M Afsana(Lamhe) مختصر افسانہ مختصر افسانہ جدید دور کی اہم نثری صنف ہے۔ اس کے ذریے کی شخص کی زندگی کے ایک پہلو یاکسی واقعہ کا بیان اس طرح کیا جاتا ہے کہ پڑھنے والے کے دل و دماغ پر اس کا گہرا اثر پڑے۔ افسانے کی متعددتریفیں کی گئی ہیں۔ ایک ممتاز مغربی ادب کا کہنا ہے کہ افسانہ ایسی نثری کہانی ہے جو ایک ہی نشست میں پڑھی جا سکے۔ افسانہ سیدھی سادی کہانی نہیں بلکہ ایسی فنی تخلیق ہے جس میں فن کار کے ارادے اور حکمت کا بھی دخل ہوتا ہے۔ کسی مخصوس داقے یا صورت حال یا کسی مخصوص کردار کانقش اس طرح ابھارا جاتا ہے کہ پلاٹ لینی واقعات کی ترتیب تیم پڑھنے والے کو متاثر کر سکے۔ افسانے کے ماہروں نے اس کی جوترینیں بیان کی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ افسانہ بیان حقیقی تریر ہے۔ افسانے میں کی ایک کردار کا کرداروں کے ایک مخصوص گروہ کے نقوش یا ذہنی کشمکش کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ افسانے میں واقعات کی تفصیل کرداروں کی گفتگو اور منظرو ماحول کی پیشکش بہت نپی تلی ہوتی ہے۔ ہر افسانے کے لیے پلاٹ، کردار اور زمان و مکاں لازمی اجزا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی لحاظ سے افسانے کی اقسام بھی بیان کی گئی ہیں لیتن پاٹ کا افسانہ کردار کا افسانہ یا معاشرتی افسانہ۔ افسانے کی کامیابی کے لیے کچھ ناقدین، افسانہ نگار کے نقطہ نظر کو اہم قرار دیتے ہیں۔ افسانہ نگار کے اسلوب میں رمز، کنایے اور تاثیر کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اردو میں مختصر افسانے کا آغاز بیسویں صدی کے ساتھ ہوا۔ سب سے پہلے پریم چند اور سجاد حیدر یلدرم کے افسانے سامنے آئے۔ ان کے فورا بعد کئی افسانہ نگار ابھرے، مثال کے طور پرل۔ احمد اکبرآبادی، سلطان حیدر جوش، نیاز فتح پوری، حجاب امتیاز علی وغیرہ۔ 1936 میں ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا۔ اس سے چند برس پہلے انگارے‘ کے نام سے باغیانہ کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہو چکا تھا۔ ان کہانیوں نے موضوع اور ان دونوں اعتبار سے نئے تجربوں کی بنیاد ڈالی۔ اس کے بہت پہلے پریم چند مختصر افسانہ 25 (1880 تا1936) نے اردو افسانہ نگاری کو عروج پر پہنچادیا تھا۔ پریم چند نے حقیقت نگاری اور نفسیاتی کردار نگاری کے ساتھ مشرقی یوپی کی دیہی زندگی اور قومی زندگی کے مسائل کی ترجمانی کی۔ اس کے بعد سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، غلام عباس، حیات الله انصاری، احمد ندیم قاسی اور بلونت سنگھ کے ہاتھوں اردو افسانے نے بہت ترقی کی۔ آزادی کے بعد بھرنے والے افسانہ نگاروں میں قرۃ العین حیدر نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔1960 کے لگ بھگ اردو میں علامتی افسانے کا آغاز ہوا۔ اس رنگ کے نمائندہ افسانہ نگار انتظار حسین ، سریندر پرکاش، انورساد، بلراج مین را، نیر مسعود اور خالدہ حسین ہیں ۔ حقیقت نگاری کی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں حیات اللہ انصاری ، خواجہ احمد عباس، احمد ندیم قاسمی، شوکت صدیقی ، اشفاق احمد ، رام علی، جوگندر پال قابل ذکر ہیں۔ نئی نسل کے کئی افسانہ نگاروں نے براہ راست طرز بیان کے بجائے علامتی طرز بیان کو تری دی ہے۔ CNCER not to be republiceert بلونت سنگھ 1986 1920/21 بلونت سنگ ضلع گجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول میں ہوئی۔ میٹرک دہرہ دون کے کیمبرج اسکول سے پاس کیا۔ کرپین کاربر الہ آباد سے انٹر اور الہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد معاش کی تلاش میں لاہور اور کراچی بھی گئے۔ دہلی میں رسالہ آج کل‘‘ کے نائب مدیر کی خدمات بھی انجام دیں۔ اس کے بعد سے اپنے انتقال تک الہ آباد میں رہے۔ انھوں نے الہ آباد سے اردو میں رسالہ فسانہ اور ہندی میں اردو ساہتیہ جاری کیا جس میں اردتخلیقات، ناگری رسم الخط میں شائع ہوتی تھیں۔ بلونت سنگھ نے کی طویل اورمختصر ناول لکھے۔ رات چور اور چاند اور چک پیراں کاجستا“ پہلے اردو میں شائع ہوئے۔ ان کے ناگری رسم الخط میں شائع ہونے والے ناولوں اور افسانوی مجموعوں کی تعداد لگ بھگ میں ہے۔ ان کا پہلا افسانہ ”سزا“1937 میں دہلی کے رسالے ” ساقی‘‘میں شائع ہوا۔ ”جنگ‘‘ ’’ تار و پو‘ ’’ہندوستان ہمارا پہلا پھر بلونت سنگھ کے افسانے اور سنہرا دئیں ان کے اہم افسانوی مجموعے ہیں۔ بلونت سنگھ کے ابتدائی افسانوں میں پنجاب کی دمی زندگی کا بہت جیتا جاگتا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اسی بنا پر کچھ لوگوں نے فرض کر لیا کہ بلونت سنگھے صرف پنجاب کے دیہات اور سکھ کرداروں کی زندگی کے عکاس ہیں، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کا افسانوی کینوس خاصا دن ہے۔ O سوم کا دن تھا۔ یوں تو میں اپنے دوستوں کی بہت قدر کرتا ہوں لیکن کبھی بھی یہی چاہتا ہے کہ دوستوں کی صورت تک نہ دکھائی دے اور میں محض اپنے لیے ہی ہوکر رہ جاؤں۔ میرے دوستوں کی تعداد بہت کم ہے اس لیے مجھے ایسے دن بھی میسر آجاتے ہیں۔ جس روز کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ وہ اسی قسم کا دن تھا ، میچ کا وقت تھا، پیشتر اس کے کہ کوئی دوست میرے مکان پر پہنچ کر ’ اکانت! ما کانت !!‘‘ کے نعرے لگاتا میں چائے سے فارغ ہوکر گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ نہ بیوی ، نہ بچے، نہ ملازمت، نہ کاروبار، نه خوشی دینی، عجب دوران کیفیت میں زندگی بسر ہورہی تھی۔ میری بیکاری سے گھر والوں کی ناخوشی کے باعث ، دل پر اداسی چھائی رہی تھی۔ کوئی ذمہ داری نہ ہونے کی وجہ سے دماغ کا رہتا تھا۔ اپنی بیوی نہ ہونے کے سبب سے، ذہن پر رومانیت کا تسلط تھا۔ بس اسٹینڈ پرپہنچ کر دیکھا کہ کناٹ پھیں جانے کے لیے بس تیار کھڑی ہے۔ اندر اکا دکا مسافر بیٹھے ہیں، کوٹ کے کالر درست کرتا ہوا اس کے اندر داخل ہوگیا۔ آٹھ بچے تھے۔ بھلا سردی کے موسم میں کسی کو کیا پڑی تھی کہ گھر کی گرم فضا سے نکل کر باہر کو اٹھ بھاگے۔ چنانچہ بس میں ایک عجیب سکون طاری تھا۔ چند لوگ ایک دوسرے سے پرے پرے بیٹھے دھیرے دھیرے باتیں کرنے میں محو تھے۔ میں نے پہے عورتوں اور لڑکیوں کا جائزہ لیا۔ تین لڑکیاں تھیں اور دور میں لڑکیاں گوری تھیں، دو دو چوٹیاں، آنکھیں بڑی نہ چھوئی، باتیں بیٹھی نہ چھی۔ دوسری عورت کی جانب دیکھا۔ ہرے رام ! وہ تو صورت سے بالکل آیاگی۔ شاید پچ پچ کی آیا ہوں خیر اب ایک عورت کا جائزہ لینا باقی تھا۔ وہ میری جانب پیٹھ موڑے بیٹھی تھی۔ اس کے کندھے پر ننھے بچے کا سرٹکا تھا اور ایک بچی سامنے کی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ گویا وہ کم از کم دو بچوں کی ماں تھی۔ دل پر مایوسی کا جذبہ طاری ہونے لگا۔ میں پچیس منٹ کا یہ سفر یونہی کٹ جائے گا۔ دل بہلانے کی کوئی حسین صورت 28 گلستان ادب دکھائی نہ دے گی۔ کیا یہ سفر جماہیاں لیتے ہی بتانا پڑے گا۔ سوچا اگر دونوں کی ماں بدصورت ہے تو اپنی بہنوں سے بڑھ کر کیا ہوگی ۔ ہیں تاکہ ان کے برابر ہوگی یا ذرا بہتر ۔ آخر ہی طے پایا کہ اس خاتون کے عین پیچھے والی سیٹ پر ڈیرا جمایا جائے۔ پچھلی سیٹ پر چپکے سے بیٹھ کر میں نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بالوں کی تہہ جمائی اور پھر انتظار کرنے لگا کہ وہ ذرا ادھر ادھر گھوم کر دیکھے تو صورت کا جائزہ لیا جائے۔ لیکن وہ ادھر ادھر دیکھے بغیر سامنے کی جانب منہ کے چیکی بیٹھی رہی۔ یہاں تک کہ بس چل دی۔ مجھے بے چینی سی محسوس ہونے لگی۔ بارے کنڈکٹر نے آ کر دام طلب کیے ۔ کٹ لیتے وقت خیال آیا کہ کاش اس خاتون سے تھوڑی بہت بات چیت ہوچکی ہوتی تو اس کے ٹکڑوں کے دام دے کر اچھے خاصے مراسم پیدا کیے جا سکتے تھے۔ جب اس کی باری آئی 29 تو اس نے منہ پھیر کر دیکھا۔ رخ روشن کا جلوہ دکھائی دیا دل دھک سے رہ گیا۔ وہ واقعی بہت حسین تھی۔ تارا سی آنکھیں، نازک لب، اور درخشاں پیشانی غلاف امید اس عورت کو حسین پاکر ہاتھ پاوں پھول گئے۔ اب مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس سے گفتگو کیوں کر شروع کی جائے ۔ کون سا موضوع مناسب رہے گا۔ موسم؟ لیکن ہندوستان میں ابھی موسم کے موضوع پر گفتگو کا آغاز کرنا خاطر خواہ نتائج پیدا نہیں کرسکتا۔ اس عورت سے یہ کہنا کہ آہا! کیا ہی خوشگوار موسم ہے حش بریار ہوگا۔ سینما، ایکٹر، ایکٹر لیں، بسیں، سڑکیں نہیں ہیں، یہ باتیں مہمل ہیں........ اتنے میں عورت کے شانے کے ساتھ لئے ہوئے ننھے بچے نے آنکھیں کھولیں اور حیرت و استعجاب سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ بڑا پیارا پر تھا۔ میں نے اس کے گال پر ہلکی سی چکی لی تو اس کے چھوٹے چھوٹے ہونٹوں پر مسکراہٹ پیدا ہوئی۔ پھر میں نے دونوں انگلیوں سے اس کی ھڈی کو ہلکے ہلکے سہلانا شروع کیا تو وہ ہنسنے لگا میں جانتا تھا کہ اس کی ماں کو اس بات کا علم ہو چکا ہے۔ بچے کے کانوں کے پیچھے داد کے نشان دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے جرات سے کام لے کر پوچھا۔ ” کیوں بی! نے کے کانوں کے پیچھے دار ہورہا ہے۔ ”.یہاں....“ تو کیا آپ اس کا علاج نہیں کرائیں گی؟ علاج تو ہور ہا ہے۔ کیا ہومیوپیتھی علاج کرارہی ہیں؟ ہی نہیں ہے تو ایلوپیتھی...» | ”ایک ڈاکٹر ہیں، رچی رام۔ ہومیوپیتھی علاج کرتے ہیں خصوصا بچوں کے علاج میں تو ان میں مہارت حاصل ہے۔ اگر یہ علاج موثر ثابت نہ ہوا تو ان سے رجوع کچے گا۔“ ’’بہتر“ بہت ہی پیارا بچہ ہے۔ میں نے سلسلہ کلام جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ عورت نے بچے کو شانے سے ہٹا کر کھڑکی کے ساتھ پیٹھ لگالی۔ اب اس کا رخ قریب قریب میری جانب تھا۔ اس نے بے کوزانو پر بٹھا کر دیکھنا شروع کیا وہ وقتی حسین ہے یا نہیں۔ پھر جیسے دل ہی دل میں اس نے میرے قول کی تائید کرتے ہوئے میٹھی بہتر ‘‘ 30 گلستان ادب نظروں سے میری جانب دیکھا۔ آپ کونوں سے خاصا لگاؤ ہے۔ کیا آپ کے بھی بچے ہیں؟ جی نہیں ۔ میں نے قدرے جھینپ کر کہا۔ ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی۔ ” کیوں شادی نہ ہونے کی کیا وجہ ہے؟ یونہی ۔ میں نے سرکھجاتے ہوئے جواب دیا۔’’ہیں، ابھی بے کار ہوں۔ جب تک آمدنی کی معقول صورت نہ ہو، دل میں شادی کا خیال بھی نہیں آسکتا لیکن آپ بیکار کیوں ہیں؟ میں اس جرح سے گھبرا گیا تھا۔ میں نے پنجاب یونیورسٹی سے بی۔ اے کرنے کے بعد پشاور میں کاروبار شروع کیا تھا۔ آمدنی کی صورت نظر آنے لگی تو فساد شروع ہو گئے اور مجھے ادھر بھاگنا پڑا....اب نئے سرے سے کام کرنے کا خیال ہے۔“ عورت کی آنکھوں میں اداسی کی جھلک دکھائی دی۔ اس وقت وہ کچھ کھوئی سی نظر آرہی تھی۔ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے حسین چہرے کے خدوخال کا بغور جائزہ لینے لگا کیا وہ میری خاطر داس تھی؟ ایک لمحے کے لیے ہی سہی – کاش! مجھے بھی ایسی ہی موہنی بیوی مل جائے۔ کہتے ہیں کہ عورت مرد کے دلی جذبات کو بہت جلد پان لیتی ہے۔ عورت نے نظریں جھکالیں اور پھر قدرے مسائل کے بعد نہ معلوم کیوں بڑی کمی کی جانب اشارہ کر کے مسکرا کر بولی۔” یہ میری بیٹی ہے۔ ”آو بیٹی! میرے قریب آو میں نے ہاتھ پھیلائے۔ وہ ہمارے شرم کے آگے نہیں بڑھی تو میں نے خوبی بڑھ کر اسے گود میں بٹھالیا۔” آہاہاہا بڑی اچھی ہے ہماری بے بی اچھا تو تم پڑھتی ہو کیا؟ لیکن وہ بڑے اہتمام کے ساتھ شرماتی رہی۔ عورت بولی بتانا ہے کیا تم سے کئی مرتبہ کہا ہے کہ یونہی مت شرمایا کرو“ میں نے سوچا کس قدر مہذب ہے یہ عورت اس کی بات چیت سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ پڑھی لکھی اور خاصی سمجھی ہوئی ہے۔ ماں کے سرزنش کرنے پر بیٹی نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ کیا پڑھا ہے کبھی میں بھی سناؤ تم تو بہت اچھی ہے بی ہو میں تو پڑھا لکھا یاد ہوگا سارا، بولو یاد ہے؟