل ایل بی کا طالب علم تھا، گاندھی بھی میرے وطن میرٹھ میں تشریف لائے۔ مجھے ان سے ملنے کا بڑا شوق تھا۔ آخر میری آرزوی آئی اور مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع مل گیا۔ باتیں کرتے کرتے گاندھی جی نے میری اچکن کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : -- ’’دی کیوں نہیں پہنتے؟ میں نے عرض کیا : تین چار دی چیز میں مستقل طور پر استعمال کرتا ہوں۔ دلی آم کھاتا ہوں، دی پان کھاتا ہوں، دی آلو کھاتا ہوں اور دیسی شکر استعال کرتا ہوں، کیا ی کافی نہیں؟ گاندھی جی نے بڑے زور سے قہقہہ لگایا اور فرمایا : تب تو آپ کے لیے ۱۲ دیسی کپڑا پہنا اور بھی آسان ہے، ایک ہی دیسی چیز کا تو اور اضافہ ہوگا۔“ اس کے بعد متعدد بار کئی کئی برس کے وقفے سے مجھے گاندھی جی کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔ مگر حیرت ہے کہ ہر مرتبہ مجھے دیکھتے ہی انھیں میری چار دی چیزوں میں اپنی اسی پانچویں چیز کا خیال آجاتا۔ انیس سو پینتالیس (1945) کا زمانہ تھا۔ گاندھی .ی موری پہاڑ پر پرل ہاوس میں گہرے ہوئے تھے۔ میں بھی اس سال مسوری گیا ہوا تھا اور گاندھی جی کی خدمت میں بھی بھی حاضر ہوتا رہتا تھا۔ موری میں ان دنوں بہت سے لتانی مزدور آئے ہوئے تھے۔ لداخ کشمیر میں ایک جگہ ہے، یہاں کے رہنے والوں کو دانی کہتے ہیں۔ وہ ہر سال گرمی کے موسم میں کام کی تلاش میں مسوری اور دوسرے مقامات پر آجاتے ہیں۔ سب کے سب یا ان میں سے زیادہ تر مسلمان تھے۔ بے چارے بہت غریب تھے۔ ایک چھٹے ہوئے جانگیے اور پوند لئے ہوئے شلوکے کے سوا ان کے بدن پر کچھ نہ ہوتا تھا۔ رات کے وقت ٹاٹ کے بورے میں لپٹ جاتے تھے۔ سہی ٹاٹ کا بورا آن کالاف تھا اور یہی ان کا گدا۔ انھیں اس حالت میں دیکھ کر گاندھی جی کو بڑا ترس آیا اور انھوں نے ان کی امداد کے لیے مختلف تجویزوں پر غور کرنا شروع کیا۔ اس سلسلے میں گاندھی جی نے ایک ایسی عمارت کی تعمیر کی تحریک 44 اپنی زبان بھی شروع کی جہاں پر یہ بے چارے پہاڑی مزدور شہر میں اور ان سے اس کا کرایزہ لیا جائے۔ شاید اس عمارت کے لیے ڈیڑھ لا کھرو کے وعدے بھی ہو گئے تھے۔ ایک دن میں بیٹھا ہوا تھا کہ بیڈ کر چلا کہ اس عمارت کا نام کیا رکھا جائے؟ کئی نام تجویز ہوئے مگر گاندھی جی کو کوئی نام بھی پسند نہ آیا۔ آخر فیصلہ ہوا کہ اسے دھرم شالہ کہاجائے۔ میں نے عرض کیا : ”اس عمارت کا نام آپ غریب خانہ کیوں نہیں رکھتے؟“ ایک اور صاحب وہاں بیٹھے ہوئے تھے بولے : غریب خانہ تو شاید اپنے ہی گھر کو کہتے ہیں؟ میں نے کہا : جی ہاں، کہتے تو ہیں، لیکن اپنے گھر کو غریب خان انکساری کی وجہ سے کہتے ہیں۔ خود کو غریب فرض کر لیتے ہیں اور اپنے گھر کو غریب خان قرار دیتے ہیں، ورنہ غریب خانہ کے معنی غریب کے گھر کے سوا اور کچھ ہیں۔