Tanquidi Mazmoon تنقیدی مضمون وہ مضمون جس میں کسی ادبی صنف کی ادبی تخلیق یا کسی ادبی نظریے کے تلف پہلووں پر رائے زنی کی جائے تنقیدی مضمون کہلاتا ہے۔ ادب میں تنقید کا مفہوم بڑا وسیع ہے۔ اس کے تحت ادبی تخلیقات کی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ہرون کے چھ اصول ہوتے ہیں، جن کی روشنی میں فن اور ادب کی جانچ کی جاتی ہے۔ تنقید نگار کے لیے ذاتی پسند و ناپسند سے زیادہ اہم وہ معیار ہوتے ہیں جن کی قدر و قیمت ہر زمانے میں برقرار رہتی ہے۔ ہم جب کسی اور تخلیق کو پڑھتے ہیں تو وہ ہمیں متاثر کرتی ہے۔ یہ تاثر اچھا بھی ہوسکتا ہے اور برا بھی۔ یہ تاثر قتی بھی ہوسکتا ہے اور مستقل بھی۔ چوں کہ ہم میں زیادہ تر لوگ ادب کو وقت گزاری کی چیز تھتے ہیں اور اس سے صرف تفرت حاصل کرنا چاہتے ہیں اس لیے ہم بالعموم کسی تخلیق کو بار بار نہیں پڑھتے ۔ جب کہ تنقید نگار ادبی تخلیق کا ایک سے زیادہ بار مطالعہ کرتا ہے اور ہر بار وہ ایک نے تاثر سے دوچار ہوتا ہے۔ بہت سے تاثرات سے گزرنے کے بعد وہ ان کی چھان چھلک کرتا ہے۔ اس طرح اس تخلیق کی زیادہ سے زیادہ خوبیاں اور خامیاں اس پر واضح ہوتی جاتی ہیں۔ اس عمل سے گزرنے کے بعد ہی تنقید نگاری متھ تک پہنچتا ہے۔ تنقید تشرت اور تجزیہ ہی نہیں کرتی، ادبی تخلیق کے بارے میں ایک سو چی بھی رائے بھی دیتا ہے۔ حالی بلی اورمد حسین آزاد کے دور کے بعد جن نقادوں کی تحریریں ہمارے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں ان میں عبد الرحمن بجنوری مسعودحسن رضوی ادیب، مجنوں گورکھپوری، احتشام حسین، آل احمد سرور کلیم الدین احمد وغیرہ کے نام نمایاں ہیں۔ احشام سین 1912 تا 1972 سید احتشام حسین اعظم گڑھ کے ایک گاؤں بابل میں پیدا ہوئے تعلیم اعظم گڑھ اور الہ آباد میں حاصل کی۔ 1932 کے آس پاس ان کی ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ابتدا میں افسانہ نگاری اور ڈرامانوی کے ساتھ ساتھ نظمیں اور غزلیں بھی لکھتے رہے۔ بعد میں تنقید پر توجہ کی۔ 1936 میں الہ آباد یونیورسٹی سے ایم ۔ اے کیا۔ 1938 میں لکھنو یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں استاد مقرر ہوئے۔ 1952 میں راک فیئر فاؤنڈیشن کی مدد سے امریکا اور انگلستان کا سفر کیا۔ 1961 میں الہ آباد یونیورسٹی میں اردو کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ انقال الہ آباد میں ہوا۔ احتشام حسین نے علم زبان سے متعلق جان لیمر کی انگریزی کتاب کا ترجمہندوستانی لسانیات کا خاکہ‘ کے نام سے کیا۔ اس کے علاوہ افسانوں کا مجموع’’ درانے‘ اور سفرنامہ” ساحل اورسمند‘ کے نام سے شائع ہوا۔ بچوں کے لیے ’اردو کی کہانی‘‘ کھی۔ ہندی میں اردو ادب کی تاری’ اردو ساہتیہ کا آلوچنانک انتہاس‘‘ کے عنوان سے مرتب کی۔ احتشام حسین کا اصل میدان تنقید ہے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے شروع سے وابستہ رہے۔ اشتراکیت میں یقین رکھتے تھے۔ لہذا اپی تنقیدی تحریروں میں انھوں نے اس نظریے کی روشنی میں زندگی اور ادب کے مسائل کو بجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے تنقیدی مضامین کے متعدد مجموعے شائع ہوئے ہیں۔ چند کے نام درج ذیل ہیں: ) ’’ تنقیدی جائزے“ ”روایت اور بغاوت‘‘’’ ادب اور ساج‘‘، ’’ تنقیدی اور عملی تنقید‘‘ ’’ذوق ادب اور شعور ’’ افکار و مسائل‘‘ اور’ اعتبار نظر‘ وغیرہ۔ پیش نظر مضمون’ اعتبارنظر سے ماخوذ ہے۔ اس میں رتن ناتھ سرشار کے ناول ”فسانہ آزا کے مشہور مزاحیہ کردار ’ خو‘ کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ خوبی- ایک مطالعه ده برای عمل میں لاشعوری طور پر کارا و ہر نے جس جھیل میں وکی کی۔ بھی بھی تو خوبی پرغور کرتے ہوئے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اسے صرف لکھنو کا انسان تھا اس کی عظمت اور آفاقیت کی توہین ہے۔ وہ ہر ایسے عہد میں پیدا ہوتا ہے جب اس دور کی صداقت پر شک ہونے لگتا ہے۔ وہ ایک پر کو الٹاف اور کنگ لیئر کے درباری ظریف کی شکل میں ملا تھا۔سرویز نے اسے ڈان کو کروٹ اور سینکو پانز ا کے لباس میں پایا تھا۔ سرشار نے اسے خوبی کے بھیس میں ڈھونڈ نکالا اورنشی سجاد حسین نے حاجی بغلول کہ کر پکارا۔ وہ ہر دفعہ عاقلوں کی دنیا پر قید کرنے کے لیے اٹھتا ہے اور اپنی احمقانہ باتوں سے بہت سی ای صداقتوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے، سنجیدگی جس کی مکمل نہیں ہوسکتی تھی۔ ہاں، یہ نہ بھولنا چاہیے کہ لکھنو اور سرشار خوبی ہی کو جنم دے سکتے تھے۔ خوجی سے ہماری پہلی ملاقات نواب صاحب کے تاریخی بیرصف شکن علی شاہ کے گم ہو جانے کے وقت ہوتی ہے، جہاں بہت سے مصاحب نواب صاحب کو بھی کی گمشدگی پرتربیت دے رہے ہیں، وہاں خوبی بھی ہے۔ اس میں کوئی خصوصیت اسی ضرور ہے کہ وہ بہت جلد میں اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ اس کی تیز زبانی اس کے فقرے، اس کی خالص افیونیوں کی سی گفتگو ، سب میں ایک ذہین بھانڈ کی کیفیت ہے۔ شروع میں ایسانہیں معلوم ہوتا کہ آگے بڑھ کر اس کی ہستی افسانے پر چھاجائے گی اور جہاں وہ نہ ہوگا، وہا” فسانہ آزاد کی کش کو گہن لگ جائے گا۔ لیکن جب نواب صاحب کی زبانی بی معلوم ہوتا ہے کہ خودی کی عمر ساٹھ سال ہے تو میں اس کی باتوں میں ایک طرح کا مزا آنے لگتا ہے۔ وہ اپنے خیال میں سنجیدگی سے رائے دے رہا ہے لیکن ہرشخص اسے چھیڑتا ہے۔ وہ بھی خاموش نہیں رہ سکتا۔ ہر بات کا جواب دینا ضروری ہے۔ ہر جگہ اپنی برتری جتانا ضروری ہے اور ہر ص پر تنقید کرنا لازمی ہے۔ ہیں ہمیں اس کی سیرت کے ابتدائی نقوش مل جاتے ہیں، جن کا زیادہ حصہ کتاب کے ختم ہونے تک باقی رہتا ہے۔ اس کے ڈرنے اور نفرت کرنے کی چیزوں میں پانی ہے جس کے نام سے وہ پناہ مانگتا ہے۔ آگے چل کر اس میں کمہار اور. ازعفران کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی پسند کی چیزیں افیون اور گٹا ہیں۔ چونکہ اس کا کردار مبالغہ آمیز اور غیر معتدل ہے اس لیے اس کی پسندیدگی اور ناپسندیدگی محبت اور نفرت ہر چیز جلد جلدنمایاں ہوتی رہتی ہیں۔ خودی اپنی عام گفتگو میں اپنا مذہب اور اپنی قومیت ہندوستانی ظاہر کرتا ہے۔ لیکن جب تہذیب کے امتحان کا وقت آتا ہے تو بر جهانی ختم ہونے کا با عفران کا خوبی- ایک مطالعہ 13 وہ خالص مسلمان بن جاتا ہے۔ قدیم اور جدید میں اس کے انتخاب اور اجتناب کی حدیں واضح ہوجاتی ہیں۔ وہ سڑک کے کنارے بیٹھے ہوئے کہا ہے کے یہاں سے کباب خرید کر کھانے کو نہیں سمجھتا کیونکہ ایسا ہوتا آیا ہے لیکن ہول میں جا کر کھانے کوہ شرعا ناجائز خیال کرتا ہے کیونکہ اسے یقین ہے کہ وہاں شراب ضرور پینا پڑتی ہے اور سور کے گوشت سے تو چھکارا ہی نہیں۔ انھیں باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خودی میں درحقیقت وہ طنز ہے جو ایک مٹتی ہوئی تہذیب ، معاشرتی تغیرات کے خلاف اپنے آخری حربے کے طور پر استمال کرتی ہے۔ | و او بام | کبھی نہ بھولنا چاہیے کہ آزاد اور خوجی مل کر اس وقت کی زندگی کی تصویر بناتے ہیں ۔ ایک کے بغیر دوسرا ادھورا رہ جائے گا۔ ایک دوسرے کے لیے عقبی زمین کا کام دیتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ سرشار نے ایک ہی کردار کے دو ٹکڑے کر دیے ہیں۔ انسانی سیرت کے جن پہلووں میں ان کو بلندی فکر اور ربط نظر آیا، وہ آزاد کے لیے مخصوص کر دیے اور جن میں پستی فکر اور بے ڈھنگا پن تھا، وہ خودی کے سرمنڈھ دیے چنانچہ دونوں کا تقابلی مطالعہ بڑی آسانی سے کیا جاسکتا ہے۔ اگر میں آزاد عالم فاضل ہیں تو خوجی بھی اپنی علمیت کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ وہ آزاد کے ساتھ ساتھ فیضی کی غزلوں کے اشعار پڑھتا ہے۔ وہ طبیبوں کے لکھے ہوئے نئے پر اعتراض کرتا ہے۔ وہ لکھا پڑھا ہے اورنظمیں لکھا کرتا ہے۔ اگرچہ اس کی یعلیت بھی ہے سلیقگی کا شکار ہے۔ چ یہ ہے کہ جب انسان کا علم تامل اور بے ترتیب ہوتا ہے تو اس میں دونوں پہلو نکلتے ہیں۔ میاں آزاد بہادر ہیں تو خودی بھی اپنی بزدلی کول کے پردوں میں چھپانے 14 گلستان اوب کی کوشش میں مصروف ہے۔ عاشق مزاج دونوں ہیں اور دونوں کے عشق میں ایک عجیب طرح کی ناہمواری ہے۔ فرق صرف مذاق سلیم اور سن انتخاب کا ہے۔ ظرافت اور بذلہ سنی دونوں کے یہاں ہے۔ لیکن سٹے کا فرق ہے۔ اس طرح یہ نظر آنے لگتا ہے کہ خودی اور آزاد دونوں مل کر ایک مکمل تصویر بناتے ہیں، علاحده علاحدہ ان میں سے کوئی بھی مکمل نہیں ۔ خودی کی سیرت آزادی کی محبت میں نمایاں ہوسکتی تھی۔ دوسرے کے ساتھ اور دوسرے ماحول میں دب کر رہ جاتی۔ وہ آزادی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ آزاد کو بگاڑ دیا جائے تو وہ خوبی بن جائے گا اور خودی کو سنوار دیا جائے تو وہ آزاد کے قریب پہنچ سکتا ہے۔ لیکن خوبی، آزاد کا ایک گڑاہوا خاکہ ہونے کے باوجود اپنی ہستی ہم سے منوالیا ہے اور نجیدگی کی دنیا سے باہر نکل کر ہم سے سنجیدہ تنقید کے سارے حربے پھین لیتا ہے۔ لا ابالی پن کے باوجود اس میں ایک تسلسل ہے۔ اس کی افیون کی ڈبیاء اس کے چند زبان زدفقرے، قرولی کی ہر قدم پر یاد، آزاد سے محبت، پانی سے خوف، اپنی کمزوریوں اور غلطیوں سے بے خبر ہونا، اپنے کوسین اور خوب صورت تجھناء اکر غصہ، یہ سب اور ایسی بہت سی دوسری باتیں ہندوستان اور ہندوستان کے باہر اس کے ہمل اورعل سے ظاہر ہوتی ہیں۔ کوئی شخص اس سے سنجیدگی سے باتیں کرنا چاہتا ہے، وہ اپنی فسی کجردی کی وجہ سے ہی سمجھتا ہے کہ اس کا مذاق اڑارہا ہے۔ کوئی عورت اس کا قدر اور چہرہ دیکھ کر بستی ہے تو وہ مجھتا ہے کہ اس کی تیز نگاہ سے گھائل ہوگئی۔ خوبی میں ایک دنیا دار آدی کا تدت بھی ہے۔ میاں آزاد پیکار ہوتے ہیں۔ حکیم صاحب جو انھیں دیکھنے آتے ہیں، وہ نیم حلیم ہیں۔ خودی ایک تمدنی مرکز سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انھیں بھانپ لیتا ہے اور قرولی کی دھمکیوں سے انھیں بھگا کر خود سے لکھتا ہے۔ سرا میں ایکل ہوجاتا ہے تو خودی ہی تدبیر بتاتا ہے کہ کس طرح وہ اور اس کے ساتھی اپنی بے گناہی ثابت کر سکتے ہیں۔ اس میں اتنی مجھے ہے کہ وہ داروں کی رشوت میں شریک ہو جائے اور بہروپیہ کی شرارتوں کا بدلا اس کی بیوی سے لے۔ خودی کی اکڑ جس سے اسے کافی نقصان پانچنا ہے، اس کے احساس برتری کی مظہر ہے۔ وہ اپنانا کم سے کم مفتی خواجہ بدیع صاحب علیہ الرحمة والخف ان بتاتا ہے۔ ہار جانے کے بعد ہارنہیں مانتا۔ مارکھانے کے بعد اپنی تر ولی کو ضرور یاد کرتا ہے۔ اگر وہ ایها نہ ہوتا تو’ فسانہ آزاء‘ کی شکل ہی کچھ اور ہوتی۔ کیونکہ وہی ہے جو اس طویل کتاب کو خشک ہونے سے بچا لیتا ہے۔ خوبی کی وہ خصوصیت جو اسے زوال آمادہ جاگیردارانہ دن کا خاص کردار بناتی ہے، اس کا جذبه وفاداری ہے۔ جب وہ نواب صاحب کے یہاں تھا، تو ان کا نمک خوار ہونے کی حیثیت سے ان کی محبت کا دم بھرتا تھا اور جب ہی وفاداری آزاد کی طرف منتقل ہوگئی تو وہ ان کے لیے اپنی جان کو مصیبتوں میں ڈالنے کے لیے آمادہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ بنا ہوا در باری ظریف یا بھانڈ نہیں ہے بلکہ ایک نفسیاتی کردار ہے، جس میں سچائی اور اپنی فطرت کے ساتھ خلوص پایا جاتا ہے۔ جب نواب صاحب کا بٹیر نام کی مشہور دریا کی تاجر بریع خوبی- ایک مطالعه 15 صف شکن علی شاہ گم ہوگیا اور اس کی تلاش میں لوگ نکل کھڑے ہوئے، اس وقت آزاد نے بھی بٹیر کوڈھونڈ نکالنے کا وعدہ کیا۔ خوبی اپنے ولی نمت (نواب صاحب کی وفاداری میں آزاد پر اعتبار نہیں کرنا چاہتا۔ شاید نواب کوقبل دے جائیں اور میر کے ساتھ ساتھ ان کا غم بھی نواب کو لگ جائے۔ پھر جب آزاد کے ساتھ اس کی وفاداری اور محبت کی آزمائش کا وقت آتا ہے تو اسے آزادہی کی بہی خواہی سے کام ہے۔ وہ آزاد کو اسی نصیحتیں کرتا ہے جو صرف ایک خیر خواہ ہی کرسکتا ہے۔ جیسا کہ ابھی کہا گیا، اس کی زندگی میں کسی قسم کی بناوٹ نہیں معلوم ہوتی اور اگر ہے تو اتنی گہری ہے کہ وہ اس کی فطرت کا جزو بن گئی ہے، جسے کسی وقت اس کی ذات سے علاحد نہیں کیا جاسکتا۔ بالکل یہی بات اس معاشرت کے لیے بھی کہی جاسکتی ہے جس سے اس کا تعلق تھا۔ معاشرت میں یہ چیز بہت جلد نمایاں ہو جاتی ہے۔ خودی کی تصویر ہر کردار نے اپنے اپنے مذاق کے مطابق کمپنی ہے۔ اگر سب کو اکٹھا کریں تو سرشار کی زبان میں کہہ سکتے ہیں کہ خوبی جسم شامت، پستہ قامت کوتاه کردن، تنگ پیشانی، خباثت اور شرارت کی نشانی تھا۔ سرشار نے خباثت کا لفظ کچھ زیادہ مناسب نہیں استعمال کیا ہے۔ کیونکہ اس کے فس میں کینہ پروری نہیں پائی جاتی۔ ہاں، اس میں اور عیوب ضرور ہیں۔ بارے کی صورت ایسی ہے کہ کوئی اسے شریف نہیں سمجھتا۔ یہاں تک کہ خود اسے اپنی شرافت پر شک ہونے لگتا ہے اور وہ اپنی صورت دیکھنے کے لیے آئینہ مانگتا ہے۔ خودی کو اپنے خاندان اور آبا و اجداد کی بھی ٹھیک خبر نہیں ۔ ایک جگہ پرتو اپنے فن کی وصیت کے سلسلے میں کہتا ہے کہ میں جہاں بھی مروں، مجھے میرے والد کے پہلو میں دفن کرنا لیکن پھر خیال آتا ہے کہ خدا جانے والد سے بھی یا نہیں۔ اگر تھے تو نہ جانے کب اور کہاں مرے، کہاں دفن ہوئے، اس لیے فورأ بول اٹھتا ہے کہ جو سب سے اچھی قبر دکھائی دے، اس کے والد کی قبر تسلیم کر لی جائے اور اسی کے پہلو میں اسے فن کر دیا جائے۔ اگر اس خیال کا تجزیہ کیا جائے تو شرافت کے پرانے معیار پرطر کے مجیب وغریب پہلو پیدا ہوتے ہیں۔ جس وقت شرافت کا معیار بدل رہا ہو اس وقت خودی کی زبان سے ایسے شکوک کا اظہار بہت ہی بامعنی ہے۔ مختصر یہ کہ خوبی ہندوستان میں ہو یاروں، ڈر کی اور پولینڈ میں، وہ اپنی خصوصیتیں اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے۔ وہ اپنی تہذیب کا علم بردار ہے۔ اس کا لا ابالی پن اسے بد دل ہونے سے اور اس کا یقین اسے شکست کھانے سے بچاتا ہے۔ اسے دیکھ کر ہماری نظر میں زندگی کے بڑے بڑے سوال به معنی نظر آنے لگتے ہیں اور اس کی بے اصولی ماحول پر قبضہ جمالیتی ہے۔ اس کی بنائی ہوئی دنیا میں ہم مزے لے لے کے سیر کر سکتے ہیں اور ہمیں احساس بھی نہ ہوگا کہ ہم کس قدر غیرنجیدہ ہو گئے ہیں۔ احتشام حسین) 16 گلستان ادب لفظ وی تقلید کھو جانا ). ;) و تا به 333 زة . 3 برداشت کرنے والا صفوں کو توڑ دینے والا، بہادر گم شدگی مبالغه آمیز حد سے بڑھا ہوا ، غیر معمولی غیر معتدل جس میں اعتدال نہ ہو،حد سے گزر جانے والا پرہیز تبدیلیاں ہتھیار پچھلا فارسی کا ایک مشہور شاعر جومغل بادشاہ اکبر کا درباری تھا مذاق سلیم اچھازوق حسن انتخاب : انتخاب کا سلیقہ ظرافت فقرے بازی زبان زدفقرے : وہ فقرے جو زبان پر چڑھے ہوۓ ہوں ترولی ایک قسم کا چاقو مجر، کٹاری کجروی : ٹیڑھا پن زوال آماده زوال پذیرہ جو پستی کی طرف جائے نمک خوار : نمک کھانے والا مطلب وفادار نی بذلہ نجی خوبی- ایک مطالعه ہی خوابی بھلا چاہتا، خیر خواہی خیر خواہ بھلائی چاہنے والا چھپی ہوئی دشمنی ، منی پالنا عیوب : عیب کی جمع، برائیاں •• .. .. .. .. کینہ پروری غور کرنے کی بات خوبی پنڈت رتن ناتھ سرشار کی داستان نما ناول فسانہ آزاد کا مشہور کردار ہے۔ سید احتشام حسین نے خودی کے کردار کی اہمیت بتاتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سرشار نے ایک ہی کردار کے دوٹکڑے کر دیے۔ ایک حصہ میاں آزاد کی شکل میں ظاہر ہوا اور دوسرا خوری کی صورت میں۔ • مصنف کے مطابق خودی لاپرواہ مغرور اور غصہ ور ہونے کے باوجود دوستوں کی محبت کا دم بھرنے وال، لوگوں کے کام آنے والا اور معاملات کو جھداری سے بجھانے والا کردار ہے۔ مصنف کے مطابق خونی فسانہ آزاد میں دل چسپی پیدا کرنے والا مسخرہ نہیں ہے بلکہ اس کا کردار لکھنو کی زوال پذیر معاشرت کی علامت ہے۔ سوالات 1. خوبی کا حلیہ بیان کیے۔ 2. خودی کو مغرور ثابت کرنے کے لیے کیا لیلیں پیش کی گئی ہیں؟ 3. خوبی کے جذبه وفاداری کے بارے میں مصنف کی کیا رائے ہے؟ 4. خوبی اور آزاد کے کرداروں میں کیا مطابقت ہے؟ عملی کام • اپنے استاد کی مدد سے فسانہ آزادکا وہ حصہ پڑھے جس میں سرشار نے خودی کا تعارف کرایا ہے۔

RELOAD if chapter isn't visible.