quratul Ain H Foto G 2008 1927 جمہ 1: ۰۰۰ . قرة العین حیدر قرۃ العین حیدر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں جہاں ان کے والد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں رجسٹرار تھے۔ آبائی وطن نہور ضلع بجنور ہے۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اور والدہ نذر سجاد حیدر بھی اپنے دور کے معروف افسانہ نگار تھے۔ قرۃ العین حیدر نے میٹرک اور بی۔ اے تک کی تعلیم بنارس اور دہرہ دون میں حاصل کی۔ 1947 میں ازابیلا تھوبورن کار، لکھنؤ یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم۔ اے کیا۔ آرٹ اور ادب کی مزید تعلیم کے لیے لندن چلی گئیں ۔ وہاں مشہور انگریزی اخبار ٹیلی گراف‘‘ کے شعبہ ادارت اور بی بی سی (ریڈیو) سے بھی وابستہ رہیں۔ وطن واپسی کے بعد کئی سال میں میں قیام رہا، جہاں انگریزی رسائل و پرنٹ اور ” آسڑیٹیڈ ویکلی‘ میں بطور مدیر کام کرتی رہیں۔ بعد میں اولا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں اور پھر جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں وزنگ پروفیسر کے منصب پر فائز رہیں۔ قرۃ العین حیدر کا اولین افسانہ 1944 میں شائع ہوا تھا۔ افسانوں کا پہلا مجمود ستاروں کے آگئے1947 میں اور پہلا ناول ”میرے بھی صنم خانے 1949 میں منظر عام پر آیا۔ اردو اور انگریزی میں ان کی تقریر میں کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان میں افسانوں کے مجموعے، ناول، ناولٹ، رپورتاژ، سفر نامے، ادبی مضامین اور عامی ادب کے ترجمے شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوں اور ناولوں کے تر جے ہندوستان اور دنیا کی متعدد زبانوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ” آگ کا دریا از شب کے ہم سفر ’’ کار جہاں دراز ہے‘ اور ’چاندنی بیگم ان کے مشہور ناول ہیں۔ قرۃ العین حیدر کے افسانوں اور ناولوں کی زبان بہت رواں اور پرکشش ہے۔ ان کی تحریروں میں ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب و ثقافت کی جھلکیوں نے خاص گہرائی پیدا کردی ہے۔ انھیں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ، گیان پیٹ ایوارڈ اور پدم بھوشن کا خطاب پیش کیا جا چکا ہے۔ فوٹو گرافر موسم بہار کے پھولوں سے گھرا بے حد نظر فریب گیسٹ ہاوس ہے، بھرے ٹیلے کی چوٹی پر دور سے نظر آجاتا ہے۔ ٹیلے کے مین نیچے پہاڑی جھیل ہے۔ ایک بل کھاتی سٹرک جھیل کے کنارے کنارے گیسٹ ہاوس کے پچانک تک جاتی ہے۔ چنانک کے نزدیک والوں کی ایسی مونچھوں والا ایک فوٹو گرافر اپنا ساز و سامان پھیلائے ایک مشین کی کری پر چپ چاپ بیٹھا رہتا ہے۔ بیگم نام پہاڑی قصبہ ٹورسٹ علاقہ میں نہیں ہے اس وجہ سے بہت کم سیاح اس طرف آتے ہیں۔ چنانچہ جب کوئی مال منانے والا جوڑا یا کوئی مسافر گیسٹ ہاوس میں آپہنچتا ہے تو فوٹوگرافر بڑی امید اور صبر کے ساتھ اپنا کیمرہ سنبھالے باغ کی سٹرک پر ہنے لگتا ہے۔ باغ کے مالی سے اس کا سمجھوتا ہے گیسٹ ہائوس میں شہری کسی نوجوان خاتون کے لیے منح سویرے گلدستہ لے جاتے وقت مالی فوٹو گرافر کو اشارہ کردیتا ہے اور جب ماسال منانے والا جوڑا ناشتے کے بعد نیچے باغ میں آتا ہے تو مالی اور فوٹو گرافر دونوں ان کے انتظار میں چوس لیتے ہیں۔ الت فوٹوگرافر 39 39 فوٹوگرافر مدتوں سے یہاں موجود ہے نہ جانے اور کہیں جا کر اپنی دوکان کیوں نہیں جاتا لیکن وہ اس قصبے کا باشندہ ہے۔ اپنی ہیں اور اپنی پہاڑی چھوڑ کر کہاں جائے ۔ اس پچانک کی پاکی پر بیٹھے بیٹھے اس نے بدلتی دنیا کے رنگارنگ تماشے دیکھے ہیں۔ پہلے یہاں صاحب لوگ آتے تھے۔ برطانوی پائٹرز سفید سولا ہیٹ پہنے، کولونیل سروں کے جغادری عہدے دار، ان کی میم لوگ اور بابا لوگ۔ رات رات بھر ... گراموفون ریکارڈ پیتے تھے اور گیسٹ ہاؤس کے نچلے ڈرائینگ روم کے چوبی فرش پر ڈانس ہوتا تھا۔ دوسری بڑی لڑائی کے زمانے میں امریکن آنے لگے تھے۔ پھر ملک کو آزادی کی اور اکا دکا سیاح آنے شروع ہوئے یا سرکاری افسر یا نئے پایا ہے جوڑے یا مصور یا کلا کار جوتہائی چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ جو برسات کی شاموں کو جھیل پر بھی دھنک کا نظارہ کرنا چاہتے ہیں، ایسے لوگ جو سکون اور محبت کے متلاشی ہیں جس کا زندگی میں وجود ہیں کیوں کہ ہم جہاں جاتے ہیں نا ہمارے ساتھ ہے۔ تسلسل ہماری ہم سفر ہے۔ گیسٹ ہاوس میں مسافروں کی آوک جاوک جاری ہے۔ فوٹو گرافر کے کیمرے کی آنکھ یہ سب دیکھتی ہے اور خاموش رہتی ہے۔ ایک روز شام پڑے ایک نوجوان اور ایک لڑکی گیسٹ ہاوس میں آن کر اترے۔ یہ دونوں، انداز سے ماو سل منانے والے معلوم نہیں ہوتے تھے لیکن بے حد سرور اور سنجیدہ سے، وہ اپنا سامان اٹھانے اوپر چلے گئے۔ اوپر کی منزل بالکل خالی پڑی تھی۔ زینے کے برابر میں ڈائننگ ہال تھا اور اس کے بعد تین بیڈروم۔ ”یہ کمرہ میں لوں گا“ نوجوان نے پہلے بیڈ روم میں داخل ہو کر کہا جس کار جمیل کی طرف تھا۔لڑکی نے اپنی چھتری اور اوورکوٹ اس کمرے کے ایک پیک پر پھینک دیا تھا۔ ” اغا اپنا بوریا بستر نوجوان نے اس سے کہا۔ ” تھا. لڑکی دونوں چیزیں اٹھا کر برابر کے سنگ روم سے گزرتی دوسرے کمرے میں چلی گئی جس کے پیچھے ایک پختہ گیارا سا تھا۔ کمرے کے بڑے بڑے دریچوں میں سے وہ مزدور نظر آرہے تھے جو ایک سیڑھی اٹھائے پچھلی دیوار کی مرمت میں مصروف تھے۔ ایک بیرا لڑکی کا سامان لے کر اندر آیا اور در چوں کے پردے برابر کر کے چلا گیا۔ لڑکی سفر کے کپڑے تبدیل کر کے سنگ روم میں آگئی ۔ نوجوان آتش دان کے پاس ایک آرام کرسی پر بیٹھا کچھ لکھ رہا تھا، اس نے نظریں اٹھا کر لڑکی کو دیکھا۔ باہرجھیل پر فتا اندھیرا چھا گیا تھا وہ در پے میں کھڑی ہو کر باغ کے دھند کے کو دیکھے گی۔ پھر وہ بھی ایک کرسی پر بیٹھ گئی ، نہ جانے وہ دونوں کیا باتیں کرتے رہے۔ فوٹو گرافر جواب بھی پنچ پائک پر بیٹھا تھا، اس کا کیمرہ آنکھ رکھتا تھا لیکن سماعت سے عاری تھا۔ 40 گلستان ادب کچھ دیر بعد وہ دونوں کھانا کھانے کے کمرے میں گئے اور در چے سے گئی ہوئی میز پر بیٹھ گئے۔ جھیل کے دوسرے کنارے پر قصبے کی روشنیاں جھلملا بھی تھیں۔ اس وقت تک ایک یورپین سیاح بھی گیسٹ ہاوس میں آ چکا تھا۔ وہ خاموش ڈائننگ ہال کے دوسرے کونے میں چپ چاپ بیٹا خط لکھ رہا تھا، چند پھر پوسٹ کارڈ اس کے سامنے میز پر رکھے تھے۔ سیاح اپنے گھر خط لکھ رہا ہے کہ میں اس وقت پر اسرار شرق کے ایک پر اسرار ڈاک بنگلے میں موجود ہوں۔ سرخ ساری میں ملیوں ایک پراسرار ہندوستانی لڑکی میرے سامنے بیٹھی ہے۔ بڑا ہی رومانیک ماحول ہے۔ لڑکی نے چپکے سے کہا۔ اس کا ساتھی ہنس پڑا۔ کھانے کے بعد وہ دونوں چھر سنگ روم میں آگئے ۔ نوجوان اب اسے کچھ پڑھ کر سنارہا تھا۔ رات گہری ہوتی گئی۔ وفحة لڑکی کو زور کی چھینک آئی اور اس نے سوں سوں کرتے ہوئے کہا۔ ”اب سونا چاہیے۔ تم اپنی زکام کی دو اپنا نہ بھولنا‘‘ نوجوان نے فکر سے کہا۔ ”ہاں شب بخیر ، لڑکی نے جواب دیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی۔ چلا گیا را گھپ اندھیرا پڑا تھا، کمرا بے حد پرسکون، خنک اور آرام دہ تھا، زندگی بے حد پرسکون اور آرام دہی لڑکی نے کپڑے تبدیل کر کے سنگھار میز کی دراز کھول کر دوا کی شیشی نکالی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ اس نے اپنا سیاه کیمونو چین کر دروازه کھولا، نوجوان در انگھبرایا ہوا سامنے کھڑا تھا۔” مجھے بھی بڑی سخت کھانی اٹھ رہی ہے۔ اس نے کہا۔ اچھا لڑکی نے دوا کی شیشی اور کچھ اسے دیا۔ چھ نوجوان کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گر گیا، اس نے جھک کر چھ اٹھایا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔ لڑکی روشنی بجھا کر سوگئی۔ مجھ کو وہ ناشتے کے لیے ڈائٹنگ روم میں گئی۔ زینے کے برابر والے ہال میں پھول مہک رہے تھے۔ تاہنے کے بڑے بڑے گلدان براسو سے چپکائے جانے کے بعد ہال کے جھلملاتے چونی فرش پر ایک قطار میں رکھ دیے گئے تھے اور تازہ پھولوں کے انبار ان کے نزدیک رکھے ہوئے تھے۔ باہر سورج نے جھیل کو روشن کر دیا تھا اور زرد و سفید تلیاں سبزے پر اڑتی پھر رہی تھیں۔ کچھ دیر بعد نوجوان ہنستا ہوا زینے پر نمودار ہوا، اس کے ہاتھ میں گلاب کے پھولوں کا ایک کچھا تھا۔ مالی نیچے کھڑا ہے، اس نے یہ گلدستہ تمھارے لیے بھجوایا ہے۔ اس نے کمرے میں داخل ہوکر مسکراتے ہوئے کہا اور گلدستہ میز پر رکھ دیا۔ لڑکی نے ایک شگوفہ اٹھا کر بے خیالی سے اسے اپنے بالوں میں لگالیا اور اخبار پڑھنے میں مصروف ہوگی۔ ދީޘްދ،ދެ 41 ”ایک فوٹوگرافر بھی نچ منڈ لارہا ہے، اس نے مجھ سے بڑی سنجیدگی سے تمھارے متعلق دریافت کیا کرتم فلاں فلم اسٹار تو نہیں؟ نوجوان نے کرسی پر بیٹھ کر چائے بناتے ہوئے کہا۔ لڑ کی ہنس پڑی۔ وہ ایک نامور قاصرتھی۔ مگر اس جگہ پر کسی نے اس کا نام بھی نہ سنا تھا۔ نوجوان اس لڑکی سے بھی زیادہ مشہور موسیقار تھامگر اسے بھی یہاں کوئی نہ پا سکا تھا۔ ان دونوں کو اپنی اس عارضی گم نامی اورمل سکون کے ہی نظریات بہت بھلے معلوم ہوئے۔ کمرے کے دوسرے کونے میں ناشتہ کرتے ہوئے اکیلے یوروپین نے آنکھیں اٹھا کر ان دونوں کو دیکھا اور ذرا سا مسکرایا۔ وہ بھی ان دونوں کی خاموش مسرت میں شریک ہو چکا تھا۔ ناشتے کے بعد وہ دونوں پنچ گئے اور باغ کے کنارے گل مہر کے بیچ کھڑے ہوکر جھیل کو دیکھنے لگے۔ فوٹو گرافر نے اچانک چھلاوے کی طرح نمودار ہو کر بڑے ڈرامائی انداز میں ٹوپی اتاری اور ذرا جھک کر کہا۔ فوٹوگراف - لیڈی ؟ لڑکی نے گھڑی دیکھی ۔ ہم لوگوں کو ابھی باہر جاتا ہے۔ دیر ہو جائے گی۔ ”لیڈی فوٹوگرافر نے پاؤں منڈیر پر رکھا اور ایک ہاتھ پھیلا کر باہر کی دنیا کی سمت اشارہ کرتے ہوئے جواب دیا۔ باہر کارزار حیات میں گھمسان کا رن پڑا ہے۔ مجھے معلوم ہے اس گھمسان سے نکل کر آپ دونوں خوشی کے چند لے چلانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ دیکھیے اس جھیل کے اوپر دھنک بل کی پل میں غائب ہوجاتی ہے۔ لیکن میں آپ کا زیادہ وقت نکلوں گا.....ادھر آئے“ داستان فوٹو گرافر ہے۔ لڑکی نے چپکے سے اپنے ساتھی سے کہا۔ ( مالی جو گویا اب تک اپنے کیے کا منتظر تھا دوسرے درخت کے پیچھے سے نکلا اور اپک کر ایک اور گلدستہ لڑکی کو پیش کیا۔ لڑکی کھل کھل کر ہنس پڑی وہ اور اس کا ساتھی امر سنوری پاروتی کے مجھے کے قریب جا کھڑے ہوئے لڑکی کی آنکھوں میں دھوپ آرہی تھی اس لیے اس نے ذرا مسکراتے ہوئے آنکھیں ذراسی چندھیا دی تھیں۔ کلک کلک تصویر اتر گئی۔ تصویر آپ کو شام کول جائے گی۔ تھینک یولیڈی تھینک یوسر فوٹو گرافر نے ذرا سا جھک کر دوبارہ ٹو پی چھوئی۔ لڑ کی اور اس کا ساتھی کار کی طرف چلے گئے۔ سیر کر کے وہ دونوں شام پڑے لوٹے اور سندھیا کی نارنجی روشنی میں دیر تک باہر گھاس پر پڑی کرسیوں پر بیٹھے رہے۔ جب کہراگرنے لگا تو اندر چلی منزل کے وسیع اور خاموش ڈرائینگ روم میں نارنگی قمقموں کی روشنی میں آبیٹھے۔ نہ جانے کیا باتیں کررہے 42 گلستان ادب تھے جو سی طرح ختم ہونے ہی میں نہ آتی تھیں۔ کھانے کے وقت وہ اوپر چلے گئے ۔ صبح سویرے وہ واپس جارہے تھے اور اپنی باتوں کی محویت میں ان کو فوٹو گرافر اور اس کی کمپنی ہوئی تصویر یاد بھی نہ رہی تھی۔ میج کو لڑکی اپنے کمرے میں تھی جب میرےنے اندر آ کر ایک لفافہ پیش کیا۔ چھوٹو (فوٹو گرافر صاحب کی رات کو دیے گئے تھے۔ اس نے کہا۔ تھا۔ اس سامنے والی دراز میں رکھ دو۔“ لڑکی نے بے خیالی سے کہا اور بال بنانے میں بھی رہی۔ ناشتے کے بعد سامان باندھتے ہوئے اسے وہ دراز کھولنا یا دنہ رہا اور جاتے وقت خالی کرے پر ایک سرسری سی نظر ڈال کر وہ تیز تیز چلتی کار میں بیٹھ گئی۔ نوجوان نے کار اسٹارٹ کردی (کار) چھانک سے باہر کی۔ فوٹو گرافر نے پایا پر سے اٹھ کر ٹوپی اتاری۔ مسافروں نے مسکرا کر ہاتھ ہلائے۔ کارڈھلوان سے نیچی روانہ ہوگی۔ وہ والرس کی اسی مونچھوں والا فوٹوگرافر بہت بوڑھا ہو چکا ہے اور اسی طرح اس گیسٹ ہاؤس کے چاک پر ٹین کی کرسی چھائے بیٹھا رہتا ہے اور سیاحوں کی تصویر میں اتارتا رہتا ہے جو اب نئی فضائی سروس شروع ہونے کی وجہ سے بڑی تعداد میں اس طرف آنے لگے ہیں۔ لیکن اس وقت ائیر پورٹ سے جو ٹورسٹ کوچ آکر پالک میں داخل ہوئی اس میں سے صرف ایک خاتون اپنا اٹیچی کیس اٹھائے بر آمد ہوئیں اور ڈھک کر انھوں نے فوٹوگرافرکو دیکھا، جو وچ کو دیکھتے ہی فورا اٹھ کھڑا ہوا تھامگرکسی جوان اور حسین لڑکی کے بجائے ایک ادھیڑ عمرکی بی ل کو دیکھ کر بیوی سے دوبارہ جا کر اپنی مشین کی کرسی پر بیٹھ چکا تھا۔ خاتون نے دفتر میں جا کر رجسٹر میں اپنا نام درج کیا اور اوپر چلی گئیں۔ گیسٹ ہاؤس سنسان پڑا تھا۔ سیاحوں کی ایک ٹولی ابھی ابھی آگے روانہ ہوئی تھی اور پیرے کمرے کی جھاڑ پونچھ کر چکے تھے۔ تاہنے کے گلدان تازہ پھولوں کے انتظار میں ہال کے فرش پر رکھ جل جل کر رہے تھے اور ڈائننگ ہال میں در پے کے نیچے سفید براق میز پر چھری کانٹے جگمگارہے تھے۔ نووارد خاتون درمیانی بیڈ روم میں سے گزر کر پچھلے کمرے میں چلی گئیں اور اپنا سامان رکھنے کے بعد پھر باہر آ کر جھیل کو دیکھتے ہیں۔ چائے کے بعد وہ خالی سیٹنگ روم میں جا بیٹھیں اور رات ہوئی تو جا کر اپنے کمرے میں سوگئیں۔ گلیارے میں سے کچھ پر چھائیوں نے اندر جھانکا تو وہ اٹھ کر در پے میں گئیں جہاں مزدور دن بھر کام کرنے کے بعد میری دیوار سے لگی چھوڑ گئے تھے۔ گیارا بھی سنسان پڑا تھا۔ وہ پھر پیک پرآ کر لیٹیں تو چند منٹ بعد دروازے پر دستک ہوئی۔ انھوں نے دروازہ کھولا باہرکوئی نہ تھا۔ سٹنگ روم بھا ئیں بھا ئیں کررہا تھا، وہ پھر آ کر لیٹ رہیں، کرہ بہت سردتھا۔ صبح اٹھ کر انھوں نے اپنا سامان باندھتے ہوئے سنگھار میز کی دراز کھولی تو اس کے اندر بچے پیلے کاغذ کے پیچھے سے ایک فوٹوگرافر 43 الفانے کا کوٹا نظر آیا جس پر ان کا نام لکھا تھا۔ خاتون نے ذرا تجب سے لفافہ باہر نکالا۔ ایک کاکروچ کاغذ کی تہہ میں سے نکل کر خاتون کی انگلی پر آ گیا۔ انھوں نے دہل کر انکی خشکی اور لفانے میں سے ایک تصویر سرک کر نیچے گر گیا۔ جس میں ایک نوجوان اور ایک لڑکی امر سندری پاروتی کے مجھسے کے قریب کھڑے مسکرارہے تھے۔ تصویر کا کاغذ پیلا پڑ چکا تھا۔ خاتون چندھوں تک گم سم اس تصویر کو دیکھتی رہیں پھر اسے اپنے بیگ میں رکھ لیا۔ بیرے نے باہر سے آواز دی کہ ایر پورٹ جانے والی کوچ تیار ہے۔ خاتون بن گئیں۔ فوٹوگرافر نے مسافروں کی تاک میں باغ کی سٹرک پٹہل رہا تھا اس کے قریب جا کر خاتون نے بے تکلفی سے کہا: ”كمال ہے پندرہ برس میں کتنی بار سنگھار میز کی صفائی کی گئی ہوگی مگر یہ تصویر کاغذ کے پنچے اسی طرح پڑی رہی۔ پھر ان کی آواز میں بھلا ہٹ آگئی اور یہاں کا انتظام کتنا خراب ہو گیا ہے۔ کمرے میں کاکروچ ہی کاکروچ فوٹوگرافر نے چونک کر ان کو دیکھا اور پچانے کی کوشش کی۔ پھر خاتون کے جھر یوں والے چہرے پر نظر ڈال کر آرام سے دوسری طرف دیکھنے لگا، خاتون کہتی رہیں ... ان کی آواز بھی بدل چکی تھی چہرے پر دشتی اور تی تھی اور انداز میں چڑچڑاپن اور بے زاری اور وہ سپاٹ آواز میں کہے جارہی تھیں: میں اسٹیج سے ریٹائر ہو چکی ہوں اب میری تصویریں کون لکھنے کا بھلا، میں اپنے وطن واپس جاتے ہوئے رات یہاں مظہر گئی تھی۔ نئی ہوائی سروس شروع ہوگئی ہے۔ یہ جگہ راستے میں پڑتی ہے۔ ”اور.... اور آپ کے ساتھی ؟“ فوٹو گرافر نے آہستہ سے پوچھا۔ کوچ نے ہارن بجایا۔ ”آپ نے کہا تھا کہ کارزار حیات میں گھمسان کا رن پڑا ہے۔ ای گمان میں وہ کہیں کھو گئے ۔“ کوچ نے دوبارہ ہارن بجایا۔ اور ان کو کھوئے ہوئے بھی مدت گزرگئی اچھا خداحافظ “ خاتون نے بات ختم کی اور تیز تیز قدم رکھتی کوچ کی طرف چلی گئیں۔ والرس کی ایسی مونچھوں والا فوٹو گرافر چھا نک کے نزدیک جا کر اپنی ٹین کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ زندگی انسانوں کو کھاگئی ۔ صرف کاکروچ باقی رہیں گے۔ قرة العین حیدر) ها 44 گلستان ادب لفظ وی نظر فریب .. : نگاہوں کو دھوکا دینے والا، بے حد خوبصورت .. .الت .. : : : .. ایک قسم کی بیل جس کے باریک ریشے نیچے کی طرف لٹکتے رہتے ہیں سیاح ہنی مون Honey Moon) .. .. .. .. .. صاحب لوگ قادری چوبی دوسری بڑی لڑائی متلاشی فنا جاوک سنگ روم گیارا دریچہ آتش دان پھر پوسٹ کارڈ * * * : : : : : : : : : : : : .. برطانوی دور کے دولت مند اور سرکاری عہدے دار بھاری بھرکم، جہاں دیده لکڑی کا بنا ہوا۔ (چوب لکڑی) دوسری عالمی جنگ (جو 1939 میں شروع اور 1945 میں ختم ہوئی) تلاش کرنے والا موت ،خاتمہ آنا جانا، آمد ورفت نشست گاه گیلری، بالکنی کھڑکی کمرے کی دیوار میں ، فرش کے قریب بنی ہوئی انگیٹھی وہ کارڈ جن پرمشہور مقامات کی تصویر میں چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ سیاح ان پر اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو خط لکھتے ہیں تو انھیں خیر یت کے ساتھ اس مقام کی ایک جھلک بھی مل جاتی ہے جہاں سے کارڈ روانہ کیا جاتا ہے۔ .. .. .. .. .. فوٹوگرافر 45 .. : : .. اچانک ”گڈ نائٹ‘ کا متبادل ، خدا کرے کہ رات خیر یت کے ساتھ گزرے جاپانی خواتین کا ایک خاص لباس تا ہے پیل کو چپکانے والی مخصوص پاش .. : .. .. . : مشہور معروف : لڑائی ، مقابلہ رن : جنگ گھمسان (گھماسان) : زور دار لڑائی باتونی امر سندری پاروتی : شیو جی کی اپنی پاروتی جی کے حسن کو بھی نہ فنا ہونے والا کہا جاتا ہے اس لحاظ سے پاروتی جی کا لقب امر سندری ہے سندهيا : شام نارنجی : زردی مائل سرخ رنگ (سنترے کا رنگ) سرسری نظر : چلتی ہوئی نظر جل جل کرنا : جگمگ جگمگ کرنا، چاندی سونے کی چمک دمک کو جلا جل کہتے ہیں۔ اس سے یہ صفت بنائی گئی ہے غور کرنے کی بات . قرة العین حیدر کے افسانے عام طور پرطویل ہوتے ہیں۔ فوٹو گرافر ان کا مختصر افسانہ ہے۔ اختصار کے باوجود اس میں قرۃالعین حیدر کا تصور وقت صاف جھلک رہا ہے۔ اجتماعی زوال اور انسانی زندگی میں وقت کا عمل دخل قرۃ العین حیدر کا خاص موضوع ہے۔ 46 گلستان ادب • افسانے کا یہ جملہ: گیسٹ ہاوس میں مسافروں کی آوک جاوک جاری ہے۔ اس خیال کی تائید کرتا ہے کہ مصنفہ، دنیا کو مہمان خان محسوں کرانا چاہتی ہیں۔ دوسرا جملہ تارہا ہے کہ کیمرے کی آنکھ یہ سب دیکھتی ہے اور خاموش رہتی ہے۔ گویا فوٹو گرافرخص کے بجائے وہ زبان ہے جو سارے بھید جانتا ہے اور وہ نظر ہے جو حالات، واقعات اور افراد کے ذہن کی گہرائیوں تک ان جاتی ہے۔ یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ قرۃ العین حیدر نے کائنات میں فنا کے تسلسل کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ افسانے میں وہ پرکشش اور دل کو لبھانے والی چیز میں بھی شامل کی ہیں جو انسانی زندگی کو بامعنی بتاتی ہیں: یوروپین سیاح دنیا دیکھے نکلا ہے۔ وہ دیکھی ہوئی جگہوں اور چیزوں کے عکس خاندان کے لوگوں اور دوستوں کو بھیج کر اپنا دیکھا بھالا انھیں بھی و کھارہا ہے۔ لوگ اسی مہمان خانے میں ماسل منانے آتے ہیں ۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آپس میں چہلیں بھی کررہے ہیں۔ لازما فنا ہونے والے افراد: زکام کی بھی دور کرتے ہیں ۔ سرد موسم سے بچنے کے لیے آگ کے پاس بیٹھتے ہیں اور کیمونو پہن کر دروازہ کھولتے ہیں کہ کہیں ٹھنڈی ہوا نہ لگ جائے۔ لین ال فنا کے سائے میں زندگی کے رنگا رنگ تماشے جاری ہیں۔ سوالات 1. گم نام پہاڑی کے گیسٹ ہاؤس میں سیاح کیوں آتے تھے؟ 2. افسانے میں فوٹوگرافر کے کردار پر روشنی ڈالیے۔ 3. افسانے میں زندگی کی کس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے؟ 4. قرة العین حیدر کی افسانہ نگاری کی خصوصیات تحریر کیے۔ كه عملی کام OOO و إس افسانے کو بار بار پڑھے اور جہاں کوئی بات سمجھ میں نہ آئے، اسے استاد سے دریافت کیجیے۔

RELOAD if chapter isn't visible.