حضرت عرب کے شہرمکہ میں اب سے کوئی ساڑھے چودہ سو سال پہلے پیغمبر اسلام حضرت کی ولادت ہوئی۔ آپ کی پیدائش سے چھ مہینے پہلے آپ کے والد عبد اللہ کا انتقال ہو گیا تھا، اس لیے آپ کے دادا عبد المطلب نے آپ کی پرورش کی۔ جب آپ چھے سال کے تھے، تو آپ کی والدہ بی بی آمنہ کا انتقال ہوگیا۔ آٹھواں سال تھا کہ دادا بھی وفات پاگئے۔ پھر چچا ابو طالب نے آپ کی سر پرستی کی ۔ ذرا بڑے ہو کر آپ نے تجارت کی طرف توجہ کی اور بڑی محنت، دیانت اور سچائی سے کاروباری معاملات کیے۔ آپ اس قدر ایمان دار تھے کہ لوگ آپ کو اسپین بین امانت وال اور صادقین سپا“ کہہ کر پکارنے لگے تھے۔ آپ نے بھی جھوٹ بولتے، نہ کسی کو دھوکا دیتے ، نہ لین دین کے معاملے میں ٹال مٹول اور نہ کسی بات پر جھگڑتے تھے۔ جو وعدہ کر لیتے، اس کو پورا کرتے ، چاہے اس میں تکلیف اٹھانی پڑے یا پا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اگر کہیں جھگڑا ہو جاتا تو لوگ فیصلے کے لیے آپ کے پاس آتے ۔ اسی زمانے میں کعبہ کی عمارت کو نئے سرے ) ** ) 22 اپنی زبان سے تعمیر کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ چونکہ کعب تمام عرب میں سب سے زیادہ پاک اور ختم جبکہ بجھی جاتی تھی، اس لیے مکہ میں جتنے قبیلے تھے، سب چاہتے تھے یہ کام ہم ہی کریں ۔ جھگڑے سے بچنے کے لیے مختلف حصوں کی تھی مختلف قبیلوں کے سپرد کر دی گئی ۔ سب نے خوشی خوشی اپنے حصے کا کام پورا کیا لیکن حجراسودنصب کرنے کے سلسلے میں ایک مشکل آن پڑی ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یہ عزت ہمارے حصے میں آئے اور عمارت میں حجر اسود کو ہمارے ہی آدمی اٹھا کر اس جگہ لگائیں ۔ کئی روز تک جھگڑا ہوتا رہا۔ آخر طے پایا کل جو سب سے پہلے کے میں داخل ہو، وہ اس کا فیصلہ کرے، یاخودی جر اسود کو اس کی جگہ پر نصب کر دے۔ جانتے ہو اگلے روز کعبے میں سب سے پہلے داخل ہونے والا کون تھا؟ حضرتے تھے۔ سب پکار اٹھے :”لودہ میں آگئے، اب یہی اس جھگڑے کا فیصلہ کریں گے۔ اور پھر آپ کے فیصلے نے وا تھی سب کو خوش کر دیا۔ آپ نے کہا : ”ایک بڑی اور مضبوط چادر لا د‘ چادر لائی گئی، تو آپ نے اپنے ہاتھ سے حجر اسود اٹھا کر اس پرکھا، پھر فرمایا : ہر قبیلے کا سردار آگے بڑھے اور اس چادر کا ایک ایک پر اپنے ہاتھوں میں تھام لے۔ اس طرح وہ لوگ جر اسودکو کتے کی دیوار کے پاس لے گئے ۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ اس طرح ایک بڑا جھگڑاختم ہو گیا، سب خوش ہو گئے ، مل جل کر کام کرنے کی برکت ہر ایک کی مجھ میں آ گئی۔ کاروبار سے فرصت پا کر آپ اکژر مکہ کے پاس پہاڑیوں میں چلے جاتے اور وہاں غار حرا میں اکیلے چپ چاپ عبادت کرتے اور غور وفکر فر ماتے۔ چالیس سال کی عمر میں آپ نے انسانوں کو خدا کا پیغام سنا یا اور انھیں برائیوں کو چھوڑنے اور اچھی باتوں کو مارنے کی دعوت دی ۔ جس کتاب میں خدا کا بی کامل پیام ہے اسے قرآن کہتے ہیں۔ جس زمانے میں حضرت نے اپنے پیغمبر ہونے کا اعلان کیا عرب کی حالت بہت خراب تھی۔ اکثر عربوں کی زندگی قتل اور لوٹ مار میں گزرتی تھی۔ پورا عرب قبیلوں میں بٹا ہوا تھا۔ یہ قبیل بہت معمولی باتوں پرآپس میں لڑتے رہتے تھے۔ لڑائی دادا کے زمانے میں شروع ہوتی تھی تو پتوں اور پر پتوں تک چلتی رہتی تھی۔ جب تک ایک قبیل تم نہ ہو جاتا لڑائی چلتی رہتی تھی صلح کا کوئی خانہ نہ تھا۔ حضرت نے سب مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا۔ ان کے اثرات اور تعلیمات سے قبیلوں کی دشمنیاں ختم ہوگئیں۔ مساوات اور بھائی چارے کا سبق صرف عرب تک محدود نہ رہا۔ جہاں جہاں مسلمان گئے، حضرت نفت 23 مساوات کا تو ساتھ لے گئے۔ جن جگہوں پر ان میں ختم کی اور تھی، وہاں بھی مساوات اور بھائی چارے کا چرچا ہونے لگا۔ آں حضرت سے پہلے عرب میں عورتوں کی حالت بہت خراب تھی ۔ بعض قبیل تو بچیوں کو پیدا ہوتے ہی مارڈالتے تھے۔ جن قبیلوں میں بچیاں قتل نہ کی جاتی تھیں، ان میں بھی عورت کی حیثیت لونڈی سے بہتر نتھی۔ آں حضرت کی تعلیمات اور اثر نے صرف یہ کھل قلم کو ختم کیا عورت کو سماج میں باوقار درجہ دیا۔ اب عورت ماں باپ کے دورے میں حصہ پانے گئی ۔ دنیا میں سب سے پہلے اسلام نے عورت کی حالت کو بہتر بنایا۔ اور بھی طرح طرح کی غلط رمیں عام تھیں۔ آپ نے لوگوں کو ان برائیوں سے روکا ۔ آپ نے تعلیم دی کہ خدا ایک ہے، وہی عبادت کے لائق ہے اور خدا کے رسول ہیں۔ اس آواز کا اٹھنا تھا کہ مخالفتوں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ مکہ کے سرداروں کو اپنی سرداری خطرے میں نظر آئے گی۔ انھوں نے پہلے تو حضرت کا مذاق اڑایا، پھر انھیں طرح طرح کے لاپ دیے۔ آپ نے فرمایا: اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں سورج رکھ دیں اور بائیں ہاتھ میں چاند، تب بھی میں اللہ کے کام سے ہاتھ نہ اٹھاوں گا.................. یا تو اس کام کو انجام دوں گا یا اپنی جان قربان کروں گا۔“ پھر مکہ والوں نے آپ کوطرح طرح کی دھمکیاں دیں اور تکلیفیں پہنچائیں کہ یہ آواز دب جائے۔ ان کا ظلم بڑھتا ہی رہا۔ وہ راستہ چلتے ہوئے آپ پرگندگی چیک دیئے۔ دروازے کے سامنے کانٹے بچھادیئے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو طرح طرح سے ستایا جاتا۔ آپ نے اور آپ کے ساتھیوں نے ساری مخالفتوں کو تیرہ برس صبر کے ساتھ جھیلا اور حق کے راستے سے بالکل نہ ہٹے۔ یہاں تک کہ سنہ 622 عیسوی میں آپ مکہ چھوڑ کر مدینہ چلے گئے۔ آپ کے اس سفر کو ہجرت کہا جاتا ہے۔ اس واقعے سے ایک نیا سنہ شروع ہوتا ہے۔ جس کو سن ہجری کہا جاتا ہے۔ حضرت جب مدینہ پن تو اس وقت آپ کی عمرتر پین سال تھی۔ مدینے میں کچھ لوگ پہلے ہی سے اسلام قبول کر چکے تھے۔ انھوں نے آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا دل سے استقبال کیا اور ہر طرح کی مہمان داری کی۔ انھوں نے کہا : ’’بی آنے والے ہمارے بھائی ہیں، اس لیے ہمارے مال و دولت میں برابر کے شریک ہیں۔ 24 اپنی زبان مدینہ آ کر آپ نے سب سے پہلے ایک مسجد میر کی۔ سب نے مل کر اس کام میں دل و جان سے حصہ لیا۔ حضرت بھی سب کے ساتھ کار مٹی اور پتھر اٹھا کر لاتے تھے۔ اس طرح ایک چھوٹی سی مسجد بنی۔ اس کے ایک طرف چھوٹے چھوٹے کمروں میں حضرت محمد اور ان کے گھر والے رہتے تھے۔ ان کے لیے کوئی گل تھانه در باره وی مسجدسب پڑھی۔ مدینہ میں تشریف لانے کے بعد آپ کی مقبولیت اور اثر میں روز بہ روز اضافہ ہوتا گیا اور دس سال کے اندر سارے عرب میں اسلام پھیل گیا۔ آپ نے ہمیشہ سادہ زندگی بسر کی۔ بازار سے سودا سلف خودلاتے ،، بکری کا دودھ خودرو ہے، اپنے کپڑوں کو خود ہی پیوند لگاتے، بوجھ اٹھاتے ، جانوروں کو چارا ڈالتے ، یہاں تک کہ دوسروں کے کام بھی کر دیا کرتے۔ کوئی بہار ہوتا تو مزاج پرسی کے لیے ضرور تشریف لے جاتے اور اس کی تیمارداری کرتے۔ آپ بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، ان کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ، ان کے لیے دعا فرماتے۔ ایک بار آپ نے فرمایا : ” نے تو خدا کے باغ کے پھول ہیں۔ آپ بچوں سے ہی مذاق بھی کرتے اور ان کے ساتھ کھیل میں بھی شریک ہوجاتے۔ تسٹھ سال کی عمر میں حضرت کا وصال ہوا اور مسجد نبوی کے اسی مجرے میں سپردخاک کیے گئے جس میں آپ کی وفات ہوئی تھی۔ معنی یاد کیجیے ولادت ولادت : پیدائش وفات : انتقال موت، رحلت سرپرستی : دیکھ بھال نگرانی : بیوپار دیانت : ایمانداری معاملات : معاملہ کی جمع، لین دین not to be تجارت حضرت م 25 امانت : وہ چیز جوکسی کے پاس وقتی طور پر حفاظت کے لیے رکھ دی جائے، رکھوائی ہوئی چیز قبیلہ : ایک دادا کی اولاد، بڑا خاندان، گروه حجر اسود : ( حجر : چھر۔ اسود : کالا ) وہ کالا پتھر جو کعبہ کی دیوار میں لگا ہوا ہے نصب کرنا : لگانا | صلح : میل ملاپ مجھوت، دوستی مساوات : برابری، سب کا برابر ہونا باوقار : عزت والا ورش : مرنے والے کا چھوڑا ہوا مال، تر که رسول : پیغمبر خدا کا پیغام لانے والا کام انجام دیا : کام پورا کرنا جان قربان کرنا : جان دے دینا حق کا راستہ : سچائی کا راستہ ہجرت : وطن چھوڑ دیا، حضرت کا مکے سے مدینے جانا مقبولیت : مشہور ہونا، شہرت اضافہ : بڑھنا مزاج پرسی : حال پوچھنا، خیریت معلوم کرنا بارداری : بیکار کی دیکھ بھال حجره : کوٹری، مسجد سے ملا ہوا چھوٹا کره پردخاک کرنا : مٹی کے حوالے کرنا ، فون کرتا OFFO 26 اپنی زبان سوچنے اور بتایئے 1. حضرت ختم کی پیدائش کہاں ہوئی؟ 