اصطلاحی معنی میں لفظ خاک انگریزی لفظ انچ (Sketch) کا ترجمہ ہے شخصی خاکے کے لیے انگریزی میں Pen Portrait با Personal Sketch کی اصطلاحیں بھی استعمال کی گئی ہیں۔ آج کل ’’ خاکہ“ ہی کی اصطلاح رانی ہے۔ خاکے سے مراد امی نژری تریر ہوتی ہے جس میں کسی شخصیت کی منفرد اور نمایاں خصوصیات کو اس انداز سے بیان کیا جاتا ہے کہ اس کی مکمل تصویر آنکھوں کے سامنے آجائے۔ اس میں جس شخص کی تصویر کشی کی جاتی ہے اس کے خیالات و افکار، سیرت و کردار، عادات و اطوار سب کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ خاکے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ شخصیت کی ظاہری اور باطنی خصوصیات میں سے ایسے نمایاں اوصاف کا بیان کیا جائے، جو اس کی انفرادیت اور پہچان کا ذریہ ہوں۔ اس کے لیے خاکہ لکھنے والے کا اس انسان کی شخصیت سے نہ صرف متاثر ہونا ضروری ہے بلکہ اس سے واقفیت اور قربت بھی ضروری ہے۔ خاکہ نگاری سوانح نگاری سے مختلف ہے۔ اس میں سوانح حیات کی طرح واقعات ترتیب وار نہیں لکھے جاتے اور نہ ہی تمام حالات و واقعات کا بیان کرنا ضروری ہے، بلکہ خاکہ نگاری میں حالات و واقعات کا بیان ضمنی طور پر کیا جاتا ہے جو شخصیت کے کسی پہلو کو اجاگر کرتے ہیں ۔ خاکہ نگار کسی شخصیت سے متاثر ہو کر اس کا خاکہ ضرور لکھتا ہے لیکن اس کی تحریر سے مربوبیت کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا بیان ایسا ہونا چاہیے کہ وہ غیر جانبدار نظر آئے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ خاکے میں شخصیت کی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو بیان کیا جائے، ور شخصیت کی مکمل تصویر سامنے نہ آسکے گی جو خاکہ نگاری کا اصل مقصد ہے۔ جس طرح خوبیوں کا بیان مرعوبیت سے پاک ہونا چاہیے، اسی طرح خامیوں کے بیان میں ذاتی دشمنی و تاریک پہلو ہیں آنا چاہیے۔ خامیوں کے بیان میں بھی اپنائیت کا احساس نمایاں ہونا چاہیے۔ کتاب میں شامل خاکہ کلیم الدین اح‘‘ خاکہ نگاری کی اچھی مثال ہے۔ احمد جمال پاشا 1987 1929 احمد جمال پاشا کا اصلی نام در نزہت پاشا ہے۔ وہ الہ آباد میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد آغا شجاعت حسین پاشا نے بعد میں امین آباده لکھنو میں مستقل سکونت اختیار کر لی ۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے بی۔ اے۔ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم ۔ اے۔ کیا لکھنؤ سے اودھ » نکالنا شروع کیا جسے اس کا تیسرا دور کہا جاتا ہے۔ بعد میں قومی آواز اخبار کے شعبۂ ادارت سے منسلک ہوگئے جس کے ایڈیٹر مشہور افسانہ نگار حیات الله انصاری تھے۔ 1976 میں سیوان (بهار)نتقل ہو گئے، جہاں ذکیہ آفاق اسلامیہ کا بے میں اردو کے استاد کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پٹنہ میں انتقال ہوا۔ احمد جمال پاشا نے 1950 سے لکھنا شروع کیا۔ زمانہ طالب علمی میں علی گڑھ کے رسالے اسکا“ کے مدیر ہوئے اور اس کے پیروڈی نمبر‘ کی وجہ سے شہرت پائی۔ اندیشہ ستم ایجاد لذت آزاء، مضامین پاشا " چشم حیراں‘‘اور ’’ پنوں پر چھڑکا“ وغیرہ ان کی مشہور مزاحیہ کتابیں ہیں۔ ”ظرافت اور تنقید ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان کے مشہور مضامین میں ادب میں مارشل لا مجھ سے ایک چائے کی پیالی نے کہا‘‘ ’’ یونیورسٹی کے لڑکے، گلی ڈنڈے پر سمینار اور رستم امتحان کے میدان میں اہمیت کے حامل ہیں۔ انھوں نے بعض پیروڈیاں بھی لکھیں جن میں ” کپور ایک تحقیقی وتنقیدی مطالعه اور’’ آموختہ بیانی میری‘‘ کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ آخری زمانے میں انھوں نے خاکہ نگاری کی طرف توجہ کی۔ احمد جمال پاشا کو ادبی خدمات کے لیے غالب ایوارڈ اور بہار اردو اکادی کا اختر اور نیوی ایوارڈ دیا گیا۔ (( اليم الدين احد یہ بات کوئی 195455 کی ہے جب میں استانی پروفیسر سید احتشام حسین کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اگر وہ تنہا ہوتے تو ایک کتاب بہت غور سے پڑھتے یا اس پینل سے نشان لگاتے ہوتے۔ ہم لوگوں کو بڑی جستجو رہتی کہ آخر یہ کون سی کتاب ہے۔ اس کتاب پر ایک موٹا سا چک دار کور چڑھا رہتا جو غالبا کسی کلینڈر کو کاٹ کر تیار کیا گیا تھا۔ کبھی کبھی وہ اتنے منہک اور مستغرق ہوتے کہ ہماری موجودگی تک کا نوٹس نہ لیتے ۔ اس کو پڑھنے میں ان کے چہرے کا رنگ بدلتا رہتا اور اکثر بڑ بڑاتے بھی ۔ ہمارا محتاط اندازه یہ تھا کہ یہ یا تو تنقید پر کوئی کتاب ہے یا پھر اس کی شرح یا مجھی ہے مگر ہمارے ایک دوست شوکت عمرکا محتاط اندازہ تھا کہ اس کتاب کا تعلق ہارودسازی کی صنعت سے ہے یا پھر اس میں بم بنانے کا نسخہ درج ہے۔ وہ کتاب رفته رفته سوت کی حیثیت اختیار کرتی جارہی تھی۔ ایک دن دوپہر کو ہم لوگ مئی جون کی گرمی میں پہنچے تو دیکھا کہ قبل تو بے خبر این فیل ہیں اور سرہانے میر کے وہی سورت نما کتاب دھری ہے ۔ ہم لوگوں نے آپس میں آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو اشارے کیے ، خاموشی سے کتاب اٹھائی اور غائب ہو گئے۔ گوله نخ میں مہدی کے ہوٹل میں ان تمام صاحب زادوں نے جو مستقبل میں اردو شعر وادب کے چاند ستارے قرار پانے والے تھے، اس کتاب کو بہت ہی غور سے کھولا ۔ کتاب کا کور نکال کر الگ کر دیا۔ اس پر لکھا تھا: اردو تنقید پر ایک نظر از کلیم الدین احمد ساری کتاب پر معلوم ہوتا تھا کہ پنسل سے چاند ماری کر کے گود دیا گیا تھا۔ کچھ اسی قسم کے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ کلیم الدین کیا چاہتے ہیں؟ بات تو ہے مگر آخر بی انداز کس حد تک مناسب ہے؟“ کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا “ مخالفت تو آسان ہے مگر مارکسزم بجھنا بہت مشکل ہے۔ کلیم الدین احمد 131 و کرا ورو بات تو سیدھی ہے مگر اس میں بری یا طے کی کیا گنجائش تھی؟ و تکرار ژولیده بیانی“ آخر اس بات کا مغرب سے کیا تعلق؟“ غزل سے انگریزی شاعری یا مغرب کا کیا واسطہ؟ ”يتعریف ہے یا ہجویح؟ مطلب واضح نہ ہو سکا ۔ ” آخر کہنا کیا چاہتے ہیں؟ محسوس یہ ہوتا تھا کہ استادمحترم اس کتاب کو پڑھتے ہیں بلکہ اس کتاب پر مصنف سے ذہنی کشتی اڑتے تھے۔ جا بجا کتاب پر مارکس اور اینگلز کے اقوال زریں درج تھے۔ ہم لوگوں کا خیال تھا کہ کلیم الدین احمد کوئی بہت بے ڈھب آدی ہے جو ہمارے استاد کو بری طرح پریشان کیے ہوئے ہے۔ مجبوری کی تھی کہ معاملے کی تہہ یا گہرائی تک پہنچنے کی صلاحیت ہم میں سے کسی میں بھی اور کتاب غائب کرنے کے بعد اب مصنف کے بارے میں استاد سے دریافت کرنا بارود کو آگ دکھاتاتھی۔ اس لیے کلیم الدین روز اول ہی ہمارے لیے معمہ بن گئے ۔ اب کیا کیا جائے ۔ طے پایا کہ چونکہ ہم لوگوں نے سرور صاحب کو سر دست کوئی نقصان نہیں پہنچایا ہے۔ اس لیے ان سے جا کر اتا پتا معلوم کیا جائے۔ اس لؤھوپ میں سرور صاحب نے ہم لوگوں کو نہایت مشکوک نظروں سے دیکھا اور خیریت پوچھی۔ بہت ہمت کر کے ایک صاحب نے بڑاہی بنیادی سوال کیا۔ ”سر! ہم لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ تنقید کس کو کہتے ہیں “ ”ہاں بھی یہ ایک بات ہوئی “ سرور صاحب نے بڑی تفصیل سے نہایت ساده و آسان طریقے سے اس طرح سمجھایا کہ موضوع کو پانی کر دیا جو ہمارے سروں پر سے گزر گیا۔ پھر ایک صاحب زادے نے جو آج کل ایک یونیورسٹی میں صدر شعبۂ اردو، پروفیسر اور نامی گرامی نقاد واقع ہوئے ہیں، اپنی تسلی کے لیے پوچھا۔ 132 گلستان ادب سرجوتنقید کرتا ہے اسے کیا کہتے ہیں؟ ناقد.....!تنقید کرنے والا... نقاد ایک دوسرے صاحب زادے نے کالگایا۔ اردو میں بے حد اہم نقادکون کون ہیں؟ ”حالی شبلی ،عبدالق، رشید احمد صدیقی ، ڈاکٹر سید عبدالله کلیم الدین احمد، پروفیسر احتشام حسین وغیرہ کلیم الدین احدکانام سنتے ہی ہمارے چہرے گلاب کی طرح کھل اٹھے۔ ایک صاحب زادے نے پوچھا۔ سرای کلیم الدین احمد کی کیا اہمیت ہے س تم کے نقادوں میں ان کا شمار ہے؟ بھی موجودہ دور میں بھی بات تو یہ ہے کہ سب سے زیادہ انہی کا شہرہ ہے۔ بہت ہی اہم نقاد ہیں۔ ان کی تنقید میں کچھ انتہا پندی ہوتی بھی ہے نہیں بھی ہوتی ہے کلیم صاحب اصول تنقید پر زور دیتے ہیں مگر خود اصولوں پر ذرا کم ہی چلتے ہیں، چلے بھی ہیں ۔ ان کے یہاں توازن کی جگہ شدت ہے مگر توازن ہے بھی اور نہیں بھی ہے۔ کچھ صاف نہیں کہا جاسکتا۔ ان کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے اس لیے لوگ جھنجھلاتے بھی ہیں۔ مگر با تیں بڑے پتے کی کرتے ہیں ۔ ان کی بھی اپنی ایک اہمیت ہے اور خوب ہے۔ غرض سرور صاحب بہت دیر تک کلیم الدین احمد کے میزان نقد کے دونوں پلڑے برابر کرتے رہے جس سے ہم لوگ صرف بی اندازہ کر سکے کہ پروفیسر آل احمد سرور بھی ضرب کلیم سے بے حد خائف ہیں اور کلیم الدین احمد ضرور دہشت پسند نقاد ہیں اور ہم لوگ وہاں سے سلام کر کے رخصت بلکه منتشر ہوگئے۔ دو تین دن بعد ہم لوگ اقشام صاحب کے یہاں گئے تو دیکھا کہ وہی کتاب پر ان کے ہاتھ میں ہے اور کافی خوشگوار انداز سے ہے کہ اس پر ایک سرخ رنگ کا کور چڑھا ہوا تھا۔ غالبانی خرید کر لائے تھے اور سوویت دیں کا ورق پچھاڑ کر اس پر چڑھایا گیا تھا، جس پر ہنسیا ، تھوڑا اور مزدور کے خون کی سرخی تھی۔ بات آئی گئی ہوگی ۔ کبھی کسی کو یاد نہ رہا کہ وہ کتاب کن صاحب کے پاس پھیں۔ دن گزرتے رہے۔ ایک دن معلوم ہوا کہ سرور صاحب کو بخار چڑھ گیا۔ ہم لوگ دیکھے گئے۔ آنے والوں کی خاصی بھی تھی عیادت کا انداز بھی تربیت والا تھا ۔ بار بار کیم صاحب کا نام سنائی دیتا۔ معلوم ہوا کہ تازہ نقوش میں سرور صاحب کیم صاحب نے ڈھن ڈالا ہے۔ اہل علم کا مجمع تھا۔ انداز گفتگو میں ظہراؤ اور صبر وضبط کا ایسا انداز تھا گویا کھتو کا قلعہ کلیم الدین نے ڈھا دیا ہے اور سالار قا فلہ بنا رغم بنا ہوا ہے ۔ سامنے کتاب عیادت کے طور پر نقوش رکھا ہوا تھا۔ جسے لوگ اٹھا کر پڑھتے اور پھر کچھ د با یاسا تبصرہ کرتے۔ انداز گفتگو پر تسلی و ڈھارس 133 کلیم الدین احمد والا تھا۔ ڈاکٹر احسن فاروقی گھر کا بھیدی نے آپے بلکہ جانے سے باہر تھے اور بے طرح ناک میں ڈکرارہے تھے اور جب وہ ٹاک میں منا کر کہتے: سرور روی کلیم الدین نے یہ بات تو ٹھیک نہیں ہیں تو سرور صاحب کی کمزوری بڑھ جاتی اور وہ خلاف قاعده جھلاتے نظر آتے۔ سرور صاحب ہم لوگوں کو لفٹ ذرا کم ہی دیتے تھے اس لیے لڑ کے لوگ کچھ خوش ہی تھے کہ کوئی تو انہیں ملا۔ غرض عرصے تک کیم صاحب کے اس مضمون کے چرچے رہے اور یہ بھی افواہ گرم ہوئی کہ سرور صاحب کلیم صاحب سے ملنے پڑ گئے ہیں ۔ ایک صاحب زادے جوخودآج کل امریکہ میں پروفیسر ہیں، ان کا حلفیہ بیان تھا کہ خود برتھ ریزرو کرانے گئے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ چر پر ختم ہوئے اور ان کی جگہ ہند پاک کرکٹ نے لے لی کہ اچانک بیٹھے بٹھائے کلیم صاحب نے دوسرا ایٹی وها کہ کر دیا۔ وہ یہ کہ تازه نقوش میں انھوں نے احتشام حسین کی تنقید نگاری پرمضمون سر کر دیا تھا۔ اس کا چھینا تھا کہ کہرام چ گیا۔ لوگ جوق در جوق تربیت کے لیے احتشام صاحب کے پاس پہنچے گئے۔ احتشام صاحب عجب سوگوارانہ انداز سے بیٹھے ہوئے تھے ۔ ایک طرف سے انھیں باقر مہدی سنبھالے ہوئے تھے دوسری طرف مرز جعفر حسین اور ایک ان کے شاگرد جو آج کل نقاد ہو گئے ہیں۔ باقر وغیرہ کی آستینیں چڑھی ہوئی تھیں۔ احتشام صاحب بھی ٹھنڈا کرتے بھی جھڑک دیتے۔ جوابی کارروائی کی دھمکی پر سختی سے منع کرتے۔ ( میں بھی بالکل کوئی ضرورت نہیں۔ معلوم نہیں کیسے کیا ہو جاتا ہے۔ خاموشی بہتر ہے ۔ معاملہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ انجھانے سے حاصل ہم نے تسلی دیتے ہوئے عرض کیا۔ "حضور! آپ کو تو خوش ہونا چاہیے کلیم صاحب نے آپ کو کم از کم ہاتھی تو مان لیا ہے کہ احتشام حسین جب آل احمد سرور کی نقل کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی خوش فعلیاں کر رہا ہے۔ اس پر ایک قہقہ پڑا۔ احتشام صاحب چند دن پیار اور کئی دن بھنجھلائے رہے۔ جب علی گڑھ میں ایم ۔ اے کرنے کے دوران تقید کے پرچے سے ہمارا سابقہ پڑا تو ہم نے کلیم الدین احمد کی کتابیں اردو تنقید پر ایک نظر اور اردو شاعری پر ایک نظر غور سے پڑھیں۔ اسی زمانے میں ہم نے اردو ناقدین کی ایک پیروڈی کپور کافن کے عنوان سے لکھی ۔ اس میں کلیم الدین احمد کے انداز بیان کا بھی چر به اڑایاجو بے حد پسند کیا گیا ۔ سر سید ہال میگزین اسکالر کا reld 134 گلستان ادب میں ایڈ یٹ تھا، اس کا پیروڈی نمبر نکالا۔ پہلی بار یہ پیروڈی اس میں یا علی گڑھ میگزین میں شائع ہوئی تھی کلیم صاحب کے ایک شاگرد ہمارے گہرے دوست تھے۔ ان کے اصرار پر ہم نے وہ رسالکیم صاحب کو ڈاک سے بھیج دیا۔ ان صاحب کا کہنا تھا کلیم صاحب کو خط کا جواب دینے کی عادت نہیں ہے مگر وہ بہت پڑھتے ہیں اور آپ کا مضمون ضرور پڑھیں گے اور پسند کریں گے ۔ خلاف توقع چند دن بعد مجھے ایم صاحب کا ایک خط ملا جس میں انھوں نے لکھا تھا۔ ’’ کری! پرچ کا شکریہ ’’ کپور ایک مطالعہ پسند آیا۔ پیروڈی خوب ہے۔ اردو کے لیے یہی چیز ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو مغربی ادب کے مطالعے میں دل بھی ہے۔ اس فن کو ترقی دیں۔ آپ کا خیال غلط ہے۔ میں نے برا نہیں مانا۔ پیروڈی تو شہ کاروں کی ہوتی ہے۔ یہ تو کارٹون کا فن ہے۔ آپ کا انداز استہزائی نہیں بلکہ اسلوب کو نمایاں کرنے کا ہے۔ اسے آپ جو اپنی کتاب شائع کرنا چاہتے ہیں اس میں ضرور شامل کریں ۔ کتاب کے نام کی فرمائش مصروفیت کی نذر ہوگئی۔ آپ خود کوئی اچھا سا (خقر ) نام رکھ لیں۔ پینے آئیں تو ضرور ملیں۔ ٹیلی فون کرلیں۔ قاضی صاحب خیریت سے ہیں۔ پیروڈی کی اطلاع پہلے انھوں نے دی تھی ۔ وہ بھی خوش ہیں۔ کلیم الدین احمد“ ایک طالب علم کی اس سے بڑھ کر کیا حوصلہ افزائی ہو سکتی تھی۔ خوشی کے مارے برا حال تھا۔ احباب اور اساتذہ میں کئی دن کلیم صاحب کے خط کی نمائش کا سلسلہ جاری رہا اور بار بار دوستوں کو چائے پلانا پڑی۔ غالب صدی تقریبات کا ہنگامہ پٹنہ یونیورسٹی میں برپا ہوا تو مجھے بھی مدعو کیا گیا تھا۔ میں پروفیسر اختر اور بیوی کا مہمان تھا۔ ان تقریبات کا افتتاح پروفیسرکلیم الدین احمد نے کیا تھا۔ بس وہ دو جملے بولے تھے اور سینیٹ ہال تالیوں سے گونج گیا تھا۔ قالب کے زمانے میں ان کی عزت افزائی جو کی گئی وہ ان کی حیثیت سے کم تھی اور اس زمانے میں جو عزت افزائی ہورہی ہے وہ ان کی حیثیت سے زیادہ ہے۔ میں نے پہلی بار نہیں بہت غور سے دیکھا۔ وہ مجھے نہایت سرخ دوپی تندرست تم کے بزرگ گئے ۔ بوٹا سا قد لمبائی کے مقابلے میں چوڑان اطمینان بخش نہایت سنجیدہ ، تین، خاموش ، لیے دیے، چہرے پروقار اور آسودگی خاموش بیٹھتے تو چه تقریبا چوکور گر برا بھرا مسکراتے یا بات کرتے تو منہ گول ہو جاتا۔ غرض عام انسانی چہروں سے خاصا مختلف ۔ جب اجلاس ختم ہوا اور لوگوں نے انھیں گھیرا تو میں نے بھی نھیں سلام کیا ، جس کا جواب انھوں نے Face Expression سے دیا اور میں بس کلیم الدین احمد 135 دیکھتا ہی رہ گیا اور وہ چل دیے۔ ان کے ساتھ وائس چانسلر ڈاکٹر ممتاز احمد، پروفیسر عطا کا کوی اور ڈاکٹر اختر اور بیوی تھے، جو انھیں موڑ تک پہنچا کر واپس آگئے ۔ ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ شام کو کلیم صاحب کے یہاں آپ لوگوں کے اعزاز میں ایک ایٹ ہوم ہے۔ آپ لوگ سے مراد ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی ، ڈاکٹر حسن، ڈاکٹر قاضی عبدالستار اور خاکسار۔ شام کو موٹروں پر اختر اورینوی صاحب کے یہاں سے ہم لوگ کلیم صاحب کے یہاں روانہ ہوئے ، سڑک ابھی بن رہی تھی۔ فٹ پاتھ پر کر پھر تھے۔ برآمدے میں بی بی میزیں ، آمنے سامنے کرسیاں جن پرمہمان اور میزبان بیٹھ گئے کلیم صاحب ایک کونے میں کھڑے مسکراہٹ سے لوگوں کے سلام اور باتوں کا جواب دے رہے تھے۔ جو نوجوان اس تقریب کے انتظام اور ہماری پذیرائی میں پیش پیش تھے وہ ڈاکٹر ممتاز احمد، ڈاکٹر محمد صدیق ،ڈاکٹر خالد رشید صب اور ڈاکٹر محمد طیب ابدالی تھے ۔ طیب ابدالی بہت دبلے پتلے تھے اور متاز صاحب بالکل پہلوان معلوم ہوتے تھے اور نہایت تندرست ۔ سر پر چھوٹے چھوٹے بال بھرا بھرا چہرہ کھلتا ہوا رنگ سب سے زیادہ خوش پوشاک ڈاکٹر خالد رشید صبا اور ڈاکٹر صدیق تھے۔ میں ایک دفعہ کرسی سے اٹھ کر کلیم صاحب تک گیا مگر ان کی خاموشی نے پسپا کردیا ۔ پھر آ کر بیٹھ گیا۔ میں نے ڈاکٹر اختر اور بیوی سے کہا: بھئی ! بی تو بولتے ہی نہیں ہیں۔“ خوب بولتے ہیں مگر اس کی ایک ترکیب ہے۔ ”وہ کیا؟ ان کی آنکھیں چپکے گئیں۔ بولے کلیم صاحب ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں مگر پیکار ہیں۔ پیاری چھپاتے ہیں۔ آپ ان سے صحت اور خیریت پوچھے۔ ہارٹ، بلڈ پریشر، شوگر وغیرہ کے بارے میں، اور بلاکسی کا نام لیے کہے کہ لوگوں نے بتایا کہ آپ بیمار ہیں۔ پھر پیچھے کیا بولتے ہیں۔ غرض انھوں نے فیل ڈال کر ہمیں پر کیم صاحب کے پاس بھیج دیا۔ ہم نے اختر صاحب کے نئے پرعمل کرتے ہوئے جا کر ان کی صحت کو کرید کلیم صاحب بولنے لگے۔ پہے تو یقین دلایا کہ وقطعی تندرست ہیں۔ پھر بتایا کہ لوگ بد نام کرنے کے لیے ایسا کہتے ہیں۔ پھر میں نے اپنی نئی کتاب ’’ مضامین پاشا‘‘ کے بارے میں کہا کہ لا نا بھول گیا۔ بولے ” آپ کی یہ اور دوسری کتابیں میرے پاس ہیں۔ میں پڑھ چکا ہوں کچھ مضامین پر پسندیدگی کا اظہار بھی کیا۔ بولے ” ادب میں مارشل لا اور ستم امتحان کے میدان میں Prose میں Mass Epic میں مخقر خاکے کے آرٹ پر بولے ”بہت مشکل فن ہے۔ آپ کے خاکے پڑھ 136 گلستان ادب چکا ہوں۔ یہ سلسلہ جاری رکھے۔ غرض وہ بول رہے تھے اور میں سن رہا تھا۔ جب میں لوٹا تو احباب نے حیرت سے پوچھا : کلیم صاحب آپ سے تو خوب باتیں کررہے تھے ۔‘اختر صاحب مسکرائے۔ ان کی آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔ میں پیاری کا ذکر گول کر گیا اور بولا: ”میری ظرافت کے فن پر روشنی ڈال رہے تھے۔ مضامین کی تعریف کر رہے تھے۔ تعجب ہے۔“ و تعجب تو مجھے بھی ہے۔ جب لکھنؤ سے ہم نے سیوان میں ڈیرہ جمایا تو پٹنہ کے چکر شروع ہو گئے۔ جب بھی پڑھ جاتے اور ذرا بھی فرصت ملتی تو کلیم صاحب کو ٹیلی فون کرتے اور وہ عمومآ شام کا وقت دیتے۔ پر کیم صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ہمارا محتاط اندازه ہے کہ وہ مردم شناسی تو نہ تھے مگر بڑے مروت کے انسان تھے۔ عمو عشا بعد لکھنا پڑھنا شروع کرتے جس کا سلسلہ عام طور پر چار بجے تک چلتا۔ دس بجے کے قریب دو سو کر اٹھتے۔ نیاز فتح پوری کی طرح کلیم الدین احمد بے حد با قاعده انسان تھے، اردو بورڈ کی لغت کا دفتر ان کے گھر پر تھا جس میں بہت سے لوگ کام کرتے کلیم صاحب دن بھر پابندی سے بیٹھ کر کام کرتے۔ ان کے آفس میں دنیا بھر کی سیکڑوں ڈکشنریاں اور ڈکشنری سازی کا ہو تم کا ساز و سامان تھا۔ وہ شین کی طرح کام کرتے ۔ دفتری اوقات میں ملاقاتی سے گفتگو تقر یا نہیں کے برابر ہوتی۔ کلیم صاحب تنہائی میں خوب باتیں کرتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انھیں جنسی موضوعات اور اسکینڈز میں بڑی دل چھی تھی۔ وہ بہت کم کھلے لیکن جب بے تکلف ہو جاتے تو خوب ہنستے بولتے ۔ ساتھ میں اگر کوئی اجنبی ہو یا کسی نے ان کی عظمت کا قصیدہ پڑھ دیا تو وہ شرما کر بالکل خاموش ہوجاتے ۔ کلیم صاحب کے مزاج میں مروت اور دریا دلی بہت تھی۔ تنقید کے مزاج میں وہ جتنے گرم تھے روز مرہ کی زندگی میں اتنے ہی زم ۔ ہمیشہ سلوک کرنے کے لیے تیار رہتے ۔ میں نے ڈرتے ڈرتے دو ایک سفارشیں ان سے کی تھیں۔ مجھے حیرت ہوئی کہ انھوں نے وہ کام بڑی خوش اسلوبی سے نہ صرف کر دیا بلکہ مجھے خط لکھ کر اس کی اطلاع بھی دے دی۔ یوں تو کلیم صاحب خوب باتیں کرتے بلکہ آخری زمانے میں صرف وہی بولتے تھے کلیم صاحب اچھی طرح جانتے تھے کہ مجھے ان کے طریقہ تقید خاص طور پر اقبال کے سلسلے میں قطعی اختلاف ہے مگر اس کے باوجود اس کا تعلقات پر بھی کوئی اثر نہ پڑا۔ ان میں اور قاضی عبد الودود میں بھی نہ پی۔ بیش تر میں قاضی صاحب کے یہاں سے ان کو فون کرتا لیکن بھی انھوں نے قاضی صاحب کے خلاف میری موجودگی میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ 137 کلیم الدین احمد میں جب بھی کلیم صاحب سے ملنے جاتا تو وہ معاصر‘ کا نیا شمارہ دیتے۔ اس کا مجھے مبر بنایا، اس میں لکھنے کی فرمائش کرتے۔ اگر بھی بھی کسی کتاب یا رسالے کے بارے میں دریافت کیا تو وہ لا کر کہتے تھے آپ کی نذر ہے۔ اکثر انھوں نے بڑی قیمتی کتابیں مجھے نذ‘‘ کردیں۔ ہمارے کانے کا مقدمہ ہائی کورٹ میں تھا۔ جسٹس فضل علی نے اس کی تحقیقات کیم صاحب کے سپرد کی۔ مجھے اس کا علم تھا اور اس دوران برابر میں ان کے یہاں جاتا بھی تھا۔ مگر میں نے کبھی اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کی ۔ جب میں چلے گاتا تو کلیم صاحب مجھے روک کر پھر باتیں کرنے لگتے ۔ گھما پھرا کر سیوان کا ذکر کرتے مگر میں نے کار کے سلسلے میں ان سے کوئی بات نہیں کی۔ انھوں نے یونس صاحب سے اس بات کی بڑی تعریف کی اور سیوان جا کر میرے یہاں قیام کرنے کا پروگرام بھی بتایا اور کہا ک مال صاحب سے انکوائری میں بڑی مدد ملے گی۔ ان کے سیوان آنے سے چند یوم قبل اچانک وہ وفات پاگئے اور یہ باتیں مجھے خودان کے گھر والوں اور یونس صاحب سے معلوم ہوئیں، جب میں ان کے انتقال کی ریڈیو سے خبر سن کر توریت کے لیے پٹے گیا۔ اب بھی ان کا خیال آتا ہے اور یاد آتا ہے کہ عالمی ادب با انگریزی ادب پر میں نے انہیں چھیڑ دیا ہے اور وہ مسلسل بولے چلے جارہے ہیں اور مسوں ہوتا کہ علم و دانش کا ایک سمندر ابل رہا ہے۔ ان کی ہمارے لیے اس وجہ سے بھی ہمیشہ ایک اہمیت رہے گی کہ بہار کی شناخت ہمارے جن جواہر سے اردو دنیا کے خزانے میں ہوتی ہے ان میں کلیم الدین احمد کی حیثیت کوہ نور کی ہے۔ کلیم صاحب اصول تنقید پر زور دیتے تھے۔ متن اور شخصیت کے مطالعے پر ان کا زور تھا جس سے ہم بہت کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کی تنقید کا انداز کچھ Demolition Expert کا تھا جس کی ادب میں ضرورت بھی ہے اور اہمیت بھی۔ بت سازی سب کچھ نہیں بت شکنی بھی ادبی اور تاریخی سائیکل کا جزولاینفک ہے۔ احتساب اور گرفت کافین ان پر ختم ہوگیا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ ان کے کارناموں کی ایڈیٹنگ او ترخیص کی جائے تا کہ کام کی باتیں ہم گرہ میں باندھ لیں اور بقیہ کی حیثیت تاریخی ره جائے۔ کلیم صاحب کے علمی ذخیرے میں بڑی نادر و نایاب کتب ہیں۔ شیک پیر کے بیشتر پہلے ایڈیشن انھوں نے مجھے دکھائے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس خزانے کو محفوظ کردیا جائے۔ مجھے اب بھی کلیم صاحب یاد آتے ہیں۔ خصوصا ان کی کوئی کتاب میرے ہاتھ میں ہو یا پھر جب میں بہار اردو اکاڈمی جاتا ہوں اور راستے میں ان کا گھر پڑ جائے تو ایک دم مجھ پر اداسی چھا جاتی ہے اور ان کا چہرہ نظروں کے سامنے آجاتا ہے۔ بزرگوں میں جن سے بہت کچھ حاصل کیا ان میں وہ مجھے بہت عزیز ہیں۔ احد جمال پاشا) 138 گلستان ادب ح ا ا ه ژولیده بیانی ه : : : : : : : : مشکوک : سالار : : : استہزائیہ : : Face Expression: : مردم شناس : دریا دلی : مصروف، مشغول ڈوبا ہوا، کسی کام میں کھویا ہوا احتیاط برتنے والا ، بہت سنبھل کر کام کرنے والا غصہ کرنا، ناراضگی لڑائی جھگڑا، تو میں میں غیر مربوط گفتگو کرنا، بے سر پیر کی ہانکنا اسی تعریف جس میں برائی کا پہلو نکلتا ہو اسی پھیلی جس کا حل آسان نہ ہو جس پر شک کیا جائے فوج کا سردار، قا فلے کی رہبری کرنے والا گروہ در گروہ، جمع عکس نقل مسخرے پن کا انداز سنجیدہ گمبھیر چہرے کے تاثرات شکل سے نمایاں ہوتا پھیلا ، اضافہ آدی پانے والا، تیز نظر رکھنے والا سخاوت، فیاضی جوق در جوق پابه شين توسع •• •• not to •• 139 کلیم الدین احمد نذر کرنا کو نور جزولاینفک .. .. : پیش کرنا : روشنی کا پہاڑ، ایک بیش قیمت ہیرا : لازمی حصہ، جسے الگ نہ کیا جا سکے : کوئی بامی تحریکی مصنف کے قلم سے لگی ہوئی کوئی عبارت یا شعر : محاسبہ کرنا، جائزہ لیتا، گرفت، پڑ : پڑا : انوکھا کم یاب : نہ ملنے والا، بہت مشکل سے ملنے والا .. تساب گرفت گرفت .. ادر غور کرنے کی بات • و کلیم الدین احمد اردو کے معروف نقاد اور انگریزی زبان کے استاد تھے۔ احمد جمال پاشا نے کلیم الدین احمد کا خاکہ لکھتے ہوئے ان کے بعض مضامین اور کتابوں کے سلسلے میں اردو کے دو ادبی مراکز لکھنؤ اور علی گڑھ میں موجود ادیوں کے تاثرات بھی اپنے دلچسپ انداز میں شامل کر کے اس خاکے کی معنویت بڑھادی ہے۔ اس خاکے میں کلیم الدین احمد کے ساتھ ساتھ ان کے چند معاصرین بالخصوص آل احمد سرور اور سید احتشام حسین کے احوال بھی موجود ہیں۔ اس خاکے میں طنزوظرافت کے ساتھ ساتھ تنقیدی نقطہ نگاہ کوبھی احمد جمال پاشا نے روا رکھا ہے۔ وہ اینی میں ہمیں کلیم الدین احد کی ادبی حیثیت سے بھی آگاہ کرتے گئے ہیں۔ سوالات 1. احمد جمال پاشا نے کلیم الدین احمد کی تنقیدی اہمیت کے بارے میں کیا لکھا ہے؟ 2 پیروڈی کےفن پرکلیم الدین احمد کے خیالات کیا ہیں اللھے۔ 3. میزان نقد کے دونوں پلڑے برابر کرتے رہے۔ اس کی تفصیل اس سبق کی روشنی میں بیان کیے۔ not to 140 گلستان ادب 4. 5. احد جمال پاشا نے کلیم الدین احمد کی ذاتی لائبریری کے بارے میں کون کی اطلاع دی ہے؟ بتایئے۔ اس خاکے میں اردو ادب سے تعلق جن شخصیات کا ذکر ہوا ہے، ان میں سے پانی کے بارے میں تین تین جملھے۔ . اس خاکے سے ظریفانه در مجید حصوں کو الگ الگ کر کے لکھے۔ احمد جمال پاشا کے کسی دوسرے خاکے یا مضمون کا مطالعہ کیے۔ not to be republishment

RELOAD if chapter isn't visible.