Tanzo mezah طنزومزاح طنزومزاح، ادب میں باقاعدہ کوئی صنف نہیں ہے بلکہ بیان کے ایک اسلوب کا نام ہے۔ اردو ادب میں طنز و مزاح کو عموما اظہار کا ایک ہی اسلوب سمجھ لیا جاتا ہے لیکن دراصل ایسانہیں ہے۔ طنز اور مزاح دونوں کی الگ الگ پہچان ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اردو کے بیشتر لکھنے والوں نے طنز و مزاح کو ایک مرکب کے طور پر پیش کیا ہے اس لیے دونوں کو ایک ہی سمجھا جانے لگا۔ اردو ادب میں طنز و مزاح کی روایت بہت پرانی ہے۔ جعفر زنگی کو اردو طنز و مزاح کا پہلا نمائندہ شاعر کہا جاتا ہے۔ وہ سترھویں صدی کے ایک باغی شاعر تھے۔ ان کے مزاح میں چھکڑ پن نمایاں ہے۔ اٹھارویں صدی میں میر اورسودا کے یہاں بھی ہجویہ انداز ملتا ہے۔ طنز ومزاح کے اعلی ترین نمونے سب سے پہلے ہمیں سودا کے یہاں اور اس کے بعد 19 ویں صدی میں غالب کے یہاں دکھائی دیتے ہیں۔ اس روایت کو سب سے زیادہ ترقی منشی سجاد حسین کے اخبار’ اودھ ‘‘ کے ذریئے لی۔ سیاسی اور معاشرتی طنز کو ”حلقہ اودھ ‘‘ نے غیر معمولی ترقی دی۔ شاعری میں طنز و مزاح کے لحاظ سے سب سے بڑا نام اکبر الہ آبادی کا ہے۔ نثر میں منشی سجاد حسین کے علاوہ پنڈت رتن ناتھ سرشار کا نام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ 20 ویں صدی کے نثر نگاروں میں طنز و مزاح کی روایت جن لوگوں نے آگے بڑھاتی ہے ان میں فرحت اللہ بیگ، رشید احمد صدیقی ، مرزا عظیم بیگ چغتائی، پطرس بخاری ، شوکت تھانوی ، ملا رموزی، کھیا لال کپور، ابن انشا شفیق الرن، فکر تونسوی مشفق خواجہ، یوسف ناظم، کرنل محمد خاں اورمیتی حسین وغیرہ معروف ہیں۔ موجودہ دور میں اردو طنز و مزاح کا سب سے بڑا نام مشتاق احمد یونی کا ہے۔ کھا لال کپور 1980 61910 کھیا لال کپور لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہیں اعلی تعلیم حاصل کی اور انگریزی کے استاد مقرر ہوگئے۔ ملک کی تقسیم کے بعد ہندوستان آگئے۔ یہاں گورنمنٹ کا نے، مویا ( پنجاب ) میں پیپل کے عہدے پر فائز ہوئے اور یہیں ان کی وفات ہوئی۔ وہ ہندوستان آنے سے پہلے ہی مشہور ہو چکے تھے۔ انھوں نے اپنے بعض مضامین میں خاص طرح کی نژاور شاعری کے علاوہ کی عام انسانی رویوں کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ انھیں پیروڈی لکھنے میں خاص مہارت حاصل تھی۔ طنزومزاح ان کا خاص میدان ہے۔ ’’نوک نشته، ’ بال وپر نرم گرم، گردکارواں‘، ’ نازک خیالیاں‘،’’ نے شگون‘، ’سنگ و خشت‘’ چنگ و رباب، شیشه و تیشہ اور کامریڈ پلی‘ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔ کھیا لال کپورساتی ناہمواریوں کی بہت جاندار تصور میں پیش کرتے ہیں جن میں ایک احتجای پہلوبھی ہوتا ہے۔ اپنے طز و آزمانے میں وہ کسی رورعایت کے قائل نہیں ہیں۔ شاید اسی لیے ان کے طنزومزاح میں جرات اور بے با کی ان کی خاص پہچان ہے۔ ان کے کئی انشایئے بہت مقبول ہوئے، جن میں برج بانوی گھر یاد آتا ہے، زنده باد اردو افسانہ نوی کے چنمونے مقبول عاملی معین، چار منگوں کی داستان، چوپٹ راجاسبر باغ اور جانشین خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس کتاب میں کتھیا لال کپور کا جو مضمون شامل ہے اس میں انھوں نے جدید شاعری اور خاص طور پر آزاد شاعری کو لطیف طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ غالب کے ساتھ بلس میں شریک بھی شاعر، کھیا لال کپور کے مشہور اور معتبر ہم عصر ہیں مگر انھوں نے غالب کے ذریعے ان کی شاعری میں پوشیدہ مزاحیہ پہلو واضح کر کے پڑھنے والوں کے لیے دل چھی کا سامان فراہم کیا ہے۔ قالب جدید شعرا کی ایک بس میں دور جدید کے شعرا کی ایک مجلس میں مرزا غالب کا انتظار کیا جارہا ہے۔ اس مجلس میں تقریبا تمام جلیل القدر شعرا تشریف فرما ہیں۔ مثلا م ن ارشد، ہیرایی، ڈاکڑ قربان حسین خالص، میان رقیق احمد خوگر، راجہ مہر علی خان، پروفیسر غيظ احد غيظ، بکرماجیت در ماء عبدائی نگاہ وغیرہ وغیرہ۔ یکا یک مرزا غالب داخل ہوتے ہیں۔ ان کی شکل وصورت بینم وہی ہے جو مولانا حالی نے یادگار غالب میں بیان کی ہے، ان کے ہاتھ میں دیوان غالب کا ایک نسخہ ہے۔ تمام شعرا کھڑے ہو کر آداب بجالاتے ہیں) وعكا كجلسL و موج غالب : حضرات میں آپ کا نہایت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے جنت میں دعوت نامہ بھیجا اور اس مجلس میں مدد کیا۔ میری مدت سے آرزوی که دور جدید کے شعرا سے شرف نیاز حاصل کروں۔ ایک شاعر : یہ آپ کی ذرہ نوازی ہے وگرنہ: وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم ان کو بھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں 105 في قالب جدی شعرا کی ایک مجلس میں غالب : رہنے بھی دیے، اس بے جا تعریف کو سن آنم کہ من دانم دوسراشاع : تشریف رکھے گا۔ کہیے جنت میں خوب گزرتی ہے؟ آپ تو فرمایا کرتے تھے ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن۔ غالب : بھئی جنت بھی خوب جگہ ہے جب سے وہاں گیا ہوں، ایک شعر بھی موزوں نہیں کر سکا۔ دوسراشاعر : تجنب ہے۔ جنت میں آپ کو کافی فراغت ہے اور پھر ہر ایک چیز میٹر ہے۔ پینے کو شراب، انتقام لینے کو پری زاد اور اس پر سینکر کوسوں دور کہ: آپ کا بندہ اور چھروں گا آپ کا نوکر اور کھاؤں ادھار باوجود اس کے آپ کچھ لکھ ... تیسراشاعر : (بات کاٹ کر) سنائے اقبال کا کیا حال ہے؟ قالت : وہی جو اس دنیا میں تھا۔ دن رات خدا سے لڑا جھگڑنا، وہی پرانی بحث: مجھے کر جہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے، یا میرا پہلا شاع : میرے خیال میں وقت کافی ہو گیا ہے، اب مجلس کی کاروائی شروع کرنی چاہیے۔ دوسراشاعر : میں کری صدارت کے لیے جناب م ن ارشد کا نام تجویز کرتا ہوں۔ تیسراشاعر : اور میں تائید کرتا ہوں۔ ارشد صاحب کی صدارت پر بیٹھنے سے پہلے حاضرین مچلس کا شکریہ ادا کرتے ہیں) من ارشد : میرے خیال میں ابتدا مرزا کے کلام سے ہونی چاہیے۔میں نہایت ادب سے مرزا موصوف سے و درخواست کرتا ہوں کہ اپنا کلام پڑھیں۔ غالب : بھئی جب ہمارے سامنے شع لائی جائے گی تو ہم بھی کچھ پڑھ کر سنادیں گے۔ من ارشد : معاف کیجیے گا۔ مرزا اس مجلس میں جمع وغیرہ کسی کے سامنے نہیں لائی جائے گی جمع کے بجائے یہاں پچاس کینڈل پاور کالیمپ ہے، اس کی روشنی میں ہر ایک شاعر اپنا کلام پڑھے گا۔ غالب : بہت اچھا صاحب تو غزل سنے گا۔ 106 گلستان ادب 3 باقی شعرا : ارشاد۔ الت : عرض کیا ہے: لکھیں گے گر چہ مطلب کچھ نہ ہو ہم تو عاشق ہیں تمھارے نام کے باقی شعراہنتے ہیں۔ مرزا حیران ہو کر ان کی جانب دیکھتے ہیں) : ابی صاحب کی کیا حرکت ہے؟ ندادن حسین اس بے موقع خنده زنی کا مطلب؟ ایک شاعر : معاف کیجیے گا مرزا میں ہی شعر کچھ بے معنی سا معلوم ہوتا ہے۔ : به معنی؟ : دیکھے نا مرزاء آپ فرماتے ہیں خط لکھیں گے گر چه مطلب کچھ نہ ہو۔ اگر مطلب کچھ نہیں تو خط لکھنے کا فائدہ ہی کیا، اگر آپ صرف معشوق کے نام ہی کے عاشق ہیں تو تین پیے کا خط بر باد کرنا ہی کیا ضروری سادا کاغذ پر اس کا نام لکھ بھی۔ ڈاکش قربان سین خالص : میرے خیال میں اگر ی شعراس طرح لکھا جائے تو زیادہ موزوں ہے۔ خط لکھیں گے کیونکہ چھٹی ہے ہمیں دفتر سے آج اور چاہے بھیجنا ہم کو پڑے بیرنگی پھر بھی تم کو خط لکھیں گے ہم ضرور چاہے مطلب کچھ نہ ہو جس طرح سے میری اک اک نظم کا کچھ بھی تو مطلب نہیں خلکھیں گے کیونکہ الفت ہے ہمیں میرا مطلب ہے محبت ہے میں لینی عاشق ہیں تمھارے نام کے : تو اس طرح معلوم ہوتا ہے جیسے آپ میرے اس شعر کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ غالب جدید شعرا کی ایک مجلس میں 107 بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی ہیرابی : جنوں! جوں کے تعلق مرزا میں نے کچھ عرض کیا ہے اگر اجازت ہو تو کہوں۔ غالب : ہاں ہاں بڑے شوق سے ہیراتی : جنوں ہوا جنوں ہوا مگر ہاں جنوں ہوا کہاں ہوا وہ کب ہوا بھی ہوا یا اب ہوا نہیں ہوں میں یہ جانتا مگر جدید شاعری میں کہنے کا جوشوق ہے تو بس یہی ہے وہ کہ دماغ میرا چل گیا یہی سبب ہے جو مجھے جنوں ہوا جنوں ہوا غالب : (فی کو روکتے ہوئے) سبحان اللہ کیا برجسته اشعار ہیں۔ من ارشد : آب مرزا غزل کا دوسرا شعر فرمایئے غالب : میں اب مقطع بی عرض کروں گا، کہا ہے۔ عشق نے غالب کتا کردیا ورنہ ہم بھی آدی تھے کام کے عبدائی نگاه : گستاخی معاف مرزا۔ اگر اس شعر کا پہلا مصرع اس طرح لکھا جاتا تو ایک بات پیدا ہوجاتی۔ غالب : کس طرح؟ 108 گلستان ادب عبدلی نگاه : عشق نے ، ہاں ہاں تمھارے عشق نے عشق نے مجھے تمھارے عشق نے مجھ کوکنا کردیا اب نہ اٹھ سکتا ہوں میں اور چل تو سکتا ہی نہیں جانے کیا باتا ہوں میں لینی کما کردیا اتاتھارے عشق نے ! گرتا ہوں اور اٹھتا ہوں میں التا ہوں اور گرتا ہوں میں یعنی تمھارے عشق نے اتنا کتا کردیا غالب : (ر) بہت خوب بھی غضب کردیا۔ غيظاحد : اور دوسرا مصرع اس طرح لکھا جاسکتا ہے: جب تک یہ مجھ کوشق تھا تب تک مجھے کچھ ہوش تھا سب کام کرسکتا تھا میں اور دل میں میرے جوش تھا اس وقت تھا میں آدی اور آدی تھا کام کا لیکن تمھارے عشق نے مجھ کو کتا کردیا |not to be قالب جدید شعرا کی ایک مجلس میں 109 غالب : والله کمال ہی تو کر دیا۔ بھی اب آپ لوگ اپنا کلام سنائیں۔ من ارشد : اب ڈاکڑ قربان حسین خالص جو جدید شاعری کے امام ہیں، اپنا کلام سنائیں گے۔ ڈاکٹڑ خالص : ابی ارشد صاحب میں کیا کہوں اگر میں امام ہوں تو آپ مجتہد ہیں۔ آپ جدید شاعری کی منزل ہیں اور میں سنگ میل ، اس لیے آپ اپنا کلام پہلے پڑھے۔ من ارشد : تورہ توبہ اتنی کرنسی، اچھا اگر آپ مصر ہیں تو میں ہی اپنی نظم پہلے پڑھتا ہوں ،نظم کا عنوان ہے ” بدلہ‘عض کیا ہے | آمری جان مرے پاس ایٹھی کے قریب جس کے آغوش میں ہوں ناچ رہے ہیں شعلے جس طرح درسی دشت کی پہائی میں تص کرتا ہو کوئی بھرت کہ جس کی آنکھیں کرم شب تاب کی مانند چک آشتی ہیں اسی تشہیہ کی لذت سے گر دور ہے تو تو کہ اک اپنی انجانی عورت ہے جسے تص کرنے کے سوا اور نہیں چھ آتا اپنے بے کار خدا کے مانند دوپہر کو جو بھی بیٹھے ہوئے دفتر میں خوشی کا مجھے یک لخت خیال آتا ہے میں پکار اٹھتا ہوں یہ جینا بھی ہے کیا جینا اور چپ چاپ در پے میں سے پھر جھانکتا ہوں آمری جان مرے پاس کمیٹی کے قریب تا کہ میں چوم ہی لوں عارف گلزام ترا اور ارباب وطن کو یہ اشارہ کر دوں not to be 110 گلستان ادب اس طرح لیتا ہے اغیار سے بدلہ شاعر اور شب عیش گزرجانے پر بر مع دم و دام نکل جاتا ہے ایک بوڑھے سے تھکے ماندے سے رہوار کے پاس چھوڑ کر بستر سنجاب ومور (نظم سن کر سامعین پر وجد کی حالت طاری ہو جاتی ہے۔ ہیرا ہی یہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں ۔ بینظم اس صدی کی بہترین نظم ہے بلکہ میں کہوں گا کہ اگر ایک طرح سے دیکھا جائے تو اس میں بیٹھی بھارت اور دفتر تہذیب وتمدن کی مخصوس انجمنوں کے حامل ہیں ۔ حاضرین ایک دوسرے کو معنی خیز نظروں سے دیکھتے ہوۓ زیراب مسکراتے ہیں۔) قالت : ارشد صاحب معاف کیجیے گا آپ کی ریتم کم از کم میرے ہم سے بالاتر ہے۔ غيظ ادغيظ : يصرف ارشد ہی پرکیا منحصر ہے، مشرق کی جدید شاعری ایک بڑی حد تک مبہم اور ادراک سے بالاتر ہے۔ من ارشد : مثلا میرے ایک دوست کے اس شعر کو بے با پوش کی کیا فکر ہے دستار سنجالو پایاب ہے جو موج گزر جائے گی سرسے غالب : (شعرکو دہرا کر) صاحب چ تو یہ ہے کہ اگرچہ اس شعر میں سر اور پیر کے الفاظ شامل ہیں مگر باوجود ان کے اس شعرکانسر ہے نہ پیر۔ ام ان ارشد : ای چھوڑیئے اس حرف گیری کو آپ اس شعر کو جھے ہی نہیں مگر خیر اس بحث میں کیا رکھا ہے۔ کیوں نہ اب ڈاکٹ قربان حسین خالص سے درخواست کی جائے کہ اپنا کلام پڑھیں۔ ڈاکٹرخالص : میری نظم کا عنوان ہے عشق‘ عرض کیا ہے: عشق کیا ہے؟ | میں نے اک عاشق سے پوچھا اس نے یوں روکر کہا غالب جدید شعرا کی ایک مجلس میں 111 عشق اک طوفان ہے عشق اک سیلاب ہے به به به به عشق ہے اک زلزلہ شعلہ جوالہ عشق عشق ہے پیغام موت : بھئی یہ کیا نداق ہے نظم پڑھیے مشاعرے میں نژکا کیا کام ؟ ڈاکٹخاص : (منجھلا کر) تو آپ کے خیال میں سینٹر ہے یہ ہے آپ کی ختن نی کا عالم؟ اور فرمایا تھا آپ نے: ہم تین اہم ہیں غالب کے طرفدارہیں غالب : میری سمجھ میں تو نہیں آیا کہ کس قسم کی نظم ہے نہ تم نہ قافیہ نہ ردیف۔ ڈاکٹر خالص : مرزاصاحب۔ میں تو جدید شاعری کی خصوصیت ہے۔ آپ نے اردو شاعری کو قافیہ اور ردیف کی فولادی زنجیروں میں قید کر رکھا تھا۔ ہم نے اس کے خلاف جہاد کر کے اسے آزاد کیا اور اس طرح اس میں وہ اوصاف پیدا کیے ہیں جوش خارجی خصوصیات سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ میری مراد رفعت تخیل، تازگی انکار اور ندرت فکر سے ہے۔ غالب : رفعت تیل کیا خوب کیا پرواز ہے؟ میں نے ایک عاشق سے پوچھا اس نے یوں رو کر کہا ڈاکٹرخاص : (ڑ کر ) عاشق روک نہیں کہے گا تو کیا قہقہ لگا کر کے گا؟ مرزا آپ یہ بھی نہیں جانتے کہ شق اور رونے میں کتاگیراتعلق ہے۔ غالب : مگر آپ کو قافیہ اور ردیف ترک کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ رقیق احد خوگر : اس کی وجہ مغربی شعرا کا تتبع نہیں بلکہ ہماری طبیعت کا فطری میلان ہے جو زندگی کے دوسرے شعبوں کی طرح شعروادب میں بھی آزادی کا جوگیا ہے، اس کے علاوہ دور جدید کی روح انقلاب، کشکش تحقیق جنس، تحقل پرستی اور جدوجہد ہے۔ ماحول کی اس تبدیلی کا اثر ادب پر ہوا ہے اور میرے اس کتے کوتھیرے نے بھی اپنی کتاب ’ونی فیر‘ میں تسلیم کیا ہے۔ اس لیے ہم نے محسوس کیا کہ قدیم شاعری ناقص ہونے کے علاوہ 112 گلستان ادب روح میں وہ لطیف کیفیت پیدا نہیں کرسکتی جو مثال کے طور پر ڈاکٹر خالص کی شاعری کا جوہر ہے۔ قدیم شعرا اور جدید شعرا کے ماحول میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قدیم شعرا بقول مولانا آزادسن وعشق کی حدود سے باہر نہ نکل سکے ۔ اور ہم جن میدانوں میں گھوڑے دوڑارہے ہیں نہ ان کی وسعت کی کوئی انتہا ہے اور نہ ان کے جانب والطائف کا شمار۔ غالب : میں آپ کا مطلب نہیں سمجھا۔ من ارشد : خوگر صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک نئی دنیا میں رہتے ہیں۔ یہ ریڈیو ہوائی جہاز اور دھماکے سے پھٹنے والے بموں کی دنیا ہے۔ یہ بھوک برداری انقلاب اور آزادی کی دنیا ہے۔ اس دنیا میں رہ کر ہم اپنا وقت حسن وشق،گل وبلبل، شیریں فرہاد کے افسانوں میں ضائع نہیں کر سکتے ۔ شاعری کے لیے اور بھی موضوع فن ہیں جیسا کہ ہمارے ایک شاعر نے کہا ہے: آج تک سرخ و سیر صدیوں کے سائے کے تھے آدم وحوا کی اولاد پر کیا گزری ہے موت اور زیست کی روزانہ صف آرائی میں ہم پر کیا گزرے گی، اجداد پر کیا گزری ہے میں کھیت پھنا پڑتا ہے جو بین جن کا یہ ہراک سمت پر اسرار کڑی دیواریں بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے راجہ ہرلی خاں : بہت خوب۔ یہ بھی ہیں ایسے کئی اور بھی مضموں ہوں گے، ایسے ہی مضامین میں سے ایک مضمون’ ڈاک خانہ ہے جو میری اس نظم کا، جو میں ابھی آپ کے سامنے پڑھوں گا موضوع ہے۔ غالب : ڈاک خانه؟ راجہ ہریلی خاں : مرزا اس میں حیران ہونے کی کیا بات ہے۔ سنے عرض کیا ہے: ڈاک خانے کے سے اندراج ان کتنا ہجوم ڈالنے کو خط کھڑے ہیں کس قدراف آدی غالب جدید شعرا کی ایک مجلس میں 113 ان میں ہراک کی تمنا ہے کہ وہ ڈال کر جلدی سے خط یا ارسل بھاگ کر دیکھے کہ اس کی سائیکل ہے پٹڑی باہر جہاں رکھ کر اسے ڈاک خانہ میں ابھی آیا تھا وہ خط ڈالنے جارہے ہیں خط چہار اطراف کو بیٹی کو مصر کو لندن کو کوہ قاف کو دیکھتا آئی ہے اک عورت لفافہ ڈالنے کون کہتا ہے کہ اک عورت ہے یہ تو لڑکا ہے کسی کا نج کا کہ جس کے بال خدوخال اس قدر ملتے ہیں عورت سے کہ ہم اس کو عورت کا مجھتے ہیں بدل ان ماری لغزشیں ہے مگر کسی شخص کا یہ سب تصور کی نظر میری نہیں کرتی ہے کام جھوٹا سا ہوگیا ہے۔ شام کا با مارے ہے تمدن کا قصور کہ ہمارے نوجواں ڈاک خانے میں ہیں جب آتے لفافہ ڈالنے اس قدر دیتے ہیں وہ دھوکا ہمیں not to be re 114 گلستان اوب کے نظر آتے ہیں ہم کوکورتیں (زوروں کی داد دی جاتی ہے۔ ہر طرف سے مرحبا بھی کمال کردیا، کے نعرے بلند ہوتے ہیں۔ مرزا غالب کی سراسیگی ہرٹھہ بڑھتی جارہی ہے) من ارشد : آب میں ہندوستان کے مشہور شاعر پروفیسر غیظ سے درخواست کروں گا کہ وہ اپنے تازه انکار سے میں نوازیں۔ پروفیسرغيظ : میں نے تو کوئی نئی چیز میں کھی۔ ہیرایی : تو پھر وہی نظم سنادیے جو پچھلے دنوں ریڈ والوں نے آپ سے لکھوائی تھی۔ پروفیسرغيظ : آپ کی مرضی ہے تو وہی سن لیے عنوان ہے ”گائی‘‘ فون پر آیا دل زار ہیں ، فون نہیں سائیکل ہوگا ہیں اور چلا جائے گا مل چکی رات اترنے لگا کھمبوں کا بخار کمپنی باغ میں لنگر انے لگے سرد چراغ تھک گیارات کو جلا کے ہراک چوکیدار گل کرودان افسردہ کے بوسیدہ داغ یاد آتا ہے مجھے سرمه دنباله دار اپنے بے خواب گھروندے نبی کو واپس لوٹو اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا۔ (نظم کے دوران میں اکثر مصرعے دو دو بلکہ چار چار بار پڑھوائے جاتے ہیں اور پروفیسر غيظ بار بار مرزا غالب کی طرف داوطلب نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ مرزا غالب مبہوت ہیں) من ارشد : حضرات میرے خیال میں کوئی عشقیام نہیں ہے بلکہ اس میں شاعر نے اینٹی فاشٹ جذبے کوخوب نبھایا ہے۔ رقیق احمد : (سرگوشی کے انداز میں ہیرابی سے) کواس ہے۔ ام ان ارشد : اب جناب بکرماجیت ورما سے استدعا کی جاتی ہے کہ اپنا کلام سنائیں بکرماجیت ورما : میں نے حسب معمول چھ گیت لکھے ہیں۔ 115 قالب جدی شعرا کی ایک مجلس میں غالب : (حیران ہو کر) شاعراب گیت لکھ رہے ہیں مرے الله دنیا کدھر کو جاری ہے۔ بکرماجیت ورما : مرزا آپ کے زمانے میں گیت شاعری کی ایک باقاعدہ صنف قرار نہیں دیے گئے تھے۔ دور جدید کے شعرا نے انھیں ایک قابل عزت مصنف کا درجہ دے دیا ہے۔ غالب : جی ہاں ہمارے زمانے میں عورتیں، بھانڈ ، میرانی یا ای قماش کے اور لوگ، گیت لکھا کرتے تھے۔ بکرماجیت ورما : پہلا گیت ’برہن کا سندیں ‘‘رض کیا ہے: از جادیں بدلیں رے کوڑے اڑ جادیں بدلیں سن کر تیری کا ئیں کائیں۔ غالب : خوب سن کر تیری کا ئیں کائیں! بکرماجیت : عرض کیا ہے | سن کر تیری کا ئیں کائیں آنکھوں میں آنسو جرآ ئیں بول بہ تیرے مین کو پھائیں مت جانا پردیں رے کڑے اڑ جادیں بدلیں من ارشد : بھی کیا اچھوتا خیال ہے پنڈت صاحب میرے خیال میں ایک گیت آپ نے کبوتر پربھی لکھا تھا وہ بھی مرزا کو سنادیجیے۔ بکرماجیت ورما : سنیے پہلا بندہے: بول کبوتر بول دیکھو کوئلیا کوک رہی ہے من میرے ہوک کی ہے کیا مجھکو بھی کھوک گی ہے بول غشغوں بول کبوتر بول کبوتر بول not to b 116 گلستان ادب باقی شعرا : (ایک زبان ہوکر ) بول کبوتر بول، بول کبوتر بول اس اثنا میں مرزا غالب نہایت گھبراہٹ اور سراسیمگی کی حالت میں دروازے کی طرف دیکھتے ہیں) بکرماجیت ورما : اب دوسرا بند سنیے بول کبوتر بول کیا میرا ساجن کہتا ہے کیوں مجھ سے روٹھارہتا ہے کیوں میرے طعنے سہتا ہے جدید یہ سارے کھول کبوتر بول کبوتر بول باقی شعرا : (ایک زبان ہو کر ) بول کبوتر بول، کبوتر بول، کبوتر بول اس شوروغل کی تاب نہ لاتے ہوئے میں رقیق احمد خوگر اور عبدایی نگاہ کے سنانے کی باری آنے سے پہلے ہی مرزا غالب، بھاگ کر کرے سے باہرنکل جاتے ہیں) (كتميا لال کپور) لی not to be لفظ وی جلیل القدر : بڑی شان والا نہایت موز جيم اوبه او موکرنا : دعوت دینا دعوت دینا غالب جدید شعرا کی ایک مجلس میں 117 فراغت نفسی مجتهد شرف نیاز : کسی محترم با بزرگ شخص کو دیکھنے یا اس سے ملنے