و نظم عربی زبان کا لفظ ہے۔ لغت میں اس کے معنی ہیں’’ لڑی میں موتی پروتا“۔ اس کے دوسرے معنی ہیں ”انظام، ترتیب، آرائش۔ یہ بازی معنی ہیں اور پسے معنی سے برآمد ہوئے ہیں۔ ادبی اصطلاح کے طور پر ”نظم“ کا لفظ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ایک تو یہ لفظ نثر کی ضد کے طور پر بولا جاتا ہے۔ یعنی ہر وہ کام جو نثر نہ ہونظم ہے نظم کا دوسرا مفہوم خصوص محدود ہے۔ اس کے مطابق نظم شاعری کی اس صنف کو کہتے ہیں جس میں کسی خاص موضوع پر تسلسل کے ساتھ اظہار خیال کیا جائے۔ نظم عام طور پر کسی ایک موضوع سے متعلق ہوتی ہے، خاص صورتوں میں کسی نظم میں ایک سے زیادہ موضوعات بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہ سب کی بنیادی موضوع سے مربوط ہوتے ہیں نظم کا ایک مرکزی خیال ہوتا ہے جس کے گرد پوری نظم گردش کرتی ہے۔ ارتقاین موضوع کا تسلسل اور پھیلاو بھی نظم کی اہم خصوصیت ہے۔ طویل نظموں میں ارتقا واضح ہوتا ہے جب کہ مختصر نظموں میں یہ اکثر وبیشتر ایک تاثر کی شکل میں ابھرتا ہے نظم کی ان خصوصیات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ اردو میں ”غزل“ کے علاوہ شاعری کی جنتی اصناف ہیں وہ سب نظم میں داخل ہیں لیکن اپنی الگ الگ خصوصیات کی بنا پر کچھ اصناف کے نام متعین ہو گئے ہیں۔ مثلا قصیده مثنوی ، مرثیہ، رباعی، قطعہ وغیرہ۔ صنف فن کے لحاظ سے نظم کی اصطلاح ایک جدید تصور ہے۔ اس لیے اک نظم کے لیے نظم جدی“ کی اصطلاح استعال کی جاتی ہے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ ظلم کے لیے نہ تو ہمیت کی کوئی قید ہے اور نہ موضوع کی۔ موجودہ دور میں ہیئت کے اعتبار سے نظم کی تین میں تقر کی گئی ہیں۔ ایسی نظم جس میں بھر کے استعمال اور قافیوں کی ترکیب میں مقررہ اصولوں کی پابندی کی گئی ہو، پابند نظم کہلاتی ہے۔ مربع، شمس، مسدس، ترکیب بند، ترجیع بنده گیت، وغیرہ بھی پاین نظم کی ہی مختلف شکلیں ہیں۔ 164 گلستان ادب اسی نظم جس کے تمام مصرعے وزن کے لحاظ سے برابر ہوں مگر قافیہ نہ ہوتظلم مت کہلاتی ہے۔ ایسی نظم جس میں نہ تو قافیے کی پابندی کی گئی ہو اور نہ بھر کے استعال میں مروجہ اصولوں کا لحاظ رکھا گیا ہو بلکہ مصرعے چھوٹے بڑے ہوں ، آزادنظم کہلاتی ہے۔ انگریزی میں آزالظلم کے لیے Free Verse کی اصطلاح رانی ہے۔ اردو میں آزاد نظم کا رواج انگریزی نظم کی تقلید کے باعث ہوا۔ 19 ویں صدی کے اواخر میں، جب ہندوستان میں انگریزوں کا عمل دخل بڑھا اور انگریزی زبان وادب کے اثرات پھیلنے لگے تو ان کے نتیجے میں آزاقظم کا چلن بھی اردو میں عام ہوا۔ روایت کی پاسداری کرنے والوں نے اردو میں آزاعظم کی قبولیت کو نا پسندیدگی کی نظر سے دیکھا لیکن، رفته رفته آزافظم نے ہماری ادبی تاریخ میں اپنی مستقل جگہ بنالی۔ ان دنوں نظم معز اور آز انظلم کے ساتھ ساتھ نثری نظم بھی اردو میں عام ہوتی جارہی ہے۔ کاتولیت و ناپسندیدگی ناشی از ورم پانی می س تور الا ان دنوں تری OttooeeOU علی حیدر نظم طباطبائی 1853تا 1933 نظم طباطبائی لکھنو میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لکھنو میں ہوئی نظم طباطبائی کی والدہ لکھنو کے نواب معتمدالدولہ آغا میر کے خاندان سے تھیں۔ اور آغا می لکھ کے نواب غازی الدین حیدر کے وزیراعظم تھے ۔ نظم طباطبائی نواب واجد علی شاہ کی بیوی بوٹا بیگم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔ اس رشتہ کی وجہ سے وہ 1868 میں اپنے والد کے ساتھ مٹیا برج (کلکتہ) چلے گئے تھے۔ وہیں انھوں نے درس نظامی کی تعلیم مل کی۔ 1887 تک نظم کلکتہ میں ہی مختلف ملازمتیں کرتے رہے لیکن 1887 میں تلاش معاش کے سلسلے میں حیدرآباد پنچے اور پھر اخیر مرتک وہیں رہے۔ حیدرآباد میں انھوں نے کئی ملازمتیں کیں۔ کتب خانہ آمیہ کے متهم رہے۔ نظام کاری حیدرآباد میں پہلے عربی، فارسی کے کپچر اور پھر اردو کے استاد کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1918 میں وہ دارالترجمہ حیدر آباد سے وابستہ ہو گئے اور پھر اخیر تک یہاں مختلف علمی اور ادبی خدمات انجام دیتے رہے۔ دارالترجمہ میں ملازمت کے دوران انھوں نے کئی کتابوں کے تجھے کیے۔ یہاں سے شائع ہونے والی کتابوں پر نظر ثانی کی اورمختلف علوم کی اصطلاحات وضع کرنے میں بھی انھوں نے اہم حصہ لیا۔ ان کا انتقال حیدر آباد میں ہوا۔ نظم طباطبائی وسیع المطالشخص تھے۔ انھیں اردو کے علاوہ عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں پر بھی پوری قدرت حاصل تھی۔ فلکیات اور علم عرض سے انھیں خصوصی دل چھی تھی۔ اردو ادب میں نظم طباطبائی دو وجہوں سے خاص طور پر مشہور ہیں اور ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ایک تو یہ کہ وہ پہل شخص ہیں جنھوں نے 1901 میں دیوان غالب کی مکمل شرح حیدرآباد سے شائع کی ۔ اس شرح کا معیار اور کمی سے خاصی بلند ہے۔ اس میں خالص علمی انداز میں غالب کے اشعار کا تنقیدی محاکمہ پیش کیا گیا ہے اور محاسن شعر کو نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ کئی جگہ خامیوں کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔ نظم کی شہرت کا دوسرا سبب ان کا منظوم ترجمه گوریاں ہے۔ انگریزی زبان کے شاعر قاس گرے(Thomas Gray) 166 گلستان ادب کی 32 بندوں پرمشتمل مشہور نظم نوحہ (Elegy written in a Country Church yard) کا منظوم ترجمہ نظم طباطبائی نے جس فی اہتمام اور ہنر مندی سے کیا ہے وہ حیرت انگیز ہے۔ اس منظوم تر جے کا عنوان انھوں نے گورغر یہاں‘‘ رکھا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ تر ہے میں اصل نظم کا سوز اور دردانگیزی کی کیفیت برقرار ہے۔ نظم طباطبائی نے اس ترنے میں نظم کی ہیت کا ایک نیا تجربہ کیا ہے۔ فلم کا ہر بند انگریزی اسٹینز (Stanza) کی بیت میں لکھا گیا ہے نظم طباطبائی نے قافیہ بندی کا نیا طرز اختیار کیا ہے۔ گورغریان کے وداي روز روشن ہے گجر شام غریباں کا چراگاہوں سے پلٹے قافلے وہ بے زبانوں قدم گھر کی طرف کس شوق میں آتا ہے دہقاں کا یہ درانہ ہے، میں ہوں، اور طائر آشیانوں کے ...................................................... اندھیرا چھا گیا، دنیا نظر سے بھپتی جاتی ہے جدھر دیکھو اٹھا کر آنکھ ادھر اک ہو کا ہے عالم گی لیکن کسی جا بھیر دیں بے وقت گاتی ہے جرس کی دور سے آواز آتی ہے کبھی ہم ................ .......... بھی اک گنید کہنہ پر لام خانماں ویراں فلک کو دیکھ کر شکووں کا دفتر باز کرتا ہے کہ دنیا سے الگ اک گوشه عزلت میں ہوں پنہاں کوئی پھر کیوں قدم اس و تنہائی میں دھرتا ہے نہ دیکھیں حال ان لوگوں کا ذلت کی نگاہوں سے جبرا ہے جن کے سر میں غزه توالي و خانی یہ ان کا کاسہ سر کہہ رہا ہے کچھ کالا ہوں سے عجب نادان ہیں وہ جن کو ہے پ تاج سلطانی و .. . . . . . . . . . . . . . . . . 168 گلستان ادب خدا جانے تھے ان لوگوں میں کیا کیا جو بر قابل؟ خدا معلوم رکھتے ہوں گے یہ ذہن رسا کیسے؟ خدا ہی کو خبر ہے کیسے کیسے ہو گئے صاحب دل؟ خدا معلوم ہوں گے بازوے زور آزما کیسے؟ نہ دیکھے ان استخواں ہے شکستہ کو حقارت سے یہ ہے گور غریباں، اک نظر حسرت سے کرتا جا نکلتا ہے یہ مطلب لوح تربت کی عبارت سے جو اس رستے گزرتا ہے تو ٹھنڈی سانس بھرتا جا ............... .................................... حقیقت غور سے دیکھی جو ان سب مرنے والوں کی تو ایسا ہی نظر آنے لگا انجام کار اپنا تھی کی طرح جیسے مل گئے ہیں خاک میں ہم بھی ( یونہی پرسان حال آ نکلا ہے اک دوستدار اپنا یہ اس پھر اس سے ایک دہقان کہن سال آکے کہتا ہے کہ ہاں ہاں خوب ہم واقف ہیں دیکھا ہے اسے اکثر کے بعد دل ہی دل میں کچھ غم کھا کے کہتا ہے کہ اب تک پھرتا ہے آنکھوں میں پھر اس کا ہرے پر علی حید نظم طباطبائی 169 ’’وہ اس کا نور کے توڑ کے ادھر گلگشت کو آنا‘‘ ”دہ پو پھٹنے سے پہلے آکے پھرنا سبزہ زاروں میں ”وہ کچھ کم دن رہے اس کالپ جو کی طرف جاتا وہ اس کا مسکراتا دیکھ کر شور آبشاروں میں غرض کیا کیا کہوں، اک روز کا یہ ذکر ہے صاحب! کہ اس میدان میں پھرتے من دم اس کو نہیں دیکھا ہوا پھر دوسرا دن، اور نظر سے وہ رہا غائب‘ خیابان میں اسے پایا، نہ دریا پر کہیں دیکھا ................................................................................ پر اس کے تیسرے دن دیکھتا کیا ہوں جنازے کو ” لیے آتے ہیں سب پڑھتے ہوئے کلمہ شہادت کا تمھیں پڑھتا تو آتا ہوگا؟“ آؤ پاس سے دیکھو یہ اس کی قبر ہے اور یہ کتا به سنگ تربت کا خدا بخشے اسے بس دوست کا رہتا تھا وہ جويا ( ”تو نکلا دوست اک آخر خداوند کریم اس کا‘‘ اب اس کے نیک و بد کا ذکر کرنا ہی نہیں اچھا کہ روشن ہے خدا پر عالم امید وبیم اس کا نظم طبا طبائی) 170 گلستان ادب و ها : : : گھنٹہ گھڑیال گاوں میں رہنے والا، کسان چڑیا، پرنده * د نا و له جی کی بات سکس * * * با * * * * * * : : : قبر باغ کی سیر چین |Ottober علی حیدر نظم طباطبائی 171 غور کرنے کی بات و زندگی کا انجام موت ہے۔ امیر و غریب سب ہی اس کی زد میں ہیں۔ مرنے والے کے اچھے کام اور اس کی باتیں یادرہ جاتی ہیں۔ سوالات اب ان 1. 2. 3, 4. گور غریباں کے اشعارکس انگریزی نظم کا ترجمہ ہیں؟ زمین میں کیسے کیسے لوگ فن ہیں؟ لوح تربت کسے کہتے ہیں؟ کہن سال دہقاں کیا کہتا ہے؟ دة من و نظم کے کسی ایک بندکو زبانی یاد کیجیے۔ not to be reputati اقبال 1877 تا 1938 محمد اقبال پنجاب کے ایک مشہور شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کے بزرگوں کا سلسلہ کشمیر سے ملتا ہے۔ ان کے والد کا نام شیخ نورد تھا۔ اقبال نے ابتدائی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔ 1893 میں انٹرنس پاس کیا، 1897 میں لاہور کے گورنمنٹ کاری سے بی۔ اے کیا۔ دو سال بعد 1899 میں ایم ۔ اے کیا۔ مغربی تعلیم کے لیے 1905 میں یورپ گئے۔ وہاں ڈاکٹریٹ اور بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی ۔ واپس آ کر لاہور میں وکالت شروع کی۔ کچھ عرصے تک یہی ان کا ذریعہ معاش رہا۔ انھوں نے مختلف اوقات میں برطانیہ، جرمنی، اسپین، فرانس، فلسطین، افغانستان وغیرہ کا سفر کیا۔ وہ ساری اور سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ انھی سرگرمیوں نے ان کی شاعری میں بڑا تنوع پیدا کیا۔ شاعری کی بدولت ان کو بڑی شہرت حاصل ہوئی۔ لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ اقبال، اردو کے سب سے بڑے فلسفی شاعر ہیں۔ ان کا مشرقی اور مغربی فکر کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ قدیم اور جدید علوم پر وہ گہری نظر رکھتے تھے۔ انھوں نے 20 ویں صدی کے ذہنی، معاشرتی اور اخلاقی مسائل کا جائزہ انتہائی بالغ نظری کے ساتھ لیا ہے۔ اقبال کی فکر کے بہت سے پہلو آج کی تہذیب کو بجھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ خودی، مل، عشق، زمان و مکاں اور انسانی جبر و اختیار کے موضوع پر اقبال کے اشعار ہماری اجتہائی فکر کا حصہ بن چکے ہیں۔ وہ جتنے بڑے مفکر تھے اتنے ہی بڑے فنکار بھی تھے۔ فاری، انگریزی اور اردو میں اقبال کی نظم ونث کا ذخیرہ بھرا ہوا ہے۔ ان کی اردو شاعری کے مجموعے یہ ہیں: ۔ بانگ درا، بال جبریں“، ”قرب کلیم“ اور ” ارمغان مجاز؛ منتظم ”روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے، بال جبریل‘‘ سے لی گئی ہے۔ روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے کھول آنکھ زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ اس جلوہ بے پردہ کو پردوں میں چھپا دیکھے ایام جدائی کے ستم دیکھ ، جفا دیکھ بے تاب نہ ہو، معرکہ بیم و رجا دیکھ ہیں تیرے تصرف میں ہی بادل، یہ گھٹائیں یہ گنبد افلاک، یہ خاموش فضائیں یہ کوہ، یہ صحرا، یہ سمندر، یہ ہوائیں تھیں پیش نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں در این ایام میں آج اپنی