2. آپ کو اپن“ اور ”صادق‘‘ کیوں کہا جاتا ہے؟ 3. حجر اسود کسے کہتے ہیں؟ 4. حضرت نے مل جل کر کام کرنے کا طریقہ کس طرح سمجھایا؟ 5. آپ عبادت کرنے اور غور و فکر فرمانے کے لیے کہاں جاتے تھے؟ 6. جس کتاب میں خدا کامل پیام ہے اس کا کیا نام ہے؟ 7. حضرت نے جب پہلی بار انسانوں کو خدا کا پیغام سنایا تو آپ کی عمر کیاتھی؟ 8. آپ نے بھی خدا کے پیغام کے ذریعے انسانوں کو کی تعلیم دی؟ 9. اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے میں آپ کو کیا کیا مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں؟ 10. دنیا میں سب سے پہلے کس مذہب نے عورتوں کو سماج میں باعزت مقام عطا کیا؟ نیچے دیے ہوئے لفظوں سے خالی جگہ کو کریے نے غارحرا داخل انتقال فعل مجراسود پ ر تعلیمات 1. کچھ مہینے پہلے آپ کے والد عبدالد کا ہو گیا تھا۔ 2. اگر کہیں جھگڑا ہو جاتا تولوگ - کے لیے آپ کے پاس آتے۔ 3. لیکن کونصب کرنے کے سلسلے میں ایک مشکل آن پڑی۔ 4. آخر طے پایا کل جونص سب سے پہلے کہے میں ہو، وہ اس کا فیصلہ کرے۔ حضرت ف 27 5. اور وہاں - میں اکیلے چپ چاپ عبادت کرتے اور غور وفکر فرماتے۔ 6. جس زمانے میں حضرت نے اپنے ہونے کا اعلان کیا عرب کی حالت بہت خراب تھی۔ 7. ان کے اثراور سے قبیلوں کی دشمنیاں ختم ہوئیں۔ 8. ایک بار آپ نے فرمایا تو خدا کے باغ کے پھول ہیں ۔“ نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استمال کیے تجارت قبیلہ صلے مساوات ہجرت اضافه تیمارداری مزاج پرسی یادرکھیے ہے پیغمبر اسلام حضرت محمد کے نام کے ساتھ ’’م ‘‘ لکھا جاتا ہے۔ یہ عربی فقرے ” صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوٹی شکل جس کے معنی ہیں:” ان پر الله کا درود، رحمت اور سلام ہو۔“ 1. حضرت کے والد والده، پی اور دادا کا نام لکھے ؟ 2. حضرت کے سے ہجرت کر کے کہاں تشریف لے گئے؟ 3. جب حضرت نڈ کو طرح طرح کے لاٹ دیے گئے تو آپ نے کیا فرمایا؟ 4. حضرت سے پہلے عرب کی کیا حالت تھی؟ 5. حضرت کی زندگی پر ایک مضمون لکھیے۔ 28 اپنی زبان غور کرنے کی بات و و آپ نے ہمیشہ سادہ زندگی بسر کی۔ بازار سے سودا سلف خود لاتے ، بکری کا دودھ خود دوہتے، اپنے کپڑوں کو خود پیوند لگاتے، بوجھ اٹھاتے، جانوروں کو چارا ڈالتے ، یہاں تک کہ دوسروں کے کام بھی کر دیا کرتے تھے۔ اوپر کے جملوں میں لانے‘’’ دوہے لگاتے اگانے ڈالئے اور کرتے ایسے الفاظ ہیں جن سے کسی کام کا کرنا یا ہونا معلوم ہوتا ہے۔ یہ الفاظ ترتیب وار لانا، دوہناء لگانا، اٹھانا، ڈالنا اور کرنا سے بنے ہیں۔ ایسے الفاعل‘‘ کہلاتے ہیں ۔ آپ خود ایسے الفاظ لکھے جال کہلاتے ہوں۔ not to be repub

RELOAD if chapter isn't visible.