Sokoon ki Nind اقبال مجید 1934 اقبال مجید ضلع سیتاپور ( اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ ایم۔ اے لکھنؤ یونیورسٹی سے کیا تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد کچھ عرصے تک اسکول میں پڑھاتے رہے اس کے بعد آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ ملازمت کے دوران انھیں کئی شہروں میں رہنا پڑا۔ مالوہ کی پرفضا سرزمین بھوپال ان کی ملازمت کا آخری پڑاؤ تھا، جہاں وہ اسٹیٹ الیشن ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے۔ بالآخر جیو پال ہی میں انھوں نے مستقل سکونت بھی اختیار کر لی۔ اقبال مجید، عہد جدید کے ایک نامور افسانہ نگار ہیں۔ انھوں نے کئی اعلی درجے کے ڈرامے بھی لکھے ہیں ۔ ’’نمک‘‘ اور کسی دن‘، ان کے دو ناول ہیں۔”دو بھیگے ہوئے لوگ‘’ ایک حلفیہ بیان، شهر بدنصیب‘ اور تماشاگھر ان کے افسانوی مجموعے ہیں۔ اقبال مجید کا تعلق اس نسل سے ہے جو60-1955 کے بعد پروان چڑھی۔ اقبال مجید نے نے طرز کے کئی افسانے بھی لکھے ہیں جن میں آج کے انسان کی داخلی اور روحانی الجھنوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ افسانوی تکنیک میں بھی انھوں نے بعض اہم تجربے کیے ہیں۔ تاہم کہانی میں کہانی پن کے عصر کو انھوں نے برقرار رکھا۔ اقبال مجید نے اپنے افسانوں، ڈراموں اور ناولوں میں سیاسی و سانی شعور کے ساتھ ساتھ نفسیاتی بصیرت سے بھی بخوبی کام لیا ہے۔ جدید اردو افسانے کی تاریخ میں اقبال مجید کا ایک )) و نمایاں مقام ہے۔ سکون کی نیند میرے بزرگوں کا پیشہ داستان گوئی تھا۔ میں بھی اپنا پیٹ پالنے کے لیے یہ پیشہ اختیار کر چکا ہوں۔ میری ایک وقت کی روٹی کا انتظام ہو جائے ، بس اس امید پر میں آپ کو ایک دلچسپ داستان سنارہا ہوں۔ تو شروع کرتا ہوں نام لے کر اس خدا کا، جس نے یہ دنیا بنائی ۔ اسی خدا کی خدائی میں ایک ملک تھا کہ نام تھا جس کا ملک ہوا، کیونکہ وہاں کے باسی ہواؤں سے ہی اپنی ضرورت پوری کیا کرتے تھے۔ اس ملک ہوا کا بادشاہ جب مرنے لگا تو اپنے جوان بیٹے کو یہ وصیت کی کہ بیٹا اپنے مل کے سارے کھرے کھولنا مگر وہ تالا بھی نہ کھولتا جو ایک سرنگ کے دروازے پر لگا ہے، کیونکہ اس سرنگ میں آگ، پانی، مٹی اور ہوا ایک ساتھ قید ہیں اور یہ ایک ایسا عجوبہ ہے جو ملک ہوا کے باشندوں کی عقل وفہم سے باہر ہے۔ بادشاہ کی موت کے بعد نوجوان شہزادے کے دل میں اس سرنگ کا راز جانے کی بے چینی اسی بڑھی کہ تالا کھول سرنگ کے اندر قدم رکھ دیا اور گیا ایسی دنیا میں جہاں دوطرح کے انسان پائے جاتے تھے۔ ایک وہ جو بھی رہے تھے اور دوسرے وہ جو جیتے یا مررہے تھے... سب معلوم کرنے پر اسے پتہ چلا کہ اس ملک میں وہی بی سکتا تھا جس کے پاس وافر مقدار میں پیسے تھا ، کیونکہ وہاں ہواوں کے بجائے ساری ضرورتیں پیسے سے ہی پوری کی جاتی تھیں۔ شہزادے نے دعائیں پڑھیں اور ہواؤں کی دیوی کو آواز دی۔ دیوی آئی تو شہزادے نے اس ملک کی پریشان حال جنتا کا احوال بتایا اور منت کی کہ وہ ان سب کو پیسے سے مالا مال کر دے تا کہ سب آرام اور سکون سے رہ سکیں۔ دیوی نے شہزادے کی سفارش پر ایسا ہی کیا۔ پھر تو دوسرے ہی دن سے اس ملک کے مردوزن، بوڑھے اور بچے جب سوکر اٹھتے تو دیکھتے کہ ان کے کیے کے نیچے دولاکھ روپے رکھے ہوئے ہیں۔ پہلے تو ان نوٹوں کو علی سمجھا گیا، لیکن جب سرکار نے یہ اعلان کیا کہ وہ سب ہی نوٹ اصلی ہیں، کیونکہ ان نوٹوں کے بدلے میں سرکار کے خزانے میں اتنا سونا بھی روز بروز بڑھتا جارہا ہے، تو بہت سوں کا مارے خوشی کے ہارٹ فیل ہوگیا۔ جو پہلے سے کروڑ پتی اور ارب پتی تھے ان کی سب سے بڑی پریشانی مزدور تھا ، جو آنکھ میں لگانے کو بھی نہ ملتا تھا۔ کارخانے کے موا کار میں بھی سجا لیا لیکن جب وہ تو بہت سوں کا اس کی میں نے وہی شد استفاده سکون کی نیند 59 بند ہونا شروع ہو گئے تو دوسرے ملکوں نے اپنارڈی سامان پہنچانا شروع کر دیا۔ ملک کے بڑے بڑے انجینر، سائنٹسٹ ، ٹیکنو کریٹ کوڑی کے تعین ہو گئے۔ باہر کے ملکوں نے جب تجارت کے نام پر دھاندلی شروع کردی اور ایک ہزار روپے میں ایک ماچس بیچنا شروع کردی تو حکومت بوکھلا گئی لیکن اس دن تو حکومت کے ہاتھوں کے طوطے ہی اڑ گئے، جب اسے معلوم ہوا کہ ملک کے کسان اپنی دولت چپکے چپکے دوسرے ملکوں کے بینکوں میں جمع کر کے کتے جارہے ہیں اور فصل اگانا توہین آمیز کام مجھنے لگے ہیں۔ یہ دیکھ کر حکومت نے اپنے سارے اعلی دماغوں کو یکجا کیا۔ بڑے بڑے سیمینار کیے۔ سوال یہ تھا کہ کیا ملک کے سوفیصدی لوگ ایک ساتھ ایک جیسے مالدار ہو سکتے ہیں ۔ کیا سب کو مالدار ہو جانے دیا جائے؟ جواب ملا نہیں۔ ایسا بھی نہ ہونا چاہیے۔ بڑے بث مبانے کے بعد یہ پتہ چلا کہ مالدار ہونے کی یہ بیماری اس لیے ہے کہ لوگ رات کو سوتے ہیں اور سویرے اٹھ کر تکیہ بناتے ہیں تو روز دو لاکھ پاتے ہیں۔ اس بات پر جب اور تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ دیوی نے یہ شرط لگائی تھی کہ جو سوکر اٹھے گا اس کے تکیے کے نیچے سے یہ دولت کے گی۔ اس کی تصدیق کے لیے حکومت نے تجربے کے طور پر کچھ لوگوں کو ایک رات جگائے رکھا اور میچ ہونے پر سوئے بغیر ان لوگوں نے جب اپنے تھکے کو بتایا تو وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ یہ دیکھ کر حکومت کو کافی تستی ہوئی۔ اس نے ملک کے چوٹی کے سائنٹٹوں کو جمع کیا اور ان کے سامنے یہ مسئلہ رکھا کہ اگر اس ملک کو تباہی سے بچانا ہے تو ملک 60 گلستان ادب میں دولت کی اس بیہودی تقسیم کو ختم کرنا ہی ہوگا۔ دولت تو کھانے کی چیز ہے جو پڑی مل جائے اور وہ بھی ایک ہی وقت میں سب کول جائے اسے خدا کا عذاب کہا جائے گا، دولت نہیں ۔ سائنس دانوں نے اس سلسلے میں حکومت کے خیال کی تائید کی تو طے پایا کہ کوئی اسی دوا ایجاد کی جائے جو لوگوں کی راتوں کی نیند چھین لے۔ بڑی عرق ریزی کے بعد سائنس دانوں نے ایک ایسیا الیکشن تیار کیا جس کے لگانے سے آدی کو جیوں نیند نہ آئے۔ ان ایکشنوں کو سرکاری اسپتالوں میں گلوکوز کے نام سے پہنچایا گیا۔ جہاں ہزاروں شہریوں کو سرکاری کارندے روز پکڑ کر لاتے اور انھیں بیگلوکوز چڑھادیا جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی نے رات کو سونا چھوڑ دیا اور وہ کچھ ہی دنوں میں کنگال ہوگئی ۔ یہ آبادی راتوں کو جاگتی تھی اور دن بھر اپنی مفلسی پر آہیں بھرتی تھی۔ سائنس دانوں کی مدد سے جب حکومت نے ایک خاصا بڑانادا مفلس طبقہ تیار کر لیا تو اپنی اس کامیابی پر وہ بے حد خوش ہوئی حکومت کے لوگ آرام سے سوتے تھے اور سویرے دولاکھ پاتے تھے۔ اس خیال نے کہ وہ جب چاہیں کسی کو بھی ایک ایکشن لگا کر اس کی کمائی بند کر سکتے ہیں اور اسے پیسے پہیے کا علاج کر سکتے ہیں انھیں فرعون بنادیا۔ تب ہی انھیں پتہ چلا کہ جو کیشن انھوں نے ایجاد کیا تھا اور جس کے سبب ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی راتوں کی نیند کھو چکی تھی، اس آبادی کے لوگوں کے خون میں اس دوانے کچھ ایسے اثرات پیدا کر دیے ہیں کہ اگر وہ کسی کو کاٹ لیں تو وہ انسان توپے بغیر ختم ہو جایا کرتا ہے۔ کچھ دنوں بعد ان امیروں کو یہ انکشاف ہوا کہ وہ زہریلے لوگ کھڑکیوں اور روشن دانوں کے راستے خواب گاہوں میں گھستے ہیں اور سوتے ہوئے آدی و آرام سے سوتے تھے ادا کرتے ہیں نہیں فرعون بنا دیا لوگوں کے خون میں اس سکون کی نیند 61 کو کاٹ کر چلے جاتے ہیں۔ اس انکشاف نے روز دو لاکھ کمانے والوں کی نیندیں کیسے غائب کیں اور کس طرح وہ سارے کے سارے ارب پتی اس خوف سے پریشان ہو کر کہ رات کو کوئی ادارا نھیں کاٹ نہ لے اور وہ سوتے کے سوتے ہی رہ جائیں، اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بازوؤں میں شب بیداری کا وہ انجکشن لگانے لگے۔ بہرحال اس داستان کا انجام یہ ہے کہ برسوں بعد جب اس شہزادے کا اس ملک کی جانب سے گزر ہوا، تو اس نے دیکھا کہ اس ملک کے باسی خدا سے یہ دعا مانگ رہے تھے کہ اے خدا تو ہم سے ہمارا سب کچھ لے لے اور اس کے بدلے میں دو پل سکون سے سو لینے کی نیند دے دے۔ اقبال مجید) لفظ وی داستان داستان گو باسی : قصہ، کہانی ، کہانیوں کا ایک طویل سلسلہ : قصہ سنانے والا، وہ شخص جو قصہ سنانے کا پیشہ اختیار کرے : باشندے : سفر کے لیے روانہ ہونے سے پہلے یا مرنے سے پہلے اپنے پس ماندگان با تعلقین کو دی جانے والی ہدایات، آخرینفیجت : حیرت میں ڈالنے والی چیز، انوکھی چیز : بہت زیادہ : سائنس داں : تکنیک کا ماہر (امیر) : ذلت سے بھرا ہوا سائنٹسٹ ٹیکنو کریٹ توہین آمیز 62 گان ادب تصدق .. .. .. .. .. .. .. انکشاف ہونا : کی علمی، ادبی موضوع پر مذاکرہی مباحث تلاش تھی حقیقت کی چھان بین ہونے کی تائید، ثبوت عرق ریزی محنت ومشقت کسی کام کو بہت گن سے انجام دیا اور اس کے لیے محنت کرنا نادار غریب مفلس ظاہر ہونا، کھانا خوابگاه : سونے کا کمرہ شب بیداری : راتوں کو جاگنا غور کرنے کی بات کسی کے پاس دولت کا نہ ہونا اتنا بڑا عذاب نہیں ہے، جتنا دولت کا بے حساب ہونا ۔ انسان جب دولت کے نشے میں سرشار ہوتا ہے تو وہ فطرت کی نعمتوں ہی سے دور نہیں ہو جاتا بلکہ خودغرض بھی ہوجاتا ہے۔ حسن اخلاق سے اسے کوئی مطلب ہوتا ہے اور نہ عام انسانی ہمدردی ہی اس کے لیے کوئی معنی رکھتی ہے۔ سب سے بڑی چیز جس سے وہ محروم ہوتا چلا جاتا ہے، وہ راتوں کی نیند اور دل کا سکون ہے۔ ان چیزوں کو پانے کے لیے وہ نیند کی گولیوں اور ایکشن کے استعال پر مجبور ہوتا ہے۔ اس افسانے میں افسانہ نگار نے انجکشنوں کے منفی اثرات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ سونے والے جب کسی انسان کو کاٹ لیا کرتے تھے تو وہ بغیر پے مر جاتا تھا، دولت مند ایسے لوگوں سے پناہ مانگنے لگے اور پل دو پل کی نیند کے لیے خدا سے دعا مانگنے لگے۔ سوالات 1. شہزادے نے ملک ہوا میں کیا دیکھا؟ 2 شہزادے نے ہوا کی دیوی سے کیا سفارش کی ؟ 63 سکون کی نیند 3. دو دو لاکھ روپے ملنے کے بعد لوگوں کے طرز زندگی میں کیا فرق پیدا ہوا؟ 4. سائنس دانوں نے کیا دوا ایجاد کی اور کیوں؟ 5. لوگوں پر نیند کے ایکشن کا کیا اثر ہوا؟ | 6. دولت مندوں نے آخر میں خدا سے کیا دعا مانگی؟ آزادی کے بعد لکھے جانے والے کم سے کم پانچ افسانے پڑھے اور یہ بتائے کہ ان میں کسی قسم کے مسائل بیان کیے گئے ہیں۔ CNCER not to be republise

RELOAD if chapter isn't visible.