Bajuka Surendar parkash نریندر پرکاش 1930 تا 2002 سریندر پرکاش (اصل نام : سریندر کمار او براے) غیر منقسم پنجاب کے شہر لائل پور (فیصل آباد) میں پیدا ہوئے۔ گھریلو پریشانیوں کے باعث باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ 1947 میں والدین کے ساتھ دہلی پہنچے جہاں حصول معاش کے لیے انھوں نے محنت مزدوری اور چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں۔ کتب فروشوں کے لیے فرضی ناموں سے کہانیاں اور ناول لکھے، ریڈیو میں جزوی طور پر اسکرپٹ رائٹر کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ اسی دوران میں جامعہ اردو علی گڑھ کے امتحان (ادیب و ادیب کال وغیرہ) بھی پاس کیے۔ سریندر پرکاش کا پہلا افسانہ ”دیوت‘ لاہور کے ایک ہفت وار پارس میں شائع ہوا تھا۔ دہلی پہنچنے کے کئی سال بعد، اپنے ذوق کے مطابق لکھنے کا موقع نصیب ہوا تو انھوں نے ” نے قدموں کی چاپ‘ اور ’’رونے کی آواز جیسے علامتی اور تجربیدی افسانے تقریر کیے۔ سریندر پرکاش کے افسانوں میں نت نئے روپ اختیار کرنے والا طور اور ملال کا عنصر نمایاں ہے۔ یہ افسانے موجودہ دنیا کے تمتع ، مکر و فریب ، فطرت سے دوری اور تہذیبی و فکری زوال کی نشان دہی بھی کرتے ہیں ۔ سریندر پرکاش کے افسانوں کا پہلا مجمود دوسرے آدی کا ڈرائنگ روم 1968 میں، دوسرا مجمود’’برف پر مکالمه 1981 میں، تیسرا مجموع بازگوئی‘‘ 1988 میں اور چوقا’’ حاضر، حال، جاری‘‘ 2002 میں شائع ہوا۔ سریندر پرکاش کو کئی ریاستی ادبی اعزاز اور مجموه بازگوئی‘‘ پر ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ پیش کیا گیا۔ افسانه جوکا‘ اس مجموعے میں شامل ہے۔ وا پریم چند کی کہانی کا ہوری اتنا بوڑھا ہو چکا تھا کہ اس کی پلکوں اور گھروں تک کے بال سفید ہو گئے تھے، کمر میں خم پڑ گیا تھا اور ہاتھوں کی نہیں سانولے کھردرے گوشت میں سے گھر آئی تھیں۔ اس اثنا میں اس کے ہاں دو بیٹے ہوئے تھے، جو اب نہیں رہے۔ ایک گنگا میں نہا رہا تھا کہ ڈوب گیا اور دوسرا پلیس مقابلے میں مارا گیا۔ پولیس کے ساتھ اس کا مقابلہ کیوں ہوا، اس میں کچھ ایسی بنانے کی بات نہیں۔ جب بھی کوئی آدی اپنے وجود سے واقف ہوتا ہے اور اپنے اردگرد پھیلی ہوئی بے چینی محسوس کرنے لگتا ہے تو اس کا پولیس کے ساتھ مقابلہ ہو جانا قدرتی ہوجاتا ہے، بس ایسا ہی کچھ اس کے ساتھ بھی ہوا تھا اور بوڑھے ہوری کے ہاتھ کی کے ہتھے کو تھامے ہوئے ایک بار ڈھیلے پڑے، ذرا کا ہے اور پھر ان کی گرفت اپنے آپ مضبوط ہوگئی اس نے بیلوں کو ہانک لگائی اور ہلکا پھل زمین کا سینہ چیرتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ ان دونوں بیٹوں کی بیویاں تھیں اور آگے ان کے پانچ ہے۔ تین گنگا میں ڈوبنے والے کے اور دو پولیس مقابلے میں مارے جانے والے کے۔ اب ان سب کی پرورش کا بارہوری پر آن پڑا تھا، اور اس کے بوڑھے جسم میں خون زور سے گردش کرنے لگا تھا۔ اس دن آسمان سورج نکلنے سے پہلے کچھ زیادہ ہی سرخ تھا اور ہوری کے آنگن کے کنویں کے گرد پانچوں بچے نگ دھڑنگ بیٹھے نہارہے تھے۔ اس کی بڑی بہو کنویں سے پانی نکال نکال کر ان پر باری باری انڈیلتی جارہی تھی اور وہ اچھلتے ہوئے اپناپڈا ملتے پانی اچھال رہے تھے چھوٹی بہو بڑی بڑی روٹیاں بنا کر چنگیری میں ڈال رہی تھی اور ہوری اندر کپڑے بدل کر پگڑی باندھ رہا تھا۔ پگڑی باندھ کر اس نے طاقے میں رکھے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھا۔ سارے چہرے پر کیر میں پھیل گئی تھیں۔ اس نے قریب ہی لکھی ہوئی ہنومان جی کی چھوٹی سی تصویر کے سامنے آنکھیں بند کر کے دونوں ہاتھ جوڑ کر سر جھکایا اور پھر دروازے میں سے گزر کر باہر آنگن میں آ گیا۔ ”سب معیار ہیں۔؟“اس نے قدرے اونچی آواز میں پوچھا۔ ہاں باپ “ سب نے ایک ساتھ بول اٹھے۔ بہوں نے اپنے سروں پر پلو درست کیے اور ان کے ہاتھ تیزی سے E چوکا 49 چلنے لگے ۔ ہوری نے دیکھا ابھی کوئی بھی معیار نہیں تھا سب جھوٹ بول رہے تھے اس نے سوچا یہ جھوٹ ہماری زندگی کے لیے کتنا ضروری ہے، اگر بھگوان نے ہمیں جھوٹ جیسی نعمت نہ دی ہوتی تو لوگ دھڑادھڑ مرنے لگ جاتے۔ ان کے پاس جینے کا کوئی بہانہ نہ رہ جاتا ۔ ہم پہلے جھوٹ بولتے ہیں اور پھر اسے پچ ثابت کرنے کی کوشش میں دیر تک زندہ رہتے ہیں۔ ہوری کے پتے ، پوتیاں اور بہوئیں- ابھی ابھی بولے ہوئے جھوٹ کو پچ ثابت کرنے میں پوری تندہی سے جٹ گئیں۔ جب تک ہوری نے ایک کونے میں پڑے کٹائی کے اوزار نکالے اور اب وہ پچ پچ تیار ہو چکے تھے۔ ان کا گیت لہلہا اٹھا تھا فصل پک گئی تھی اور آج کشائی کا دن تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی تہوار ہو۔ سب بڑے چائے جلد از جلد کیت پرپہنچنے کی کوشش میں تھے کہ انھوں نے دیکھا سورج کی سنہری کرنوں نے سارے گھر کو اپنے جادو میں جکڑ لیا ہے۔ ہوری نے اگو چھا کندھے پر رکھتے ہوئے سوچا۔ کتنا اچھا سے آ پہنچا ہے۔ یہ امید کی دھونس، نہ پینے کا کھٹکا، نہ انگریز کی زور زبردستی اور نہ زمیندار کا حصہ اس کی نظروں کے سامنے ہرے ہرے خوشے جھوم اٹھے۔ چلو باپ اس کے بڑے پوتے نے اس کی انگی پڑی، باقی بچے اس کی ٹانگوں کے ساتھ لپٹ گئے۔ بڑی ہونے کوٹری کا دروازہ بند کیا اور چھوٹی بہو نے روٹیوں کی پوٹی سر پر رکھی۔ بیر بزرگی کا نام لے کر سب باہر کی چار دیواری والے دروازے میں سے نکل کر گلی میں آگئے اور پھر دائیں طرف مڑکر اپنے کھیت کی طرف بڑھنے لگے۔ گائوں کی گلیوں ، گلیاروں میں چہل پہل شروع ہو چکی تھی۔ لوگ کھیتوں کو آجارہے تھے۔ سب کے دلوں میں مسرت کے انار پھوٹتے محسوس ہورہے تھے۔ سب کی آنکھیں گی فصلیں دیکھ کر چک رہی تھیں۔ ہوری کو لگا جیسے زندگی کل سے آج ذرا مختلف ہے۔ اس نے پلٹ کر اپنے پیچھے آتے ہوئے بچوں کی طرف دیکھا۔ وہ بالکل ویسے ہی لگ رہے تھے جیسے کسان کے بچے ہوتے ہیں۔ سانولے مریل سے جو جیپ گاڑی کے پہیوں کی آواز اور موسم کی آہٹ سے ڈر جاتے ہیں۔ بہوئیں ویسی ہی تھیں جیسی کہ غریب کسان بیوہ عورتیں ہوتی ہیں۔ چیے گھونسلوں میں چھے ہوئے اور لباس کی ایک ایک سلوٹ میں غربی جوؤں کی طرح چھپی بیٹھی۔ وہ سر جھکا کر پھر آگے بڑھنے لگا۔ گاوں کے آخری مکان سے گزر کر آگے کھلے کھیت تھے۔ قریب ہی رہٹ خاموش کھڑا تھا، نیم کے درخت کے نیچے ایک لگتا ہے فکری سے سویا ہوا تھا۔ دور طویلے میں کچھ گا میں بھی نہیں اور تیل چارہ کھا کر پھنکار رہے تھے۔ سامنے دور دور تک لہلہاتے ہوئے سنہری کھیت تھے۔ ان سب کھیتوں کے بعد، ذرا دور، جب یہ سب کھیت ختم ہوجائیں گے اور پر، چھوٹا سا نالہ پار کر کے الگ تھلگ ہوری کا کھیت تھا۔ جس میں جھوٹا پک کر انگڑائیاں لے رہا تھا وہ سب پگڈنڈیوں پر چلتے وطولیہ میں بھی اور جب بھی کیوں پیتے 50 گلستان ادب . . . . . . . . . . . ہوئے دور سے ایسے لگ رہے تھے جیسے رنگ برنگے کیڑے گھاس پر رینگ رہے ہوں۔ وہ سب کھیت کی طرف جارہے تھے جس کے آگے قفل تھا۔ دور دور تک پھیلا ہوا ، جس میں کہیں ہریالی نظر نہ آتی تھی بس تھوڑی بے جان مئی تھی جس میں پائوں رکھتے ہی هنس جاتا تھا اور ٹی یوں کر بھری ہوئی تھی جیسے ان کے دونوں بیٹوں کی ہڈیاں چا میں جل کر پھول بن گئی تھیں اور پھر ہاتھ لگاتے ہی ریت کی طرح بکھر جاتی تھیں ۔ وہ دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا۔ ہور ی کو یاد آیا پچھلے پچاس برسوں میں وہ دو ہاتھ آگے بڑھ آیا تھا۔ ہوری چاہتا تھا، جب تک اپنے جوان ہوں وہ عمل اس کے کھیت تک نہ پہنچے۔ اور تب تک وہ خود کی تقلی کا حصہ بن چکا ہوگا۔ پگڈنڈیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ اور اس پر ہوری اور اس کے خاندان کے لوگوں کے حرکت کرتے ہوئے ننگے پاؤں ....... سورج آسان کی مشرقی کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھ رہا تھا۔ چلتے چلتے ان کے پاؤں مٹی سے اٹ گئے تھے۔ کئی ارد گرد کے کھیتوں میں لوگ کٹائی کرنے میں مصروف تھے، وہ آتے جاتے کو رام رام کہتے اور پھر کسی انجانے جوش اور ولولے کے ساتھ ٹہنیوں کو درانتی سے کاٹ کر ایک طرف رکھ دیتے۔ انھوں نے باری باری نالہ پار کیا۔ نالے میں پانی نام کو بھی نہ تھا بہنے کو اندر کی ریت ملی مٹی بالکل خشک ہو چکی تھی اور اس پر عجیب و غریب نقش و نگار بنے تھے۔ وہ پانی کے پاؤں کے نشان تھے۔ اور سامنے لہلہاتا ہوا کھیت نظر آرہا تھا۔ سب کا دل بلیوں اچھلنے لگا فصل کئے گی تو ان کا آنگن پچھوں سے بھر جائے گا اور کوٹھری اناج سے، پھر کھٹیا پر بیٹھ کر بھات کھانے کا مزہ آئے گا۔ کیا ڈکاریں آئیں گی پیٹ بھر جانے کے بعد۔ ان سب نے ایک ہی بار سوچا۔ ( اچانک ہوری کے قدم رک گئے۔ وہ سب بھی ٹک گئے۔ ہوری کھیت کی طرف حیرانی سے دیکھ رہا تھا۔ وہ سب بھی ہوری اور بھی کھیت کو دیکھ رہے تھے کہ اچانک ہوری کے جسم میں جیسے بجلی کی سی ار تی پیدا ہوئی۔ اس نے چند قدم آگے بڑھ کر بڑے جوش سے آواز لگائی۔ اے کون ہے...ے...ے؟ اور پھر سب نے دیکھا ان کے کھیت میں پکی ہوئی فصل میں کچھ بے چینی کے آثار تھے ۔ اب وہ سب ہوری کے پیچھے تیز تیز قدم بڑھانے لگے ۔ ہوری پر چلایا۔ ہے کون ہے رے بات کیوں نہیں کون فصل کاٹ رہا ہے میری؟ مگر کھیت میں سے کوئی جواب نہ ملا۔ اب وہ قریب آ چکے تھے اور کھیت کے دوسرے کونے پر درانتی چلنے کی سڑاپ سٹاپ چوکا کی آواز بالکل صاف سنائی دے رہی تھی۔ سب قدرے سہم گئے۔ پھر ہوری نے بہت سے للکارا۔ ”کون ہے۔ ہوتا کیوں نہیں؟ اور اپنے ہاتھ میں پڑی درانتی سونت لی اچانک کھیت کے پہلے میں سے ایک ڈھانچہ سا گھر اور چھے مسکرا کر انہیں دیکھنے لگا ہو۔ مه میں ہوں ہوری کا کا ہوگا؟ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی درانتی فضا میں ہلاتے ہوئے جواب دیا۔ سب کی مارے خوف کے ملٹی گھٹی سی چیخ نکل گئی۔ ان کے رنگ زرد پڑ گئے اور ہوری کے ہونٹوں پر گویا سفید پری کی جم گئی۔ کچھ دیر کے لیے وہ سب سکتے میں آگئے اور بالکل خاموش کھڑے رہے وہ کچھ دیر تی تھی؟ ایک پل ، ایک صدی یا پھر ایک ایک اس کا ان میں سے کسی کو اندازہ نہ ہوا۔ جب تک کہ انھوں نے چوری کی غضے سے کانپتی ہوئی آواز نہ انھیں اپنی زندگی کا احساس نہ ہوا۔ تم بھوکا ... تم ۔ ارے تم کو تو میں نے کھیت کی نگرانی کے لیے بنایا تھابانس کی چالوں سے اور تم کو اس انگریز شکاری کے کپڑے پہنائے تھے جس کے شکار میں میرا باپ ہانک لگاتا تھا اور وہ جاتے ہوئے خوش ہوکر اپنے پھٹے ہوئے خاکی کپڑے میرے باپ کو دے گیا تھا۔ تیرا چہرا میرے گھر کی بے کار ہانڈی سے بنا تھا اور اس پر اسی انگریز شکاری کا ٹوپا رکھ دیا تھا۔ ارے تو بے جان پل میری فصل کاٹ رہا ہے؟ 52 گلستان ادب ہوری کہتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا اور بہو کا بدستور ان کی طرف دیکھتا ہو مسکرا رہا تھا جیسے اس پر چوری کی کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوا ہو۔ جیسے ہی وہ قریب پہنچے انھوں نے دیکھا فصل ایک چوتھائی کے قریب کٹ چکی ہے۔ اور جو کا اس کے قریب درانتی ہاتھ میں لیے کھڑا مسکرا رہا ہے۔ وہ سب حیران ہوئے کہ اس کے پاس در انتی کہاں سے آگئی وہ کئی مہینوں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ بے جان بھو کا دونوں ہاتھوں سے خالی کھڑا رہتا تھا مگر آن........... وہ آدمی لگ رہا تھا گوشت پوست کا آن جیسا آدی یہ منظر دیکھ کر ہوری تو جیسے پاگل ہو اٹھا۔ اس نے آگے بڑھ کر اسے ایک زور دار دھکا دیا مگر بھوکا تو اپنی جگہ سے بالکل نہ ہلا البته ہوری اپنے ہی زور کی مار کھا کر دور جا گرا۔ سب لوگ چیختے ہوئے ہوری کی طرف بڑھے۔ وہ اپنی کمر پر ہاتھ رکھے اٹھنے کی کوشش کررہا تھا سب نے اسے سہارا دیا اور اس نے خوفزدہ ہوکر بھوکا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”تو... تو مجھ سے بھی طاقتور ہو چکا ہے بہو کا ! مجھ سے...؟ جس نے تمھیں اپنے ہاتھوں سے بنایا اپنی فصل کی حفاظت کے واسطے چوکا حسب معمول مسکرا رہا تھا، پھر بولا ”تم خواہ مخواہ خفا ہورہے ہو ہوری کا کا، میں نے تو صرف اپنے حصے کی فصل کاٹی ہے۔ ایک چوتھائی“ لیکن تم کو کیاحت ہے میرے بچوں کا حصہ لینے کا۔ تم کون ہوتے ہو ؟ ”میرات ہے ہوری کا کا کیوں کہ میں ہوں اور میں نے اس کھیت کی حفاظت کی ہے۔ لیکن میں نے تو میں بے جان تجھ کر یہاں کھڑا کیا تھا اور بے جان چیز کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ ریتمھارے ہاتھ میں درانتی کہاں سے آگئی؟ جوکا نے ایک زور دار قہقہہ لگایا تم بڑے بھولے ہوہدری کا کا ۔ خود ہی مجھ سے باتیں کر رہے ہو اور پھر مجھ کو بے جان سمجھتے ہو؟ لیکن تم کو یہ درانی اور زندگی کس نے دی؟ میں نے تو نہیں دی تھی؟ ”یہ مجھے آپ سے آپ مل گئی جس دن تم نے مجھے بتانے کے لیے بانس کی چھانگیں چیری تھیں۔ انگریز شکاری کے پھٹے پرانے کپڑے لائے تھے، گھر کی بے کار ہانڈی پر میری آنکھیں ، تاک، کان اور منھ پایا تھا اسی دن ان سب چیزوں میں زندگی کلبلا رہی تھی اور یہ سب مل کر میں بنا اور میں فصل پکنے تک یہاں کھڑا رہا اور ایک درانتی میرے سارے وجود میں سے آہستہ آہستاتی رہی اور جب فصل پک گئی وہ درانتی میرے ہاتھ میں تھی لیکن میں نے تمھاری امانت میں خیانت نہیں کی۔ میں آج کے دن کا انتظار کرتا رہا۔ اور آج جب تم اپنی فصل کاٹے آۓ ہو میں نے اپناحصہ کاٹ لیا، اس میں بگڑنے کی کیا بات ہے؟“ بھوکا نے آہستہ آہستہ سب کہتا کہ ان سب کو اس کی بات اچھی طرح سمجھ میں آجائے۔ چوکا 53 نہیں ایسا نہیں ہوسکتا۔ یہ سازش ہے۔ میں تمھیں زندہ نہیں مانتا، یہ سب چھلاوا ہے۔ میں پنچایت سے اس کا فیصلہ کروں گا۔ تم درانتی چھینک دو۔ میں تمھیں ایک تنکا بھی لے جانے نہیں دوں گا “ہوری چیا، اور بھوکا نے مسکراتے ہوئے درانی چھینک دی۔ گاوں کی چوپال پر پنچایت کی اور سری سب موجود تھے۔ ہوری اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ پچ میں بیٹھا تھا۔ اس کا چہرہ مارے غم کے مرجھایا ہوا تھا۔ اس کی دونوں بہو میں دوسری عورتوں کے ساتھ کھڑی تھیں اور بھوکا کا انتظار تھا۔ آج پنچایت نے (کو) اپنا فیصلہ سناتا تھا۔ مقدمے کے دونوں فریق اپنا بیان دے چکے تھے۔ آخر دور سے بھو کا خراماں خراماں آتا ہوا دکھائی دیا۔ سب کی نظریں اس طرف آٹھ گئیں۔ وہ ویسے ہی مسکراتا ہوا آرہا تھا۔ جیسے ہی وہ چوپال میں داخل ہوا، سب غیر ارادی طور پر اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کے سر تعظیم فک گئے۔ ہوری ہی تماشہ دیکھ کر تڑپ اٹھا۔ اسے لگا جیسے بھوکا نے سارے گاؤں کے لوگوں کا خمیر خرید لیا ہے۔ پنچایت کا انصاف خرید لیا ہے۔ وہ اپنے آپ کو تیز پانی میں بے بس آدمی کی طرح ہاتھ پاؤں مارتا ہوا محسوس کرنے لگا۔ آخر سر نے اپنا فیصلہ سنایا۔ ہوری کا سارا وجود کا چھنے لگا۔ اس نے پنچایت کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے فصل کا چوتھائی حصہ بھوکا کو دینا منظور کرلیا اور پھر کھڑا ہو کر اپنے پتوں سے کہنے لگا: سنو یہ شاید ہماری زندگی کی آخری فصل ہے۔ ابھی نقل کیت سے کچھ دوری پر ہے میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں، اپنی فصل کی حفاظت کے لیے پھر بھی بھوکا نہ بنانا اگلے برس جب بکر چلیں گے یا بویا جائے گا اور بارش کا امرت کھیت میں سے کونپلوں کو جنم دے گا تو مجھے ایک بانس پر باندھ کر کھیت میں کھڑا کر دینا بھوکا کی جگہ پر میں تب تک تمھاری فصلوں کی حفاظت کروں گا۔ جب تک تھل آگے بڑھ کر کھیت کی مٹی کونگ نہیں لے گا اور تمھارے کھیتوں کی مٹی بھر ھری نہیں ہوجائے گی۔ مجھے وہاں سے ہٹانا نہیں وہیں رہنے دینا تا کہ جب لوگ دیکھیں تو انھیں یاد آۓ کہ بھوکا نہیں بنانا ۔ کہ جو کا بے جان نہیں ہوتا آپ سے آپ اسے زندگی مل جاتی ہے اور اس کا وجود اسے درنتی تھما دیتا ہے اور اس کی فصل کی ایک چوقائی پرق ہو جاتا ہے۔“ ہوری نے کہا اور پھر آہستہ آہستہ اپنے کھیت کی طرف بڑھا۔ اس کے پتے اور پوتیاں اس کے پیچھے تھے اور پھر اس کی ہوئیں اور ان کے پیچھے گاوں کے دوسرے لوگ سر جھکائے ہوئے چل رہے تھے۔ کھیت کے قریب ہو کر ہوری گرا اور تم ہوگیا۔ اس کے پوتے پوتیوں نے اسے ایک بانس سے باندھنا شروع کیا اور باقی کے سب لوگ یہ تماشہ دیکھتے رہے۔ بھوکا نے اپنے سر پر رکھا شکاری ٹوپا اتار کر سینے کے ساتھ لگالیا اور اپنا سر جھکا دیا۔ سریندر پرکاش) 54 تان ادب لفظ وی خمپا وجود پرورش کا بار خون کی گردش : بانس یا درخت کی شاخوں سے بنا ہوا ایک ڈھانچا جسے ٹوپی اور میں یا کرتا پہنا کر کھیت میں آدمی کی طرح کھڑا کردیتے ہیں۔ اس سے ڈر کر دن میں چڑیاں اور رات کو گیدڑ وغیرہ کھیت سے دور رہتے ہیں ۔ بعض جگہ کسان اسے دھوکا بھی کہتے ہیں۔ تک جانا دوران، ج ہستی ، مرادسماجی حیثیت : پالنے پوسنے کی نئے داری : رگوں میں خون کا دوران بدن، بسم روٹیاں رکھنے کی ڈلیا پھر تی مستعدی (میح لفظ : اہل مد) عدالت میں پیش کار کا تر بہادر ہنومانی کا ایک لقب سونا کے ساتھ به طور تابع مبل استعمال ہوتا ہے۔ مثلا : خدا سونا جھونا پہننا نصیب کرے۔ یہاں مراد ہے: بالیوں میں اناج کے سونے جیسے دانے پڑا چئیری تن دی امد بیر (ور) .. .. . پیر برگی ریگستان بدستور پہلے کی طرح : دھوکا ، سایہ جو دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہوجائے هلا وا 55 غور کرنے کی بات پریم چند کے ناول گودان“ کا مرکزی کردار ہوری، ایک غریب کسان ہے جس کی زندگی طرح طرح کی پریشانیوں میں گزری اور ناول کے اختتام پر اس کی موت واقع ہوگئی۔ ناول ’’ گودان 1936 میں شائع ہوا اور ” بجوا‘‘ کے لکھے جانے کی تاریخ 20 اکتوبر 1977 ہے جس میں ہوری کو زندہ دکھایا گیا ہے۔ و ناول اور افسانے کے زمانہ اشاعت پر غور کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ تقریبا چالیس برس کی اس مدت کو سر مندر پرکاش نے افسانے کا پس منظر بنایا ہے۔ یہ پس منظر، افسانے میں موجود ہوتے ہوئے بھی بیک نظر دکھائی نہیں دیتا کیونکہ افسانہ نگار نے اس کا بیان بہت لطیف انداز سے کیا ہے۔ • اس افسانے میں مصقت ہر موقعے پر غیر جانب دار رہا ہے۔ یعنی ہر واقعے کا بیان انتہائی غیر جذباتی انداز میں کیا ہے اور اپنی رائے پوشیدہ رکھی ہے۔ اس رویئے سے افسانے کے معنی میں وسعت پیدا ہوگئی ہے۔ ملاتی نقطہ نظر سے نہایت اعلی سمجھا جاتا ہے۔ افسانے کے اختتام کے قریب بیطویل پیراگراف : سنوری شاید ہماری زندگی ... ت ہو جاتا ہے۔ ایک میت کیا ہے۔ اس میں کہی گئی باتوں کا مطلب یہ ہے کہ افراد ہوں یا تو میں، انھیں اپنی املاک اور پیداوار وغیرہ کی حفاظت خود ہی کرنی چاہیے۔ یہ کام اگر وہ دوسروں کو سونپ دیں گے تو ایک دن ایا آ سکتا ہے کہ تحفظ کے بے جان نئے داروں میں بھی اس املاک یا پیداوار میں سے اپناحصہ لینے کی قوت پیدا ہو جائے وہ قوت کس طور پیدا ہوگی؟ اس سوال کا پورا پورا جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا۔ جواب کی ایک جھلک افسانے میں ہے کہ محنت کا پھل ہوری کو ملتا ہے تو بجو کا بھی اپنی محنت کا پھل پانے کا حقدار ہے۔ سوالات 1. ہوری کون ہے اور وہ پریم چند کے کس ناول سے تعلق رکھتا ہے؟ 2. فصل پک جانے پر ہوری خوش کیوں تھا؟ 56 تان ادب 3. بوکا کسے کہتے ہیں؟ افسانہ نگار نے اس کے ذریعے کیا پیغام دیا ہے؟ 4 ہوری نے اپنے گھر والوں کو کیا میت کی تھی؟ عملی کام افسانے کا خلاص ھے۔

RELOAD if chapter isn't visible.