انشای لفظ انشا اردو میں کئی طرح سے استعمال ہوتا ہے۔ انشائیہ بھی اسی لفظ سے بنا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ لفظ Essay عربی لفظ اسی‘‘ سے نکلا ہے جو لفظ انشا کا بدل ہے۔اسی فرانسیسی میں Essai اور انگریزی میں Essay بنا۔ ابتدا میں مضمون نگاری اور انشائیہ نگاری میں زیادہ فرق نہیں تھا مگر رفتہ رفتہ ان میں فرق پیدا ہوتا گیا، یہاں تک کہ انشائیہ ایک علاحدہ صنف قرار پائی۔ انشائیہ نگار اپنی مخصوص ذاتی مشاہدات اور تاثرات کو بے باکی اور بے تکلفی سے بیان کرتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انشائیہ میں سنجیدہ اور غیر سنجیدہ موضوعات سے متعلق خیال کے تمام مرحلے خوش طبعی کے ساتھ طے کیے جاتے ہیں۔ یہ بات میں بات پیدا کرنے کا فن ہے۔ انشائیہ کا مفہوم سے خالی گفتگو میں بھی معنی پیدا کردیتا ہے لیکن کبھی بھی اس کے باکس بھی ہوتا ہے۔ اختصار اس کی پہچان ہے۔ اس میں مزاح یا مشھول کی جگہ ہلکی پھلکی زیراب ہی پنہاں ہوتی ہے۔ خیال آفرینی اس کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اردو میں انشایئے کی ابتدا سر سید احمد کے رسالے ”تہذیب الاخلاق‘ سے ہوتی ہے۔ مولوی نذیر احمد اور ذکاء اللہ کے بعد اودھ چ“ اور مخزن نے اسے فروغ دیا۔ میر ناصر علی، سجاد حیدر یلدرم، سلطان حیدر جوش، سجاد انصاری ، نیاز فتح پوری، مہدی افادی، فرحت اللہ بیگ ، قاضی عبد الغفار، پطرس بخاری، سید محفوظ علی بدایونی، خواجہ حسن نظامی، رشید احمد صدیقی اور مشتاق احمد یوسفی نے اس صنف کو مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خواجہ حسن نظامی 1878تا 1955 خواجہ حسن نظامی دہلی میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں ہی والد اور والدہ کا انتقال ہوگیا۔ بڑے بھائی نے پرورش کی عربی و فارسی کی تعلیم دہلی ہی میں حاصل کی ۔ کتابوں کے مطالعے اورمضمون نوی کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ پہلے اخبارات میں چھوٹے چھوٹے مضامین لکھے۔ بعد میں ترقصنیف ہی ان کا مشغلہ بن گیا۔ انھوں نے بہت کی چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں۔ ان میں انشایئے، سفرنامے، روزناچے قلمی چہرے اور نوے بھی کچھ شامل ہیں۔ کئی رسالے بھی نکالے جن میں ’منادی‘‘ کو سب سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ خواجہ حسن نظامی ایک خاص طرزتری کے مالک ہیں۔ ان کی نثر میں اربیت ، علمیت اور روحانیت کی عجیب وغریب آمیزش نظر آتی ہے۔ ان کا دل کش اسلوب معمولی واقعات اور روز مرہ کی چیزوں کو بھی غیر معمولی بنادیتا ہے۔ بے تکلفی، سادگی اور لطیف طنز ان کی نثر کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ جن میں دہلی کا روز مرہ اور محاورہ مزید لطف پیدا کر دیتا ہے ۔ مرقع نگاری اور منظرٹی میں بھی انھیں مہارت حاصل ہے۔ وہ اپنے چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی باتیں کہہ جاتے تھے۔ ان کی تصانیف میں سی پاره دل، کانابیاتی‘‘ ’’چھلیاں اور گدگدیاں‘‘ ’’بہادر شاہ کا روز نامچه ، بیگمات کے آنسو غدر کے صبح و شام ” آپ بین اور روز ناچہ حسن نظامی خاص طور پرمشہور ہیں۔ زیر نظر انشائی پھر ان کے اسلوب تحریر کی نمائندگی کرتا ہے۔ پی جانا ہوا تھا اور اس کے مقابلے کے الحسناتا ہوا تھا سا پرندہ آپ کو بہت ستاتا ہے۔ رات کی نیند حرام کردی ہے۔ ہندو مسلمان، عیسائی یہودی سب بالاتفاق اس سے ناراض ہیں ۔ ہر روز اس کے مقابلے کے لیے ہمیں تیار ہوتی ہیں، جنگ کے نقے بنائے جاتے ہیں مگر مچھروں کے جنرل کے سامنے کسی کی نہیں چلتی شکست پر شکست ہوئی چلی جاتی ہے اور چھروں کا شکر بڑھا چلا آتا ہے۔ پ ی پی اور پیروں : حد نیم ن ه اتنے بڑے ڈیل ڈول کا انسان در اسے کھنگے پر قابو نہیں پاسکتا۔ طرح طرح کے مسائے بھی بناتا ہے کہ ان کی بو سے پھر بھاگ جائیں لیکن پھر اپنی پورش سے باز نہیں آتے۔ آتے ہیں اور نعرے لگاتے ہوئے آتے ہیں۔ بے چارا آدم زاد حیران رہ جاتا ہے اور کسی طرح ان کا مقابل نہیں کرسکتا۔ امیر غریب، ادی، اعلی، بچے، بوڑھے، عورت، مردہ کوئی اس کے وار سے محفوظ نہیں ۔ یہاں تک کہ آدی کے پاس رہنے والے جانوروں کو بھی ان کے ہاتھ سے ایذا ہے۔ پھر جانتا ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں۔ ان جانوروں نے میرے دشمن کی اطاعت کی ہے تو میں ان کو بھی مزا چکھاؤں گا۔ آدمیوں نے چھروں کے خلاف ایجی ٹیشن کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔ ہرشخص اپنی مجھ اور عقل کے موافق پچھروں پر الزام رکھ کر لوگوں میں ان کے خلاف جوش پیدا کرنا چاہتا ہے مگر پھر اس کی کچھ پروا نہیں کرتا۔ 98 گلستان ادب طاعون نے گڑ بڑ مچائی تو انسان نے کہا کہ طاعون پھر اور پسو کے ذریعے سے پھیلتا ہے۔ ان کو فنا کر دیا جائے تو یہ ہولناک و با دور ہو جائے گی ۔ ملیریا پھیلا تو اس کا الزام بھی مچھر پر عائد ہوا۔ اس سرے سے اس سرے تک کالے گورے آدمی غل مچانے لگے کہ مچھروں کو مٹادو، مچھروں کو کچل ڈالو، چھروں کو تہس نہس کر دو اور ایسی تدبیریں نکالیں جن سے مچھروں کی نسل ہی منقطع ہوجائے۔ پھر بھی یہ سب باتیں دیکھ رہا تھا اور سن رہا تھا اور رات کو ڈاکڑ صاحب کی میز پر رکھے ہوئے پانی‘ (Pioneer ) کو آکر دیکھتا اور اپنی برائی کے حروف پر بیٹھ کر اس خون کی تھی منھی بوندیں ڈال جاتا جو انسان کے جسم سے یا خود ڈاکٹر صاحب کے جسم سے چوں کر لایا تھا ۔ گویا اپنے فائدہ کی تحریر سے انسان کی ان تحریروں پر شوخیانریمارک لکھ جا تا کہ میں تم میرا کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ انسان کہتا ہے کہ پچھر بڑام ذات ہے۔ کوڑے کرکٹ میل کچیل سے پیدا ہوتا اور گندی مور یوں میں زندگی بسر کرتا ہے اور بزدلی تو دیکھواس وقت حملہ کرتا ہے جب کہ ہم سوجاتے ہیں۔ سوتے پروار کرنا، بے خبر کے چرکے لگانا مردانگی نہیں ہے۔ صورت تو دیکھو کالا لافتاء کے لیے پاؤں، بے ڈول چہرہ اس شان وشوکت کا وجود اور آدی جیسے گورے چھے خوش وضع کی دشمنی ہے عقلی اور جہالت اسی کو کہتے ہیں۔ مچھر کی سنو تو وہ آدمی کو کھری کھری سناتا ہے اور کہتا ہے کہ جناب ہمت ہے تو مقابلہ کیجیے۔ ذات صفات نہ دیکھیے۔ میں کالا ہیں، بد رونق ہیں، مگر یہ تو کہیے کہ کس دلیری سے آپ کا مقابلہ کرتا ہوں اور کیوں کر آپ کی ناک میں دم کرتا ہوں۔ یہ الزام سراسر غلط ہے کہ بے خبری میں آتا ہوں اور سوتے میں ستاتا ہوں۔ یہ تو تم اپنی عادت کے موافق سراسر نا انصافی کرتے ہو۔ حضرت میں تو کان میں آ کر الٹی میٹم دے دیتا ہوں کہ ہوشیار ہو جاؤ اب حملہ ہوتا ہے۔ تم ہی غافل رہو تو میرا کیا قصور۔ زمانه خود فیصلہ کر دے گا کہ میدان جنگ میں کالا بجھتا، لے لٹے پاؤں والا بیڈول تیاب ہوتا ہے یا گورا چٹا آن بان والا۔ میرے کارناموں کی شاید تم کوخبر ہیں کہ میں نے اس پردہ دنیاپر کیا کیا جو ہر دکھائے ہیں۔ اپنے بھائی نمرود کا قصہ بھول گئے جو خدائی کا دعوی کرتا تھا اور اپنے سامنے کسی کی حقیقت نہ بجھتا تھا؟ کس نے اس کا غرور توڑا؟ کون اس پر غالب آیا؟ کس کے سبب اس کی خدائی خاک میں ملی ؟ اگر آپ نہ جانتے ہوں تو اپنے ہی کسی بھائی سے دریافت کیے یا مجھ سے سنے کہ میرے ہی ایک بھائی چھر نے اس سرش کا خاتمہ کیا تھا۔ اورتم تو ناحت بگڑتے ہو اور خواہ مخواہ اپنا دشمن تصور کے لیے ہو۔ میں تمھارا مخالف نہیں ہوں۔ اگر تم کو یقین نہ آئے تو اپنے کی شب بیدار صوفی بھائی سے دریافت کرلو، دیکھو وہ میری شان میں کیا کہے گا کل ایک شاه صاحب عالم ذوق میں اپنے ایک 99 مرید سے فرمارہے تھے کہ میں پچھر کی زندگی کو دل سے پسند کرتا ہوں ۔ دن بھر بے چارہ خلوت خانہ میں رہتا ہے۔ رات کو جو خدا کی یاد کا وقت ہے۔ باہر نکلتا ہے اور پھر تمام شبیح وتقدیس کے ترانے گایا کرتا ہے۔ آدی غفلت میں پڑے سوتے ہیں تو اس کو ان پر غصہ آتا ہے۔ چاہتا ہے کہ یہ بھی بیدار ہوکر اپنے مالک کے دیے ہوئے اس سہانے خاموش وقت کی قدر کرے اور حد شکر کے گیت گائے۔ اس لیے پہلے ان کے کان میں جا کر کہتا ہے الھومیاں اٹھو جاگو جاگنے کا وقت ہے۔ سونے کا اور ہمیشہ سونے کا وقت بھی نہیں آیا۔ جب آئے گا تو بے فکر ہو کر سونا۔ اب تو ہوشیار رہنے اور کچھ کام کرنے کا موقع ہے مگر انسان اس سری نصیحت کی پروا نہیں کرتا اور سوتا رہتا ہے تو مجبور ہوکر غصہ میں آجاتا ہے اور اس کے چہرے اور ہاتھ پاؤں پڑ کک مارتا ہے۔ پر واہ رے انسان، آنکھیں بند کیے ہوئے ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور بے ہوشی میں بدن کو کھا کر پھر سو جاتا ہے اور جب دن کو بیدار ہوتا ہے تو بے چارے چھر کو صلواتیں سناتا ہے کہ رات بھر سونے نہیں دیا۔ کوئی اس دروغ گو سے پوچھے کہ جناب عالی گئے سکنڈ جاگے تھے جو ساری رات جاگتے رہنے کا شکوہ ہورہا ہے۔ شاہ صاحب کی زبان سے یہ عارفانہ کلمات سن کر میرے دل کو بھی تستی ہوئی کہ غنیمت ہے ان آدمیوں میں بھی انصاف والے موجود ہیں بلکہ میں دل میں شرمایا کہ بھی بھی ایسا ہوجاتا ہے کہ شاہ صاحب مصلے پر بیٹھے وظیفہ پڑھا کرتے ہیں اور میں ان کے پیروں کا خون پیا کرتا ہوں۔ یہ تو میری نسبت، اسکی اچھی اور نیک رائے دیں اور میں ان کو تکلیف دوں۔ اگر چول نے یہ بجھایا که تو کانشا تھوڑی ہے، قدم چومتا ہے اور ان بزرگوں کے قدم چومنے ہی کے قابل ہوتے ہیں لیکن اصل یہ ہے کہ اس سے میری ندامت دور نہیں ہوئی اور اب تک میرے دل میں اس کا افسوں باقی ہے۔ سو.... اگر سب انسان ایسا طریقہ اختیار کرلیں جیسا کہ صوفی صاحب نے کیا تو یقین ہے کہ ہماری قوم انسان کو ستانے سے خودبخود باز آجائے گی۔ ورنہ یادر ہے کہ میرا نام پر ہے، لطف سے جینے نہ دوں گا۔ خواجہ حسن نظامی) 100 گلستان ادب لفظ می یورش آدم زاد آدم کی اولاد، انسان چھوٹا : اطاعت پانی Pioneer): چکا لگانا : : : مشہور انگریزی اخبار ثم لگانا نقصان پہنچانا بغاوت کم نہ مانتا راتوں کو جاگ کر عبادت کرنے والا دل و دماغ کی ایک خاص کیفیت تنہائی کی جگہ الد کی پاکی بیان کرنا بزرگی، پاکی شب بیدار عالم ذوق خلوت خانہ تبيع تقدس دروغ گو شکوه عارفانہ کلمات ندامت . : : جھوٹا : : : شکایت معرفت کی باتیں، خدا رسیدہ بزرگوں کی باتیں شرمندگی 101 غور کرنے کی بات اس انشایئے میں مچھر کے ذریعے انسان کو کی نصیحت آمیز باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ اگر وہ نصیحتیں براہ راست کی جاتیں تو ان کی تاثیر ختم ہوجاتی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بالواسطہ گفتگو اور لطیف طنر سے بیان کا لطف دوبالا ہو جاتا ہے۔ اس سبق میں کئی محاورے استعمال ہوئے ہیں مثال : مزا چکھانا، کھری کھری سنانا، غرور توڑنا، ناک میں دم کرنا، محاوروں کے استعمال سے تقریر میں بات چیت کا انداز پیدا ہو جاتا ہے۔ اس سبق سے الفاظ کے مندرجہ ذیل جوڑوں کو دیکھیے : کوڑا کرکٹ میل پیل، گورا چا نہس نہس، آن بان ان میں سے ہر جوڑے کا دوسرا لفظ، پہلے لفظ کے ہم معنی ہے اور اس کی تاکید کے لیے لایا گیا ہے۔ ایسے تاکیدی الفاظ کو اصطلاح میں تابع موضوع کہتے ہیں۔ تابع کی دوسری فتم تابع مہمل کہلاتی ہے۔ اس میں جوڑے کا دوسرا تاکیدی لفظ مہمل لیی بے معنی ہوتا ہے۔ مثلا: چادر وادر، تکیہ کی، بستر وستر، وغیرہ۔ سوالات 1. مضمون نگار نے چھر کا حلیہ کن الفاظ میں بیان کیا ہے؟ لکھے۔ 2. اس سبق میں انسان کو کیا فیحتیں کی گئی ہیں؟ اپنے الفاظ میں لکھے ۔ 3. مصنف نے مچھروں کے کسی عمل کو شوخیان ریمارک قرار دیا ہے؟ پھر جانتا ہے کہ دشمن کے دوست بھی دشمن ہوتے ہیں اس جملے کے ذریعے مصنف ہمیں کیا بتانا چاہتا ہے؟ و عملی کام اس سبق میں مچھر اور انسان کے درمیان مکالنے کے کچھ اقتباسات اپنی کاپی میں نقل کیجیے۔ اس مضمون میں جوحاورے آئے ہیں ان میں سے پان کا اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔ خواجہ حسن نظای کے ذریعے لکھے ہوئے انشائیوں کا مطالعہ کیجیے۔ انشایئے میں آئے ہوئے انگریزی الفاظ لکھے۔ و

RELOAD if chapter isn't visible.