‘‘ گاندھی جی کو یہ نام پسند آیا۔ اس کے بعد مجھے معلوم نہ ہوسکا کہ وہ عمارت بنی بھی یا نہیں اور اس کا نام غریب خان رکھا گیا یانہیں۔ گاندھی جی جھوٹ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ ستیہ گرہ آشرم میں نیک چلنی اور سچائی کے قواعد بڑے سخت تھے۔ یہاں تک کہ بچوں کو بھی ان کی پابندی کرنی پڑتی تھی۔ ایک دفعہ ایک نوجوان آشرم میں رہنے کے لیے آئے۔ یہ بی اے پاس کر چکے تھے۔ دستور کے مطابق گاندھی جی نے ان کے سپرد یہ کام کیا کہ تین مہینے تک وہ آشرم میں روزانہ جھاڑو دیا کریں۔ اس نوجوان کو بچوں سے بڑا انس تھا اور بچے بھی اس سے بہت مانوس تھے۔ ایک دن آشرم کی ایک آٹھ سالہ لڑ کی اس نوجوان سے ایک لیمو چھینا چاہتی تھی۔ وہ اس لڑکی کے ساتھ کھیلنے لگا۔ کھیلتے کھیلتے اسے تھکا دیا لیکن لیمونہیں دیا۔ لڑکی تنگ آ کر رو پڑی۔ اصل میں یہ لیمو آشرم کے ایک مریض کے واسطے تھا، اس لڑکی کو کیسے دے دیا جاتا۔ جب لڑ کی رونے گئی تو اس نوجوان کی کچھ مجھ میں نہ آیا کہ اب کیا کرے ؟ آخر اسے ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے لیمو ہاتھ میں لے کر زور سے اپنا ہاتھ ہلایا اور پی ظاہر کیا کہ جیسے لیمو کو سابرمتی ندی میں پھینک دیا ہو مگر اصل میں ایسا نہیں کیا تھا۔ بلکہ لیمو کو اپنی جیب میں رکھ لیا تھا۔ اب لڑکی کا دھیان ندی کی طرف گیا اور کہے گی میں لیمکوندی سے نکال لاؤں، کنارے ہی پرتو ہوگا ؟ گاندھیی 45 نوجوان نے جواب دیا کیموندی میں ڈوب گیا، اب تم اسے نہیں نکال سکتیں۔ بات آئی گئی ہوئی۔ دونوں باتیں کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ اتفاق ایسا ہوا کہ مریض کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے اس نوجوان نے اپنی جیب سے رومال جو نکالا تو اس کے ساتھ لیموی جیب سے نکل کر زمین پر گر پڑا۔ لڑکی ہکا بکا رہ گئی اور نفرت سے نوجوان کی طرف دیکھ کر بولی : اچھا آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا، لیمو آپ نے جیب میں رکھ لیا تھا اور مجھ سے کہہ دیا کہ میں نے ندی میں پھینک دیا۔ آشرم میں رہ کر آپ نے اتنی بری بات کی۔ میں باپ سے کہوں گی کہ آپ جھوٹ بولتے ہیں۔ سایت ایران یہ کہ کر وہ بھاگی اور سیدھی گاندھی جی کی خدمت میں اپنی اور ان سے کہہ دیا کہ فلاں آدمی نے اس طرح جھوٹ بولا گاندھی جی نے کہا: ”ہم معلوم کریں گے کہ کیا بات ہے اور کیوں انھوں نے جھوٹ بولا؟ شام کوریا کے بعد گاندھی جی نے اس نوجوان کو بلایا اور اس سے پوچھا کہ کیا بات تھی ؟“اس نے سارا قصہ سنادیا اور کہا ’’سب مذاق تھا۔