ایک خط پنڈت جواهر لعل نہرو کا خط، اپنی بیٹی اندرا کے نام نینی سینٹرل جیل، الہ آباد 26 اکتوبر 1930ء پیاری بیٹی! تمھیں اپنی سالگرہ کے موقع پر تھے اور نیک خواہشات ملی ہی رہی ہیں۔ نیک خواہشات کی تو اب بھی کوئی کی نہیں لیکن میں نینی جیل سے تمھارے لیے کیا تحفہ مجھ سکتا ہوں؟ نیک خواہشات کا تعلق تو دل سے ہے، جیسے کوئی پری تمھیں یہ سب کچھ دے رہی ہو۔ یہ چیزیں ہیں جنھیں جیل کی اونچی دیوار میں بھی 1 نہیں روک سکتیں۔ تم خوب جانتی ہو کہ جھے نصیحت کرنے سے کتنی نفرت ہے۔ جب کبھی میرا جی چاہنے لگتا ہے کہ نصیحت کروں تو ہمیشہ اس عقل مند‘ کی کہانی یاد آجاتی ہے جو میں نے بھی پڑھی تھی ۔ شاید ایک دن تم بھی وہ کتاب پڑھو جس میں یہ کہانی بیان کی گئی ہے۔ کوئی تیرہ سو برس گزرے کہ ملک چین سے ایک سیاح، علم و دانش کی تلاش میں ہندوستان آیا۔ اس کا نام ہیون سانگ تھا۔ وہ شال کے پہاڑ اور ریگستان طے کرتا ہوا یہاں پہنچا۔ اسے علم کا اتنا شوق تھا کہ راستے میں اس نے سیکڑوں مصیبتیں اٹھائیں اور ہزاروں خطروں کا مقابلہ کیا۔ وہ ہندوستان میں بہت دن رہا۔ خودیکھتا تھا اور دوسروں کو سکھاتا تھا۔ اس کا زیادہ تر وقت تالنده وڑیا پیٹ میں گزرا جوشهر پاٹلی پتر کے قریب واقع تھی۔ اس شہرکواب پٹنہ کہتے ہیں۔ ہیون سانگ پڑھ لکھ کر بہت قابل ہو گیا۔ حتی کہ اس کو فاضلی قانون (بدھ مت) کا خطاب دیا گیا۔ پھر اس نے 6 اپنی زبان سارے ہندوستان کا سفر کیا۔ اس عظیم الشان ملک کے باشندوں کو دیکھا بھالا اور ان کے بارے میں پوری معلومات حاصل کیں۔ اس کے بعد اس نے اپنا سفر نام لکھا۔ اس کتاب میں وہ کہانی بھی شامل ہے جو اس وقت مجھے یاد آئی : بیا یک قص کا قصہ ہے جو جنوبی ہند سے ش کرنا سونا میں آیا۔ یہ صوبہ بہار، بھاگل پور کے آس پاس نہیں تھا ہیون سانگ نے سفرنامے میں لکھا ہے کہ ایک شخص اپنے پیٹ کے چاروں طرف تا ہے کی تختیاں باندھے رہتا تھا۔ سر پر ایک جلتی ہوئی مشعل رکھتا تھا۔ ہاتھ میں ڈنڈا لیے ہوئے اکڑ اکڑ کر چلا تھا اور اس عجیب و غریب انداز میں بڑی شان سے ادھر ادھر گھومتا پھرتا تھا۔ جب کوئی اس سے پوچھتا کہ آخر آپ نے یہ کیا صورت بنارکھی ہے؟ تو وہ جواب دیتا کہ میرے اندر بے حساب علم جرا ہوا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں میرا پیٹ نہ پھٹ جائے ۔ اس لیے میں نے اپنے پیٹ پر تا نے کی تختیاں باندھ رکھی ہیں۔ اور چوں کہ تم سب لوگ جہالت کے اندھیرے میں رہتے ہوں مجھے تم پر ترس آتا ہے، اس لیے میں ہر وقت اپنے سر پرشعل لیے پھرتا ہوں۔“ ہاں تو مجھے ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ بہت زیاد علم وحکمت سے چھٹ جائیں، اس لیے مجھے اپنے پیٹ پر تا نے کی تختیاں باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور بھی جانتا ہوں کہ میری عقل میرے پیٹ میں نہیں ہے، بلکہ جہاں کہیں بھی ہو، اس میں اتنی گنجائش ہے کہ بہت کچھ اور سا سکے۔ اور جب میری عقل محدود ہے تو میں کیسے ایک عقل مند آدمی ایک خط بن کر دوسروں کو مشورہ دوں ۔ اسی لیے یہ جاننے کی کوشش کرتا ہوں کہ کیا میں ہے اور کیا غلط، کیا کرنا چاہیے اور کیا نہ کرنا چاہیے اور اس بث مباش سے بھی بھی کوئی سچائی نکل آتی ہے۔ اس لیے میں نصیحت نہیں کروں گا۔ پھر کیا کروں ۔ خط باتوں کی جگہ نہیں لے سکتا، کیونکہ یہ ایک طرف ہوتا ہے۔ اس لیے میں اگر کوئی بات کہوں اور وہ تم کوفییت گئے، تو اسے کڑوی گولی سمجھ کر مت لگو۔ بس یہ جھو کہ میں تم کو مشورہ دے رہا ہوں ، اور گویا ہم آمنے سامنے بیٹھے باتیں کررہے ہیں۔ میں نے تم کومباسا خط لکھ ڈالا، ابھی بہت سی باتیں باقی ہیں، اتنی باتیں اس خط میں کیسے آسکتی ہیں؟ تم بڑی خوش قسمت ہو کہ اپنے ملک کی آزادی کی جدوجہد کو دیکھ رہی ہو۔ تم اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہو کہ ایک بہادر عورت تمھاری ماں ہے۔ اگر تم کو بھی کسی بات میں شبہ ہو اور بات کی پریشانی میں ہوتو تم کو مال سے بہتر ساقی نہیں مل سکتا۔ خداحافظ بیٹی ! میری دعا ہے کہ تم ایک دن بہادر سپاہی بنو اور ہندوستان کی خدمت کرو۔ محبت اور نیک خواہشات کے ساتھ و جواهر لعل نبرد جواهر لعل نہرو معنی باد کے نینی جیل : الہ آباد کی ایک جیل سیاح : جگہ جگہ سیر کرنے والا ملکوں ملکوں گھومنے والا علم : واقفیت ، معلومات ونش : عقل، مجھ نالندہ ودیا پیٹھ : پرانے زمانے کی ایک یونیورسٹی جو پانی پتر، پٹنہ کے قریب تھی پاٹلی پتر : موجودہ نام پٹنہ فاضل قانون : قانون کو جانے والا، ماہر قانون بدھ مت : بدھ مذہب . اور آبادی ایک نہیں پیوں اور گھومنے والا not to b . اپنی زبان عظیم الشان سفرنامه شبه اندیشه به : بڑی شان والا اعلا (اعلی) : تری جس میں سفر کے حالات بیان کیے گئے ہوں : شک : خطرہ،ڈر : نہ جانتا علم کا نہ ہونا، ناواقفیت 6 سے روشنی کی * : وہ ڈنڈا جس کے ایک سرے پر کپڑا لپیٹ کر جلایا جاتا ہے اور اس جاتی ہے، چراغ علم وحکمت : عقل مندی، دانش مندی گنجائش : سائی، جگہ محدود : حد کے اندر،نگ بحث و مباحث : بحث و تکرار جدوجہد : سخت کوشش NCE میر پر C سوچنے اور بتایا 1. پنڈت جواہرل شہر کون تھے؟ | 2. پنڈت نہرونے بی خط کس کے نام اور کہاں سے لکھا؟ 3. جواہرعل نہرونے نصیحت کرنے کا کیا طریقہ اختیارکیا؟ 4. چینی سیاح کا کیا نام تھا؟ 5. چینی سیاح ہندوستان کیوں آیا؟ | 6. چینی سیاح کوعلم حاصل کرنے کے لیے کن حالات سے گزرنا پڑا؟ 7. ہندوستان میں چینی سیاح کا زیادہ وقت کہاں گزرا؟ not to be reper ایک خط ن ن ن 8. ہیون سانگ نے اپنے سفر نامے میں ایک شخص کو عجیب وغریب کیوں کہا ہے؟ و. اس واقعے کا ذکر کر کے پنڈت نہرو اپنی بیٹی کو کیا سبق دینا چاہتے تھے؟ خالی جگہ کوئی لفظ سے کھرپے 1. - کاتعلق تو دل سے ہے۔ چین کا ایک سیاح کی تلاش میں ہندوستان آیا۔ پڑھ لکھ کر بہت قابل ہوگیا۔ 4. اس کو کا خطاب دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنا لکھا۔ 6. شخص اپنے پیٹ کے چاروں طرف - باندھے رہتا تھا۔ 7. میں ہر وقت اپنے سر پر لیے پھرتا ہوں۔ 8. اپنے ملک کی آزادی کی کو دیکھ رہی ہو۔ نیچے دیے ہوئے جملوں کی ترتیب سے لکھے 1. میرے اندر بے حساب علم بھرا ہوا ہے۔ 2. میں نینی جیل سے تمھارے لیے کیا تحفہ ھوں۔ 3. اور جب میری عقل محدود ہے تو میں کیسے ایک عقل مند آدی بن کر دوسروں کو مشورہ دوں۔ 4. ملک چین سے ایک سیاح علم ودانش کی تلاش میں ہندوستان آیا۔ 5. تم ایک دن بہادر سپانی بنواور ہندوستان کی خدمت کرو۔ 6. اس کا زیادہ وقت نالندہ ودیا پیٹھ میں گزرا جوشهر پاٹلی پتر کے قریب واقع تھی۔ 7. اس کے بعد اس نے اپنا سفر نام لکھا۔ 8. ہیون سانگ پڑھ لکھ کر بہت قابل ہو گیا۔ بية م ن 10 اپنی زبان نے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے سیاح عظیم الشان علم وحکمت بحث و مباحث مشعل لکھے اپنے دوست کو ایک لکھے جس میں اس کی کہانی کا ذکر ہو۔ پاٹلی پتر کانیانام ’’ پن ہے۔ پیشہ بہارکی راجدھانی ہے۔ غور کرنے کی بات ) و خط کومکتوب بھی کہتے ہیں۔ اس کا تعلق دو لوگوں سے ہوتا ہے۔ ایک خط لکھنے والا جسے مکتوب نگار کہتے ہیں اور جسے خط لکھا جائے وہ مکتوب الیہ کہلاتا ہے۔ اس خط میں مکتوب نگار پنڈت جواہرعل نہرو اورمکتوب الیہ ان کی بینی اندرا ہیں۔ not to

RELOAD if chapter isn't visible.