کا اعزاز کسی بزرگ کی خدمت میں حاضری دینا| من آنم کہ من دانم : ”میں کیا ہوں کہ میں جانتا ہوں‘، تعریف کے جواب میں اپنی عاجزی ظاہر کرنے کے لیے کہتے ہیں : فرصت، چنکارا خندہ زنی : نی اڑانا موزوں برجسته رواں ، چست درست، ڈھلا ہوا اپنے آپ کو کم تر ظاہر کرنا، عاجزی : اجتہاد کرنے والا، نئی بات پیدا کرنے والا بھی راہ نکالنے والا کرم شب تاب : رات کو چپکے والا کیڑا، جگنو یک تخت : اچانک، یک به یک : گال، رخسار : غیر کی جمع، پرانے : روپیہ پیہ : جنگلی جانور جس کی کھال ملائم بالوں والی ہوتی ہے، اس سے لباس تیار کیا جاتا ہے شالی برفستان کا جانور جس کی کھال بہت نفیس ہوتی ہے جس سے پوشاک بنائی جاتی ہے : مرستی جس کا مطلب صاف نہ ہو، غیر واضح : عقل فہم : جوتا : شعر کی خوبیوں اور خامیوں کو مجھنے والا عارض : په کې نام 118 گلستان ادب جھکاو و یا کوہ قاف رفعت تخیل : خیالات کی بلندی، اڑان تندرستی فکر : سوچ کا انوکھا پن تقلید، پیروی میلان : تلاش کرنے والا تحقل پستی : عقلیت پرستی ، صرف اس بات کو تسلیم کرنا ہے عقل قبول کرتی ہو صف آرائی : ایک قطار میں کھڑا ہونا کسی کے خلاف مقابلے کی تیاری ایک پہاڑ جو ایشیائے کوچک کے شمال میں واقع ہے۔ مراد وہ جگہ جہاں آدی کا گزرنہ ہو سکے۔ کوہ قاف کی پریاں مشہور ہیں خدوخال : شکل وصورت الغزش پھسل جانا غلطی : خوف گھبراہٹ دنباله : سرے یا کا جھل کی لکیر : حیرت زده، جیران پریشان اینٹی فاشٹ : مذہبی تنگ نظری اورظلم وجبرکی طاقتوں کے خلاف آواز اٹھانے والا نازوانداز، خوب صورتی درخواست گزارش : گانے بجانے والی ایک خاص قوم : درمیان، چ مبہوت ه 3 ( 119 قالب جدی شعرا کی ایک مجلس میں غور کرنے کی بات • کھیا لال کپور کی پتھری ایک خیالی مشاعرے کا منظر پیش کر رہی ہے، جس میں غالب بھی موجود ہیں، اور جدید دور کے کئی نمائندہ شعر اپنا کلام سنارہے ہیں۔ کھیا لال کپور نے ان شعرا کی مشہور نظموں کی اپنے خصوص مزاحیہ انداز میں نقل اتاری ہے۔ اسے انگریزی میں پیروڈی کہتے ہیں۔ مصنف نے شعرا کو جو نام دیے ہیں وہ ہمارے جدید شعرا کے ناموں سے ملتے جلتے ہیں، جیسے ن م راشد، میرابی تصدق حسین خالد. اندر جیت در ما، راجہ مہدی علی خاں فیض احمفیض وغیرہ۔ مصنف نے اس مضمون میں ایک جدت پسندی کا مذاق اڑایا ہے جو توازن سے عاری ہو۔ سوالات 1. غالب نے پہلا شعرکون سا ستایا اور کیا کہ کر اس کا مذاق اڑایا گیا؟ 2. من ۔ ارشد کی نظم پر ہیرابی نے کیا تبصرہ کیا؟ 3. ڈاکٹر خالص نے جدید شاعری کی کی خصوصیات بتائی ہیں؟ 4 بکرماجیت اور مانے جو کلام سنایا اس کا تعلق کس صنف سے ہے؟ عملی کام • اپنے اسکول میں تمثیلی مشاعرے کا اہتمام بھی۔ اس مضمون میں شامل پا شعرا کے اصل نام لکھے۔ not to be

RELOAD if chapter isn't visible.