Ap biti آپ پی خودنوشت یا آپ بیتی کا مطلب ہے اپنی زندگی کا حال بیان کرنا۔ اس بیان کے دائرے میں پوری زندگی بھی آسکتی ہے اور زندگی کا کوئی خاص دور کا واقعہ بھی۔ خودنوشت کیوں لکھی جاتی ہے؟ اس سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں۔ مثلا یہ کہ لکھنے والا اپنی یادوں کو مرتب اور محفوظ کرنا چاہتا ہے۔ یا یہ کہ لکھنے والا اپنے تجربوں میں پڑھنے والوں کو بھی شریک کرنا چاہتا ہے۔ یا یہ کہ لکھنے والا اپنے قاری کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس نے دیا اور اس کے لوگوں کو کس نظر سے دیکھا ہے۔ بھی خودنوشت میں لکھنے والا خود اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بنتا۔ اسی لیے خودنوشت لکھنے والے کو ہمیشہ بہت ضبط واحتیاط سے کام لینا پڑتا ہے۔ دوسروں کے بیان میں بھی سچائی اور دیانت داری کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اردو میں خودنوشت کی روایت زیادہ پرانی نہیں ہے۔ مولانا جعفر تھانیسری کی آپ بیتی کالا پانی‘‘ کو اردو کی پہلی خودنوشت کہا جاتا ہے۔ اس کی اشاعت 1923 میں ہوئی۔ اگرچہ اسے اشاعت سے بہت پہلے لکھا جا چکا تھا۔ ہمارے زمانے میں رشید احمد صدیقی کی ’’ آشفتہ بیانی میری‘‘ سرضاعلی کی ’ اعمال نام‘‘ جوش ملیح آبادی کی یادوں کی برات قرة العین حیدر کا سوانحی ناول ’’ کار جہاں دراز ہے، قدرت اللہ شہاب کی ’ شہاب نامہ، خلیق ابراہیم خلیق کی منزلیں گرد کے ماند، اختر الایمان کی اس آباد خرابے میں بہت مشہور ہوئیں۔ خواتین کی آپ بیتیوں میں بیگم حمیدہ اختر کی ہم سفر، ادا جعفری کی ”جو رہی سو بے خبری رہی اور سعیده بانو احد کی ”ڈگر سے ہٹ کر بہت دلچسپ اور مقبول آپ بیتیاں ہیں۔ آپ بیتی بالعموم نثر میں لکھی جاتی ہے۔ لیکن کچھ لوگوں نے منظوم آپ بیتیاں بھی لکھی ہیں۔ احتمالا بیان 1915 تا 1996 اختر الایمان کا اصل نام محمد اختر الایمان تھا۔ وہ نجیب آباد ضلع بجنور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مسجد میں امامت کرتے تھے۔ اختر الایمان کی ابتدائی تعلیم مختلف گاوں اور قصبوں کے مدرسوں اور اسکولوں میں ہوئی۔ انھوں نے میٹرک فتح پوری مسلم ہائی اسکول دبلی سے پاس کیا۔ بی۔ اے دہلی کا بے (موجودہ ذاکر سین کان) سے کیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا مگر اسے مل نہ کر سکے۔ پہلا سال مکمل کرنے کے بعد پنہ چلے گئے جہاں فلموں کے لیے لکھتے رہے۔ کچھ دنوں بعد بھی گئے اور پوری زندگی وہیں گزاری کمیٹی کے اپنے پچاس سالہ قیام کے دوران انھوں نے بہت سی فلموں کے منظرنا ہے اور مکالمے لکھے۔ ان کی لکھی ہوئی بعض فلمیں بہت مقبول ہوئیں مگر ایک بلند پایہ شاعر ہونے کے باوجود، انھوں نے فلموں کے لیے گانے بھی نہیں لکھے۔ اختر الایمان کا شمار اردو کے بڑے نظم گو شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے دس شعری مجموعے شائع ہوئے۔ پہلا مجمودگرداب اور آخری زمستاں سردمہری کا ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ نثر میں انھوں نے اپنی آپ بینی ” اس آباد خرابے میں‘‘ کے علاوہ چند ادبی مضامین بھی لکھے ہیں۔ not to اس آباد خرابے میں رات کتنی گزر چکی تھی اب کچھ یا نہیں صرف اتنا یاد ہے ہم عبدالله پور (جمنا نگر) کے اسٹیشن پر اترے تھے۔ پلیٹ فارم پرلگی ہوئی مٹی کے تیل کی لالٹینیں اجالا کرنے کی پوری کوشش کر رہی تھیں۔ اس کے باوجودبھی گردو پیش پراندمیر غالب تھا۔ میرے پاس ایک مین کا صندوق تھا جس کی بناوٹ ایسی تھی جیسے جسم پر آبلے پڑ جاتے ہیں۔ جگہ جگہ سے اٹھا ہوا تھا۔ ابا نے وہ صندوق میرے سر پر رکھ دیا اور باقی سامان خود اٹھالیا اور ہم اسٹیشن سے باہر نکل کر بغیر کوئی سواری لیے ہوئے ، ایک بھی سڑک پر چل کھڑے ہوئے۔ ہم کہاں جارہے تھے، مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ پچھلا گاؤں، ہم جہاں سے چلے تھے، اس کا نام کم باسی تھا۔ اس گاؤں کے بارے میں ایسی کوئی تفصیل نہیں جو دل چسپ ہو۔ ایسا بھی کوئی واقع ہیں جو بہت اہم ہو، سوا اس بات کے کہ جس گھر میں ہم رہتے تھے۔ کہا جاتا تھا وہاں آسیب کا اثر ہے۔ رضوان پیدا ہوا تھا، جو تقریبا ہفتہ بھر یا پندرہ دن زندہ رہ کر مر گیا تھا۔ اپنے اس چھوٹے بھائی سے مجھے اتنا لگاؤ ہوگیا تھا کہ میں اس کی قبر پر چلا جاتا تھا اور وہاں بیٹھے روتا رہتا تھا۔ بستی کا کوئی آدی ادھر سے گزرتا تھا تو مجھے گھر لے آتا تھا۔ د مد . ا - / لا لاله به ی می == 82 گلستان ادب میرے والد امامت کا پیشہ کرتے تھے۔ انھوں نے مذہبی تعلیم سہارنپور میں حاصل کی تھی۔ بہت اچھے قاری تھے۔ انھیں دیہات بہت پسند تھے۔ امامت کے علاوہ مسجد کے صحن میں کتاب کھولتے تھے جہاں دیہات کے ہر عمر کے لڑکے لڑکیاں پڑھنے آتے تھے۔ بی دیہات جس میں میرا بچپن گزرا زیادہ تر مسلمان آرائیوں اور راجپوتوں کے تھے۔ ان دیہاتوں کا اور میرا بڑا ذہنی تعلق ہے۔ میں بچپن سے اکیلا ہوں ۔ والدہ جب اپنے میکے چلی جاتی تھیں، میں والد کے پاس رہتا تھا۔ میری تعلیم کا ہرج نہ ہو اس خیال سے وہ مجھے اماں کے ساتھ نہیں جانے دیتے تھے۔ میری تعلیم کا تصور ان کے ذہن میں وہی تھا جو انھوں نے خود حاصل کی تھی ۔ قرآن حفظ کرنا اور اردو ، قاری کی تھوڑی شد بد تا کہ بڑا ہو کر میں بھی ان کی طرح امامت کا پیشہ اختیار کر سکوں ، مگر یہ خانہ بدوشانہ زندگی جو میرے والد نے اختیار کر رکھی تھی، اس نے بھی مجھے ایک طرح کی تعلیم پر ہیں مجھے دیا بھی سرکاری اسکول میں داخل کر دیا جاتا تھا۔ کبھی قرآن حفظ کرنے پر لگا دیا جاتا تھا اور بس۔ دن رات اسی طرح گزرتے چلے جارہے تھے۔ ان تصویروں میں جن کا تعلق میرے ذہنی پس منظر سے ہے ایک تصویر میرے ذہن میں بہت واضح ہے۔ میں ایک بیل گاڑی کے پاس کھڑا ہوں ۔ ہم ایک گاؤں چھوڑ کر دوسرے گاؤں میں جارہے ہیں۔ ہمارا سامان نبیل گاڑی میں لا دا جارہا ہے اور میں یہ منظر بڑی بے بسی کے ساتھ دیکھ رہا ہوں۔ بے بی اس لیے کہ میں میگاں نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔ اس گاؤں کا نام رکڑی تھا۔ یہاں بہت سے جو ہڑ تھے۔ جوڑوں میں کنول اور نیلوفر ملتے تھے ۔ سب طرف بڑے بڑے آموں کے گھنے باغ تھے۔ باغوں میں کھلیان پڑتے تھے۔ کویلیں کرتی تھیں ۔ پہیے بولتے تھے۔ ہرے ہرے جنگلوں اور کھیتوں میں ہرنوں کی ڈار میں کھیلیں کرتی دکھائی دیتی تھیں کیکر اور کھجور کے پیڑوں میں یوں کے گھونسلے تھے جن میں بیٹھے وہ جھولتے رہتے تھے، گیت گاتے رہتے تھے۔ ایک دوسرے کا تعاقب کرتے رہتے تھے۔ پڑے تھے۔ شامائیں تھیں ، لال تھے جو موسم کی تبدیلی کے ساتھ رنگ بدلتے تھے، مینائیں تھیں، خوبصورت آواز والے دیڑ تھے ۔غرض کہ وہ سب کچھ تھا جو مجھے مرغوب اور پسند تھا مگر میری مرضی نہیں چلی، مجھے گاڑی میں بٹھا دیا گیا اور گاڑی مجھے لے کر روانہ ہوگئی۔ نگر میں وہیں کھڑا رہ گیا۔ سہی وہ گاوں رکڑی تھا جسے چھوڑ کر ہم کہاں گئے تھے۔ عبدالله پور (جمنا نگر ) سے چل کر ہم جنگا دھری پنچے ۔ شہر کے باہر سڑک کنارے ایک چوکی تھی وہاں جو چوکیدار تھا، ابا سے جانے کیوں اس کی تکرار ہوگئی۔ اب ایک دم بگڑ گئے، جھگڑا شاید اس پر ہوا تھا کہ وہاں رات گزارنا چاہتے تھے۔ اس جھگڑے کے بعد انھوں نے وہاں رات گزارنے کا ارادہ ترک کر دیا اور دوسری سمت جانے والی ایک کچی سڑک پر مڑ گئے۔ رات چاندنی تھی۔ کچی سڑک پر تھوڑی دیر چلنے کے بعد ایک بہت بڑا تالاب آیا۔ ایا تالاب کے کنارے رک گئے۔ آگے تالاب سے گزر کر جانا تھا۔ تھوڑی دیر سوچنے کے بعدابا نے کہا: ” میرے پیچھے پیچھے آ، اور لاٹھی سے پانی اپنے ہوئے تالاب میں 83 اس آباد خرابے میں اتر گئے اور دھیرے دھیرے لاٹھی سے پانی ناپنے ناپنے دوسری طرف بچ گئے۔ تالاب سے گزرنے کے بعد راستے میں دو تین باغ پڑے گرایا نہیں رکے۔ اس کے بعد ایک کانس کا جنگل آیا مگر وہ چلتے رہے۔ ہم بہت دیر تک چلتے رہے۔ جنگل کے بولتے سناٹے کے سوا اور کچھ سنائی نہیں دیتا تھا۔ گاہے گاہے آس پاس سے گیدڑوں کے بولنے کی آواز سنائی دے جاتی تھی۔ بہت دیر چلنے کے بعد پھر ایک جوہڑ آیا جس کے دائیں طرف کالس کا جنگل تھا اور سامنے ایک باغ ۔ ابا نے باغ میں سامان رکھ دیا۔ ایک چادر نکال کر بچھا دی اور کہا سوجاؤ۔ میں لیٹتے ہی سوگیا۔ یہ جگہ جہاں ہم نے رات قیام کیا تھا ایک قبرستان تھا۔ کیاکی سے ہم جس جگہ کے لیے روانہ ہوئے تھے، اس کا نام سنگھ مدرسہ تھا۔ ابا نے ایک راہ گیر سے دریافت کیا۔ معلوم ہو اس گھر مدرسہ اس جگہ سے بہت قریب ہے۔ وہ باغ جہاں ہم نے رات قیام کیا تھا اور سکھ مدرسہ کے چ وہی اس کا جنگل جس کا میں نے ذکر کیا ہے اس باغ سے تھوڑے فاصلے پر ایک گاؤں تھا۔ جس کا نام سکھ تھا اسی نسبت سے اس مدرسے کا نام سنگھ مدرسہ تھا تھوڑی دیر بعد ہم سنگھ مدرسہ گئے۔ سکھ مدرسہ دراصل ایک یتیم خانہ تھا جو ایک بغیر چھت کی مسجد اور چند چھوٹس کے چہروں پرمشتمل تھا۔ اس سکھ مدرسہ کے ہم اور روح رواں حافظ الله دریا نام کے ایک صاحب تھے۔ گورے چھے ، تو تھوڑا نکلتا ہوا، طاق سا چہرہ اور پھیلی ہوئی تاک، بات چیت میں اچھے تھے اور گوارا آداب و اطوار کے انسان تھے۔ جب ہم سکھ مدرسہ میں آئے اماں اپنے میکے چلی گئی تھیں۔ ابا یہاں کیوں آئے تھے، مجھے نہیں معلوم، اس لیے کہ یہاں امامت کا کوئی سلسلہ نہیں تھا۔ اس مدرسے میں تمہیں پنتیس لڑکے تھے۔ یہاں دینی تعلیم کا انتظام بھی تھا۔ جہاں نہ صرف اس مدرسے کے لڑکے پڑھتے بلکہ سگی بستی کے لڑکے لڑکیاں بھی آتے تھے۔ یہ مدرسہ جنگل کے نچوں تھا ، جس کے دوطرف کھیت تھے۔ تیسری طرف آموں کا باغ اور سکھ بہتی اور چوڑی جانب کانس کا بہت بڑا جنگل، جس کے ایک سرے پر ایک بہت بڑی جھیل تھی جس کے پانی میں گر چھ تیرتے دکھائی دیتے تھے جو بھی کبھی کنارے پر بھی آجاتے تھے اور دھوپ میں لیٹے رہتے تھے بجھیل کا بیشتر حصہ نسل اور پیٹرے کے جھنڈ سے پڑا ہوا تھا۔ یہاں مرغابی اور چے کا شکار کرنے بہت شکاری آتے تھے، خاص طور پر انگریز سردیوں میں جب اس کا جنگل پھولتا تھا تو بہت اچھا لگتا تھا۔ کچھ روز ساتھ رہ کر میرے والد مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ بعد میں پتہ چلا انھوں نے امامت کا پیشہ ترک کردیا اور مدرسے کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کا کام اپنے نے لیا تھا۔ مدرسے کے لیے چندہ وہ گاؤں گاؤں گھوم کر کرتے تھے۔ حافظ اللہ دیا بھی زیادہ تر میں کام کرتے تھے اور گرمیوں میں چندہ اکٹھا کرنے شملہ چلے جاتے تھے۔ یہاں پر قرآن حفظ کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جانے 84 گلستان ادب سے پہلے ایک دن ابا نے مجھے نماز سکھائی۔ پوچھا سوره فاتی آتی ہے؟ میں نے نیت باندھے باندھے کہا ” آتی ہے۔ کہنے لگے نماز کی نیت بندھی ہوتو بولا نہیں کرتے۔ میں نے نیت باندھے باندھے کہا ’’را‘‘ سکھ مدرسہ چندے کے روپیہ پک چل رہا تھا ان کی مرضی اور توکل پر زیادہ یہاں کھانا کم اور کھانے کا انتظار زیادہ رہتا تھا۔ راتوں کی افزائش رزق کے لیے چلہ کشی اور قرآن خوانی ہوتی۔ جب کئی دن تک آس پاس کے گاؤں سے کوئی دعوت یا اور کچھ کھانے کونہیں آتا تھا تو لڑکوں کو منہ اندھیرے اٹھایا جاتا تھا۔ انھیں کچھ کنکریاں دے دی جاتی تھیں جن پر وہ قرآن کی سورة کی کئی بار پڑھ کر دم کیا کرتے تھے۔ کون سی سورت تھی، اس وقت مجھے یا نہیں ۔ سردیوں کی راتوں میں اٹھنا مصیبت معلوم ہوتا تھامگرقہ درویش بر جان درویش۔ کچھ دن بعد ایا واپس آگئے۔ اماں بھی آ گئیں۔ ایک رات اتاں سوتے سوتے ایک دم ہڑ بڑا کر اٹھیں۔ انھیں اپنے سینے پر کچھ رینگتا ہوا محسوس ہوا۔ انھوں نے جھانک دیا۔ ابا نے جلدی سے لالٹین جلالی دیکھا ایک چھوٹا سا سانپ ہے۔ ایک رات ہم چولھے کے پاس بیٹھے کھانا کھارہے تھے۔ اچانک چولھے کی عقبی دیوار سے ایک بہت بڑا سانپ نکلا اور تیزی سے دوسری طرف چلا گیا اور غائب ہوگیا۔ اس کے علاوہ اور بھی کچھ یادیں ہیں، جن میں دو اہم یہ ہیں۔ ایک لالی کا سر اور دوسرے برسات کے کیڑے ۔ سکھ مدرسہ میں دو بہن بھائی پڑھتے تھے۔ لڑکے کا نام میرے ذہن میں نہیں ۔ لڑکی کا نام لالی تھا۔ وہ کسی بیرے بابٹلر کے بچے تھے جو شملہ میں کام کرتا تھا۔ انھیں حافظ اللہ دیا لے آئے تھے۔ لالی بہت چھوٹی تھی۔ یہی کوئی چار پانچ سال کی ہوگی۔ سب لڑکے اس سے بڑا لاڈ کرتے تھے۔ ایک روز سوکر اٹھے تو معلوم ہوا لالی غائب ہے۔ سب کو بڑا تعجب ہوا۔ وہ کہاں جاسکتی ہے۔ مدرسے میں ہر جگہ ڈھونڈ اگر نہیں ملی۔ سب جنگل کی طرف دوڑے۔ اسے پکارتے ہوئے چھوڑ کے جنگل میں ایک طرف گئے، کچھ دوسری طرف، آخر لابی مل گئی۔ ایک کھٹ کے باہر کچھ خون، خون میں لت پت لالی کے کپڑے اور اس کی کھوپڑی پڑی تھی۔ اس کے بھا اٹھا لے گیا تھا۔ ہرطرف جنگل ہونے کی وجہ سے رات کو چھکے اور پیئے بہت آتے تھے اور جب کھانا کھانے بیٹھتے تھے تو دال میں گر گر جاتے تھے۔ ان کی بو اتنی تیز اور خراب ہوتی تھی کہ اب تک میری ناک میں بھی ہوئی ہے۔ کچھ مدت بعد ابا اور حافظ اللہ دیا میں اختلاف ہو گیا۔ کیوں؟ اس کی تفصیل مجھے نہیں معلوم، مگر اس اختلاف میں نابینا حافظ کا ہاتھ ضرور تھا۔ اس واقعے کے بعد سنگھ مدرسے سے ہمارا سلسلہ منقطع ہوگیا اور ہم رہنے کے لیے سکھ بستی میں چلے گئے۔ سگی بستی پچاس ساٹھ گھروں کا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں زیادہ تر مسلمان راجپوت اور ادائیں کاشت کار تھے وہاں 85 85 اس آباد خرابے میں رحمت الله نام کا ایک شخص تھا جس نے اپنی حویلی کا ایک حصہ میں رہنے کے لیے دے دیا تھا۔ میری تعلیم کا ڈھرا پھر بدل گیا۔ میں سنگھ مدرسے میں قرآن حفظ کرہا تھا مگر سگھر بستی میں آنے کے بعد ابا نے مجھے سرکاری اسکول میں داخل کرادیا۔ سکھ سے ڈیڑھ میل کے فاصلے پر ایک پرانا قصبہ تھا جس کا نام بدوڑی تھا۔ وہاں ایک مڈل اسکول تھا۔ پڑھنے کے لیے میں وہاں جانے لگا۔ مدرسے کے قریب ایک محل نما مکان مل تماکیاگل ہی تھا۔ کس کا تھا نہیں معلوم ۔ بہت سال بعد معلوم ہوا وہ بیربل کاگل تھا۔ قصبہ بوڑی بھی بہت قدیم بستی معلوم ہوتا تھا۔ جگہ جگہ منہدم مکانات تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا یہ شہر ضروری قدیم تہذیب کا حصہ ہے۔ ابھی سال پہلے میں نے اخبار میں پڑھا، وہاں کھدائی ہوئی دو تین صدی قبل مسیح کی تہذیب کے آثار ملے۔ سگی بستی سے نکلتے ہی دائیں بائیں آموں کے باغ تھے اور میں کانس کا جنگل ۔ بوڑیہ کا راستہ اسی جنگل سے ہوکر گزرتا تھا۔ یہ اس کا اس کے جنگل کا سلسلہ تھا جو سکھ مدرسے کے اردگرد پھیلا ہوا تھا۔ مارکنڈ ندی اس جنگل کو چھوتی ہوئی گزرتی تھی۔ پانی صرف برسات کے دنوں میں ہوتا تھا۔ باقی دنوں میں مارکنڈ سوکھا پڑا رہتا تھا۔ چلچلاتی دھوپ اور یخ بستہ سردیوں میں جب میں اس ندی کی ریت پرسے نگے پاؤں گزرتا تھا، تو میرے آنسو نکل آتے تھے۔ تلووں کو دھوپ اتا نہیں جلاتی تھی بتا سردی جاتی تھی۔ مجھے اکثر ایسا احساس ہوتا ہے جیسے اس بستی میں کئی جنم گزارے تھے۔ کتنا اتار چڑھاؤ دیکھا اور بھگتا، جیسے ہفت خواں طے کیا ہو۔ اختر الایمان) الفا وی لفظونی آسیب not to be res خانہ بدوش جو ہر : : : بھوت پریت بے ٹھکانا، جس کا کوئی مستقل گھر نہ ہو چھوٹا تالاب 86 گلستان ادب ڈار : مرغوب و کانس : روح رواں : طباق سا چہره : نسل : پیر ے : چھے : افزائش : قهرورولیش برجان درویش: منہدم : یخ بستہ : ہفت خواں : ہرنوں کا جھنڈ پسندیده ایک قسم کی بھی گھاس جو غیر رای زمین پر پیدا ہوتی ہے وہ شخص جو کسی کام کی اصل نئے داری سنبھالے ہوئے ہو چوڑا چکلا چهره سرکنڈا، زرگل ایک تم کی گھاس ایک چھوٹی آبی چڑیا اضافہ زیادتی غریب کا غصہ اپنے ہی اوپر نکلتا ہے گرا ہوا، مسمار کیا ہوا ( بہت زیادہ ٹھنڈا، برف کی طرح جما ہوا کیکاؤس کی رہائی کے لیے تم نے مازندران تک جو راستہ سات دن میں ہفت خواں کہا جاتا ہے۔ مراد ٹھن اور مشکل کام طے کیا اسے غور کرنے کی بات : ایک اچھی آپ بیتی میں صرف گزری ہوئی باتوں کا بیان ہی نہیں ہوتا بلکہ اس بیان کو حقیقت پر بھی بنی ہونا چاہیے۔ اختر الایمان نے اپنی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ، اپنی خامیوں اور ناکامیوں کو بھی دیانت داری کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اختر الایمان کی نثر بہت سادہ صاف اور رواں ہے۔ ان کی نثر میں ذرا بھی تصنع اور آرائش نہیں ہے۔ به اقتباس اختر الایمان کی خودنوشت اس آباد خرابے میں کے اس حصے سے لیا گیا ہے جب مصنف کو گیارہ سال کی عمر میں اپنا گاوں چھوڑنا پڑا غور ہے کہ چوتھے پیراگراف میں مصنف نے اپنے گاؤں کی کتنی اچھی اور کی تصویریں پیش کی ہیں۔ و 87 اس آباد خرابے میں سوالات 1. خودنوشت یا آپ بیتی کی تعریف بیان کیے۔ 2. اختر الایمان کی ایک طرح کی تعلیم پر کیوں نہ جم سکے؟ 3. اپنے گاؤں رکھی کی کیا کیا چیزیں اختر الایمان کو پسندتھیں؟ 4. اختر الایمان جب اپنے والد کے ساتھ جا ری ہے تو وہاں کیا منظر تھا؟ 5. مدرسے میں رہنے والی نچی سالی کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟ ا . آپ کو اپنی زندگی کے کچھ ایسے واقعات بیاد ہوں گے جن کی یاد آپ کے ذہن میں ہوگی ، انہیں یادداشت کی شکل میں لکھے۔ ON 2 not to be reputasha

RELOAD if chapter isn't visible.