آسانی دوست مارچ کے مہینے کے وہ دن تھے جب ہوا نہ جانے کہاں سے چلنا شروع ہوتی ہے اور تیز آندھی بن جاتی ہے۔ سے ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں اور آسمان پر تیزی سے بادل چھائے جارہے تھے۔ تیز ہوا سے پیڑوں کی چھوٹی چھوٹی شاخیں ٹوٹ کر گر رہی تھیں اور ان کی آوازیں گونج رہی تھیں۔ پرانی سوکھی نہیں ہوا میں اڑتی پھر رہی تھیں۔ منی اپنی پہلی منزل کے فلیٹ کی بالائی میں ویل چیز (پہیوں والی کری) پیٹھی باہر پارک میں کھیلتے بچوں کو دیکھ رہی تھی ۔ بچوں کو تیز ہواؤں اور لہروں پر گرتی، نیم کی پی پی پنوں کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ وہ سب تو اپنے کھیل میں مست تھے۔ منی اندر آجاو اس کی امی نے باورچی خانے سے آواز دی۔ ایک منٹ مئی منی نے کپکپاتی آواز میں کہا اور وہیل چیر میں زور گا کرائے تھی اور میں دیکھے گی۔ اس کی می باہر بستی میں آ گئیں۔ مینی گڑیا، ہوا بہت تیز چل رہی ہے۔ باہر بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے۔ چلو اندر چلو۔ اچھی بیٹی ہے میری“ منی اسی طرح پانی سے جھانکتی رہی۔ بس ذرا سی دیر ‘‘اس نے ضد کی۔ اس کی میں نے پارک میں کھیلتے بچوں کو دیکھا۔ کبھی ٹھنڈی سانس لی اور اندر جاتے ہوئے بولیں’’ دھیان رکھنا، بارش شروع ہونے سے پہلے ہی اندر آجانا۔ میں نہیں چاہتی کہ تم بھیگو » منی بارہ سال کی تھی اور معذور تھی۔ وہ اپنی قمیص کے بٹن نہیں لگا سکتی تھی مگر وہ گھسٹ گھسٹ کر چل سکتی تھی۔ اس نے دانت صاف کرنا اور بچے کی مدد سے کھانا سیکھ لیا تھا۔ وہ اپنی وھیل چیر بھی خود چلا لیتی تھی۔ وہ ایک خاص طرح کے اسکول میں جاتی تھی جہاں سے کچھ خاص قسم کی کسرت اور بولنے کی مشق کرائی جاتی تھی اور ساتھ ہی ساتھ وہی سب مضمون پڑھائے جاتے تھے جو سب بچے اسکول میں پڑھتے ہیں۔ مگر منی کا کوئی دوست نہیں تھا۔ 30 اپنی زبان اسے اس گھر میں آئے ہوئے چھ مہینے ہو گئے تھے مگر اب تک کوئی ایسا نہیں تھا جوینی کے ساتھ کھیلے۔ پڑوں کے سارے بچے اپنے اپنے کھیلوں اور اسکول میں مصروف رہتے تھے۔ انھوں نے منی سے دوستی نہیں کی تھی۔ وقت گزارنے کے لیے منی کا سب سے اچھا مشغلہ بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھنا تھا۔ بارش کی بڑی بڑی بوند یں گرنے لگیں مگر اپنے اپنے کھیل میں لگے رہے۔ بڑی سی لال گیند اوپر نیچے چلتی رہی ۔ اچا تک بچوں کے ایک اور گیند آ گئی ، ایک کتھئی رنگ کی گیند ۔ لڑکیوں نے چیں مار ہیں اور لڑ کے گلا پھاڑ پھاڑ کر چلانے لگے۔ ایک لڑکا گیند کو چھونے کے لیے جھکا تبھی اچانک اس نے پر پھڑ پھڑائے اور اڑ گئی ۔ اس سے پہلے کہ منی کی سمجھ میں کچھ آتا کہ کیا ہوا ، نئی گیند اڑتی ہوئی اس کی بلکتی تک آگئی اور اس کی گود میں اتر گئی۔ و 3 مارے چیرت کے ایک پی تو منی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ جب ذرا سنبھلی تو دیکھا کہ اس کی گود میں جو چیز ہے وہ گیند نہیں ایک چڑیا ہے جو ڈر کے مارے سکڑی گئی اس کی گود میں بیٹھی ہے۔ بارش اب تیز ہوگئی تھی ۔ 31 آسانی دوست اپنی ! اس کی می چلاتی ہوئی باہر آئیں تا کہ اس کی کرسی چھیل کر اسے اندر لے جائیں۔ یہ کیا ہے؟ وہ چڑیا کو دیکھ کر حیرت سے بولیں۔ ’’میابی ایک ہے، آسان سے آئی ہے یہ منی نے دھیرے سے کہا۔ قیادہ چڑیا ہی تھی، شاویر ۔ ٹھنڈے شمالی حصے سے ہر سال ہندوستان آنے والا ایک مہمان۔ شاید وہ اپنے غول کے ساتھ اپنے وطن واپس جارہی ہوگی مگر تیز ہوا کی وجہ سے اپنا راستہ بھول گئی۔ اپنے ساتھیوں سے دوبارہ جا ملنے کی دیوانه وا کوشش میں اس کے بازووں میں چوٹ لگ گئی۔ وہ ایک خوب صورت بانکی بیٹی تھی۔ اس کے جسم کا نچلا حصہ ملائم اور بھی تھا اور اس کی چوری پھاوڑے کی طرح چوڑی سی تھی۔ اس کے پر چمکیلے، نیلے، سفید اور بھورے تھے۔ اس وقت وہ بے حدھی ہوئی لگ رہی تھی۔ منی کی میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی ۔ لیکن اس نے اچانک ان کے ہاتھ میں ٹھونگ مار دی۔ ”ہائے‘ وہ چلائیں اور اپنا ہاتھ پیچھے والیا۔ وہ ایک دم توپی ورلڑھک کر کمرے کے ایک کونے میں سمٹ کر بیٹ گئی۔ شام تک منی اور اس کی می بیٹے کو کچھ کھانے کی کوشش کرتی رہیں۔ انھوں نے اس کے سامنے روٹی کے ٹکٹرے، پھلیاں اور پھل سب کچھ کھامگر اس نے کوئی چیز چھوئی تک نہیں۔ ”می، اسے کچھ پکے چاول چل کر دودھ کے ساتھ دیے۔کمپنی نے مشورہ دیا۔ 32 اپنی زبان اس کی میں نے ایک پیالے میں پکے ہوئے چاول ڈال کر چلے۔ اس میں دودھ شکر ملایا۔ چڑیا کی چو کولی اور روشنائی بھرنے والے ڈراپر سے اسے کھلایا۔ جیسے ہی اس کے پیٹ میں کھانا گیا ، بیخ کچھ چاق و چوبندی نظر آنے گئی ۔ اس کی آنکھیں پچکے گئیں ۔ اور اس نے اپنے پرکھولنے کی کوشش بھی کی ۔ مگر ایک دو بار کوشش کرنے کے بعد ٹال گئی’’ مجھے معلوم ہے کی اس کا نام کیا ہے۔ میترا نام ہے اس کا مینی نے کہا اور اس کی کی مسکرادیں۔ ” ہم میترا کو کہاں لٹائیں منی ؟“اس کے پاپا نے اس سے پوچھا۔ پاپا میں چاہتی ہوں یہ میرے پاس رہے۔ شاید اسے رات میں میری ضرورت پڑے۔‘‘پنی نے کہا۔ آخر انھوں نے میرا کو ایک تنکوں کی ٹوکری میں بٹھا کر منی کے پی کے پاس رکھ دیا۔ منی کی امیدوں کے خلاف مترانے رات میں اسے بالکل نہیں جگایا۔ جب صبح سویرے اس کی آنکھ ملی تو منی کو پہلا خیال نہیں آیا کہ بینک کے پاس ری ٹوکری میں جھانک کر دیکھے ۔ مگر ڈر اور گھبراہٹ سے اس کا حال خراب ہو گیا جب اس نے دیکھا کہ ڈوکری خالی ہے۔ مترا ! میرا مینی ایک کہانی کے بل اٹھ کر چلائی اور اس نے دیکھا کہ وہ باتھ روم میں سے آنکھیں پکا پکا کر اسے دیکھ رہی ہے۔ وہ لکھلا کر ہنس پڑی۔ بے بس چھدک پھدک کر چل پاتی تھی ۔ وہ اڑنے کی جان توڑ کوشش کر رہی تھی۔ جب منی گھسٹ گھسٹ کر اس کے پاس پڑی تو اس نے پر پھڑ پھڑائے اور پھدک کر دور چلی گئی۔ میں نے بڑی مشکل سے جب اسے پکڑا تو اس نے فورا ھونگ ماردی۔ منی ! کیا ہوا؟ اس کی می گھبرا کر چلائیں اور کمرے میں آ گئیں مگر جب انھوں نے بیٹے کو اپنی بیٹی کے بازوؤں میں دیکھا تو ان کی گھبراہٹ خوشی میں بدل گئی۔ میں تمھارے لیے اور تمھاری دوست کے لیے ناشتہ لائی ہوں۔ انھوں نے اعلان کیا۔ جب منی میرزا کو دبوچ کر اسے ناشتہ کھلانے کی کوشش کر رہی تھی تو دروازے کی گھنٹی بچی ۔ جیسے ہی منی کی میں نے دروازہ کھولا تو بچوں کی ایک ٹولی نے ان کو نمستے کہا۔ وہ سب اپنے اسکول کا صاف ستھرا یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔ ”آنٹی! کیا ہم چڑیا دیکھ سکتے ہیں؟ انھوں نے پوچھا۔ آسانی دوست میترا کو ڈراپر سے کھانا کھاتا دیکھ کر بچوں کو بہت حیرت اور خوشی ہوئی۔ انھوں نے اسے پکڑنے میں منی کی مدد کیا۔ اسکول کی بس پکڑنے کے لیے انھیں جلدی جانا تھا۔ ہم دوپہر میں پھر آئیں گے منی ‘‘نھوں نے کہا۔ منی بھی اسکول جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ ” بے چاری نے اپنے دوستوں کو کتنا یاد کر رہی ہوگی؟ شام کو بچوں میں سے ایک لڑکے بنٹی نے بیج کو دیکھتے ہوئے کہا۔ اب تو اس کے لیے نئے دوست بنانا اوربھی مشکل ہے کیونکہ اب بیاولی ہوئی ہے۔ انجو نے کہا اور ورای اسے خیال آیا کہ اس نے کیا کہہ دیا تو جلدی سے اس نے مند بالیا۔ ہم سے طاقت ور بنائیں گے۔“ منی نے کہا۔ اس واقعے کے بعد پڑوں کے نیچے منی کے بہت اچھے دوست بن گئے ۔ آخر کار بچوں کو احساس ہو ہی گیا کہ منی کے ساتھ کھیلنے سے اسے کتنی تکلیف ہوتی ہوگی۔ اگلے دن انجواپنے ساتھ ایک موٹی سی کتاب لائی ۔”دیکھوتوں کے بارے میں سب کچھ اس میں سے پڑھ سکتے ہو۔ میتراشاویز کہلاتی ہے۔ بچوں نے خوش ہو کر اسے گھیر لیا۔ اورشاویر کی عادتوں کے بارے میں سب کچھ پڑھ لیا۔ میترا! اب تک سینکڑوں میل اڑ چکی ہوگی، ہے نا نھی پریا نے کہا۔ سیکڑوں نہیں ہزاروں؟ بیٹی نے اسے ٹوک کر ٹھیک کیا۔ یہ پھر سے ہزاروں میل اڑ کر اپنے گھر جائے گی۔ آخر ان کے دوست پرندے کی رخصتی کا دن آہی گیا۔ منی کے پاپا سب بچوں اور بیٹے کو لے کر جھیل پر گئے۔ بچوں نے میرا کو پیار سے منی کی گود سے اٹھایا اور آہستہ سے اسے جیل میں چھوڑ دیا۔ اس نے تیرنا شروع کر دیا اور اپنی چوری سے پانی میں کچھ کھودنے گئی ۔ بچے بہت دیر تک وہاں کھڑے اسے دیکھتے رہے۔ 34 اپنی زبان اگلے دن معنی بالکنی میں بچوں کو کھیلتے دیکھے گی تو پارک میں کوئی نہیں تھا اور پھر دروازے کی گھنٹی بی اور بچوں کی فوج اندرآ گئی ۔”آن! پلیز منی کو ہمارے ساتھ پارک میں کھیلنے کے لیے بھیج دیے۔ انھوں نے کہا۔ ” ہم اسے اع shed | | سرسرا وہیل چیئر پر حفاظت سے واپس لے آئیں گے۔ محبت مجھے بہت سے ننھے منے ہاتھوں کی مدد سے پی سیڑھیوں سے اتری اور پارک میں لے جائی گئی۔ اس کے بعد بھلامی اکیلی اور اداس کیوں رہتی۔ پر ماراو آسانی دوست 35 می باد کے شاخیں : (شاخ کی جمع) پیڑ کی ڈالیں ٹہنیاں مست مندر .. .. .. .. .. : جسم کے کسی حصے کا کمزور یا ناکارہ ہونا جسم کے کسی حصے کا کام نہ کرنا : کسی کام کو سیکھنے کے لیے بار بار کرنا، ڈہرانا : کام شغل : کام میں لگا ہوا مشغل مصروف چیرت 2 3 4 33 34 35 3 ٹھونگ دیوانہ وار : بے انتہا شوق کے ساتھ، پرجوش انداز میں : راۓ ، صلاح : چوری لولی : جس کاہاتھ بے کار ہوگیا ہو اضائع ہو گیا ہو : روانہ ہونا ، جدا ہونا اداس : پریشان ،شست ملین چاق و چوبند : چھریلا، شست خصتی سوچنے اور باپ : منی اپنی پاکتی سے پارک کی طرف کی دیکھ رہی تھی؟ د منی کی میں بار بار اسے اندر آنے کو کیوں کہہ رہی تھیں؟ د. مینی گھسٹ گھسٹ کر کیوں چلتی تھی؟ not to be 36 : ن ه ه ه ه اپنی زبان 4. منی اپنا کون کون سا کام خود کر لیتی تھی؟ 5. منی کے اسکول میں اس سے کیا کرایا جاتاتھا؟ 6. خالی وقت میں چینی کا مشغلہ کیا تھا؟ 7. منی کی گود میں اچانک کیا چیز آ کر گری؟ 8. منی نے چوٹ کھائی ہوئی بیخ کی کس طرح مدد کی؟ و بن کے آنے کے بعد پڑوس کے چینی کے پاس کیوں آئے؟ 10. انجونے کچھ کہتے کہتے جلدی سے اپنا منہ کیوں دبا لیا؟ 1 محبت بھرے بہت سے نئے نئے ہاتھی کو کہاں لے گئے؟ واحد سے جمع اوریخ سے واحد بنائے مضمون مشغلہ وقت کتاب احساسات افواج آنکھیں خالی جگہ کویح لفظ سے بھرے 1. منی اپنی بائی میں ویل چیز پیٹی باہر میں کھیلتے کود کھ رہی تھی۔ 2. منی نے دانت صاف کرنا اور کی مدد سے کھانا لیا تھا۔ 3. مینی کو اسکول میں کچھ خاص تم کیا اور بولنے کی کرائی جاتی تھی۔ 4. پڑوں کے سارے بچے اپنے اپنے کھیلوں اور اسکول میں رہتے تھے اور انھوں نے منی سے نہیں کی تھی۔ 5. شاید وہ اپنے کے ساتھ اپنے وطن واپس جا رہی ہوگی ۔ مگر تیز ہوا کی وجہ سے اپنا راستہ گئی ہو۔ . جیسے ہی اس کے پیٹ میں کچھ کھانا کیانی بھی لگے گی۔ اس کی آنکھیں گیں۔ 37 آسانی دوست 7. اس واقعے کے بعد پڑوں کے پانی کے بہت اچھے بن گئے۔ آخرکار بچوں کو ہوہی گیا۔ 8. اس کے بعد بھلانی اور کیوں رہتی۔ بلند آواز سے پڑی معذور مشغلہ مصروف چاق و چوبند مشورہ مضمون عملی بن ٹونگ اگر آپ کی جماعت میں منی جیسا کوئی بچہ ہو تو آپ اس کی کس طرح مدد کریں گے؟ غور کرنے کی بات و کبھی بھی اس سے مفت اور صفت سے ام بنا لیتے ہیں۔ جیسے آپ کے سبق میں ایک لفظ محلی‘‘ آیا ہے۔ بی منت ہے۔ اور یہ اس عمل سے بنا ہے۔ اسی طرح ایک لفظ ” آسمان“ آیا ہے جو اسم ہے اور اس سے صفت’’ آسانی‘‘ بنی ہے۔ not to شاومیر۔ ٹھنڈے شمالی حتے سے ہر سال ہندوستان آنے والا ایک مہمان۔ شاید وہ اپنے غول کے ساتھ اپنے وطن واپس جا رہی ہوگی ۔ مگر تیز ہوا کی وجہ سے اپنا راستہ بھول گئی۔ اپنے ساتھیوں سے دوباره جا ملنے کی دیواند وار کوشش میں اس کے بازوں میں چوٹ لگ گئی۔ وہ ایک خوب صورت جنگی بی تھی۔ اس کے جسم کا نچلا حصته ملائم اور بھی تھا اور اس کی چوری پھاوڑے کی طرح چوڑی سی تھی۔ اس کے پر چمکیلے، نیلے، سفید اور بھورے تھے۔ اس وقت وہ بے حتھکی ہوئی لگ رہی تھی۔ ONCER ot to be republ

RELOAD if chapter isn't visible.