Umrao Jan هم خورشيد الاسلام ا ا ر 2006 1919 خورشيد الاسلام مغربی اتر پردیش کے ایک گاؤں ’’ امری‘‘ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم دہلی کے قفس پری اسکول میں حاصل کی ۔ 1945 میں مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے ایم اے کیا۔ اسی سال یو نیورسٹی کے شعبہ اردو میں لکچرر مقرر ہوئے۔ 1973 میں پروفیسر بنائے گئے ۔ صدر، شعبہ اردو کے منصب پر فائز ہوئے۔ 1979 میں ملازمت سے سبک دوش ہوئے۔ درمیان میں لندن اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز سے بھی بحیثیت استاد وابستہ رہے۔ علی گڑھ میں وفات پائی۔ خورشيد الاسلام میں ذہانت کے آثار چین سے نمایاں تھے۔ وہ ایک اچھے مقرر، صاحب طرز نثر نگار اور خوش فکر شاعر تھے۔ ان کے تین شعری مجموع’’رگ جاں شاخ نہال نم‘‘ اور جستہ جسته (نثری نظمیں شائع ہو چکے ہیں۔ نثری تصانیف میں غالب۔ ابتدائی کلام اور مضامین کا مجمود تقیدی‘‘ اہم ہیں۔ رالف رسل کے ساتھل کر انگریزی میں ان کی دو کتاہیں تیری مغل پش اور غالب ۔ لائف اینڈ لیٹر“ شائع ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے قائم اورسودا کے انتخابات بھی مرتب کیے ہیں۔ خورشيد الاسلام بہت شگفتہ اورتخلیقی انداز کی نثر لکھتے تھے۔ ان کے تنقیدی مضامین میں بھی شگفتگی کا یہ انداز قائم ہے۔ پیش نظر مضمون میں مرزا ہادی رسوا کے مشہور ناول ”امراؤ جان ادا پر ایک نئے زاویے سے نگاہ ڈالی گئی ہے۔ یہ ان کے نثری اسلوب کی بھی ایک اچھی مثال ہے۔ hot امراو جان ادا ہماری زبان میں ایک ناول ایسا بھی ہے، جسے خاصے کی چیز سمجھا جاتا ہے لیکن جس کی طرف ابھی تک کوئی توجہ نہیں کی گئی۔ غالبا اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اسے محض ایک طوائف کی دلچسپ کہانی سمجھ کر پڑھا جاتا رہا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس کے بنیادی اور قابل قدر پہلونظر سے اوجھل ہو گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امراو جان‘ ناول میں ایک اہم کردار کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہی اس ناول کا موضوع بھی ہو۔ ناول کی قدرو قیمت کا اندازہ کرنے کے لیے ضروری 20 گلستان ادب تک ان ہے کہ پہلے اس کے موضوع کو دریافت کیا جائے، یہ اس لیے کہ ہر موضوع چند مخصوص امکانات رکھتا ہے اور اس کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ ناول نگار کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ان امکانات کو بروئے کار لائے، ان تقاضوں کو پورا کرے اور فطرت کی ان لہروں کو بہتا ہوا دکھائے جو واقعات اور کرداروں کی ساخت پرداخت کرتی ہیں۔ موضوع سے واقفیت حاصل کرنے کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ہم فن کے مطالبوں کو پا گئے ہیں اور ان کی کسوٹی پرتفصیل، تصادم اور ترجمانی کے عمل کو پرکھ سکتے ہیں، لہذا ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس ناول کا موضوع کیا ہے؟ رسوا ابتدا ہی میں ہمارا تعارف امراؤ جان سے اس طرح کراتے ہیں: اسی کمرے کے برابر ایک کمرہ تھا۔ اس میں ایک طوائف رہتی تھی۔ بود و باش کا طریقہ اور رنڈیوں سے بالکل علیحدہ تھا نہ کمرہ پر کسی نے سر راہ بیٹھے دیکھا نہ وہاں کسی کی آمد و رفت تھی۔ دروازوں پر دن رات پردے پڑے رہتے تھے۔ چوک کی طرف نکاس کا راستہ بالکل منقل رہتا تھا۔ گلی کی جانب ایک اور دروازہ تھا۔ اس سے نوکر چاکر آتے جاتے تھے۔ اگر کبھی کبھی رات کو گانے کی آواز نہ آیا کرتی تو بھی نہ معلوم ہوتا کہ اس کمرے میں کوئی رہتا بھی ہے یا نہیں۔ جس کمرے میں ہم لوگوں کی نشست تھی۔ اس میں ایک چھوٹی سی کھڑی کی گئی تھی۔ مگر اس میں کپڑا پڑا ہوا تھا ... اتنے میں میں نے ایک شعر پڑھا۔ اس کھڑکی کی طرف سے واہ کی آواز آئی۔ میں چپ ہو گیا ... مشی میر حسین نے پکار کر کہا:” غائبانہ تعارف ٹھیک نہیں۔ ... ابھی قصہ شروع نہیں ہوا ہے، نہ مرزانے مشاعرے کی محفل جمائی ہے۔ ہم امراو جان کے ہمسائے میں لے جائے گئے ہیں۔ اتنے میں رسوا ہمیں پاس آنے کا اشارہ کرتے ہیں۔ ہم رسوا کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر دراز سے جھانکتے ہیں اور ہمیں امراؤ جان کے بارے میں چند ضروری باتیں معلوم ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد امراؤ جان مشاعرے میں آتی ہیں یا ترغیب دے کر لائی جاتی ہیں اور اپنی غزل پیش کرتی ہیں۔ منشی صاحب : لتا وہ مطلع کیا تھا؟ امراؤ جان : میں عرض کیے دیتا ہوں ۔ کعبے میں جا کے بھول گیا راه درکی ایمان ا گیا مرے مولا نے خیر کی منشی صاحب : خوب کہا ہے۔ 21 امراؤ جان ادا خان صاحب : اچھا مطلع کہا ہے۔ مگر یہ بھول گیا‘ کیوں؟ امراؤ جان : تو خان صاحب ! کیا میں ریمی کہتی ہوں؟ اب وہ عبارت دیکھے جہاں اصل قضے کا آغاز ہوتا ہے۔ ہاں اتنا جانتی ہوں کہ فیض آباد میں شہر کے کنارے کسی محلے میں میرا گھر تھا۔ میرا مکان پخت تھا۔ آس پاس کچھ کچے مکان۔ پچھے جھونپڑے، کچھ چر بیلیں، رہنے والے بھی ایسے ہی ویسے لوگ ہوں گے۔ میرے اباء بہو بیگم صاحب کے مقبرے پر نوکر تھے ... انا جب شام کو نوکری پر سے آتے تھے، اس وقت کی خوشی ہم بھائی بہنوں کی کچھ نہ پوچھیے۔ میں کمر سے لپٹ گیا۔ بھائی یا بنا کر کے دوڑا، دامن میں چھپ گیا۔ ابا کی باچھیں مارے خوشی سے کھلی جاتی ہیں....................... دلاور خان کا مکان ہمارے مکان سے تھوڑی دور پر تھا۔ موا ڈکیتوں سے ملا ہوا تھا ................... ابا سے سخت عداوت تھی۔“ ان اقتباسات سے ہمیں امراؤ جان کے آغاز اور انجام دونوں سے متعلق چند ضروری خبریں مل جاتی ہیں۔ پیدائش کے بعد اور موت سے پہلے وہ کیا ہے؟ کس ماحول میں اس نے اپنی آنکھیں کھولیں؟ اور اب کس منزل پر آن کر رہ گئی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ ہمیں خفیف سا اندازہ ان بھول بھلیوں کا بھی ہو جاتا ہے۔ جن سے امراؤ جان کو گزرنا پڑا ہوگا اور ان چھوٹی چھوٹی نرم گرم کہانیوں کا بھی جن کا تانا بان ایک خوش ذاق طوائف کے گرد بنا جاسکتا ہے۔ گویا مرزا صاحب تھے کے ترمی منظر اور اس کی تمہید ہی میں ہمیں امراؤ جان ادا سے اس طرح متعارف کرا دیئے ہیں کہ اس کی زندگی میں کوئی راز باقی نہیں رہتا۔ نہ ہمارے دل و دماغ میں تجسس کی کوئی اونچی لہراتی ہے اور نہ ہمیں اس بات کی توقع ہوتی ہے کہ آئندہ چل کر اس کی زندگی میں کچھ ایسے انکشافات آئیں گے جو ہماری تسکین کا باعث اور خیر کا سامان ہوں گے۔ اوپر دیے ہوئے اقتباسات کی مدد سے ہم کتنی منزلیں طے کر جاتے ہیں۔ امراؤ جان ایک طوائف تھی، اب تائب ہو چکی ہے، شعروشن کا ذوق رکھتی ہے۔ ادب کے چند اصناف سے واقف ہے۔ خودشاعر ہے۔ بچپن ایک شریف متوسط گھرانے میں گزرا۔ یہاں اس کا نام امراؤ جان نہیں کچھ اور ہوگا۔ دلاور خاں کی اس کے باپ سے دشمنی تھی۔ اس نے اس معصوم کوگھر کی چار دیواری سے نکال کر ایک ایسی دنیا میں پھینک دیا، جہاں دوزخ مہکتے ہیں اور دوں خاموش ہیں۔ اس خاکے پر ہماری آنکھیں جنہیں جاتیں اور ہم اس کی تہوں کو کھولنے اور اس کے بھیدوں کو ٹالنے کے بجائے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ مگر اس سے پہلے کہ ہم نگاہ کے دامن کو دور تک پھیلائیں، یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مقام اور دیکھتے چلیں۔ البته 22 گلستان ادب اس کے لیے جست لگانا ضروری ہے۔ یہ وہ جگہ ہے، جہاں کہانی تین چوتھائی ہو چکی ہے۔ امراؤ فیض آباد میں ہے۔ صدیوں بعد زمانے نے ایک ایسی کروٹ لی ہے کہ خت و سست ہموار ہو گئے ہیں۔ غدر کی آگ دب چکی ہے مگر کہیں کہیں چنگاریاں انشتی دکھائی دیتی ہیں۔ امراؤ جان زندگی کی گردان کیے جارہی ہے۔ اپنے وطن میں ہے مگر سب کے لیے بیگانہ ہے۔ (خورشيد الاسلام) لفظ وی u blished دریافت کرنا امکانات : : : : تصادم بود و باش معلوم کرنا، پوچھنا امکان کی جمع، گنجائش شکراو رہن سہن جس پر تالا لگا ہو، بند رغبت دلانا، مائل کرنا اردو شاعری کی ایک صنف جس میں عورتوں کی طرف کے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے انکشاف کی جمع نی نی باتوں کا معلوم ہونا یا کرتا چیرت توبہ کرنے والا : سے انھیں کی خصوصی زبان میں ان انکشافات : : : تائب امراو جان ادا 23 غور کرنے کی بات : مضمون مرزا محمد ہادی رسوا کے مشہور ناول 'امراو جان ادا کے بارے میں ہے۔ و خورشیدالاسلام نے اس مضمون کے اقتباسات بھی پیش کیے ہیں۔ اس سے تنقیدی مضمون میں استدلال کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ خاصے کی چیز سمجھا جاتا کا مطلب ہے پسند کیا جانا بروے کار لانا کا مطلب ہے استعمال کرنا ساخت پرداخت کرنے کا مطلب ہے بنانا اور پروان چڑھانا اور فن کے مطالبوں کو پاجانے کا مطلب ہے ان کی ضرورت کا پورا ہو جانا۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ مصنف نے روز مرہ زبان اور محاورے کے استعمال سے زبان کو دل چسپ بنادیا ہے۔ سوالات 1. امراؤ جان ادا کے کردار پر روشنی ڈالیے۔ 2. خورشيد الاسلام نے ناول نگار کی کن نئے داریوں کو بیان کیا ہے؟ 3. خورشيد الاسلام نے امراؤ جان ادا کا ایک اقتباس پیش کر کے یہ وضاحت کی ہے کہ ہم اسے پڑھ کر امراو جان کے آغاز اور انجام دونوں سے واقف ہو جاتے ہیں۔ آپ کے خیال میں کیا یہ بات کی ہے لکھے۔ ) عملی کام و : . اگر آپ کے اسکول کی لائبریری میں رسوا کا ناول ” امراؤ جان ادا‘‘ موجود ہو تو اس کا کوئی حصہ پڑھے۔ اس مضمون میں شامل محاوروں کی فہرست بنائے۔ جہاں دوزخ مہکتے ہیں اور فردوس خاموش ہیں کا مطلب اپنے استاد سے دریافت کر کے لکھے۔ O

RELOAD if chapter isn't visible.