رپورتاژ رپورتا کوانگریزی میں Reportage کہتے ہیں۔ رپورٹ کے لغوی معنی روداد اختر کے ہیں۔ خاص طور پرعوام کے سامنے کسی چیز یا واقعے کے بارے میں بیان دینا یا اطلاع دینا۔ رپورتاژ بھی ایک روداد اور اطلاع نامہ ہی ہوتا ہے، لیکن اس کی حیثیت ایک ادبی صنف کی ہے۔ ادبی صنف کے اعتبار سے رپورتاژ کوتاثراتی روداد کا نام دیا جاتا ہے۔ رپورتاژ میں کسی تقریب یا ادبی کانفرنس یا مذاکرے یا جلسے کی کارروائی کی روداد بیان کی جاتی ہے۔ رپورتاژ کا مقصد صرف اطلاع یا خبر دینا نہیں ہوتا، کیوں کہ خر با اطلاع کے علم کے بعد پھر اس میں کوئی دل بھی قائم نہیں رہتی۔ وہ جلد ہی باکی یا بے مصرفی چیز میں بدل جاتی ہے۔ رپورتاژ لکھنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ خلیقی مزاج بھی رکھتا ہو۔ اگر وہ صحافی ہے تو اس میں خبر کو افسانہ بنانے کی اہلیت ہونا چاہیے۔ رپورتا تو میں اسلوب بیان کی خاص اہمیت ہے۔ not to be re کرشن چندر 1914تا 1977 کرشن چندر بھرت پور میں پیدا ہوئے ۔ ان کا بچین پونچھ (کشمیر) میں گزرا۔ جہاں ان کے والد بحیثیت ڈاکٹر تعینات تھے۔ انھوں نے وکالت کا امتحان پاس کیا۔ پھر انگریزی میں ایم ۔ اے کیا۔ کچھ دنوں وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے۔ فلموں کی کشش نھیں بھی لے گئی مگر انہیں فلموں میں زیادہ کامیابی مل سکی۔ انھوں نے قلم کو ہی روزگار کا وسیلہ بنایا۔ کچھ لوگ کرشن چندر پر بیارندی کا الزام بھی لگاتے ہیں۔ کرشن چندر کا شمار اردو کے بڑے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے افسانے کے علاوہ ناول، انشایئے، رپورتاژ ڈرامے، خاکے، طنزیہ و مزاحیہ مضامین بھی لکھے۔ مگر ان کی اصل پہچان ناول اور افسانے ہی کی وجہ سے ہے۔ کرشن چندر کا پہلا افسانہ یرقان ہے جو ادبی دنیا (لاہور) میں 1936 میں شائع ہوا۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجمود طلسم خیال 1939 میں شائع ہوا۔ ان کے افسانوں کے تقریبا32 مجموعے اور 47 ناول شائع ہوئے۔ اپنی تخلیقات میں وہ بہت خوبصورت شاعرانہ زبان استعمال کرتے تھے۔ ان کے یہاں منظر نگاری کے اعلی نمونے بھی پائے جاتے ہیں ۔ انھوں نے بہیت اور تکنیک کے بہت سے تجربے کیے ہیں ۔ کرشن چندر کا طنز بہت تیکھا ہوتا ہے۔ کرشن چندر کی طنزیہ و مزاحی ترمی میں بھی بہت مقبول ہوئیں۔ بہت ہی کی اور غیرملکی زبانوں میں ان کے افسانے اور ناولوں کے تر جمے ہوئے ہیں۔ انھیں ” سویت لینڈ شہر ایوارڈ اور پدم بھوشن کا اعزاز دیا گیا۔ OL اودے جب سردار جعفری اور کرشن چندر نظام کاری سے لوٹے تو فراق اور احتشام اور ڈاکٹر عبد العلیم لکھنؤ سے تشریف لے آئے تھے۔ یہ سب لوگ کھانے پر بیٹھے عریانی پر بحث کر رہے تھے۔ سردار نے آتے ہی قلم ہاتھ میں لے کر ایک تجویز اس امر کے متعلق لکھنا شروع کی اور بحث طویل ہوتی گئی۔ فراق حسن کار ہیں، اس لیے انھیں عریانی سے اتنی نفرت نہیں۔ احتشام کی طبیعت میں نوجوانی کے باوجود انت الظہر اد ہے کہ وہ عریانی کو دیکھ کر بدکتے ہیں، برافروخت نہیں ہو جاتے، صلواتیں سنانے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ ڈاکٹر عبد العلیم کا انداز یہ تھا: ”میاں ابھی تم بہتے ہو، کیا طفلانہ باتیں کر رہے ہو۔ ان کے ہشاش بشاش چہرے پر مسکراہٹ کی لہر دوڑ دوڑ کے کم ہوجاتی تھی۔ وہ اپنی داڑھی اور وضع قطع سے فرانسیسی معلوم ہوتے ہیں اور اپنے درشت انداز تکلم سے ہیڈ ماسٹر اور آگ بگولا ہوتے وقت سو فیصدی کمیونسٹ نظر آتے ہیں۔ اکثر لوگ غلط بات غلط موقعے پر کہتے ہیں۔ یا غلط بات میچ موقعے پر کہتے ہیں ۔ لیکن ڈاکٹر عبدالعلیم کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ہمیشہ ہی بات کہتے ہیں اور ہمیشہ غلط موقعے پر کہتے ہیں۔ چند رگھاٹ کا بے میں انھوں نے تقریر کرتے ہوئے طلبا کے مجمعے میں کاری کے استادوں کو وہ ڈانٹ بتائی کہ بے چارے اب تک یاد کرتے ہوں گے۔ اسی طرح . P . E . N کانفرس کے موقعے پر جب ڈاکٹر ملک راج آنند نے تجویز پیش کی کہ ہندوستان میں بھی فرانسی انسائیکلو پیڈیٹ (ENCYLOPAEDISTIS) کی طرح ایک تحریک جاری کی جائے ۔ تو بہت سے لوگوں نے اس انقلابی تجویز کی حمایت کیا۔ ان میں ریاست بریانیہ کے وزیر سردار پانی بھی شامل تھے لیکن صرف ایک آدمی کی پرزور مخالفت سے بہتر یک رہ گئی۔ یہ مخالفت کرنے والا جانتے ہوں کون تھا؟ میں اپنے ڈاکٹر عبد العلیم صاحب! آپ نے اٹھ کر کہا: تجویز تو بہت معقول ہے لیکن میں پوچھتا ہوں کہ فرانس میں اس تحریک کے چلانے والوں میں بڑے بڑے لوگ تھے۔ روسو اور والٹیئر - یہاں ایسا کون ادیب ہے۔ کون ایسی مفکر ہے۔ آپ نے پورے مجھے پر نظر ڈال کر کہا ”مجھے تو آپ لوگوں میں سے ایک آدی بھی اس پائے کا نظر نہیں آتا اس پر ایک قہقہہ بلند ہوا۔ پھر مجھے میں سے کسی من چلے نے کہا اور کیا اس پر بھی کوئی ایا آدھی آپ کو نظر نہیں آتا۔ ڈائس پر سروجنی نائیڈو تشریف فرماتھیں۔ جواہرعل نہرو تھے . فلسفه داں رادھا کرشنن، ہرمین اولڈ اور ... فارسٹر اور ملک راج آنند، احمد شاہ بخاری پطرس اور دوسرے لوگ ۔ ڈاکٹر صاحب نے ڈائس پرنگاہ ڈالی۔ سب کی طرف دیکھا اور پھر مجھے کی 91 پورے طرف مڑ کر کہنے لگے۔ ان میں بھی کوئی نہیں .....! تحریک گرگئی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر صاحب سچائی کو اس شدت احساس کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور اس پر سختی سے کاربند ہوتے ہیں کہ اکثر اوقات ہمدرد بھی مخالف ہو جاتے ہیں لیکن اس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں وہ ادیبوں کے مہاتما گاندھی ہیں لیکن ذرا عدم تشدد کے قائل نہیں اور اگر بھی ہندوستان میں ایسا قانون نافذ ہوا کہ ادیوں کو ان کی فکری، ذہنی یا خارجی غلطیوں کی سزا ملے گی تو اس احتساب کا حکم ڈاکٹر صاحب کے ہی سپرد ہوگا۔ ان کی صاف گوئی سے بہت سے لوگ ان سے گھبراتے ہیں لیکن اس میں ان کی عظمت ہے اور اگر اس صنف میں کوئی ان سے کر لے سکتا ہے تو وہ حسرت موہانی ہیں جو خوش قسمتی سے اس کانفرنس میں تشریف رکھتے تھے اور بلا ناغہ اس کے ہر جلسے میں شرکت کرتے رہے۔ چنانچہ جب ترقی پسند ادیبوں کی طرف سے عریانی کے خلاف قرار داد پیش کی گئی تو اس کی مخالفت کرنے والے مولانا حسرت موہانی تھے اور قاضی عبد الغفار۔ مزے کی بات بھی کہ نوجوان عریانی کے خلاف تحریک پیش کر رہے تھے اور بزرگ اس تحریک کی مخالفت کر رہے تھے۔ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اس طرح نوجوان اذہان کی قوتیں مسلوب ہوجائیں گی اور ان کی ٹیلی مورک جائے گی۔ مولانا حسرت موہانی کی پرزور تقریر سے قرار دادمسترد کر دی گئی۔ سبطے بے حد ناخوش تھا۔ کہنے لگا۔ ( ”ماں ، مولانا کا ہمیشہ یہی رول رہا ہے۔ وہ جہاں گئے لوگوں کو مصیبت میں ڈالتے گئے۔ جب کانگریں میں تھے تو ہوم رول کے دنوں میں آزادی کا ذکر کر کے کانگریں ہائی کمانڈ کو خائف کیا کرتے تھے اور جب کانگریس نے لا ہور کانفرس کے موقعے پیمل آزادی کی قرار داد منظور کر لی تو آپ نے اشتراکیت کی یخ نگاری اور کانگر میں سے ایسے ناخوش ہوئے کہ مسلم لیگ میں چلے گئے۔ وہاں پہنچے ہیں تو اب بے چارے شریف خان بہادروں کو بغاوت پر اکسارہے ہیں اورمکمل آزادی کا ریزولیوشن پاس کئے دے رہے ہیں۔ ہر جگہ مصیبت میں ڈالتے ہیں، یہ لوگوں کو بھی اب اچھا بھلا یہ ریزولیوشن پاس ہورہا تھا۔ خیر ہٹاداب اس قئے کو۔“ یہ کہ کر وہ رک گیا اور اس کے چہرے پر ہزاروں درد کی لکیریں یکا یک معدوم ہوئیں اور پھر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ مگر بھی۔ بی خوب ہیں مولانا چنان ہیں۔ بس کسی کی نہیں سنیں گے۔ اپنی جگہ سے بھی نہیں ہٹیں گے۔ دوپہرکو پریم چند سوسائٹ کا افتتاح تھا۔ حسین ساگر میں جو کلب ہے وہاں عورت بھی تھی۔ ادیوں کوکشتیوں میں سوار کر کے کلب میں پہنچایا گیا۔ درحالیکہ ایک راست خشکی سے بھی جاتا تھا۔ غالبا موٹر بوٹ کی نمائش مقصورتھی ۔ کلب کی عمارت جیل میں تعمیر کی گئی ہے۔ کوئی پچاس کے قریب ملازم ہوں گے۔ آٹھ کورس کا کھانا۔ اس دعوت پر اتنا صرف کیا گیا تھا کہ غالبا پریم چند کواپنی زندگی 92 گلستان ادب میں اتنی رائلٹی نہ کی ہوگی۔ یورپ میں جب ادیب زندہ ہوتا ہے تو اس کی قدر ہوتی ہے۔ ہندوستان میں مرنے کے بعداسے پوچھا جاتا ہے۔ چنانچہ آج پریم چند سوسائٹی کا افتتاح تھا۔ قاضی عبد الغفار تقریر کررہے تھے۔ اور مرغن کھانے دعوت میں شامل تھے جھیل کے منظر سے ادیب لطف اندوز ہورہے تھے۔ قاضی عبد الغفار کی شخصیت پر متانت کا ایک دبیز پردہ پڑا ہوا ہے لیکن انتقادی بھی نہیں کہ ان کی جبلی خوش طبعی اس متانت کے اندر سے جھلک نہ اٹھے۔ متانت ہے لیکن بوجھل نہیں ہے ۔ خوش طبعی ہے لیکن کھل کر نہیں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے۔ کسی چیز نے کسی خاص واقعے نے ، یا کسی خاص ماحول نے، ان کے ذہن کے، ان کے ذکر کے، ان کی فطری صلاحیت کے دو کھڑے کر دیے ہیں۔ وہ اس پر بھی مجبور ہیں۔ اس پر بھی دونوں رنگ ایک ہی شخصیت میں جھلکتے نظرآتے ہیں۔ پیروں کی رنگین بھی ہے، عالمانہ زہ بھی ہے گفته انشا پردازی بھی ہے۔ اور فکری مظہراد بھی ۔ لباس میں امارت کی جھلک ہے اور گفتگو میں علم کی چاشنی۔ تور جاگیردارانہ ہیں اور ذہن با غیانہ، قاضی صاحب اک ایسے نوجوان جسے عرصے سے کسی نے گد گدایانہ ہو لیکن خود اس کے دل میں شوخیاں چکیاں لے رہی ہوں۔ کاش کوئی مص ل ی کے خطوط کو گد گدا دے۔ اس طرح کہ وہ بھری محفل میں یاروں کی محفل میں نہیں، ہزاروں لاکھوں معمولی آدمیوں کی محفل میں کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ یہ گد گدی ایک بہت بڑے شاہکار کا پیش خیمہ ہوگی۔ (کرشن چندر) م ید کی ایک بہت بڑے اداکار ا .. الفا وی عریانی حسن کار برافروخته صلواتیں سنانا .. : : : : گا پن، برہنگی حسن کی تخلیق کرنے والا، آرائش کرنے والا غصیلا، ناراض، جوڑ کا ہوا برا بھلا کہنا .. not to be replace .. . طفلانه پان پورے 93 : : : : کرخت، کھردرا بولنے کا انداز خود ظلم اور زیادتی سے علاحدہ رکھنا ، انا حساب کرنا، جائزہ لینا سلب کیا گیا، چھینا ہوا فکری ارتقاء ذہنی نشوونما خوف زده قرارداد : على ارقا، ز وده خائف ریزولیوشن مٹایا گیا في * .. .. . . و اس صورت میں : مصنف کو اپنی تصنیف پر ناشر کی طرف سے ملنے والی رقم : سنجیدگی موٹا (کسی کپڑے یا کاغذ کے لیے بولا جاتا ہے) : فطری : پرہیز گاری : بردباری غور کرنے کی بات • پودے دراصل انجمن ترقی پسند مصنفین کی حیدر آباد کانفرنس کی روداد ہے۔ اس روداد میں کرشن چندر نے یہ بتایا ہے کہ اس انجمن نے کس طرح ہمارے ادب میں انسان دوستی اور حقیقت پسندی کی ایک نئی روایت کا پودا لگایا۔ . دانشوروں کی مجلس میں جب کوئی تجویز منظوری کے لیے پیش کی جاتی ہے تو کچھ لوگ اس کی حمایت کرتے ہیں اور کچھ مخالفت ۔ اس طرح اس تجویز کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یہاں مصنف نے یہ بتایا ہے کہ ملک راج آنند کی پیش کردہ تجویز کئی لوگوں کی حمایت کے باوجود، ڈاکٹر عبد العلیم کی مخالفت کے باعث پاس نہ ہو گی۔ 94 گلستان ادب سوالات 1. ڈاکٹر عبد العلیم کے کردار کی کیا خصوصیات بیان کی گئی ہیں؟ 2. ملک راج آنت کی پیش کردہ تجویز کیوں منظور نہ ہو گی؟ | 3. ادیبوں کے احتساب کا حکم ڈاکٹر میم صاحب کے پاس ہی ہونے کی کیا وجہ بتائی گئی ہے؟ 4 مولانا حسرت موہانی کے بارے میں کس رائے کا اظہار کیا گیا ہے؟ 5 قاضی عبد الغفار کے کردار کی کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں؟ وضاحت کیجیے۔ . آپ نے اپنے اسکول میں کی جھلے اورتقریبات دیکھی ہوں گی۔ اسی کی تقریب یابلے کے بارے میں ایک پرت لکھے۔ CNCE not to be repulsometh

RELOAD if chapter isn't visible.