ایک پہاڑ اور گلہری کوئی پہاڑ یہ کہتا تھا اک گلہری سے ذرا سی چیز ہے، اس پر غرور! کیا کہنا! خدا کی شان ہے ناچیز، چیز بن بیٹھیں! تری بساط ہے کیا میری شان کے آگے؟ جو بات مجھ میں ہے، مجھ کو وہ ہے نصیب کہاں! کہا یہ سن کے گلہری نے، منہ سنبھال ذرا جو میں بھی نہیں تیری طرح تو کیا پروا تجھے ہو شرم، تو پانی میں جا کے ڈوب مرے یہ عقل اور یہ سمجھ، یہ شعور! کیا کہنا! جو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں! زمیں ہے پست مری آن بان کے آگے بھلا پہاڑ کہاں، جانور غریب کہاں! یہ اچھی باتیں ہیں دل سے انھیں نکال ذرا! نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے قدم اٹھانے کی طاقت نہیں ذرا تجھ میں جو تو بڑا ہے تو مجھ سا بنر دکھا مجھ کو نہیں ہے چیز نکمی کوئی برا نہیں قدرت اپنی زبان کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اس کی حکمت ہے مجھے درخت پر چڑھنا سکھا دیا اس نے نری بڑائی ہے خوبی ہے اور کیا تجھ میں یہ چھاليا ہی ذرا توڑ کر رکھا مجھ کو کوئی زمانے میں کے کارخانے میں " ;ا می باد ھے غرور : گھمنڈ شعور : سمجھ عقل بساط : حیثیت پست : نچا، گر پڑا آن بان : شان وشوکت ، رکھ رکھاو نصیب : قسمت، تقدير قدرت : طاقت، خدا کی شان حکمت : عقل مندی، خدا کی مرضی : مرف و یا * * * ها : کمال : ناکارہ، جوسی کام کی نہ ہو ة م ن ایک پہاڑ اور گلہری سوچنے اور بتایئے 1. پہاڑن گلہری سے کیا کہا؟ 2. پہاڑ نے اپنی بڑائی کن باتوں سے ظاہر کی؟ 3. گلہری نے پہاڑ کی باتیں سن کر کیا کہا؟ | گلہری میں کیا خوبی ہے جو پہاڑ میں نہیں ہے؟ 5. خدا کی حکمت کن باتوں سے ظاہر ہوتی ہے؟ خالی جیک کو بریکٹ میں دیے ہوئے لفظ سے بھریے 1. تجھے ہو شرم ، تو میں جا کے ڈوب مرے 2. خدا کی شان ہے ناچیز چیز بیٹھیں 3. تری بساط ہے کیا میری کے آ گے؟ 4. بھلا پہاڑ کہاں، جانور کہاں؟ 5. نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح - 6. ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی ۔ 7. کوئی نہیں قدرت کے کارخانے میں نیچے دیے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعال کیجیے شرم غرور شعور نصیب قدرت علمت طاقت واحد الفاظ سے بنائے چیز نصیب گلہری خولی غریب درخت جانور كمت (دریا، پانی) (بن، کر) (آن، شان) (غریب، امیر) (موٹا، چھوٹا) عظمت، قدرت) (برا، بڑا) . * not to b 20 اپنی زبان چھوٹا ان لفظوں کے منشا لکھے بے شعور باتمیز خوبی پست زمین غریب مصرعوں کومل کے 1. ذرا سی چیز ہے، اس پر غرور! کیا کہنا به جو بے شعور ہوں یوں باتمیز بن بیٹھیں کوئی بڑا، کوئی چھوٹا، یہ اس کی حکمت ہے به 4. بڑا جہان میں تجھ کو بنا دیا اس نے 5. نہیں ہے چیز کی کوئی زمانے میں پہاڑ اور گری کی تو اپنی زبان میں کھیے غور کرنے کی بات و لفظ چیز کے معنی تو آپ جانتے ہی ہیں ۔ لیکن شاعر نے اس نظم میں لفظ ناچیز استعال کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے جس کی کوئی عزت یا حیثیت نہ ہو۔ و لفظ ناچیز انکسار اور عاجزی کا اظہار کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسے نا چیز کی کیا مجال جو آپ کے سامنے زبان کھولے۔ لفظ "تاچیز کا استعمال ہمیشہ اپنے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ تدریسی اشارے : اس نظم کو ڈرامائی انداز میں بھی پڑھا جا سکتا ہے۔

RELOAD if chapter isn't visible.