e a © NÉERT ”غزل“ عربی زبان کا لفظ ہے۔ لغت میں اس کے معنی ہیں عورتوں کی باتیں کرنا یا عورتوں سے باتیں کرنا‘‘۔عرب شعراجب اپنی معشوقا وں کا سراپاکھنے یا ان کے حسن و جمال کی تعریف کرتے یا ان کی محبت میں اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے تو اس عمل کو ” تغزل اور ایسے اشعار کو غزل کہتے تھے۔ عربی میں غزل عشقیہ اشعار کو کہتے ہیں۔ عربی غزل میں مطلع بھی ہوتا تھ اور غزل کی ہیت کے مطابق دوسرے اشعار کے تمام مصرعے ہم قافی بھی ہوتے تھے۔ غزل کا ہر شعر مستقل مضمون کا حامل نہیں ہوتا تھا۔ عربی سے غزل فارسی میں آگئی۔ فارسی شاعروں نے غزل میں کیا بڑے کارنامے انجام دیے۔ ایک یہ کہ انھوں نے غزل کے ہر شعر کو ایک مستقل مضمون کا حامل بنایا۔ غزل کے ہر شعر میں ایک مستقل مضمون ادا کرنے کی کوشش کے میتھ میں غزل کے اندر اشاروں اور کتابوں میں بات کرنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔ بڑے سے بڑے مضمون کو علامت تشبیہ اور استعارے کے پردے میں صرف دو مصرعوں میں ادا کیا جانے لگا۔ فارسی شاعروں نے موضوعات و مضامین کے لحاظ سے غزل میں وسعت پیدا کی۔ غزل میں عشق مجازی کے ساتھ ساتھ عشق الہی، بے ثباتی دنیا، زاہدوں سے چھیڑ چھاڑ، اہل ریا پر طنز اور رندی وے خواری کے مضامین فارسی شاعروں ہی کی ایجاد ہیں۔غزل میں ردیف‘ فارسی شاعروں کی دین ہے۔ عربی شاعری میں قافیہ ہوتا ہے، ردیف نہیں ہوتی۔ اردو میں غزل فارسی ادب سے آئی ۔ اب یہ اردو کی سب سے مقبول ص کن ہے۔ قاری کی طرح اردو غزل میں بھی مضامین و موضوعات کی کوئی قید نہیں ہے۔ فلسفیان، عاشقانه، زاہدانہ ہر طرح کے مضامین نظم کیے جا سکتے ہیں اسی طرح اشعار کی تعداد بھی مفر نہیں ہے۔ عام طور پر پانی سے انیس اشعار تک کی غزلیں ہوتی ہیں۔ غزل کا پہلا شعر مطلع، “ کہلاتا ہے، جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ اگر کسی غزل میں دوسرا مطلع بھی ہو تو اسے حسن مطلعیا زیپ مطلع کہتے ہیں۔ غزل کے آخری شعر میں شاعر اپنا خاص نظم کرتا ہے، جسے” مقطع کہتے ہیں۔ جس غزل میں ردیف نہ ہو صرف قافیے ہوں اسے غیر مردف غزل کہتے ہیں۔ وہ برادر ردیف و قافیہ جس کی غزل میں پابندی کی جاتی ہے، اس کو غزل کی زمین‘‘ کہا جاتا ہے۔ غزل کے اشعار میں الگ الگ مضمون بیان کرنے کی رسم کو بعض لوگوں نے ناپسندیدگی اور نکتہ چینی کی نگاہ سے دیکھا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ اس کا عیب نہیں حسن ہے۔ الطاف حسین حالی 1837 تا 1914 حالی پانی پت میں پیدا ہوئے۔ ابھی وہ نو سال کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا۔ نوعمری ہی میں شادی بھی ہوگئی ۔ نصیل علم کے شوق میں دہلی چلے آئے۔ یہاں انھوں نے عربی کی ابتدائی کتابیں پڑھیں۔ اسی دوران غالب سے ان کی ملاقات ہوئی اور انھوں نے اردو و فارسی کا کچھ کلام به غرض اصلاح انھیں دکھلایا۔ اس کے علاوہ غالب سے قاری کے کچھ قصائد پڑ ھے لیکن سال ڈیڑھ سال بعد ہی اہل خانہ کے دباؤ کی وجہ سے انھیں وطن لوٹنا پڑا۔ 1863 میں وہ نواب مصطفی خاں شیفته، رئیس جہانگیر آباد ضلع بلند شہر سے وابستہ ہو گئے۔ یہ سلسلہ کئی سال تک جاری رہا۔ شیفته متاز عالم، اردو فارسی کے خوش فکر شاعر اور صاحب ذوق انسان تھے۔ ان کی صحبت میں حالی کا ادبی مذاق اور گھر گیا۔ اس در میان غالب اور دہلی سے بھی ان کا رابط برابر قائم رہا۔ 1872 میں وہ لاہور چلے گئے۔ وہاں انھیں گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازمت مل گئی۔ ان کا کام یہ تھا کہ وہ انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہوئی کتابوں کی عبارت درست کر دیا کریں۔ اس طرح انھیں زبان و ادب سے متعلق مغربی خیالات اور بعض جدید علوم سے واقفیت حاصل کرنے کا موقع ملا۔ یہیں سے ان کے ذہن میں اردو نشر ظلم کی اصلاح کا خیال بھی آیا۔ جب کرل ہالرائڈنے لاہور میں انجمن پنجاب کے مشاعروں کی بنیاد ڈالی تو حالی نے اس میں نمایاں طور پر حصہ لیا۔ حالی کو محمد حسین آزاد کے ساتھ جدید اردوٹم کے بنیادگزاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ حالی نے اردو میں نے انداز کی سوانح عمریوں کا سلسلہ بھی شروع کیا۔ ’’حیات سعدی‘‘ (1886) یادگار غالب (1894) اور ” حیات جاوید (1901) ان کی مشہور سوانح عمریاں ہیں۔ 1893 میں انھوں نے اپنا دیوان مرتب کیا تو اس کے شروع میں ایک مقدمہ بھی لکھا جو ”مقدمہ شعروشاعری‘‘ کے نام سے معروف ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ شاعری کی تنقید پر یہ اردو کی پہلی باقاعدہ کتاب ہے۔ حالی نظم کے علاوہ غزل کے بھی اچھے شاعر تھے۔ ان کی غزلوں میں ہے کا دھیما پن، مبالغے سے پرہیز گفتگو کا انداز اور محاورے کی چاشنی نمایاں ہیں۔ eo اب بھاگتے ہیں سایہ عشق بتاں سے ہم کچھ دل سے ہیں ڈرے ہوئے کچھ آسماں سے ہم خود نشي شب کا مزا بھول نہیں آئے ہیں آج آپ میں یا رب کہاں سے ہم اب شوق سے بگاڑ کی باتیں کیا کرو کچھ پاگئے ہیں آپ کی طرز بیاں سے ہم بلش ہر ایک قطعہ صحرا ہے راہ میں ملتے ہیں جا کے دیکھیے کب کارواں سے ہم لذت ترے کلام میں آئی کہاں سے یہ پھیں گے جا کے حالی جادو بیاں سے ہم الطاف حسین حالی) not to الطاف حسین حالی 145 لفظ وعی بتاں : خوردگی بت کی جمع، مرادحسین اور خوب صورت بے خودی، آپے میں نہ رہنا خرابی، ناراضگی بگاڑ انداز کادر فلم کارواں کارواں جادویاں کلام : : : قافلہ جادو جیسے انداز بیان والا، جس کی باتیں جادو کی طرح اثر کریں شاعری غور کرنے کی بات • سائے سے بھاگنا یہ محاورہ ہے جس کے معنی ہیں بہت زیادہ خوف زدہ ہو جاتا۔ پرانی شاعری میں ہی تصور عام تھا کہ دنیا کی تمام چھوٹی بڑی تبدیلیاں آسمان کی گردش کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اس تصور کے تحت اس شعر میں آسمان سے ڈرنے کی بات کہی گئی ہے۔ غالب کے درج ذیل شعر میں بھی اسی طرف اشارہ ہے رات دن گردش میں ہیں سات آساں ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا ”خودرنگی‘‘ (مد ہوئی اور آپ میں آنا ہوش مندی) معنی کے لحاظ سے ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ بلاغت کی اصطلاح میں اسے قضاء کہتے ہیں۔ اس طرح کے متضاد الفاظ کو کلام میں سلیقے کے ساتھ جمع کرنا بھی حسن کلام کا ذریعہ ہے۔ شعرنمبر تین میں مکالے اور گفتگو کا انداز بہت خوب ہے۔’’طرن“ کالفظ یہاں مؤنث استعمال ہوا ہے۔ عام طور پر اسے مذکر بولتے ہیں۔ 146 گلستان ادب و شعر بر چار: قطع اصطلاح میں ایک صعب فن کا نام ہے لیکن لفت میں اس کے اصل معنی کڑے کے ہیں۔ پلیتم کے معنی کو اصطلای معلی اور دوسری تم کے معنی کو لغوی معنی کہتے ہیں۔ اس شعر میں یہ لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ شعر بر پارچ: اس غزل کا مقطع ہے۔ شاعر نے اس میں اپنا تخلص نظم کیا ہے۔ مقطع میں کبھی بھی شاعر اپنی تعریف بھی کرتا ہے۔ اصطلاح میں اسے ”تعلی“ کہتے ہیں ۔ حالی کی غزل کا یقطع بھی شاعران علی کا نمونہ ہے۔ . سوالات 1. شاعر دل سے اور آسمان سے کیوں ڈرا ہوا ہے؟ 2. خودکلادی کا مطلب کیا ہے؟ 3. اس غزل کے مقطعے کا مقابلہ غالب کے درج ذیل مقطع سے پیچھے اور بتایئے کہ دونوں میں کون سی بات مشترک ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور ہے؟ عملی کام حالی کے مقدمہ شعر و شاعری کا نسخہ حاصل کیے اور اس میں شعر کی جو خوبیاں بیان کی گئی ہیں اور شاعری کے لیے جو شرطیں بتائی گئی ہیں انھیں اپنے استاد سے پوچھ کر کھیے۔ OLLO و از کارایی آرزو لکھنوی 1872تا1951 سید انور سین آرزو لکھنو کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد کا نام میر ذاکر حسین تھا۔ وہ بھی شعر کہتے اور یاس تخلص کرتے تھے۔ آرزو نے فارسی اور اپنے زمانے کے دوسرے علوم کی تعلیم لکھنو میں پائی۔ خاص طور پر عرض اور قواعد میں مہارت پیدا کی۔ میر ضامن علی جلال لکھنوی اس وقت کے مشہور شاعر تھے۔ آرزو نے ان کی شاگردی اختیار کی۔ شاعری کے علاوہ ان سے زبان و بیان کے نکات بھی سیکھے۔ استاد کی وفات کے بعد ان کے جانشین قرار پائے۔ اس زمانے میں کلکتے اور بیٹی میں تھیٹر کی متعدد کمپنیاں قائم تھیں۔ آرزو نے ان کے لیے کئی ڈراے مثل متوالی جوگن ’’دل جلی پیر گن‘ وغیرہ لکھے فلموں کے لیے بھی کچھ گیت لکھے۔”نظام ارده اردو زبان سے متعلق ان کا اہم رسالہ ہے۔ ان کے کلام کے چار مجموعے شائع ہوئے ہیں:”فغان آرزو‘ جهان آرزو بیان آرزو اور سری بانسری۔ آزادی سے پہلے مہاتما گاندھی ہندوستان کا پرچار کررہے تھے، میں کہ ایسی زبان جس میں سنسکرت یا عربی و فارسی کے ثقیل الفاظ نہ ہوں ۔ آرزو نے اس سے متاثر خالص اردو، کی اصطلاح نکالی اور سریلی بانسری‘‘ کے نام سے ایک ایسا شعری مجموع مرتب کر دیا جس میں فارسی عربی کے مشکل الفاظ نہیں ہیں۔ اس بات کی بڑی شہرت ہوئی اور اسے آرزو لکھنوی کا امتیاز سمجھا گیا۔ آرزو لکھنوی کا شمار ان با کمالوں میں ہوتا ہے جنھوں نے لکھنوی غزل کے رنگ کو نکھارا اور اسے ایک نئی اور سادہ زبان دی۔ و دو غزل اول شب وہ بزم کی رفق، شمع بھی تھی پروانہ بھی رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی ہاتھ سے کس نے ساغر کا موسم کی بے کیفی پر اتنا برسا ٹوٹ کے پانی، ڈوب چلا نے خانہ بھی ایک گھی کے دو ہیں اور اور دونوں حسب مراتب ہیں لو جو لگائے شمع کھڑی ہے، قص میں ہے پروانہ بھی دونوں جولاں گاو جنوں ہیں بستی کیا ورانہ کیا اٹھ کے چلا جب کوئی بگولا، دوڑ پڑا دیوانہ بھی حسن عشق کی لاگ میں اکثر چھیٹر ادھر سے ہوتی ہے شمع کا شعلہ جب لہرایا اڑ کے چلا پروانہ بھی آرزو لکھنوی) O آرزو لکھنوی 149 لفظ وی اول شب : رات کا پہلا پر ہے کیفی : لطفی ، جس میں کوئی مزانہ ہو حسب مراتب : رہنے کے مطابق قص : ناچ جولاں گاہ جوں : وہ دشت بیا میدان جہاں دیوانگی کا اظہار کیا جا سکے غور کرنے کی بات • اردوشعروادب کی تاریخ میں دکن، دہلی اور کو بڑے ادبی مراکرسلیم کیے جاتے ہیں۔ انھیں ادبی اصطلاح میں عام طور پر ادبی دبستان“ کہتے ہیں۔ آرزو لکھنوی دبستان لکھنو کی آخری نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیسویں صدی میں یہ تفریق ختم ہوگئی۔ اب اس طرح کے دبستان کا کوئی وجود نہیں ہے۔ سوالات 1. دبستان لکھنو کے پانچ شعرا کے نام لکھیے۔ 2. آرز لکھنوی کی غزل کے امتیازات کیا ہیں؟ 3. صنعت تضاد کسے کہتے ہیں؟ اس غزل کے کن مصرعوں میں اس صنعت کو برتا گیا ہے؟ عملی کام • و مجموہریلی بانسری تلاش کیجیے اور اس کی کسی پسندیدہ غزل کو یاد کر کے جماعت میں سنایئے۔ آرزو لکھنوی کی اس غزل سے دو ایسے اشعار کا انتخاب کیے جن میں عربی اور فارسی الفاظ سب سے کم استعمال کیے گئے ہوں۔ معین احسن جذب 1912 تا 2004 )) زر معین احسن جذبی مبارک پور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ جھانی است ، آگرہ اور دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ ایم۔ اے پاس کرنے کے بعد بغض ملازمت مختلف شہروں میں قیام کیا۔ اردو کے استاد کی حیثیت سے شعبہ اردو سلم یونیورسٹی علی گڑھ سے وابستہ ہوئے اور وہیں انتقال ہوا۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا ۔ ابتدائی دور میں لص ملال تھا، بعد میں جذبی اختیار کر لیا۔ ” فروزاں“، ”خفي مخفر اور گداز شب“ کے نام سے تین شعری مجموعے شائع ہوئے۔ ”حالی کا سیاسی شعور جذبی کا حقیقی مقالہ ہے، جس پر انھیں پی۔ ایچ۔ ڈی کی ڈگری لی۔ انھیں اقبال ستان“ اور ” غالب ایوارڈ پیش کیا گیا۔ جذبی ترقی پسند دور کے اہم غزل گوئیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے نظمیں بھی کہی ہیں لیکن ان کا امتیاز غزل کی صنف میں قائم ہوا۔ جذبی کی شاعری کا خاص وصف اس کا دھیما پن، حزن آمیز غنائیت اور کلاسیکی رچاؤ ہے۔ OO زندگی ہے تو بہر حال بار بھی ہوگی شام آئی ہے تو آئے کہ ستر بھی ہوگی پرسش غم کو وہ آئے تو ایک عالم ہوگا دیدنی کیفیت قلب و جگر بھی ہوگی منزل عشق پر یاد آئیں گے کچھ راہ کے غم مجھ سے لپٹی ہوئی چھ گرد سفر بھی ہوگی ہوگا افسرده ستاروں میں کوئی ناله صبح غنچہ و گل میں کہیں بار سحر بھی ہوگی دل اگر دل ہے تو جس راہ پر لے جائے گا درد مندوں کی وہی راہ گزر بھی ہوگی امین احسن جذبی) not to 152 گلستان ادب وینی کیفیت لفظ وی پیش : پوچھنا، دریافت کرنا : دیکھنے کے لائق : حالت گروفر : سفرکا غبار تالی : میج کے وقت کی جانے والی آہ وفریاد غور کرنے کی بات • مطلع میں شاعر نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جس طرح ہر شام ختم ہو جاتی ہے اور پھر نیمیج طلوع ہوتی ہے، اسی طرح زندگی بھی اچھی بری بسر ہو ہی جائے گی۔ شاعر نے کہا ہے کہ محبوب اگر آۓ تو ایک عالم ہوگا۔ عالم ہونے کا مطلب ہے ایک خاص کیفیت کا پیدا ہوتا۔ : تیسرے شعر میں شاعر نے منزل عشق پر ہونے کا ذکر کیا ہے لیکن یہاں یہ اشارہ پوشیدہ ہے کہ اس وقت تک راستے کے غم شخصیت کو تبدیل کر چکے ہوں گے۔ • آخری شعر میں شاعر کا کہنا ہے کہ دل اگر واقعی دل ہے تو انسان میں درد مندی کا وصف ضرور پیدا کرے گا یعنی انسان کو اس راستے پر لے جائے گا جہاں وہ دوسروں کے دکھ درد کو جھ سکے۔ سوالات 1. "زندگی ہے تو بہرحال بربھی ہوگی“ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟ 153 معین احسن جذبی 2. افسردہ ستاروں میں نالہ مین کے ہونے کا مطلب کیا ہے؟ 3. درومندوں کی راہ گز رکون سی ہے؟ عملی کام : غزل میں مندرجہ ذیل تراکیب استعمال ہوئی ہیں: پرسش غم ، کیفیت قلب وجگر، منزل عشق، گر دستر، ناله می، باور، راہگزر، اپنی کتاب سے ایسی ہی کچھ اور ترکیبیں تلاش not to be republis جاں نثار اختر 1976 1914 سید جاں نثار حسین رضوی نام، اختر گلص تھا۔ آبائی وطن قصبہ خیر آباد، (اتر پردیش) تھا۔ جاں نثار اختر گوالیار میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مضطر خیر آبادی مشہور شاعر تھے۔ انھوں نے دسویں جماعت تک تعلیم گوالیار کے وکٹوریہ کالجیٹ ہائی اسکول میں حاصل کی۔ علی گڑھ سے بی اے اور ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ اس کے بعد وکٹوریہ کالج ، گوالیار میں اردو کے پر ہو گئے تقسیم ملک سے کچھ پہلے بھوپال چلے گئے، وہاں حمیدیہ کار میں بہ حیثیت صدر شعبۂ اردوان کا تقرر ہو گیا۔ کچھ دنوں بعد بھوپال سے بھی چلے گئے۔ وہیں ان کا انتقال ہوا۔ جاں نثار اختر نظمیں، غزلیں اور رباعیاں کی ہیں۔ پانی ، قومی اور سیاسی نظموں میں ان کے جذبات اور لہجے کی لطافت کا احساس ہوتا ہے۔ سلاسل ”تارگر یہاں نذر تان‘’ جاوداں، گھر آنگن خاک دل اور پچھلے پہر ان کے شعری مجموعے ہیں۔ انھوں نے کئی فلموں کے گیت بھی لکھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں سویت لینڈ نهر اعزاز پیش کیا گیا۔ ہے۔ اور تر میں رہیں اور با ایران , )) و اور حکمرانی میں نہیں سویت لیا not to b نزل جب گئیں زنم تو قاتل کو دعا دی جائے ہے میی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے دل کا وہ حال ہوا ہے غم دوراں کے تھے جیسے اک لاش چٹانوں میں دبا دی جائے ہم نے انسانوں کے دکھ دردکا حل ڈھونڈ لیا کیا میرا ہے جو یہ افواہ اڑا دی جائے ہم کو گزری ہوئی صدیاں تو نہ پائیں گی آنے والے کسی لئے کو صدا دی جائے نمی گرینگ در پچوں سے کمر جھائے گی کیوں نہ کھلتے ہوئے زخموں کو دعا دی جائے ہم سے پوچھو کہ غزل کیا ہے، غزل کا فن کیا چند لفظوں میں کوئی آگ چھپا دی جائے جاں ثاراختر) لفظ وی گل رنگ افواہ اڑانا not to be : : : گلابی رنگ کے غلط خبر پھیلانا کھڑکی دریچه 156 گلستان ادب غور کرنے کی بات : اس غزل کے چوتھے شعر میں دولفظ ”صدیاں‘‘اور’’ صدا استعمال ہوئے ہیں۔ بظاہر ان دونوں کی اصل ایک معلوم ہوتی ہے لیکن درحقیت ایسا نہیں۔ جب اس قسم کے الفاظ کسی شعر با عبارت میں جمع ہوجائیں تو ایک صنعت پیدا ہوجاتی ہے جے شبہ اشتقاق‘‘ کہتے ہیں۔ پانچویں شعر میں شاعر نے کھلتے ہوئے زخموں‘‘ کو گل رنگ در ‘ کہا ہے۔ جب شاعر دو چیزوں کے درمیان اس تم کی مشابہت ظاہر کرتا ہے تو اس عمل کو تنبیہ کہتے ہیں۔ سوالات 1. غزل کے پہلے شعر میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟ 2 زخم، قاتل، لاش غم کے مناسبات کو کیا کہیں گے؟ 3. گل رنگ در بچوں سے کیا مراد ہے؟ عملی کام جاں نثار اختر کے کچھ شعر یاد کیجیے۔ not to bere 1925تا 1972 ناصر کاٹھی کی پیدائش انبالہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم کے بعد وہ لاہور چلے گئے جہاں تقسیم ہند کے بعد انھوں نے مستقل سکونت اختیار کرلی۔ لاہور کی ادبی فضا میں ناصر کاٹھی کی شاعری خوب پکی۔ کچھ مدت تک وہ ” أوراق نو" اور "مایوں“ کے مدیر بھی رہے۔ 47 برس کی عمر میں جب ان کی شاعری شباب پرھی، ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی غزلوں کے مشہور مجموع برگ نے‘‘(1954) اور ’’دیوان (1957) ہیں۔ تیسرا مجمو” پہلی بارش انتقال کے بعد 1975 میں شائع ہوا۔ ان کی نظموں کا مجموعه نشاط خواب ہے۔تنقیدی مضامین اور فقر نثری تحریریں ”خشک چشمے کے کنارے کے نام سے یکجا کر دی گئی ہیں۔ ناصر کاظمی نے ایک کتھا کہانی شر کی چھایا، بھی لکھی تھی۔ ناصر کاٹھی کی ڈائری بھی مرتب کر کے شائع کی جا چکی ہے۔ ناصر کاٹی جدید غزل کے نمائندہ شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں ۔ میر تقی میر کی غزل سے وہ براہ راست بھی متاثر ہوئے اور انھوں نے یہ اثر فراق گورکھ پوری کے واسطے سے بھی قبول کیا۔ ان کی غزل اپنے دیے ہے، دبے دبے درد اور جدید طرز احساس کی وجہ سے ممتاز ہے۔ انھوں نے اردو غزل کی داخلیت اور دروں بیٹی کو بیسویں صدی کے پاس انگیز ماحول کے ساتھ پیش کیا ہے۔ OU نزل eo یہ شب، یہ خیال و خواب تیرے کیا پھول کھلے ہیں، منھ اندھیرے شعلے میں ہے ایک رنگ تیرا باقی ہیں تمام رنگ میرے آنکھوں میں چھپائے پھر رہا ہوں یادوں کے بجھے ہوئے سویرے دیتے ہیں سراغ فصل گل کا شاخوں پر جلے ہوئے بیرے منزل نہ ملی تو قافلوں نے رستے میں جما لیے ہیں ڈیرے جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے روداد سفر نہ چھیڑ ناصر پھر ایک نہ کر سکیں گے میرے ناصر کاٹی) ناصر الٹی 159 لفظ وی مرارة فصل گل : پا، کھوج : موسم بہار ڈره : ٹھکانا، رہنے کی جگہ روراوسف : سفر کی کہانی غور کرنے کی بات • منہ اندھیرے مین کا وہ وقت جب آجالا پوری طرح نہیں پھیلا ہوتا ہے۔ شاعر نے اس لفظ کومطلع اور چھے شعر میں بطور قافیہ استعمال کیا ہے اور اسے بالترتیب شب اور شام کے مفاد کے طور پر برتا ہے۔ • خزاں کے بعد بار بھی ضرور آتی ہے۔ چوتھے شعر میں شاعر نے شاخوں پر جلے ہوئے بیروں کا ذکر کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اب فصل گل بھی آنے والی ہے۔ غزل تقسیم کے بعد شاعر کے ہجرت کے تجربے کی روشنی میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ سوالات 1. مطلع میں صبح سویرے کھلنے والے کن پھولوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے؟ 2. یادوں کے بجھے ہوئے سوروں سے کیا مراد ہے؟ 3. راستے میں ڈیرے جما لینے سے کیا مطلب ہے؟ و ہندوستان کی تقسیم کے بعد ہجرت کے تجربے کے بارے میں ایک مختصر نوٹ لکھیے ۔ راجندر نچندا پانی 1981 1932 بائی کا پورا نام راجندرچند اتا اور بانی تخلص ۔ وہ ملتان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی اور ثانوی تعلیم انھوں نے آزادی سے پہلے ملتان ہی میں حاصل کی ۔ آزادی کے بعد وہ اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ دیلی تقل ہوگئے۔ یہاں بھی انھوں نے درس و تدریں کا پیشہ اختیار کرلیا۔ ملازمت کے دوران معاشیات میں ایم ۔ اے کیا۔ ان کا انتقال دہلی میں ہوا۔ بانی کا تعلق اردو کے نئے شاعروں کی اس نسل سے ہے، جس نے ناصرکھی اور خلیل الٹن اعظمی کے بعد غزل کو ایک نیا رنگ و آہنگ عطا کیا۔ ان کی غزل ایک نئے طرز احساس کی نمائندگی کرتی ہے۔ بانی کے اشعار میں دھند کے کی کیفیت نمایاں ہے۔ ان کی زبان و بیان میں بھی تازگی بہت ہے۔ نئے پن کے باجود ان کی شاعری میں کلاسیکی لب ولہجہ ملتا ہے۔ وہ نت نئے مضامین پیدا کرتے ہیں اور اردو غزل کی روایت میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ بانی کی شاعری نے ان کے بعد کے غزل گوئیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ not to

RELOAD if chapter isn't visible.