6 پر اندر پر باہر 1 (Garbage in, Garbage Out) ج ن سے کافی مقدار میں والے کے لیے میں بھی فون کر کے کوڑائے جاتے ہیں تو یہ کوڑا کرکٹ کہاں جاتا ہے اور اس کا کیا ہوتا ہے؟ کیا یمکن ہے کہ اس تمام کوڑے کرکٹ کو سی ایسی چیز میں تبدیل کر دیا جائے جو ہمارے لیے مضر نہ ہو: کیا ہم اس معاملے میں کچھ تعاون کر سکتے ہیں؟ اس باب میں ہم ان تمام سوالوں کے جوابات پر غور و خوض کریں گے۔ ا ن ۔ تور نوری ہم روزانہ اپنے گھروں سے اسکول، دکانوں ) اور آفس سے کافی مقدار میں کوڑا کرکٹ باہر چھینک دیتے ہیں دکانوں سے خریدے جانے والے بسکٹ، اناج، دالیں، دودھ یا گھی پلاسٹک کی تھیلیوں یا ٹن کے ڈبوں میں پیک ہوتے ہیں۔ یہ بھی پینگ مادے کوڑے کرکٹ کے طور پر پھینک دیئے جاتے ہیں۔ ہم بض اوقات ایسی اشیا خریدتے ہیں جو بہت کم استعمال کی جاتی ہیں اور عموما کوڑے کی نذر ہو جاتی ہیں۔ ہماری روز مرہ کی سرگرمیوں کے نتیجے میں بہت زیادہ کوڑا کرکٹ پیدا ہوتا ہے۔ ہم اکثر مونگ پھلی کھانے کے بعد اس کے چھلکے ریل گاڑیوں، بسوں یا عام مقامات پر چیک دیتے ہیں۔ بس سے اترنے کے بعد ہم نکٹ کو پھینک دیتے ہیں پھر تفرین نسل کو شارپ کردیتا ہے۔ اگر ہم سے اپنی کاپی میں کوئی غلطی سرزد ہو جاتی ہے یا پھر اس پر روشنائی وغیرہ بھر جاتی ہے تو ہم کاپی کے صفی کو پھار کر پھینک دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی ہم بہت سے گھریلو فاضلات مثلا ٹوٹے ہوئے کھلونے پرانے کپڑے، جوتے اور چپل پھینک دیتے ہیں۔ اگر ہمارے گھروں اور اطراف سے کوڑا کرکٹ نہ ہٹایا جائے تو کیا ہو؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس سے ہمیں نقصان پہنچے گا؟ جب خاکروب بینی صفائی کرمچاری کوڑے دان سے پہیلی اور بوجھو کے اسکول کے بچوں نے ایک پروجیکٹ تیار کیا ہے جس کا نام ہے کوڑے کرکٹ کا تصفیہ ہم ان میں سے کچھ ایسی باتوں کو سیکھیں گے جو انہوں نے اس پروجیکٹ کی مدد سے بھی ہیں۔ کر کوڑے کردی کا تن (Dealing with Garbage خاکروب بینی صفائی کرمچاری کوڑے کرکٹ کو ٹرک میں اکٹھا کر کے گہرائی والے کھلے علاقوں میں لے جاتے ہیں جنہیں لینڈ فل landful) کہا جاتا ہے (شکل 16 . 1)۔ شکل 16 . 1 لینڈ فل کوڑے کرکٹ کا وہ حصہ جسے دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے اسے علیحدہ کرلیا جاتا ہے۔ اس طرح کوڑے کرکٹ میں فائدہ مند اور غیر فائدہ مند جز کو علیحدہ کر لیا جاتا ہے اور اسے لینڈفل میں پھیلا دیا جاتا ہے اس کے بعد اس کے اوپر مٹی کی پرت بچھائی جاتی ہے۔ جب لینڈھل مل طور پر بھر جاتی ہے تو اسے کسی پارک یا کھیل کے میدان میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ اگلے 20 برسوں تک اس کے اوپر کی عمارت وغیرہ کی تعمیر نہیں کی جاتی۔ کوڑے کرکٹ کے مفید جزو کو ٹھکانے لگانے کے لیے لینڈفل کے نزدیک ایسی جگہیں فروغ دی جاتی ہیں جہاں اسے کپوسٹ میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ پوسٹ کیا ہے؟ آیئے مندرجہ ذیل عملی کام کی مدد سے اس کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں۔ کوڑے دان میں پھینکنے سے پہلے اپنے گھر سے کوڑا کرکٹ اکٹھا کجھے۔ اسے مندرجہ ذیل گروپوں میں علیحدہ کیے۔ گروپ 1: باورچی خانے کا کوڑا کرکٹ - مثل پھلوں اور بڑوں کے چھلکے انڈے کے چھلکے، باقی ماندہ کھانا، چائے کی پی، اخبار، سوی پتیاں، اور کاغذ کی تھیلیوں کو بھی اسی گروپ میں شامل کیے۔ گروپ 2: کیڑوں کے ٹکڑے، پالی تھین کے تھیلے ٹوٹا ہوا کار، ایلومینیم، پینگ ، کیلیں، پرانی جوتیاں اور ٹوٹے ہوئے کھلونے۔ اب ہر ایک گروپ کے اجزا کی دو علیحدہ علیحدہ ڈھیر بنائے۔ ان پر C ، B ، A اور Dھے۔ گروپ اسے ایک ڈھیری اور گروپ 2 سے ایک ڈھیری لے کر دو علیحدہ علیحده پلاسٹک کے تھیلوں میں رکھے۔ ان دونوں تھیلوں کے منہ کو کس کر باندھ دیکھے۔ چاروں ڈھیریوں کو علیحدہ علیحدہ گڑھوں میں رکھ کر مٹی سے ڈھک دیے (شکل 16 . 2)۔ کوڑے کی ان بلی کو اس بات پر تعجب ہوا کے مشن پر کوڑا کر کرنے کا کام سکتا ہے؟ اسے پہلے مقام پر کیوں کا کام کیا کو کوڑا کرکٹ ایسا بھی ہے جنت میں کوڑا کرکٹ نہیں ہے؟ شكل 16 . 2 کچرے کی ڈھیریوں کو گڑھوں میں رکھنا کچرا اندر کچرا باهر 187 ڈھیروں کو مٹی میں دبانے کے لیے چار گملوں کا استعمال اگر آپ کچھ اور مشاہدہ کرتے ہیں تو انہیں اپنی نوٹ کر سکتے ہیں۔ ا ی ک میں درج کرنا نہ بھولیں۔ جو کوڑا کرکٹ بڑا نہیں ہے چار دنوں کے بعد مٹی کو ہٹانے اور کوڑے کرکٹ میں اسے نہ توھینکے اور نہ ہی جلائے۔ ہونے والی تبدیلی کا مشاہدہ کیجیے۔ سیاہ رنگ اور بدبو کی عدم اگر آپ کو لگتا ہے کہ کوڑاعمل طور پر سڑ چکا ہے اور اس موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کوڑا کرکٹ میں سے بو نہیں آرہی ہے تو اسے اس مٹی میں ملا دیے جہاں مکمل طور پر سڑ چکا ہے۔ کوڑے کی ان ڈھیروں کو دوبارہ آپ اپنے پسندیدہ پودے اگاتے ہیں یہ پودوں کو تغذیات گڑھوں میں رہ کر مٹی سے ڈھک دیے۔ دو۔ دو دن کے (Nutrients فراہم کرے گی۔ وقفے سے ان کا مشاہدہ کھے اور اپنے مشاہدات کو نوٹ کبھی آپ نے اس عملی کام سے یہ مشاہدہ کیا کہ کوڑے کرکٹ جیاک تجویز کیا گیا ہے۔ کیا کوڑا کرکٹ میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو کہ سڑ جاتی ہیں۔ یہ کھاد (0) مکمل طور سے سڑ چکا ہے اور اس میں سے کونہیں آربی (Manure کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ کچھ اشیا کا سڑ جانا اور کھاد ہے؟ میں تبدیل ہو جانا کپوسٹنگ (Composting) کہلاتا ہے۔ (i) جزوی طور سے علیل ہوا ہے؟ کچھ شہروں اور قصبوں میں میونسپلٹی نے دونوں قسم کا کوڑا (ii) مکمل طور سے سڑ چکا ہے لیکن ابھی بھی بدبو آرہی ہے؟ جمع کرنے کے لیے علیحدہ علیحدہ کوڑے دان فراہم کیے ہیں (iv) کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے؟ جن میں ایک کا رنگ نیلا اور دوسرے کوڑے دان کا رنگ ہرا کس ڈھیری کا کوڑا سڑ چکا ہے اور کسی کا نہیں ہے۔ نیلے رنگ کا کوڑے دان ان اشیا کے لیے ہے جو دوباره اپنے مشاہدات کی بنا پر جدول 16 . 1 کے کالموں میں استعال میں لائی جاسکتی ہیں مثلا پلاسٹک، دھاتیں اور کانچ انتخابات (1)، ( i ) ، ( i ) یا (iv) لکھیے۔ کیا آپ نے نوٹ کیا کہ یہ وہ اشیا ہیں جو کوڑے کی ڈھیریوں جدول 16 . 1 کپڑے کی ڈھیریوں کا کیا ہوا میں سڑی نہیں ہیں؟ ہرے رنگ کے کوڑے دان باورچی خانے یا دیگر نباتاتی اور حیوانی فضلہ کو جمع چھرے کا | 4 دنوں 6 دنوں ادو ہفتوں و ہفتوں * کرنے کے لیے ہیں۔ آپ یہ دیکھ چکے ہیں کہ کے بعد کے بعد کے بعد || اس قسم کا فضلہمل طور پر سڑ جاتا ہے جب اسے مٹی میں دبایا جاتا ہے۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ کوڑے کرکٹ کو پھینکنے سے پہلے اسے دوگروپوں میں علیحدہ کرنا ہمارے لیے کیو ضروری ہے جیها کملی کام میں کیا گیا تھا۔ / ة کے بعد به || واهدة ole 188 لاتنس لانے کی نوٹ بک میں نوٹ کیا: سرکار نے پتوں کا کے جانے کو چوری کیوں قرار نہیں دیا ہے؟ ) کیا آپ نے سڑک کے کنارے سوکھی ہوئی پتیوں کے کوڑے کے ڈھیر دیکھے ہیں؟ اکثر نھیں جلا دیا جاتا ہے (شکل 16 . 3 )۔ فصلوں کی کٹائی کے بعد کسان بھی بھوسے، سوکھی ہوئی پتیوں اور فصلی پودوں کے حصوں کو کھیت ہی میں جلا دیتے ہیں۔ انہیں جلانے سے دھواں اورگیسیں پیدا ہوتی ہیں جو کہ ہماری صحت کے لیے بہت مضر ہیں۔ ہمیں اس قسم کے عمل سے باز رہنا چاہیے۔ اس قسم کے فضلے کو مفید کپوسٹ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ س- ---- ---- حقیقت میں چور ہیں ۔ اس کی مراد یہ ہے کہ یہ غیر قانونی قرار دیا جائے وہ چاہتی ہے کہ ہندوستان میں کہیں بھی پتیوں اور نباتاتی فضل کو جلانے کے خلاف سرکار کو ایک قانون بنانا چاہیے۔ 16 . 2 دری پوسٹنگ (Vermicomposting) شکل 16 . 3 پتیوں کو جلانے سے نقصان دہ گیسیں پیدا هوتی هیں یہاں کچھ مشاہدات اور خیالات پیش ہیں جو کہ پیلی اور بوجھو اپنے پروجیکٹ کوڑے کرکٹ کا تصفیہ سے نوٹ کیے ہم پودوں کو پوسٹ فراہم کر کے ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ کمپوست بنا کر ہم خود اپنے آپ کے بہت اچھے دوست بن جائیں گے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پیچھے کسانوں کے دوست کہلاتے ہیں؟ آئیے جانتے ہیں کہ سر پوے جو کہ بچوں کی ایک تم ہے، کس طرح کپیسٹ بنانے کے لیے ' استعال کیے جاتے ہیں۔ سرخ پھوے (Redworms) کی مدد سے کمپوست بنانے کا یہ طریقہ دری کپوسٹنگ کہلاتا ہے۔ ہم اسکول میں وری پوسٹنگ کے ذریعے کھاد بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ ہیں۔ و تو نے اپنی نوٹ بک میں نوٹ کیا: توں کو ملا باسم ا س لیے آپ والوں کو برداشت کی کیا گیا عملی کام 2 آیئے کسی ایسی جگہ جو نہ تو بہت زیادہ گرم ہو اور نہ ہی بہت زیادہ سرد ہو، ایک گڑھا (تقریبا cm 30 گہرا) کودتے --- --- ... ۔ - - ۔۔۔ کچرا اندر کچرا باهر 189 ہیں یا لکڑی کا صندوق رکھتے ہیں۔ اس جگہ کے بارے میں کیا خیال ہے جہاں راہ راست سورج کی روشنی نہیں پہنچتی ہے۔ آیئے اس گڑھے یا بکس میں اپنے ریڈوارم (Redwarms کے لیے ایک آرام دہ گھر بناتے ہیں۔ گڑھے یا صندوق کی تھی میں جال بچھایئے۔ آپ اس جالی کی جگہ 1 یا 2 سینٹی میٹر موٹی ریت کی پرت بھی بچا سکتے ہیں۔ آپ اس ریت کی پرت کے اوپر سبزیوں کا فضلہ جس میں پھلوں کے چھلکے شامل ہوں، بچھا دیجیے۔ ریت کی پرت کے اوپر ہری پیاں، پودوں کے توں کے خشک حصے، بھوسا یا پھر اخبار یا کارڈ بورڈ کے ٹکڑے بھی پھیلا سکتے ہیں۔ البته چک دار یا پلاسٹک کی ملمع کاری کیے گئے کاغذ اس مقصد کے لیے استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ تارکی جالی یا ریت کے اوپر جانوروں کا خشک گوبر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس پرت کو گیلا کرنے کے لیے اس پر پانی کا چھڑکاو کیے۔ یاد رہے کہ پانی کا زیادہ استعمال نہ کیا جائے۔ فضلے کی پرت کو دبائے نہیں۔ اس پرت کو ملائم رکھے تا کہ اس میں مناسب مقدار میں ہوا اور نمی پہنچ سکے اب آپ کا گڑھا ریڈوارم کے استقبال کے لیے تیار ہے۔ کچھ ریڈ وارم خرید کر لائے اور انہیں گڑھے میں رکھے (شکل 16 . 4 )۔ انہیں کسی اناج کی بوری یا پرانے کپڑے یا گھاس سے ڈھک دیجیے۔ آپ کے ریڈ وارم کو غذا کی ضرورت ہے۔ آپ انہیں سبزیوں یا چلوں کا فضلہ، کافی یا چائے کے باقیات اور کھیت یا باغ کی ویڈ (خودرو پودے فراہم کر سکتے ہیں (شکل 16 . 5 )۔ بہتر ہوگا کہ اس غذا کو گڑھے میں cm 2 - 3 کی گہرائی میں دبا دیا جائے۔ شکل 16 . 5 ریڈوارم کی غذا اپنے ریڈوارم کی غذا کے لیے ایسے فضلے کا استعمال نہ کیا جائے جس میں نمک، اچار، تیل، سرکها یا دودھ سے بنی ہوئی چیز میں شامل ہوں۔ اگر آپ اس قسم کی چیزوں کو گڑھے میں رکھیں گے تو یہاں بیماری پھیلانے والے خوردو عضویے پیدا ہونے لگیں گے چند دنوں کے وقفے سے ایک مرتبہ اپنے گڑھے کی بالائی پت کی احتیاط سے آپس میں آمیزش ج : شکل 16 . 4 ریڈوارم ہے۔ 190 لاتنس ریڈ وارم کے دانت نہیں ہوتے۔ ان میں ایک ساخت ہوتی ہے جسے گزرڈ (Gizzard) کہتے ہیں، یہ ساخت غذا کو کاٹنے میں ان کی مدد کرتی ہے انڈے کے چھلکوں کا پاوڈر بھی فضلے میں ملایا جاسکتا ہے۔ اس سے ریڈ وارم کو اپنی غذا کاٹے میں مددملتی ہے۔ ایک ریڈوارم ایک دن میں خود اپنے وزن کے برابر غذا کھا سکتا ہے۔ ریڈوارم بہت زیادہ گرم اور بہت زیادہ سرد ماحول میں زندہ نہیں رہ پاتے ہیں۔ انہیں اپنے اطراف میں نمی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے بچوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کرتے ہیں تو ایک ماہ میں ان کی تعداد دوگنی ہو جائے گی۔ 3 - 4 ہفتوں کے بعد گڑھے کے اجزا کا بغور مشاہدہ کیجیے۔ کیا آپ کو گڑھے میں ملائم مٹی جیسا مادہ دکھائی دیتا ہے؟ آپ کا ورمی کمپوست تیار ہے (شکل 16 . 6 )۔ | ہوئے اس حصے کی طرف منتقل ہو جائیں گے۔ خالی کیے گئے حصے سے کپوسٹ لے کر اسے دھوپ میں چھ گھنٹوں تک سکھایئے۔ آپ کا وری پوسٹ استعمال کے لیے تیار ہے۔ گڑھے کے باقی حصے میں زیادہ تر پیچھے موجود ہیں۔ آپ ان کا استعال مزید کمپوست بنانے میں کر سکتے ہیں یا پھر کسی اور شخص کو دے سکتے ہیں جو انہیں کمپوست بنانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ آپ اس عمدہ وری ک پوسٹ کا استعال اپنے گملوں، باغیچے یا پھر کھیت میں کر سکتے ہیں۔ کیا یہ فضلہ سے ایک عمده شے حاصل کرنے جیسا نہیں ہے؟ آپ میں سے جن کے پاس کھیت کی زمین ہے وہ بڑے بڑے گڑھوں میں وری کپوسٹنگ کر سکتے ہیں۔ آپ ایک بہت بڑی رقم کی بچت کر سکتے ہیں جس کا استعال بازار سے مہنگے کیمیائی فرٹیلائزر خریدنے کے لیے کرتے ہیں۔ 16 . 3 سونے اور پھیلتے (Think and Throw) آپ کے خیال سے روزانہ ہر ایک گھر سے کتنا کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا ہے؟ آپ ایک بالٹی کو پہائش کے طور پر استعمال کر کے اس کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ایک 10-5 لیٹر گنجائش والی بالٹی کا استعمال کر کے اپنے گھر سے خارج ہونے والے کوڑے کو چھ دنوں تک جمع کیے۔ یہ بالٹی کتنے دنوں میں بھر جاتی ہے؟ آپ کو اپنی فیملی کے ممبران کی تعداد بھی معلوم ہے۔ اگر آپ کو آپ کے شہر یا قصبے کی آبادی معلوم ہے تو کیا آپ اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آپ کے شہر یا قصبے شکل 16 . 6 ورمی کمپوسٹنگ غذا کے طور پر چھ فضلہ گڑھے کے ایک کونے میں رکھا دیکھے۔ زیادہ تر چھوڑے گڑھے کے دوسرے حصوں کو چھوڑتے کچرا اندر کچرا باهر 191 میں ایک دن میں کتنے بالٹی چھرہ پیدا ہوتا ہے۔ ہم روز بروز کوڑے کرکٹ کا پہاڑ پیدا کر رہے ہیں، کیا یہ درست نہیں ہے (شکل 16 . 7)؟ شكل 16 . 7 پڑوس میں کچرے کا ڈھیر آیئے ایک گاؤں کی کہانی پڑھتے ہیں جہاں کوڑا کرکٹ بہت کم اور دانشمندی زیادہ ہے۔ نانو چھٹی جماعت میں زیر تعلیم ہے۔ اسے کاغذ کے ہوائی جہاز بنانے کا بہت شوق ہے۔ جب وہ اپنی نئی کاپی سے کاغذ پھاڑ کر ہوائی جہاز بناتا ہے تو اس کی والدہ کو اس پر بہت غصہ آتا ہے۔ ایک مرتبہ نانو اپنی والدہ کے ہمراہ اپنی خالہ کے گاؤں گیا۔ اسے یہ دیکھ کر بڑی حیرانی ہوئی کہ اس کے خالہ زاد بھائی شیام نے تم تم کی چیزیں بنائی ہوئی ہیں۔ پرانے چارٹ سے فائلیں، پنسل کی چین سے بنائے گئے پھولوں سے ہے ہوئے گریٹنگ کارڈ، پرانے کپڑوں سے چٹائی، استعمال شدہ پرانی پولی تھین سے بالٹیاں بنائی گئی تھیں ان میں سے کچھ چیز میں نانو کو پسند آئیں۔ یہاں تک کہ شیام نے پرانے دعوت نامے کا کارڈ سے ڈائری بھی بنائی ہوئی تھی! ایک نانو اپنی نانی سے ملنے گیا۔ اس نے دیکھا کہ وہ ایک بالٹی کے اوپر کوئی گاڑھا لیپ لگا رہی ہیں۔ نانو نے پوچھا’مانی، آپ کیا کر رہی ہیں؟ یہ لیپ کیا ہے؟‘‘ بیٹی اور کاغذ سے بنایا گیا لیپ ہے جس میں میں نے تھوڑی سی چاول کی بھوسی بھی ملائی ہے‘ نانی نے جواب دیا۔ لیکن آپ اسے بائٹی کے اوپر کیوں لگا رہی ہیں؟ نانو نے سوال کیا۔ "اسے مضبوط بنانے کے لیے نانی نے جواب دیا اور کہا کیا تم یہ مجھ سے سیکھنا پسند کرو گے؟‘‘ نانو کو اس میں زیادہ دپ ی نہیں تھی اور وہ باہر کھیلنے چلا گیا۔ اسے تو صرف ہوائی جہاز بنانے کے لیے کاغذ پھاڑنے میں ہی رہی تھی دراصل اس نے تو شیام کی فائلوں میں سے بھی کاغذ پھاڑنے شروع کردیئے ! شیام نے وہ تمام کاغذ کے ٹکڑے جمع کر لیے جو نانو نے استعمال کیے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد نانو کا یوم پیدائش تھا۔ شیام نے نانو کے دوستوں کو مدعو کرنے کا پلان بنانا۔ نانو نے اپنی گولک سے پیسے نکالے اور بازار چلا گیا۔ اس نے اپنے دوستوں کے لیے کاغذ کے چھ ٹوپیاں خریدیں۔ اس نے ٹوپیاں رکھنے کے لیے دکاندار سے پانتھین کی تھیلی کے لیے کہا، دکاندار نے اسے پایتھین کے تھیلے کے بجائے کاغذ کا تھیلا دیا۔ نانو نے کچھ اور چیز میں بھی خریدیں مثلا بسکٹ اور ٹافی وغیرہ اسے ان تمام چیزوں کو لے جانے میں بہت وقت محسوس ہوئی کیونکہ کوئی بھی دکاندار پایتھین کی تھیلی دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ شیام نے اسے کپڑے کا تھیلا لے کر جانے کے لیے کہا تھا اور 192 سائنس اسے اس بات پر دکھ ہوا تھا کہ اس نے اس کی بات نہیں سنی۔ کس طرح وہ تمام سامان لے کر گھر پہنچ گیا (شکل 16 . 8 )۔ نانو کے دوستوں نے اس کے یوم پیدائش پر خوب مزہ اڑایا اور بہت سے کھیل کھیلے۔ اس کے بھی دوست چمکدار کاغذ کی ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے جو کہ نانو خرید کر لایا تھا! اب جب اس نے اپنے گھر کے سامنے کوڑا چنے والے کو دیکھا تو اس نے انہیں دیکھ کر منہ بنانا بند کردیا۔ شاید آپ نے کچھ بچوں کو اپنے گھر کے آس پاس یا دوسری جگہوں پر کوڑا چنتے ہوئے دیکھا ہوگا ان بچوں کا مشاہدہ کیسے اور دیکھیے کہ یہ کس طرح سے مفید اشیا کو کوڑے کرکٹ سے علیحدہ کرتے ہیں۔ دراصل وہ ہماری مدد کر رہے ہیں۔ ایسے ہی کسی بچے سے بات کیجیے اور پتہ لگایئے کہ وہ اس کوڑے کرکٹ کا کیا کرتے ہیں جسے وہ جمع کرتے ہیں؟ وہ اسے کہاں لے جاتے ہیں؟ کیا وہ اسکول جاتا/جاتی ہے؟ کیا اس کا کوئی دوست ہے؟ اگر وہ اسکول نہیں جاتے ہیں تو اس کی ممکنہ وجوہات شكل 16 . 8 نانو اور خریداری سے بهرے هوئے تھیلے شیام نے نانو کے دوستوں کے لیے کاغذ کے بہت خوبصورت ماسک بنائے تھے۔ وہ بانو کے لیے بھی مخصوص تحفہ لایا تھا۔ ایک فوٹو فریم اور ایک گریٹنگ کارڈ جو کہ کاغذ کے ان تمام ٹکڑوں کے پیٹ سے بنائے گئے تھے جنہیں نانو نے پھینک دیا تھا۔ نانو کے لیے یہ ایک نئی بات تھی۔ اس کے بھی دوست اپنے اپنے ماسک کے ساتھ اپنے گھر چلے گئے۔ نانو دعوت کے اختتام اور اپنے تحائف کو دیکھ کر بہت خوش تھا۔ چھٹیاں ختم ہونے کے بعد نانو گھر واپس آگیا۔ اس کا شهر شیام کے گاؤں سے کتنا مختلف تھا! وہاں کوڑا چنے والے نظر نہیں آ تے تھے کیونکہ وہ بہت صاف ستھرا گاؤں تھا۔ لیکن کیا آپ اس بچے کی پڑھنے لکھنے میں مدد کر سکتے ہیں؟ کیا آپ نے کبھی گھر پر کسی کباڑی کو پرانے اخباری کانچ یا دھات کی چیزیں پلاسٹک کے تھیلے اور اپنی پرانی کاپیاں بیچنے میں مدد کی ہے؟ اس سے بات کچھ اور پت لگایئے کہ وہ ان تمام چیزوں کا کیا کرتا ہے؟ کیا آپ شیام کی طرح پرانے اور بیکار کان سے کاغذ بنانا پسند کریں گے؟ آیئے سیکھتے ہیں۔ 16 . 4 * کاغذ کی ری سائیکلنگ (Recycling of Paper) آپ کو پرانے اخبار، رسالوں کے ٹکڑے، استعال شده لفان، کاپیاں اور دیگر کاغذ کے ٹکڑے درکار ہوں گے۔ چمکدار پلاسٹک کی ملمع کاری کیے گئے کاغذ کا استعمال مت کچرا اندر کچرا باهر 193 کیجیے۔ آپ کو فریم پڑھی ہوئی تار کی جالی بھی درکار ہوگی۔ فریم کی جگہ آپ بڑی چھلنی کا استعمال بھی کر سکتے ہیں۔ کاغذ کو چھوٹے چھوٹے کڑوں میں چھاڑ لیے۔ انہیں کسی طب یا بالٹی میں ڈال کر اس میں پانی بھر دیکھیے۔ کاغذ کے ٹکڑوں کو ایک دن کے لیے پانی میں ڈوبا رہنے د یے۔ انہیں اچھی طرح سے ملا کر گاڑھا پیسٹ تیار کیے اب فریم میں لگی ہوئی جالی پر گیلے پیٹ کو پھیلانے اسے آہستہ آہستہ تھپتھپاہیے تا کہ پیٹ کی پرت کی موٹائی ممکنہ حد تک یکساں ہو جائے۔ پانی کے نکلنے تک انتظار کیجیے۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو کسی پرانے کپڑے یا اخبار کی شیٹ اس پیٹ کے اوپر رکھے تا کہ یہ اضافی پانی کو جذب کر سکے۔ آب پیٹ کی پرت کو فریم سے علیحدہ کیجیے اور اخبار کے اوپر دھوپ میں پھیلایئے۔ اخبار کے کونوں کو وزن رکھ کر دبا دیجیے تا کہ میٹنے نہ پائیں۔ آپ پیٹ کو چھیلانے سے پہلے اس میں غذائی رنگ، سونی پتیاں یا پھولوں کی پتیاں یا این کاغذ کے ٹکڑوں کی آمیزش کر سکتے ہیں۔ اس سے آپ کو خوبصورت نمونوں والا ری سائیکل کاغذ حاصل ہوگا۔ کیا ہم ہر ایک چیز کو ری سائیکل کر سکتے ہیں جیسا کہ ہم کاغذ کی کرتے ہیں؟ 16 . 5 پلاسٹک - نمت یا مصیبت؟ (? Plastics - Boon or A Curse) پلاسٹک کی چند اقسام ری سائیکل کی جاسکتی ہیں لیکن کبھی پلاسٹک نہیں کیا جاسکتا۔ آپ نے عملی کام 1 میں دیکھا تھا کہ ایتھین کی تھیلیاں اور کچھ پلاسٹک سڑ نہیں پائے تھے؟ شاید آپ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ کوڑے کرکٹ کے تذکیہ میں پیتھین کی تھیلیاں ایک اہم مسئلہ کیوں پیدا کرتی ہیں؟ پلاسٹک کے بغیر زندگی کا تصور تھوڑا مشکل ہے۔ کیا ہم ان چیزوں کی فہرست بنائیں گے جو پلاسٹک سے بنی ہوتی ہیں؟ کھلونے، جوتے، تھیلے، پین، کنگھے، دانت صاف کرنے والے برش، بالٹیاں، بولیں اور پانی کے پاپ۔ فہرست بہت طویل ہے۔ کیا آپ بس، کار، ریڈیو ٹیلی ویژن، ریزر میریٹر اور اسکوٹر کے کچھ ایسے حصوں کے نام بتا سکتے ہیں جوکہ پلاسٹک سے بنائے جاتے ہیں؟ پلاسٹک کے استعمال سے کوئی بہت بڑا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ پریشانی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم پلاسٹک کا بے تحاشہ استعمال کرتے ہیں اور اس کے تصفیہ کے طریقوں کو نظر انداز کر بیٹھتے ہیں۔ یہ وہی ہے جو کچھ ہمارے اطراف میں ہو رہا ہے۔ اس کے مضر اثرات کو جانتے ہوئے بھی ہم غیر ذمہ دارانه مل انجام دے رہے ہیں۔ ہم عام طور سے پکی ہوئی غذاؤں کو اسٹور کرنے کے لیے پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ تھیلے غذائی اشیا کو اسٹور کرنے کے لیے موزوں نہیں ہوئے۔ اس قسم کے پلاسٹ کے تھیلوں میں پیک کی گئی غذا کی اشیا کا استعمال ہماری صحت کے لیے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کئی مرتبہ دکاندار ایسے پلاسٹک کے تھیلوں کا استعمال کرتا ہے۔ جنہیں پہلے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ بعض اوقات کوڑا چننے والے لوگوں کے ذریعے جمع کیے گئے تھیلوں کو بھی دھو کر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس قسم کے ری 194 سائنس سائیکل تھیلوں میں غذائی اشیا کو رکھنے سے وہ صحت کے لیے چاہیے۔ جب بھی ممکن ہو ہمیں ان تھیلوں کو دوبارہ نقصاندہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ کھانے پینے کی چیزوں کو اسٹور استعمال کرنا چاہیے اگر مضر اثرات کا اندیشہ نہ ہو۔ کرنے کے لیے ہمیں ایسے پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال پر 2۔ میں دکاندار پر اس بات کا دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ کاغذ زور دینا چاہیے جو اس استعمال کے لیے منظور شدہ ہوں۔ کے تھیلوں کا استعال کرے۔ جب سامان خریدنے کے لیے جائیں تو اپنے ساتھ کسی کپڑے یا جوٹ کا ان کی تجویز یہ ہے کہ تر پر پیلے مادوں کو اسکور کرد تھیلا لے کر جائیں۔ کے لیے استعمال کے نپلز والے برتنوں کو تعلیم 3۔ کھانے کی اشیا کا ذخیرہ کرنے کے لیے پلاسٹک کے مسی برای سیرا مال کیا جانا چاہیے اور ان \ تھیلوں کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ یا سال اور سیب کا سال با ما ) 4۔ پلاسٹک کے تھیلوں کو استعال کے بعد احرام نہیں دیکھتے ہیں۔ : بنانے بلی کیا بات 5۔ میں پلاسٹک کے تھیلوں اور پلاسٹک کی دیگر اشیا کو جلا نانہیں چاہیے۔ آپ نے یہ دیکھا ہو گا کہ لوگ اکثر پلاسٹک کے تھیلوں میں کوڑا کرکٹ جمع کرتے ہیں اور پھر انھیں پھینک دیتے ہیں۔ جب آوارہ جانور ان کھیلوں میں غذا تلاش کرتے ہیں تو وہ غذا کے ہمراہ ان کھیلوں کو بھی کھا جاتے ہیں۔ ان کھیلوں کو نگل جانے کی وجہ سے بھی کبھار وہ مر جاتے ہیں۔ سڑکوں اور دیگر مقامات پر لا پرواہی سے پھینکے گئے کھیلے نالوں اور سیور سسٹم میں داخل ہو جاتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تالوں میں پانی کا بہاؤ رک جاتا ہے اور پانی سڑکوں پر پھیل جاتا ہے۔ تیز بارش کے دوران سیلاب جیسی صورت حال پیدا ہو جانی ہے۔ پلاسٹک کے بہت زیادہ استعمال سے بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔ پلاسٹک کے زیادہ استعمال کو کم کرنے اور کوڑے کرکٹ کے تذکیہ کے لیے ہم کیا کر سکتے ہیں؟ 1۔ ہمیں پلاسٹک کے تھیلوں کا کم سے کم استعمال کرنا 6۔ ہمیں کوڑا کرکٹ پلاسٹک کی تھیلیوں میں بھر کر انھیں پھینکنا چاہیے۔ 7۔ ہمیں گھر پروری کیپوسٹنگ کرنی چاہیے اور اپنے باورچی خانے کے فضلے کو مفید طریقے سے ٹھکانے لگانا چاہیے۔ 8 کاغذ کو ری سائیکل کرنا چاہیے۔ وہ ہمیں کاغذ کے دونوں طرف لکھنا چاہیے۔ رف کام کے لیے سلیٹ کا استعال کرنا چاہیے۔ کاپی میں بچے ہوئے خالی کاغذ کا استعال رف کام کے لیے کرنا چاہیے۔ 10۔ ہمیں اپنے دوستوں، فیملی ممبران اور دیگر افراد کو مختلف تم کے فضلات کے تصفیہ کے مناسب طریقوں پرمل کرنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ جانے اور سمجھنے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ جتنا زیادہ کوڑا کرکٹ ہم پیدا کریں گے اس سے چھٹکارا پانے میں اتنی ہی زیادہ پریشانی ہوگی۔ کچرا اندر کچرا باهر 195 کلیدی الفاظ فضلہ کوڑا کرکٹ لینڈفل کپوسٹ وری کی پوسٹنگ ری سائیکلنگ مارت خلاصه @ : لینڈفل وہ علاقہ ہے جہاں شہر اور قصبوں سے جمع کیا گیا کوڑا کرکٹ لایا جاتا ہے یہ علاقہ بعد میں ایک پارک میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔ : باورچی خانے میں نباتاتی اور حیواناتی فضل کو کھاد میں تبدیل کرنا ک پوسٹنگ کہلاتا ہے۔ ریڈوارم کی مدد سے باورچی خانے کے فضل کو پوسٹ میں تبدیل کرنے کا طریقہ دری کپوسٹنگ کہلاتا ہے۔ مفید مصنوعات حاصل کرنے کے لیے کاغذ کو ری سائیکل کیا جاسکتا ہے۔ : کپوسٹنگ کے عمل کے ذریعے پلاسٹک کے مادوں کو نقصاندہ اشیا میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ہمیں کم سے کم کوڑا پیدا کرنا چاہیے اور ایسے طریقے تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن کی مدد سے اپنے اطراف میں کوڑے کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقدار پر قابو پایا جا سکے۔ 1- مشقیں (a) کسی قسم کا کچراریڈوارم کے ذریے پوسٹ میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا؟ (b کیا آپ نے اپنے گڑھے میں ریڈوارم کے علاوہ کسی دوسرے عضویے کو بھی دیکھا ہے؟ اگر ہاں تو ان کے نام معلوم کرنے کی کوشش کیے۔ ان کی تصاویر بھی بنائے۔ 196 وان 2۔ بحث چھیے: (a) کیا فضلے کے تصفیہ کی ذمہ داری صرف سرکار کی ہی ہے؟ (b کیا کوڑے کرکٹ کے تصفیہ سے تعلق مسائل کو کم کیا جاسکتا ہے؟ 3- (a) آپ گھر پہنچے ہوئے کھانے کا کیا کرتے ہیں؟ (b کی پارٹی میں آپ کو اور آپ کے دوست کو کھانے کے لیے پلاسٹک کی پلیٹ یا کیلے کے پتے میں سے کسی ایک کومنتخب کرنا پڑے تو آپ کے منتخب کریں گے اور کیوں؟ 4- (a) مختلف تم کے کاغذ کے ٹکڑوں کو جمع تھے۔ پتہ لگایئے کہ ان میں سے کسے ری سائیل کیا جاسکتا ہے؟ (b مذکورہ بالا سوال میں جمع کیے گئے کاغذ کے ٹکڑوں کو لینس کی مدد سے دیکھیے ۔ کیا آپ کو ری سائیکل کاغذ اور نئے کاغذ میں کچھ فرق نظر آتا ہے؟ 5- (a) پیانگ میں استعمال کیے جانے والے مختلف مادوں کو جمع کیے۔ ہر ایک کا استعال کس مقصد کے لیے کیا گیا؟ گروپوں میں بحث کھیے۔ (b ایک ایسی مثال دیے جس میں پیگ کو کم کیا جاسکتا ہے۔ (0) ایک کہانی لکھیے کہ کس طرح پینگ کی وجہ سے کوڑے کرکٹ میں اضافہ ہوتا ہے۔ 6- کیا آپ کی رائے میں پوسٹ کا استعال کیمیائی فرٹیلائزر کے مقابلے زیادہ اچھا ہے؟ کیوں؟ کوڑے کرکٹ کے تصفیہ کے لیے کلی کام 1۔ پرانی اور بیکار اشیا جمع کیے مثال کانچ کی بوتلیں، پلاسٹک کی بوتلیں، ناریل کے ریشے، اون ، چادر، گریٹنگ کارڈ اور دیگر چیزیں۔ کیا آپ انہیں پھینکنے کے بجائے ان کے استعمال سے کچھ مفید اشیا بنا سکتے ہیں؟ کوشش کیجیے۔ ۔ اپنے اسکول میں کمپوست بنانے کے عمل کی تفصیلی پروجیکٹ رپورٹ تیار کیے۔ تشویش کی بات خزاں کے موسم میں دہلی جیسے شہروں میں پتیاں جلا دی جاتی ہیں۔ پتوں کو جلانے سے پیدا ہونے والی گلی میں ان گیسوں کے مشابہ ہوتی ہیں جوگی میں سڑک پر چل رہی موٹر گاڑیوں سے خارج ہوتی ہیں۔ جلانے کے بجائے اگر ہم ان پوں سے پوسٹ بنائیں تو کیمیائی فرٹیلائز کے استعال کو کم کیا جاسکتا ہے۔ کچرا اندر کچرا باهر 197 وہ ہرے بھرے علاقے جنہیں تازہ ہوا سے پر ہونا چاہیے۔ درحقیقت پتوں کو جلانے سے پیدا ہونے والی گیسوں سے بھر جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی کو پتیاں جلاتے ہوئے پائیں تو اس کی اطلاع میرپل اتھارٹی کو دیں یا اس کے بارے میں اخبار کولکھیں۔ پہیوں کو جلانے کے خلاف سهامی دباؤ بنایا جائے۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ پتیوں کو جلانے کے بجائے اسے ک پوسٹ میں تبدیل کیا جائے۔ اتھارٹی برائے درخت کو لکھے کہ وہ پتیوں کو جلانے کے عمل کو جرم قرار دے۔ اپنے شہر یا ریاست کی۔ LOO 198 لاتنس

RELOAD if chapter isn't visible.