مٹی کا دیا چٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا ایک بڑھیا نے سر رہ لا کے روشن کر دیا تا کہ رہ گیر اور پردیسی کہیں ٹھوکر نہ کھائیں راہ سے آساں گزر جائے ہر اک چھوٹا بڑا یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور فانوس سے روشنی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا گر نکل کر اک ذرا محلوں سے باہر دیکھے ہے اندھیرا گپ در و دیوار پر چھایا ہوا شرخ رو آفاق میں وہ رہ نما مینار ہیں روشنی سے جن کی ماحوں کے بیڑے پار ہیں الطاف حسین حالی 2 اپنی زبان می یاد ھے جٹ پینے کے وقت .. ها .. : : : : : : .. سورج ڈوبنے کے وقت شام کے وقت راستے میں راستہ چلنے والا، رانی مسافر، دوسری جگہ کا رہنے والا شیشے کا نا ہوا ایک تم کاشمعدان چراغ کی حفاظت کرنے والا شیشہ چینی ہمیشہ کامیاب افت کی جمع، دنیا کا سات وہ روشن مینار جو سمندروں میں جہازوں اور کشتیوں کو راستہ دکھانے میں مدد سدا | سرخرو به درد ۹ ۱۰ آفاق رہنما مینار : : : کرتے ہیں۔ ملاح : : : کشتی چلانے والا جہازوں اور کشتیوں کا قافلہ منزل پر پہنچنا، کامیاب ہونا بیڑا پار ہونا not to be سوچنے اور بتایئے 1. بڑھیا نے منی کاو اس وقت روشن کیا؟ 2. راستے میں مٹی کا دیاروشن کرنے کا کیا مقصد تھا؟ مٹی کا دیا 3. مٹی کا دیا جھاڑ اور قانوں سے بہتر کیوں ہے؟ 4. محلوں کے باہر اندھیرا ہونے سے شاعر کی کیا مراد ہے؟ 5. رات میں ملاحوں کو راستہ دکھانے میں کون سی چیز مددکرتی ہے؟ 6. دوسروں کی بھلائی کے لیے ہم کا کیا کام کر سکتے ہیں؟ ان لفظوں کے منشا ھے آسان بہتر روی محل اندھیرا مصر مل کے 1. جھٹ پٹے کے وقت سے ایک مٹی کا دیا 2. تاکہ رہ گیر اور ا - کہیں ٹھوکر نہ کھائیں 3. راہ سے گزر جائے ہر اک چھوٹا بڑا و روشنی سے جن کی کے بیڑے پار ہیں املا درست ھے پوریا آصان فانوس پردیسی مہلوں بہار شرخ لکھے not to be 1. اس نظم کا مطلب اپےلفظوں میں لکھے 2. آپ نے بھلائی کا کوئی کام ضرور کیا ہوگا، اسے اپنے الفاظ میں لکھے A اپنی زبان کا الف اور کالم ب کے مصرعوں کو ملاکرین شعرلکھے (الف) (ب)| چٹ پٹے کے وقت گھر سے ایک مٹی کا دیا تا کہ رہ گیر اور پر میں کہیں ٹھوکر نہ کھائیں راہ سے آساں گزر جائے ہر اک چھوٹا بڑا ایک بڑھیا نے سر ره لا کے روشن کر دیا روشی محلوں کے اندر ہی رہی جن کی سدا یہ دیا بہتر ہے ان جھاڑوں سے اور قانوس سے غور کرنے کی بات و آپ نے پڑھا کمیٹی کے معمولی دینے سے راہ گیروں کو کتنا فائدہ ہوا۔ وہ ٹھوکر کھانے سے گئے اور دینے کی تھوڑی سی روشنی میں انھوں نے آسانی سے راستہ پار کرلیا۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ لوگوں کی مدد کرنے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے بہت زیادہ قیمتی چیزوں اور روپے پیسے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مدد کرنے کے جذبے اور دردمند دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ بڑا آدی وہی ہے جو دوسروں کے کام آئے۔

RELOAD if chapter isn't visible.