‘‘ گاندھی جی نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا:” دیکھو! آئندہ سے اس بات کا خیال رکھو کہ بچوں سے مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولو ‘‘ حامد اللہ افسر 46 اپنی زبان في متنی یاد کے اشتیاق : شوق آرزو برآنا : مراد پوری ہونا چکن : شیروانی جیا ایک لباس دی : اپنے دلی کا قہقہے : زور کی بنی ٹھٹھا متعدد : کی، ایک سے زیادہ : خالی وقت، مہلت ، فرصت : مقام کی جمع، جگہ شلوا : ایک گرتا جو سینے سے کمر تک کا ہوتا ہے پوند : کسی پھٹے ہوئے کپڑے میں دوسرے کپڑے کا جوڑ ترس آنا : تم آنا امداد : در تجویز : تدبیر، رائے تحریک : کسی کام کے لیے ابھارنا، آمادہ کرتا دھرم شالہ : مسافروں کے ٹہرنے کی جگہ انکسار : خودکو معمولی اور کتر کجھنا بر داشت : سہنا آشرم : پناہ کی جگہ فرض کرنا : وقتی طور پر مان لیتا not to be گاندھی جی 47 نیک چلتی قواعد .. ss * .. .. : اچھا چال چلن : قاعدہ کی جمع، اصول : قاعدہ، قانون : محبت، پیار، لگاو : جانا انا : پریشان ہوجاتا : حیران رہ جانا : آنے والا وقت .. الس مانوس تنگ آنا ہکابکا رہ جانا آکنده . ما * سوچنے اور بتایئے 1. گاندھی کہاں تشریف لے گئے تھے؟ 2. گاندھی جی نے اچکن کی طرف اشارہ کر کے کیا فرمایا؟ 3. گاندھی جی نے قہقہہ کیوں لگایا؟ گاندھی بی مسوری میں کس جگہرے ہوئے تھے؟ الداخی مزدور گرمی کے موسم میں مسوری کس لیے آتے تھے؟ 6. لدانی مزدوروں پر گاندھی جی کو کیوں ترس آیا؟ 7. ”غریب خانه کس گھر کو کہا جاتا ہے؟ | 8. ستیہ گرہ آشرم میں کن قواعد کی پابندی ہونی تھی؟ و چی کونوجوان کیا تھی دھوکا دینا چاہتا تھا؟ خالی جگہ کویح لفظ سے بھرپے 1. مجھے ان سے ملنے کا بڑا تھا۔ 2. تین چار دی چیزیں استعمال کرتا ہوں۔ not to be * اپنی زبان د ذ گاندھی نے بڑے زور سے لگایا۔ مسوری میں ان دنوں بہت سے لتانی مزدور ہوئے تھے۔ 5. وہ ہر سال گرمی کے موسم میں کام کے تلاش میں اور دوسرے مقامات پر آجاتے ہیں۔ 6. انھیں اس حالت میں دیکھ کر کو بڑا ترس آیا۔ 7. آخر فیصلہ ہوا کہ اسے کہا جائے۔ واحد سے بیح اورجمع سے واحد بنایئے مواقع خیل مقامات تجاویز عمارت ترکیب اتفاق نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استمال ہے طالب علم ان موقع اضافه خدمت تیر غور کرنے کی بات و ” گاندھی جی میرے وطن میرٹھ میں تشریف لائے۔ اس جملے میں تشریف لاۓ گاندھی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے معنی ہیں گاندھی آئے۔ اس بات کا خیال رکھیے کہ خود اپنے لیے تشریف لانے کا لفظ استعال نہیں کرتے بلکہ بی لفظ ہمیشہ احترام دوسروں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ و سبق میں نوجوان کے لیے فلاں آدی“ استعمال ہوا ہے۔ اگر کسی شخص یا چیز کا ذکر اس کی غیر موجودگی میں نام لیے بغیر کیا جائے تو اس نام کی جگه گلاں“ استعمال کرتے ہیں۔

RELOAD if chapter isn't visible.