‘‘ ”ہاں بی بے بی نے بڑی بڑی آنکھیں اشاکر بھر پور نظروں سے میری جانب دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ اس بات کا اقبال 31 کرنے میں اسے بہت فخرمحسوس ہورہا ہے۔ کیا پڑھا ہے تم نے؟ ”اے بی، سی، وائی، زی“ اس پر ہم دونوں قہقہہ مارکر بنے۔ میں اور وہ عورت۔ ہم دونوں جو ایک دوسرے سے بہت دور تھے لیکن قہقہوں کی ملی جلی آواز سے یوں محسوس ہونے لگا جیسے کسی فلم کے ہیرو اور ہیرو میں کوئی سحر انگیز ڈویٹ گارہے ہوں۔ عورت نے بمشکل ہنسی روکتے ہوئے کہا۔ ’’اری بے نی! تجھے اے، بی، سی، ابھی تک یا نہیں ہوئی ۔سی کے بعد ایک دم وائی زیڑ؟‘‘ اب ہماری ملاقات قابل اطمینان در ہے تک آن پی تھی۔ اب بیشتر خدشات دور ہو چکے تھے۔ ہم دو بہت اچھے واقف کاروں بلکہ دوستوں کی طرح گفتگو کرنے لگے۔ ہیں یا پچیس منٹ کے سفر میں زیادہ باتیں نہیں ہوسکتی تھیں، لیکن اگر احساسات کو لیے تو لمحہ بھر میں کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ ایک میٹھی نظرقی که زندگی کے ان لمحوں کو نگین باتی چلی گئی۔ اس کی آواز میں ایسا لورچ اور رسیلا پن تھا کہ مدتوں کانوں میں شهد سا گھلتا رہا۔ ادھر ادھر کی باتوں میں ہم اس قدر تھے کہ اردگردگی کو خیر نہیں رہی تھی جب میں نے جنگل میں شیر کے فرضی شکار کی کہانی سنائی اور میں نے شیر کے سامنے کھڑے ہو کر اس پر گولی چلائی تھی تو عورت کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ حیرت سے بولی۔ لیکن میں نے تو سنا ہے کہ شیر کا شکار مچان پر بیٹھ کر کیا جاتا ہے۔“ (ر) جی ہاں۔ میں نے بے پروائی سے جواب دیا لیکن کہنہ مشق شکاری مچان پر بھی نہیں بیٹھتے ہیں۔ وہ چپ میری بات پر ایمان لے آئی۔ باتوں باتوں میں مجھے خیال آیا کہ مرد کے دل میں عورت کی کشش کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عورت کے سامنے وہ دل کھول کر جھوٹ بول سکتا ہے۔ عورت طفلانہ انداز سے کئی باتیں پوچھتی رہی اور میں بڑی توجہ سے ان کے جواب دیتا ہے۔ جس کی منزل قریب آرہی تھی۔ بے بی ابھی تک میری گود میں بیٹھی تھی ۔ وفتا مجھے محسوس ہوا کہ کام نکل جانے کے بعد بے بی کوتو میں بھول ہی گیا تھا۔ میں نے جوب ہوکر بے بی کی بغلوں کو گدگد یا ارے بے بی! تم تو کوئی بات ہی نہیں کرتیں کیا تم ہم سے خفا ہو؟“ وہ چپ رہی۔ بولو بے بی‘‘ 32 گلستان ادب ن کی نیک نامی عادی باغ میں بھی اسے دیکھا۔ ”لا ہیں۔ بے بی نے انکار کے طور پر سر ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ اچھا تو بتاؤ تمھارا نام کیا ہے؟ ”میرالام؟ ”ہاں“ سول تا ناں۔“ سلطانہ “عورت نے کہا۔ مجھے پہلی مرتبہ اس بات کا علم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں۔ سلطانہ کی بغلوں کو گدگداتے ہوئے میرے ہاتھ رک گئے۔ میں نے قدرے ہچکچاتے ہوئے دریافت کیا۔ کیا آپ مسلمان ہیں؟ بھی۔“ یہ کہ کر عورت نے میری طرف استفہامیہ نظروں سے دیکھا۔ نہیں کچھ نہیں۔ میں ہنس دیا مجھے محسوس نہیں ہوا کیونکہ بظاہر » پر قدرے کھدی کی خاموشی طاری ہوگئی۔ بات کچھ بھی نہیں تھی میں نے سکوت توڑتے ہوئے پوچھا۔ ’’فساد کے دنوں میں آپ دہلی ہی میں تھیں؟ جی ہاں ہم سب نہیں تھے۔“ میرے دل کو معلوم کیا ہونے لگا۔ میں نے رکی رکی آواز میں پوچھا۔” آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی ؟ عورت نے قدرے سکوت کیا۔ بس کچھ نہ پوچھے ۔ مالی نقصان بہت ہوا، جا نہیں کی گئیں۔ یہی غنیمت تھے ۔ کتاش پھیں میں ہماری دکان لٹ گئی۔ مکان میں فسادی گھس آئے لیکن پیشتر اس کے کہ کوئی نقصان ہو تا پاس آگئی » میرا سر جھک گیا... ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اسٹینڈ پر کر بس رک گئی۔ اس خیال سے کہ عورت تنہا ہے اور چھ دو، شاید اسے میری مدد کی ضرورت ہو، میں نے اپنی سیٹ سے اٹھنے میں تامل کیا لیکن عورت کے ہلکے پن سے روشن ہوا کہ (اسے) میری مدد درکار ہیں ہے۔ چنانچہ میں شریف مرد کی طرح اٹھ کر چل دیا۔ 33 چند قدم چلنے کے بعد میں نے یونہی گھوم کر دیکھا کہ وہ عورت اٹھ کر دروازے کی جانب بڑھ رہی ہے، لیکن اس کے قدم اکھڑے کھڑے دکھائی دیتے تھے۔ وہ قدرے لنگڑا کر چل رہی تھی۔ میں سوچنے لگا کہ اگر اس کی ٹانگ میں نقص نہ ہوتا تو وہ قدم قدم پر فتنے جگاتی۔ ایک حسین عورت اور بی عیب رفحا ہماری نظریں ملیں غالبا وہ کھے بیٹھی تھی میں چلا گیا ہوں۔ مجھے ایک مرتبہ پھر اپنے سامنے پاکر وہ پریشانی ہوگئی جیسے کہہ رہی ہو۔” آخر تم نے مجھے نگڑا کر چلتے ہوئے دیکھ لینا ۔“ محجوب ہو کر اس نے اپنا گلابی ہوتا ہوا چہرہ جیسے جھکا لیا اور پھر جیسے روٹھ کر منہ دوسری طرف پھیر لیا۔ میں اسے منانے کے لیے آگے بڑھا اور اس کے سامنے جا کھڑا ہوا اور اس کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے دل ہی دل میں کہا ”معزز خاتون! تم بہت حسین ہو يتم حسن کی بھی ہو، تم کیا جانو میں ان چند دلفریب محوں کے لیے تمھارا کس قدر شکرگزار ہوں۔ اور پھر میں نے قدرے بلند آواز میں کہا۔ ”معاف کیے گا آپ کچھ پریشانی نظر آتی ہیں۔ کیا آپ کو کہیں آگے جانا ہے۔ تانگہ لاؤں؟ یا آپ کو کسی کا انتظار ہے؟ اس نے سر پر دوپله سنوارتے ہوئے جواب دیا۔ بی جانا تو قریب ہی ہے۔ وہ نہیں آئے ملازم کو بیچ دیتے ، ملازم کو تو آنا ہی چاہیے تھا۔ میں نے آگے بڑھ کرڑکی کو گود میں اٹھایا اور بولا۔ چلیے میں آپ کو چھوڑ وں ۔ وہ بغیر کچھ کہے میرے ساتھ ہولی۔ ابھی ہم پندرہ میں قدم ہی چلے ہوں گے کہ وہ بول تھی۔’’ لیے وہ لڑکا ... تمارا نوکر چلا آرہا ہے۔ ہم رک گئے۔ میں نے جھجکتے ہوئے ناگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دریافت کیا۔ کیا پیدائشی نقص ہے؟ اس نے قدرے تامل کیا۔ پھر اپنی آنکھیں میری آنکھوں میں ڈالتے ہوئے مسکرا کر بولی۔” ہی نہیں جب فسادیوں نے ہمارے مکان پر حملہ کیا تو ایک سور بیر نے لائی گھما کر ماری تھی میرا دل بیٹھے گا۔ لرزتے ہوئے ہاتھوں سے میں نے کی کو نوکر کی طرف بڑھایا... میری پیشانی پر ٹھنڈے پسینے کی بوندیں پھوٹ پڑیں۔ کانپتے ہوئے ہاتھ سے جیب میں رومال ٹٹولنے لگا۔ رخصت کے موقعے پر کچھ کہنا چاہا لیکن ہونٹ پھڑ پھڑا کر رہ گئے۔ چنانچہ میں کچھ اس انداز سے دوقدم پیچھے ہٹا جیسے وہ قدیم بابلیوں کی حسین شفرادی ہو۔ میری آنکھیں جھک کر اس کے قدموں پر جم گئیں۔ میں نے تصور ہی تصور میں اس کے پاؤں پر سر رکھ دیا۔ پر چلتی ہوئی نظروں سے اس کی جانب دیکھا تو معلوم ہوا کہ اب ان آنکھوں میں وہ روکھا پن نہ تھا، نیکی اور پھر مجھے 34 گلستان ادب یوں محسوس ہوا کہ وہ مہربان ہوتی ہوئی کسی خودسر مکہ کی طرح کہ رہی ہے'مابدولت خوش ہوئے مابدولت نے نہ صرف تمھیں یک تمھاری ساری قوم کو معاف کیا۔ ایک مرتبہ پھر ہم نے ایک دوسرے کی جانب شکرگزار نظروں سے دیکھا اور پھر ہم ایک دوسرے سے دور ہونے لگے۔ یہاں تک کہ بالآخر ایک دوسرے کی نظروں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اوجھل ہو گئے۔ (پلوشرت سنگی) لفظ وی | © NCLET سوم کا دن مرام درخشاں ہاتھ پاؤں پھولنا خاطرخواه : : : : : : : مہمل سوم وار، پیر (رسم کی جمع) میل جول، تعلقات چک دار (محاورہ) گھبرا جاتا مرضی کے مطابق به معنی کندها کارگر، اثر دار کسی سے مشورہ طلب کرنا جانگھ، ران کہی ہوئی بات شانه རྒྱུ رجوع کرنا not to be topublished : : : རྒྱུ རྒྱུ لمه 35 % .. 7 .. مدد کرنا، اتفاق کرنا، ساتھ دینا ناک نقشہ تہذیب یافتہ 3 .. * * * اور .. کشش .. .. تامل : سرزنش : اثبات میں سر ہلانا : اقبال کرنا : ٹویٹ (DUET): خدشات کہ مشق طفلانہ انداز : محجوب ہونا سکوت : بھک، دی ڈانٹ پھٹکار کسی بات کو تسلیم کرنا مان لینا دوگانا ، مردانہ اور نسوانی آوازوں میں ملا کر گایا ہوا گیت خدشہ کی جمع) اندیشه، خطره ماہر تجربے کار بچوں جیسا ڈھنگ شرمندہ ہونا * skt . فتنے جگانا .. ہنگامہ برپا کرنا، مصیبت کھڑی کرنا .. .. مابدولت : ہم (بادشاہ اور شہزادے شہزادیاں اپنے آپ کو ہم‘ کے بجاے مابدولت کہتے تھے) غور کرنے کی بات • بلونت سنگھ نے یہ افسان، اس کے ایک کردار ما کانت کی زبانی بیان کیا ہے۔ افسانہ لیے کسی بہت نمایاں واقعے کے بجاے ایک دکھ بھرے احساس پرمبنی ہے۔ • عورت کی گہری اداسی اور ما کانت کی شدید شرمندگی کے ذریعے، بلونت سنگھ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ایک دوسرے کے ڈھوں میں شرکت ہی حقیقی انسانیت ہے۔ 36 گلستان ادب سوالات 1. اس افسانے کا عنوان سے کیوں رکھا گیا ہے؟ 2. بس کے مسافروں کے بارے میں افسانہ نگار نے تفصیل پیش کی ہے اسے اپنے لفظوں میں بیان کیجیے۔ 3. اس افسانے کا مرکزی خیال کیا ہے؟ و اس افسانے میں جس واقعے کا بیان کیا گیا ہے اسے اپنے لفظوں میں لکھے۔ ONCERT [qndal 2007 MOU

RELOAD if chapter isn't visible.