ادا دکھ سمجھے گا زمانہ تری آنکھوں کے اشارے دیکھیں گے تھے دور سے گردوں کے ستارے ناپید ترے تھر تخیل کے کنارے پہنچیں گے فلک تک تری آہوں کے شرارے و تعمیر خودی کر، اور آور سا دیکھ ا خورشید جہاں تاب کی ضو تیرے شہر میں آباد ہے اک تازہ جہاں تیرے ہنر میں چتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں جت تری پنہاں ہے ترے خون جگر میں اے پیکر گل کوشش پیہم کی جزا دیکھ نالندہ ترے عود کا ہر تار ازل سے تو جنس محبت کا خریدار ازل سے تو پر صنم خانه اسرار ازل سے محنت کش و خوں ریز وکم آزار ازل سے ہے را کپ تقدیر جہاں تیری رضا دیکھ در ا دامه می ی : 174 گلستان ادب نی لفظ وی : جنگ خوف، اند في : امید : * * * 4 اختيار، قابو روشنی، نور چنگاری لگاتار مسلسل (رونے والا ) رنځ ونشاط کے نے سنانے والا ایک ساز جوسارگی سے کسی قدر ملتا ہے خون بہانے والا تکلیف نہ دینے والا سواری : : : : : : : * خوں ریز کم آزار راکب غور کرنے کی بات و غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پوری کائنات میں سب سے بہتر خلیق انسان کی ہے۔ باقی تمام چیزیں اسی کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اس حقیقت کو کھنے کے بعد پھر انسان کو اپنے منصب کا شعور بھی حاصل کرنا چاہیے۔ اقبال نے اس نظم میں بڑی خوبصورتی کے ساتھ آدم کے جنت سے زمین پر بھیجے جانے کا قصہ بیان کیا ہے۔ آدم کی آمد پر زمین کی روح بڑی گرم جوشی سے ان کا استقبال کرتی ہے۔ آدم کو ان کی حقیقت بتاتی ہے کہ تم ذرا غور سے اپنے وجود پرنظر و 175 ڈالو۔ کائنات کی ہر شے صرف تمھارے لیے خلیق کی گئی ہے۔ یہ سب تمھارے ہی محکوم ہیں۔ فرشتوں نے آدم کو ان کی عظمت کا احساس دلاتے ہوئے جنت سے رخصت کیا تھا۔ پھر دنیا میں اسی طرح ان کا شان دار اور پرتپاک استقبال بھی کیا جانا چاہیے تھا۔ نظم میں ارتقائے خیال کے ساتھ الفاظ کا انتخاب اور آہنگ بھی بہت مناسب ہے۔ سوالات . روح ارضی آدم کا استقبال کیوں کرتی ہے؟ 2. تحیر خودی کا کیا مطلب ہے؟ 3. اس نظم کا بنیادی خیال کیا ہے؟ 4. اقبال کی شاعری کا امتیاز کیا ہے؟ 5. ایسی نظم جس کے ہر بند میں پانچ مصرعے ہوں، اسے کیا کہتے ہیں؟ جب ہم ان . منتضارکھیے ارضی فک خورشید ازل اس نظم کے پانی مرکب الفاظ کی نشان دہی بت . ھے۔ CNC | not to be جمیل مظہری ها 1980 t 1904 جیل مظہری عظیم آباد (پٹنہ ) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ سلیمانی، پٹنہ میں حاصل کی۔ بعد میں کلکتے چلے گئے۔ وہاں ایم۔ اے تک کی تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں اردو اخبارات میں کالم لکھتے رہے۔ 1950 سے 1974 تک شعبہ اردو، پڑنے کا اور پٹنہ یونیورسٹی سے بہ حیثیت استاد منسلک رہے۔ ان کا انتقال مظفر پور میں ہوا۔ 1974 میں انھیں غالب ایوارڈ برائے اردو شاعری عطا کیا گیا نقش بیل کر جمیل عرفان نہیں آنا جمیل کے علاوہ جمیل مظہری کے مرنے اور مثنوی آب سراب ان کی شعری کتابیں ہیں۔ ”شکست وقت“ (ناولٹ) اور ” منشورات جمیل مظہری ان کی نوی کتاہیں ہیں۔ جمیل مظہری نے اقبال کے زیر اثر شاعری شروع کی اور بعد میں ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ not to be ارتقا ہر حال میں مشیت مجھ کو بنا رہی ہے میں اس کی قدروں کا شکار بن رہا ہوں خود اپنی جنتوں کی تخلیق کر رہا ہوں خود اپنی زندگی کا معمار بن رہا ہوں یہ جبر و قدر کی اک منزل ہے درمیانی مجور تو ہوں لیکن مختار بن رہا ہوں یہ راہ وہ ہے جس میں ہر سانس اک سفر ہے منزل بھی راستہ ہے لغزش بھی راہبر ہے حکمت کی رہبری میں پرواز کی امنگیں امکاں کے دائروں کو پھیلا کے بڑھ رہی ہیں وہ قوتیں جو اب تک تحت شعور میں تھیں کہواره خودی میں پروان چڑھ رہی ہیں انجام کی بصیرت خواہش پر حکمراں ہے آزادیاں خود اپنی زنجیر گڑھ رہی ہیں پڑے ہوئے ہیں دامن کو خیر و شر مبارا پابندیوں میں بھی ہے جاری سفر ہمارا جذبات رفته رفته افکار بن رہے ہیں انکار کا نتیجہ کردار بن رہا ہے ہمدردیوں کی شدت انصاف بن رہی ہے پروردگی کا جذبہ ایثار بن رہا ہے لغزش سے تجربہ ہے اور تجربے سے حکمت تحقیق ہو رہی ہے معیار بن رہا ہے گمراہیوں سے ہوکر ہے راستہ مارا | تاريخ بن رہا ہے اہر نقش پا ہمارا ) ان / ( چار مظہری) ال 178 گلستان ادب و ح و 3*3 : : : : : : : : : : : : : : : : : : 2}}}}}} تدریجی ترقی ، سلسلہ وار ترقی اللہ کی مرضی غیبی طاقت بہترین کارنامہ،شاه کار پیدا کرنا، نانا، وضع کرنا فن پاره بنانے والا انسان کا مجبور ہونا انسان کا با اختیار ہونا، مختاری عقل، دانائی رہنمائی ، راہ دکھاتا شعور کی سیٹ سے نیچے پالنا، جھولا اپنے وجود کا احساس شعور، سوجھ بوجھ تھائی اور برائی فکر کی جمع، خیالات، تصورات پرورش کرنا قربانی تحت شعور میں گہوارہ خوری not to be جمیل مظہری 179 گمراہی : غلطی، راستے سے بھٹک جانا نقش پا : پاوں کے نشان غور کرنے کی بات . اس نظم کا مزاج فلسفیانہ ہے۔ دنیامیں انسان کے اختیار میں کون کون سی چیزیں ہیں اور وہ کس طرح اپنی کامیابی کی نی نی منزلیں تلاش کرتا ہے، اس بات کو شاعر نے نظم میں بیان کیا ہے۔ انسان اپنے ارتقا کے سفر میں اچھے برے ہر طرح کے تجربوں سے گزرتا ہے۔ کبھی ناکام ہوتا ہے بھی کامیاب ہوتا ہے۔ لیکن اسے نہ وہمت ہارنا چاہیے نہ اپنے سفر سے منہ موڑ نا چاہیے۔ شاعر نے نظم میں سی پیغام دیا ہے اور بتایا ہے کہ کامرانی کی منزل ہمارا انتظار کر رہی ہے۔ نظم میں بعض اصطلاحیں بھی استعمال ہوئی ہیں۔ جیسے ۔ مشیت ، جبر و قدر، حکمت، امکان تحت شعور، گہوارہ خودی، خیر وشر آپ اپنے استاد کی مدد سے ان اصطلاحوں کا مفہوم ھے۔ سوالات 1. شاعر نے انسان کی ترقی کے سلسلے میں کن رکاوٹوں کا ذکر کیا ہے؟ بتایئے۔ 2. ”لغزش سے تجربہ ہے اور تجربے سے حکمت شاعر اس مصرعے میں کیا کہنا چاہتا ہے لکھے۔ 3. انسان نے اس کائنات کو اپنی کوششوں سے کس طرح خوش رنگ اور کارآمد بنایا ہے؟ 