Mai wah شفیع او به 1935 شفیع جاوید صوبہ بہار کے شہ مظفر پور میں پیدا ہوئے ۔ گھر کا ماحول ادبی تھا۔ آبائی وطن تاریخی شہر گیا ہے جسے مہاتما بدھ سے تعلق کی بنیاد پر شہرت ملی۔ انھوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے سماجیات میں ایم ۔ اے کیا۔ محکمہ اطلاعات ونشریات، حکومت بہار کے ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ۔ اب پٹنہ میں مقیم ہیں شفیع جاوید کا پہلا افسانہ آرٹ اور تمباکو 1953 میں شائع ہوا۔ ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں:’ دائرے سے باہر (1979) ، علی جوآن (1982)، تعریف اس خدا کی (1984)’’ وقت کے اسیر“ (1991) اور’’ رات اور میں‘‘ (2004) - ’’ تیز ہوا کا شور، کہاں ہے ارضي وفا حکایت ناتمام‘ کھولے بسرے گیت ” منزل‘‘ ’انی‘‘ ’’ کاغذ کی نا وغیرہ ان کے مشہور افسانے ہیں۔ شفیع جاوید کے افسانوں میں ماضی کی یادیں ، عصر حاضر کے ساتھ گھل مل کر ایک فلسفیانہ رنگ پیدا کرتی ہیں۔ اظہار کی اشاریت کو ان کے افسانوں میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اپنی فضا بندی اور ایک ہلکی رومانوی لہر کے باعث شفیع جاوید کے افسانے امتیازی تاثر پیدا کرتے ہیں شفیع جاوید اپنی زبان اور احساس وفکر کے لحاظ سے ایک منفرد افسانہ نگار ہیں۔ O OU د میں، وہ وہ ضعیف آدی آج بھی پلیٹ فارم پین اسی وقت آیا جیسے وہ روز آیا کرتا ہے۔ اس کی چال بھی ایک ہی طرح کی ہوتی ہے۔ ویسے ہی آگے کی طرف اس کا جسم کا ہوا ، ہلکا سا خم کھایا ہوا ، داہنا کاندھا کچھ نچا اور بایاں ہاتھ بھی سیدھا بھی کمر پر رکھا ہوا، یہاں پھلواری شریف کے اسٹیشن پر اپنی نجس بھری آنکھوں کے ساتھ آتا ہے۔ پہلے نمبر کے پلیٹ فارم پر جو خاصا لمبا ہے ، دھیرے دھیرے چلتے ہوئے ایک دم آخری سرے سے پہلے ایک پر بیٹھ جاتا ہے اور پنشن کی طرف دیکھتا ہے۔ MYNNY TLET شاید اسے کسی کا انتظار ہے، مگر ہر روز ............ میں سوچتا ہوں اور کئی دن سے یہ منظر دیکھتا ہوں۔ ڈاکٹر نے مین کی سیر کی پابندی لگا دی ہے اور شام کو سڑک ناپنے کی پابندی اختر نے لگا دی ہے۔ جب سے اس ریلوے اسٹیشن کے حسن کاری ہوئی ہے، میں بھی دوسروں کی طرح صبح کو ادھر ہی آجاتا ہوں ۔ اب صبح کے وقت بہت لوگ آجاتے ہیں۔ مردوں ،عورتوں اور بچوں کا ہجوم ہوتا 66 گلستان ادب ہے، بہت چہل پہل رہتی ہے ۔ پر نہیں، بی ضعیف آدی یہاں کب سے آتا ہے۔ صبح کی سیر تو اس کا مقصد نہیں معلوم ہوتا کیونکہ یہ آ کر اس کے اسی ایک گوشے میں بیٹھ جاتا ہے۔ اپنی چال سے ایک پاؤں نکال کر دوسرے پاؤں کے گھٹنے پر رکھ کر ماتھے کا پسینہ رومال سے پوچھتا ہے ۔ پھر اپنے کسی ایک ہاتھ پر ٹھوڑی لگا کر بڑے مکھیر اورامل ایکچول انداز میں دیکھتا ہے کہیں بہت دور ۔ سیر کر لینے کے بعد میں جب تھک جاتا ہوں تو اس سے کچھ دور وائی پر بیٹھ کر اخبار پڑھے لگتا ہوں اور بھی بھی اپنی گردن گھما کر اسے دیکھ بھی لیتا ہوں ۔ وہ میری طرف بھی نہیں دیکھتا۔ یا تو وہ سامنے دیکھتا ہے یا پھر پڑی جنکشن کی طرف جیسے اسے کسی کا انتظار ہو۔ لیکن یہ کی ساری گاڑیاں جب بینم کی طرف نکل جاتی ہیں تو کچھ دیر تک بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھتا ہے اور آہستہ قدم چل کر بے حد تھکی سی آواز میں پان والے سے پوچھتا ہے۔ ” آرہ کے لیے ٹرین کب آئے گی؟ پان والانس دیتا ہے اور روز کی طرح کہتا ہے:”بابا تو گئی » کب چلی گئی لیکن میں تو نہیں بیٹا انتظار کر رہا تھا۔ پان والا اس کی بات کا اب کوئی جواب نہیں دیتا ہے۔ وہ پھر پوچھتا ہے" آره والی ٹرین ؟ اب کل آنا بابا۔ وہ کچھ اکتائی ہوئی آواز میں جواب دیتا ہے لیکن اس کی آواز میں شاید تھوڑا سا ترنم بھی ہے، یا شاید مجھے ہی ایسا لگ رہا ہے۔ آج بھی وہ کرنے والے پر آکر بیٹھ گیا ہے اور میں بھی تھک جانے کے بعد اخبار پڑھنے لگا ہوں۔ ہوا خوشگوار ہے اور املتاس کے پھولوں کا سایہ ہم دونوں کے سروں پر ہے۔ خبروں میں کوئی خاص بات تھی ۔ میں تھوڑی ہی دیر میں اوب کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ اسی وقت ڈی کس دھڑ دھڑاتی ہوئی گزر گئی ، بہت تیز رفتاری سے ۔ اسے لمبا سفر جو طے کرنا تھا۔ دتی سے ہوڑہ تک لے سفر کے لیے تیز رفتاری تو ضروری ہی ہے۔ اس کے بعد راجدھانی ، شاہی ٹرین کی اپنی ہی شان تھی ۔ بوڑھے آدی نے اپنی گھڑی بھی ۔ میں نے اس کی نچ کے قریب جا کر کہا۔ ’’آج راجدھانی لیٹ ہے بابا‘‘ اب راجدھانی بھی بوڑھے آدی نے پہلی بار مجھے مسکرا کر دیکھا۔ اس کی مسکراہٹ کچھ اس سے بھی زیادہ بوڑھی معلوم ہوتی تھی۔ میں، وہ 67 ہوتا ہے بابا، ایسا بھی ہوتا ہے۔ ہماری بات ختم نہ ہو پائی تھی کہ پورن کرانتی آگئی اور اس چھوٹے سے اسٹیشن پر خدا معلوم کیوں رک گئی۔ اسے کیا ہوا جو یہاں ..؟ آگے پنجکشن پر پلیٹ فارم خالی نہ ہوگا۔ تھیں ان ٹرینوں کی بہت واقفیت ہے۔ وہ پھر کرایا ، اس بار اس کی مسکراہٹ اور آواز بھی کی۔ بہت تو نہیں پایا، بس تھوڑی سی کام چلاو معلومات رکھتا ہوں۔ میں بھی اسی پر بیٹھ گیا۔ سمپورن کرانتی کے مسافروں نے آئس کریم ، پان، سگریٹ اور ناشتے کی چوریوں والوں کو خوب نوازا۔ وہ ضعیف آدی مسکراتا رہا اور میں اسے غور سے دیکھتا رہا۔ اس کے سفید بالوں میں اب تک لہریں باقی تھیں، گنے سر کے بال، بچوں جیسے اس کے بے داغ چہرے پر اس کے سانولے پس منظر میں اچھے لگ رہے تھے۔ میں نے سوچا یخص خوبصورت رہا ہوگا۔“ کیا سوچتے ہو بیٹا ؟ اس نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھا۔ سوچ رہا تھا ابا کہ آپ کس کے لیے آتے ہیں؟ ”میں“ ”ہاں“ ” میں اپنے آپ کے لیے آتا ہوں۔ وہ ٹھنڈی سی آواز میں بولا ۔ میں سمجھا نہیں‘ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے بیٹا سمجھ لو گے جب تم پر ایسا وقت بھی آئے گا۔ میں تو جیون کا تیرتھ یاتری ہوں لیکن شاید جہاں پہنچنا تھا، وہاں نہیں پایا شاید راستہ بھٹک گیا لیکن انتر آتا وہی ہے۔ یاتری کی انتر آنتا۔‘‘ بابا پھر بھی میں سمجھ نہیں“ تم نے زندگی کہاں دیکھی ہے بیٹا تم کیاسمجھ پاو گے؟ یہ باتیں سمجھانے کی نہیں “ نہیں خوب دیکھی ہے میں نے زندگی، اس جیون کے مہابھارت میں بڑاسنگھرش رہا ہے۔ میں نے طاقت بھری آواز میں کہا۔ بیاتم نے تپتی دوپہر میں پھیل سڑک کے کنارے انکل کا چھر بنایا ہے بھی ؟ ”بابا وہ بات دراصل یہ ہے میں بوڑھے کے اس اچانک حملے سے گڑبڑا سا گیا۔ 68 گلستان ادب تم مجھ کو جھ ہی نہیں سکتے۔ تمھارے پاس کچھ چھوٹ جانے کی یادیں نہیں ہیں۔ پچھڑے ہوئے چوروں کی ریکھائیں تمھاری آنکھوں میں نہیں ہیں تم نے لالٹین کے شیش کو راکھ سے صاف کر کے گرم تپتی ہوئی زمین پر جھوٹ کا پورا بچھا کر بیٹھے ہوئے اور لیٹے ہوئے ، نیند کو نہ جانے والی آنکھوں سے سلیٹ پر چکرورتی کے حساب نہیں لگائے ہیں ، لالٹین کے ٹوٹے شیشے کو پرانے پوسٹ کارڈ چچا کر جوڑنے کا کشٹ بھی نہیں جھیلا ہوگا » لمبی سانس لیتے ہوئے وہ بوڑھا لیے جبر کوڑا ۔ میں کچھ کہنے والا تھا کہ وہ پھر بولنے لگا۔ تم نے معصوم ، بے غرض، بے ریا لوگوں کو نہیں دیکھا۔ بجلی آنے سے پہلے کی شانتی نہیں دیکھی بتم تBabylonian جلاوطنوں جیسی زندگی گزارتے ہو اور دل کی دنیا کے شرنارتھی ہو اس کو کھائی گئی لیکن وہ اسی کھانسی میں بولا گیا۔ تم نے اعصاب زدہ زندگیاں گزاری ہیں تمھیں کیا پتو، آدوی کیا ہوتا ہے؟ دور سے آنے والی ہواؤں کی خوشبو کیا ہوتی ہے؟ انتظار کیا ہوتا ہے؟ میں تو محسوس کرنے اور گنگنانے کی فرصت بھی نہیں۔ ”دیاسب کا خون پی جاتی ہے۔ میں نے کہنا چاہا لیکن الفاظ میرے دل ہی میں رہ گئے ۔ ”بیٹا! ایسا تمھارے ساتھ بھی ہوا ہے کہ پانی کوئی دوسرا پیے اور پیاس تمھاری مٹ جائے ؟ نہیں، ایسا بھی ہوتا بھی ہے کیا ؟ میں نے کچھ چوکر پوچھا۔ مجھ پاؤگے ابھی ہم دونوں کچھ دیر کے لیے چپ ہو گئے۔ پھر میں نے ہمت کر کے پوچھ لیا۔ آپ کون ہیں بابا؟ بوڑھے کی پیشانی پر شکن آلود ہوگئی۔ ”وہ عہدوپیاں کے جزیرے جہاں محبت کی فصلیں اگتی تھیں تمھارے لائے ہوئے زہر کے سمندر میں ڈوب گئے۔ اب تم مجھ سے پوچھتے ہو کہ میں کون ہوں؟ دل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے تو لوگوں کی پہچان بھی بند ہو جاتی ہے۔ کس قدر تنگی اور چڑچڑا ہے یہ بوڑھا، میں نے دل میں کہا اور چپ ہو رہا لیکن چلنے سے پہلے ہمت کر کے میں نے پوچھا ہی لیا۔ ”بابا آپ کرتے کیا ہیں؟ میرا کیا پوچھتے ہو ؟ خوش ہوں کہ دوسرے خوش ہیں۔ بھیڑ میں تنہا۔ پہلے تماشا دیکھتا تھا، اب خود تماشا ہوں، بوریں شش میں مقید بھی دیکھی ہے تم نے؟ جی ہاں‘‘ میں، وہ 69 69 ”وہ مچھلی کھاتی پیتی ہے۔ ہر وقت تیرتی پھرتی ہے، سب اسے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں لیکن پچھلی تو شیشے کی دیوار کے اندر ہے۔ اسے بھلا کچھ نظر آتا ہوگا ؟ اپنے کمرے کی رانگ چیز پر میں تھکا ہوا، مقید ، چھ کر گزرنے کی خواہش پر اب کچھ نہ کرنے کی خواہش چھاگئی ہے۔ وہاں بیٹا بیٹا چپ چاپ جتنی دنیا دکھائی دیتی ہے، دیکھتا ہوں اور سوچتا ہوں... اب موت نہیں زندگی مایوں کرتی ہے۔ وہ اٹھ کر آہستہ قدم چلنے لگا ؟ وہ میرے ساتھ کیا میں ہی اس کے ساتھ چلتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ ہمارے سائے ایک ہوگئے۔ اس وقت اگر نزدیک سے بھی کوئی ہمیں دیکھتا تو اسے ہم دونوں ایک ہی گئے۔ بہت وقت گزر گیا تھا۔ ایک ضعیف آدی آج بھی اسی پلیٹ فارم پر اسی وقت آیا ہے اور دور کی پر اسی طرح ایک کونے میں بیٹھ گیا ہے۔ املتاس کے پھول بھی اسی رنگ میں اوپر کھلے ہوئے ہیں۔ گاڑیاں آج بھی یوں ہی آ اور جارہی ہیں۔ راجدھانی، ڈیلکس، شرم جیوی، سمپورن کرانتی ....... خوش دلی کے شب و روز کے سبز جزیرے جنھیں زہر کے سمندر کے کسی گوشے نے چھپالیا ہے۔ خالی نگاہیں دور وہاں دیکھ رہی ہیں جہاں کچھ نہیں ہے۔ اور جب پلیٹ فارم پرستا ٹا ہو گیا تو اس نے پان والے سے پوچھا۔ ” آرہ جانے والی ٹرین کب آئے گی بھائی ؟ ”وہ تو گئی بابا‘‘ لیکن یہ کیسے ہوا؟“ وہ کچھ زیرلب سا بڑ بڑا تا ہے۔ میں تو نہیں اس پر میرا انتظار کر رہا تھا، پھر کیسے؟ اب کل آنا بایا۔ وہ کچھ اکتائی ہوئی آواز میں جواب دیتا ہے۔ لیکن اس کی آواز میں شاید تھوڑا سا ترنم بھی ہے یا شاید مجھے ہی ایسا لگ رہا ہے۔ پان والے کے آئینے میں میری بوڑھی صورت ایک لمحے کے لیے جھک جاتی ہے۔ دھوپ اب جگہ جگہ پھینے گئی ہے۔ نئے دن کا آغاز، کہ دوسرا آغاز اور نیا انتقام اور کوئی نیا ستقبل... سب کچھ بدلتے ہوئے آسمان میں سمٹنے لگا ہے۔ شفیع جاوید) not t 10 گلستان ادب لفظ وی جنس : جانے کی خواہش بہتھ تتم : رحم دلی ، مهربانی تیرتھ یاتری : کسی مقدس مقام کی زیارت کے لیے جانے والا انتر آتا : ضمیر، روح، باطن بے ریا : بے لوث، جس میں کسی طرح کا کھوٹ نہ ہو Babylonian : بے بیلون کا رہنے والا جلا وطن : اپنے وطن سے نکالا گیا شرماتی : پناہ گزیں، مہاجر اعصاب زده : جس کے اعصاب کمزور ہوں، اعصابی مریض عہد وپیاں : پکا وعدہ یا قرار جزیرے : پانی کے نی میں خشک زمین بوریں : شیشے کا مقید : قیدی راکینگ چیر : جھولنے والی کری غور کرنے کی بات . ریلوے اسٹیشن کے ایک پلیٹ فارم پربح کی سیر کے وقت کے ایک معمولی سے واقعے کو بنیاد بنا کر یہ افسانہ لکھا گیا ہے۔ تھوڑے سے مکالے اور زیادہ خود کلائی ۔ افسردگی کے تانے بانے میں ڈرامائیت سے رہ رہ کر کچھ خوش گوار تبدیلیاں پیدا میں، وہ 71 ہوتی ہیں۔ افسانہ نگار دوسرے کردار کا قصہ بیان کرتے ہوئے انجام کے وقت خود افسانے کا حصہ بن جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کا عنوان ” میں، وہ معنی خیز ہو گیا ہے۔ و اس افسانے میں ایک بوڑھے کو مرکزی کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ وہ روزانہ ریلوے پلیٹ فارم کے ایک نے پر بیٹھ کر کسی ٹرین کا انتظار کرتا ہے اور پھر واپس چلا جاتا ہے۔ افسانہ نگار نے ایک ضعیف آدمی کی نفسیاتی الجھنوں اور بے چارگیوں کو معنی خیز انداز میں پیش کیا ہے۔ افسانے میں بزرگ شخص نے اپنے تجر ہے اور علم کی روشنی میں اپنے بعض مشاہدات بھی ہے طنزیہ لہجے کے ساتھ پیش کیے ہیں۔ اس سے بوڑھے کے کردار کی گہرائی اور معنویت اجاگر ہوتی ہے۔ سوالات 1. اس افسانے کا عنوان میں، وہ کیوں رکھا گیا ہے؟ پاپ جملوں میں لکھے۔ 2 تم نے زندگی کہاں دیکھی ہے بیٹا تم کیا مجھ پاؤ گے؟ اس جملے کے ذریے بوڑھا شخص کیا کہنا چاہتا ہے؟ 3. ”اب موت نہیں ، زندگی میں کرتی ہے اس جملے کی وضاحت افسانے کے سیاق و سباق میں تھے۔ 4 بوڑھے کے کردار کی تصویشی اس افسانے میں کس طرح کی گئی ہے؟ - . اس افسانے کا پلاٹ اپنے لفظوں میں لکھے ۔ not to be

RELOAD if chapter isn't visible.