4. خوداپنی زندگی کا معمار بن رہا ہوں اس مصرعے کا مطلب کیا ہے؟ ( OU و انسانی ارتقا اور تہذیب کی ترقی کے موضوع پر ایک مضمون لکھیے۔ ن۔م راشد 1910 تا 1975 راشد کا نام نذرم تھا۔ وہ گجرانوالہ کے رہنے والے تھے۔ اپنی جوانی کے دور میں وہ کچھ عرصے تک خاکسار تحریک سے بھی متاثر رہے۔ مشرق پر مغرب کی بالادستی اور مغرب کے ہاتھوں مشرق کے سیاسی استحصال کے خلاف راشد نے کھل کر آواز بلند کی۔ اپنی عملی زندگی کے آغاز میں راشد کچھ دنوں تک آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ رہے۔ زندگی کا خاصا بڑا حصہ ملازمت کے سلسلے میں انھوں نے ایران میں اور پھر یو۔این۔ اد میں گزارا۔ ان کا پہلا مجموع” اور اردو شاعری میں ایک نئے طرز احساس اور اظهار کا ترجمان ہے۔ ”ماورا کے بعد راشد کے جو شعری مجموعے شائع ہوئے، ان کے نام اس طرح ہیں: ایران میں امني، ”لا=انسان اور ماں کا مکن ان کا کلیات بھی شائع ہو چکا ہے۔ نثر میں ان کی کتاب جدید فارسی شاعری“ مشہور ہے۔ راشد کی شاعری کا سب سے بڑا امتیاز ان کی دانشورانہ حسیت ہے۔ اقبال کے بعد اپنی شاعری کے وسیلے سے راشد نے مشرق کی فکر اور دانشورانہ روایت کو ایک نئی جہت دی ہے۔”اور“ کی اشاعت کے دور میں راشد اور میرا جی کی نظموں کو ہم اور لاتین بھی کہا گیا۔ لیکن جیسے جیسے شاعری کا مذاق بدتا گیا، راشد اور میرا جی کے شعری محاسن اور ان کی ادبی خدمات کا اعتراف بھی عام ہوتا گیا۔ راشد کا شمار بیسویں صدی کے اہم ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ OCCO زندگی سے ڈرتے ہو؟ زندگی سے ڈرتے ہو؟ زندگی تو تم بھی ہو، زندگی تو ہم بھی ہیں! آدی سے ڈرتے ہو؟ | آدی تو تم بھی ہو، آدی تو ہم بھی ہیں! آدی زباں بھی ہے، آدی بیاں بھی ہے اس سے تم نہیں ڈرتے؟ حرف اور معنی کے رشتہ ہائے آہن سے، آدی ہے وابستہ آدمی کے دامن سے زندگی ہے وابستہ اس سے تم نہیں ڈرتے؟ ان کہی سے ڈرتے ہو؟ جو ابھی نہیں آئی، اس گھڑی سے ڈرتے ہو اس گھڑی کی آمد کی آگہی سے ڈرتے ہو؟ پہلے بھی تو گزرے ہیں دور نارسائی کے بے ریا‘‘خدائی کے پھر بھی یہ بجھتے ہو، چ آرزومندی پیشب زباں بندی، ہے رو خداوندی! مگر یہ کیا جانو not to be re 182 گلستان ادب اب اگر نہیں ہلتے ، ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں ہاتھ جاگ اٹھتے ہیں، راہ کا نشاں بن کر نور کی زباں بن کر ہاتھ بول اٹھتے ہیں ،بح کی اذاں بن کر روشنی سے ڈرتے ہو؟ روشنی تو تم بھی ہو، روشنی تو ہم بھی ہیں، روشنی سے ڈرتے ہو؟ شہر کی فصیلوں پر دیکھا جو سایہ تھا پاک ہوگیا آخر رات کا لبادہ بھی چاک ہو گیا آخر، خاک ہو گیا آخر اژدہام انساں سے فرد کی نوا آکی زات کی صدا آئی راہ شوق میں جیسے راہ روکا خوں لپکے اک نیا جنوں لپکے آدی پچھلک اٹھے آدی ہنسے دیکھو، شهر پھر سے دیکھو تم ابھی سے ڈرتے ہو؟ ہاں ابھی تو تم بھی ہو، ہاں ابھی تو ہم بھی ہیں، تم ابھی سے ڈرتے ہو؟ enot to be reo (ن-م- راشد)

RELOAD if chapter isn't visible.