CH 06.cdr سید عابد من (1896 - 1978) ڈاکٹر سید عابد حسین کا وطن داگی پر ضلع فرخ آباد( اتر پردیش) تھا۔ عابد حسین کی پیدائش بھوپال (مدھیہ پردیش) میں ہوئی، جہاں ان کے دادا اور والد ملازمت کرتے تھے۔ سید عابد سین کی والدہ کاتعلق لکھنو کے ایک تعلقہ دار گھرانے سے تھا۔ ان کا بچین دائی پور اور لکھنو میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول میں اور ثانوی تعلیم بھوپال میں حاصل کی۔ الہ آباد یونیورٹی سے بی۔ اے پاس کیا اور پھر اعلی تعلیم آکسفورڈ یونیورٹی، برطانیہ اور برین یونیورٹی، جرمنی میں حاصل کی۔ سید عابد حسین نے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی۔ جرمنی سے واپس آ کر ڈاکٹر ذاکر حسین اور پروفیسر مجیب کے ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کام کرنے لگے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کام کرنے کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر عابد حسین تصنیف و تالیف کا کام بھی کرتے رہے۔ انھوں نے سب سے پہلے 1926 میں ایک ڈراما ” پرده غفلت‘ لکھا۔ جرمن زبان کی کئی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا۔ جن میں گوئٹ کیا فاؤسٹ سب سے اہم ہے۔ ڈاکٹر عابدحسین نے مہاتما گاندھی کی خودنوشت کا ترجمه تلاش خت‘‘ کے نام سے اور پنڈت جواہر لال نہرو کی ڈسکوری آف انڈیا کا ترجمہ تلاش ہند کے نام سے اردو میں کیا۔ اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی کئی کتابیں لکھیں جن میں قومی تہذیب کا مسئلہ اور ہندوستانی مسلمان آئینہ ایام میں اردو انگریزی دونوں زبانوں میں شائع ہوئیں۔ انھوں نے اردو کے علمی سرمایے میں قابل قدر اضافہ کیے۔ وہ دو مشہور جرائد اسلام اور عصر جدید اور اسلام اینڈ دی موڈرن ات‘‘ کے بانی مدیر بھی رہے۔ چوری اور اس کا کفارہ گاندھی جی کی آپ بیتی کے اردو تجھ سے ماخوذ ہے۔ - چوری اور اس کا کاره ہائی اسکول میں جن لڑکوں سے مجھ سے مختلف اوقات میں دوستی رہی ان میں سے دولی دوست کہے جا سکتے ہیں۔ ایک سے میری دوستی زیادہ دن نہیں رہی۔ میں نے اسے نہیں چھوڑا بلکہ اس نے مجھے چھوڑ دیا، اس تصور پر کہ میں نے دوسرے سے میل جول پیدا کیا۔ اس دوسری دوستی کو میں اپنی زندگی کا ایک الم ناک واقعہ بجھتا ہوں۔ یہ بہت دن قائم رہی۔ میں نے اسے اصلاح کے جوش میں شروع کیا تھا۔ میرابی رفیق اصل میں میرے مجھے بھائی کا دوست تھا۔ یہ دونوں ہم سبق تھے۔ میں اس کی کمزوریوں سے واقف تھا مگر اسے وفادار دوست سمجھتا تھا۔ میری ماں نے، میرے بڑے بھائی نے میری بیوی نے مجھے متنبہ کیا کہ تمھاری صحت خراب ہے۔ بیوی کی بات تو میں شوہر کے غرور میں کب سنتا تھا، لیکن ماں اور بڑے بھائی کی رائے کے خلاف عمل کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔ پھر می میں نے ان سے عذر معذرت کی اور کہا میں جانتا ہوں کہ اس میں وہ کزوریاں ہیں جو آپ نے بتائیں مگر آپ کو اس کی اچھائیوں کی خبر ہیں ۔ وہ مجھے گمراہ نہیں کرسکتا کیوں کہ میں اس سے اس نیت سے ملتا ہوں کہ اس کی اصلاح کروں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر وہ اپنے اطوار درست کرے تو بڑا اچھا آدی ہوجائے گا۔ میری التجا ہے کہ آپ میری طرف سے تردد نہ کریں۔ اس سے ان کا اطمینان تو نہیں ہوا مگر انھوں نے میری توجیہ مان لی اور مجھے میری راہ چلنے دیا۔ آگے چل کر مجھے معلوم ہوا کہ میرا اندازہ غلط تھا۔ جو کسی کی اصلاح کرنا چاہتا ہے وہ اس کے ساتھ شیر وشکر ہوکر نہیں رہ سکتا۔ کچی دونی روحانی اتحاد کا نام ہے جو اس دنیا میں بہت کم ہوتا ہے۔ صرف ان ہی لوگوں میں جن کی طبیعت ایک ہی ہو، دوستی پوری طرح مکمل اور پائدار ہوسکتی ہے۔ دوستوں میں ہر ایک کا اثر دوسروں پر پڑتا ہے، اس لیے دوستی میں اصلاح کی گنجائش بہت کم ہے۔ میری رائے میں کسی ایک شخص سے ایک جان دو قالب ہوجانے سے پرہیز کرنا چاہیے، کیوں کہ انسان پر بنسبت نیکی کے بدی کا اثر جلد پڑتا ہے اور جوشخص خدا کا دوست ہونا چاہتا ہے اسے لازم ہے کہ یا تو اکیلا رہے یا ساری دنیا سے دو کرے ممکن ہے کہ میری رائے غلط ہو مگر مجھے تو قلبی دوستی پیدا کرنے میں ناکامی ہوئی۔ جن دنوں میں میری ملاقات اس دوست سے ہوئی، راج کوٹ میں’ریفارم‘‘ کا بڑا زور تھا، اس نے مجھے بتایا کہ ہمارے 61 چوری اور اس کا کفارہ بہت سے استاد چھپ کر شراب اور گوشت کا استعمال کرتے ہیں۔ اس نے راج کوٹ کے بہت مشہور آدمیوں کے نام بھی لیے جو اس جماعت میں شریک تھے۔ اس نے کہا کہ اس زمرے میں ہائی اسکول کے بعض لڑکے بھی ہیں۔ مجھے یہ سن کر تجب اور رنج ہوا۔ میں نے اپنے دوست سے اس کا سبب پوچھا تو اس نے کہا ہماری قوم گوشت نہیں کھاتی اس لیے کزور ہے۔ انگریز لوگ گوشت کھاتے ہیں، اسی لیے وہ ہم پر حکومت کرنے کے قائل ہیں تم جانتے ہو میں کیسا مضبوط ہوں اور کتنا تیز دوڑتا ہوں۔ اس کا سبب یہی ہے کہ میری غذا گوشت ہے۔ گوشت کھانے والوں کے پھوڑےپنی نہیں نکلے اور بھی نکل بھی آئیں تو جلد اچھے ہوجاتے ہیں۔ ہمارے استاد اور ہمارے دوسرے بڑے آدی جو گوشت کھاتے ہیں، احمق نہیں ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اس میں کیا خوبیاں ہیں تمھیں بھی اس کی تقلید کرنا چاہیے۔ آخر آزمائش کرنے میں کیا حرج ہے۔تم آزما کر دیکھو کہ گوشت کھانے سے کیسی طاقت آتی ہے۔ گوشت کھانے کی تائید میں یہ ساری دلیلیں ایک ہی نشست میں پیش نہیں کی گئیں۔ یہ اس طول طویل استدلال کا خلاصہ ہے جس سے میرا دوست مجھ پر وقتا فوقتا اثر ڈالتا رہا۔ میرے بھلے بھائی پہلے ہی مغلوب ہو چکے تھے۔ اس لیے وہ میرے دوست کی دلیلوں کی تائید کرتے تھے۔ میں واقعی اپنے بھائی اور اس دوست کے مقابلے میں بالکل میں معلوم ہوتا تھا۔ وہ مجھ سے زیادہ قوی اور جفاکش بھی تھے اور جری بھی۔ اس دوست کے کارناموں نے مجھ پر جادو سا کر دیا۔ وہ بہت دور تک اور بڑی تیزی سے دوڑ سکتا تھا، کود چاند میں مشاق اور سخت سے سخت جسمانی سزا برداشت کر لیتا تھا۔ وہ مجھے اکثر اپنے کارنامے دکھایا کرتا تھا اور یہ قاعدے کی بات ہے کہ انسان دوسروں میں وہ نہیں دیکھ کر جو اس میں نہ ہوں، دنگ رہ جاتا ہے۔ اس کے بعد میرے دل میں ولولہ انا کہ اس کے جیا بنوں۔ میں نے کو دسکتا تھا، نہ دوڑ سکتا تھا۔ میں نے سوچا کہ میں بھی اس کی طرح مضبوط کیوں نہ ہو جاؤں؟ | پھر میں بزدل بھی تھا۔ مجھے ہر وقت چوروں، بھوتوں اور سانپوں کا کھٹکا رہتا تھا۔ رات کو گھر سے باہر قدم رکھنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اندھیرے سے میری روح فنا ہوتی تھی۔ میرے لیے اندھیرے میں سونا تقریبا ناممکن تھا، کیوں کہ مجھے وہم ہوتا تھا کہ ایک طرف سے بھوت چلے آرہے ہیں، دوسری طرف سے چور تیسری طرف سے سانپ، بغیر کمرے میں روشن رکھے مجھے سوتے نہ بنا تھا۔ میں اپنے خوف کو اپنی کمسن بیوی پر کیوں کر ظاہر کرتا؟ میں جانتا تھا کہ ان میں مجھ سے زیادہ ہمت ہے اور مجھے اپنے اوپر شرم آتی تھی۔ انہیں سانپوں اور بھوتوں کا کوئی ڈر نہ تھا۔ وہ اندھیرے میں ہر جگہ چلی جاتی تھیں۔ میرے دوست کو میری ان کمزوریوں کا حال معلوم تھا۔ وہ کہتا تھا کہ میں زندہ سانپ ہاتھ پر رکھ سکتا ہوں۔ چوروں کا مقابلہ کرسکتا ہوں اور بھوتوں کا قائل ہی نہیں ہوں ۔ یہ گوشت کھانے کی برکت ہے۔ 62 نواۓ اردو ان سب باتوں کا مجھ پر کافی اثر پڑا۔ میں نے ہتھیار ڈال دیے۔ مجھے رفتہ رفتہ یقین ہونے لگا کہ گوشت کھانا اچھا ہے اس سے مجھ میں قوت اور جرات پیدا ہوجائے گی اور اگر سارا ملک گوشت کھانے لگے تو انگریز مغلوب ہوجائیں گے۔ اب تجر بہ شروع کرنے کے لیے ایک دن مقرر ہوا۔ اسے پوشیدہ رکھنا بہت ضروری تھا۔ سارا گاندھی خاندان ویشنو تھا اور میرے والدین تو بڑے پکے ویشنو تھے۔ وہ پابندی سے حویلی” جایا کرتے تھے، بلکہ خود ہمارے خاندان کے جداگانہ مندر بھی تھے جین مت کا گجرات میں بہت زور تھا اس کا اثر ہر وقت ہر جگہ نظر آتا تھا۔ گجرات کے جین اور ویشنو لوگوں کو گوشت کھانے سے جتنی سخت نفرت تھی اس کی مثال نہ ہندوستان میں ملتی ہے اور نہ کسی اور ملک میں۔ میری ولادت اور پرورش اس ماحول میں ہوئی تھی اور مجھے اپنے والدین سے بڑی محبت تھی۔ میں جانتا تھا کہ جس دم وہ میرے گوشت کھانے کی خبر سن پائیں گے، صدے کے مارے مر جائیں گے۔ سچائی کی محبت نے مجھے اور بھی زیادہ احتیاط پرمجبور کر دیا۔ میں ہی نہیں کہہ سکتا کہ مجھے اس وقت اس کا احساس نہ تھا کہ اگر میں نے گوشت کھانا شروع کر دیا تو والدین کو دھوکا دینا پڑے گا لیکن میں نے دل میں ٹھان لی کہ ریفارم“ ضرور کروں گا۔ اس میں زبان کی چاٹ کو ٹل نہ تھا۔ میں نے گوشت کے مزے کی کوئی خاص تعریف نہیں سنی تھی، مگر میں چاہتا تھا کہ میں تقوی اور بہادر ہو جاؤں اور میرے دیں کے لوگ بھی ایسے ہی ہو جائیں تاکہ ہم انگریزوں کو شکست دیں اور ہندوستان کو آزاد کرالیں۔ ’سوراج‘‘ کا لفظ میں نے اب تک نہیں سنا تھا، مگر آزادی کے معنی جانتا تھا’’ریفارم‘‘ کے جوش نے مجھے اندھا کر دیا۔ میں نے اس بات کو فی رکھنے کا بندوبست کیا، اور اپنے دل کو سمجھایا کہ محض اس فعل کو والدین سے چھپانا حت سے انحراف نہیں ہے۔ آخر وہ دن آگیا۔ اس وقت میرا جو حال تھا اسے پوری طرح بیان کرنا مشکل ہے۔ ایک طرف تو ریفارم‘ کا جوش اور زندگی میں ایک اہم تبدیلی کی جدت کا لطف تھا اور دوسری طرف اسی کام کو چوروں کی طرح چپ کر کرنے کی شرمھی۔ میں نہیں کہہ سکتا دونوں میں سے کون سی چیز مجھ پر غالب تھی۔ ہم نے دریا کے کنارے جا کر ایک گوشہ تنہائی ڈھونڈا اور میں نے اپنی عمر میں پہلی بار گوشت دیکھا۔ اس کے ساتھ توری روٹی بھی تھی۔ مجھے دونوں چیزوں میں سے کوئی چیز پسند نہ آئی ۔ بکری کا گوشت چڑے کی طرح سخت تھا مجھ سے کسی طرح نہیں کھایا جاتا تھا۔ مجھے قے ہوگئی اور کھانا چھوڑ کر اٹھنا پڑا۔ اس کے بعد کی رات بڑی بری طرح گزری۔ مجھے بڑا ہولناک خواب نظر آیا۔ جب آنکھ گئی تھی تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زندہ کری میرے پیٹ کے اندر میاری ہے اور میں گھبرا کر اچھل پڑتا تھا مگر میں اپنے دل کو بجھاتا تھا کہ گوشت کا کھانا فرض ہے اور اس سے مجھے کچھ تسکین ہو جاتی تھی۔ چوری اور اس کا کفاره 63 میرا دوست آسانی سے ہار ماننے والا تھا۔ اب عدہ مسالے ڈال کر گوشت کے مزیدار کھانے پکانے لگا۔ کھانا کھانے کے لیے ہمیں ایک دریا کے کنارے سوئی جگہ ڈھونڈنے کی ضرورت تھی بلکہ ایک ریاست کے مکان میں کھاتے تھے جس میں کھانے کا علاحدہ کره میز کرسی سے سجا ہوا تھا۔ میرے دوست نے وہاں کے بڑے اور پی سے ساز باز کر کے یہ انتظام کیا تھا۔ میں اس لانے میں آ گیا۔ مجھے بوٹی سے کراہت تھی وہ دور ہوگئی۔ بکری پر ترس آتا تھا وہ جاتا رہا اور اب گوشت کی بوٹی میں تو نہیں مگر سالن میں مزا آنے لگا۔ یہ سلسلہ قریب قریب ایک سال تک چلتا رہا، لیکن اس عرصہ میں گوشت کی دعوتئیں سب ملا کر مجھے سے زیادہ نہیں ہوئیں، کیوں کہ ریاست کا مکان روز روز میں ملتا تھا اور پھر یہ وقت بھی تھی کہ مزیدار کھانوں میں اکژ صرفہ بہت ہوتا تھا۔ میرے پاس اس ریفارم کی قیمت ادا کرنے کے لیے دام نہ تھے اس لیے ہر مرتبہ خرچ کا انتظام میرے دوست ہی کو کرنا پڑتا تھا۔ مجھے کچھ خبر تھی کہ وہ کہاں سے اتارو پیلاتا ہے مگر کسی نہ کسی طرح وہ لے ہی آتا تھا، کیوں کہ وہ اس پر تلا ہوا تھا کہ مجھے گوشت کھانے کا عادی کر دے۔ مگر آخر اس کی آمدنی بھی محدود ہی ہوگی، اس لیے بہت کم ہوتیں ہوئیں اور وہ بھی طویل وقوں کے بعد۔ جب کبھی میں یہ چوری کی دعوتیں اڑاتا تھا تو ظاہر ہے کہ گھر آ کر کھانا نہیں کھا سکتا تھا۔ میری والدہ قدرتی طور پر کھانے کے لیے اصرار کرتی تھیں اور خواہش نہ ہونے کا سبب پتی تھیں۔ میں ان سے کہہ دیتا تھا۔ آج مجھے بھوک نہیں ہے۔ میرے ہاضے میں کچھ خرابی ہے۔ یہ بہانے کرنے پر میرا دل مجھے ملامت کرتا تھا۔ میں جانتا تھا کہ جھوٹ بول رہا ہوں اور وہ بھی اپنی والدہ سے۔ مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ اگر میرے باپ کو میرے گوشت کھانے کی خبر ہوئی تو انھیں بہت سخت صدمہ ہوگا۔ یہ خیال میرے لیے سوہان روح تھا۔ اس لیے میں نے اپنے دل میں کہا اگر چہ گوشت کھانا بہت ضروری چیز ہے اور یہ بھی بہت ضروری ہے کہ ملک میں غذا کی اصلاح کی جائے، لیکن اپنے ماں باپ کو دھوکا دینا اور ان سے جھوٹ بولنا گوشت نہ کھانے سے بھی بدتر ہے۔ جب تک وہ زندہ ہیں گوشت کھانا مکن نہیں جب وہ نہ رہیں گے اور میں آزاد ہو جاؤں گا تو کھلم کھلا گوشت کھاؤں گا لیکن میں اس وقت تک اس سے پرہیز کروں گا۔ اس پلوس خواہش کی وجہ سے کہ اپنے والدین سے جھوٹ نہ بولوں میں نے گوشت چھوڑ دیا مگر اپنے دوست کی صحبت نہ چھوڑی۔ اس کی اصلاح کرنے کے جوش نے مجھے برباد کر دیا تھا، مگر مجھے اس کا بالکل احساس نہ تھا۔ مجھے ابھی اپنی چند اور لغزشوں کا ذکر کرنا ہے جو گوشت کھانے کے زمانے میں اور اس سے پہلے مجھ سے سرزد ہوئیں۔ ان کا سلسلہ میری شادی کے وقت سے یا اس کے تھوڑے ہی دن بعد شروع ہوتا ہے۔ میرے ایک عزیز کو اور مجھے سگریٹ پینے کا چھکا لگ گیا۔ یہ بات نہ تھی کہ ہم اس عادت کو اچھا بجھتے ہوں یا سگریٹ کی 64 نواۓ اردو خوشبو پر رکھے ہوں ۔ میں تو صرف منھ سے دھواں نکالنے میں ایک خیالی لطف آتا تھا۔ میرے چچا اس کے عادی تھے اور جب ہم انھیں سگریٹ پیتے دیکھتے تھے تو ہمارا جی چاہتا تھا کہ ان کی طرح ہم بھی ہیں مگر ہمارے پاس دام تو تھے ہیں اس لیے ہم نے ابتدا اس طرح کی کہ ہم سگریٹ کے ٹکڑے جو ہمارے پاپی کر پھینک دیتے تھے پر لاتے تھے۔ مگر بہی کھڑے ہر وقت نہیں مل سکتے تھے اور ان سے دھواں بھی زیادہ نہیں لگتا تھا۔ اس لیے ہم نے نوکروں کے جیب خرچ میں سے پیسے چرانا شروع کیے کہ ہندوستانی سگریٹ خریدیں مگر مصیبت کی تھی کہ انہیں میں کہاں، کیوں کہ ظاہر ہے کہ ہم بڑوں کے سامنے تو سگریٹ نہیں سکتے تھے۔ چند ہفتے تک تو ہم کسی نہ کسی طرح ان چرائے ہوئے پہیوں سے کام چلاتے رہے۔ اس عرصے میں ہم نے سنا کہ ایک درخت کی ڈال میں مسامات ہوتے ہیں اور اس کے کڑے سگریٹ کی طرح پیے جاسکتے ہیں۔ ہم انھیں لے آئے اور پینا شروع کردیا۔ لیکن ان چیزوں سے ہماری تسلی نہ ہوتی تھی۔ آزادی نہ ہونا ہمیں کھلے گا۔ ہم سے یہ برداشت نہ ہوتا تھا کہ ہم بغیر بڑوں کی اجازت کے کچھ نہ کرسکیں۔ آخر زندگی سے متنفر ہوکر ہم نے خودکشی کی ٹھان لی۔ مگر اب یہ سوال تھا کہ خوشی کیسے کی جائے؟ زہر کھائیں تو زہر کہاں سے لائیں؟ ہم سے کسی نے کہا کہ دھتورے کے بج زہر قاتل ہیں ۔ ہم دوڑے ہوئے جنگل میں گئے اور تم لے آئے۔ ہم نے شام کے وقت کو اس کام کے لیے مبارک سمجھا۔ ہم ”کیداری مند‘ میں گئے۔ وہاں کے چراغ میں گھی ڈالا۔ ”درشن‘ لیے اور کوئی سونی جگہ ڈھونڈنے لگے۔ مگر ہماری ہمت نے جواب دے دیا۔ فرض کرو کہ ہم فورا نہ مرے! اور آخر مرنے سے فائدہ ہی کیا؟ آزادی نہیں ہے تو نہ سہی، اسی حالت کو کیوں نہ برداشت کریں؟ پھر بھی ہم دوتین نی نکل ہی گئے ۔ ہم دونوں موت سے ڈر گئے اور ہم نے طے کیا کہرام بی مندر جا کر حواس درست کریں اور خوشی کا خیال چھوڑ دیں۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ خودکشی کرنا اتنا سہل نہیں جتنا اس کا ارادہ کرتا اور اس دن سے جب بھی میں سنتا ہوں کہ فلاں شخص خوشی کی دھمکی دے رہا ہے تو مجھ پر بہت کم اثر ہوتا ہے۔ خودکشی کے خیال کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم دونوں نے سگریٹ کے ٹکڑے پینا اور سگریٹ کے لیے نوکروں کے پیسے چرانا چھوڑ دیا۔ جب سے میں بالغ ہوا ہوں مجھے بھی تمباکو پینے کی خواہش نہیں ہوئی، اور میں اس عادت کو تہذیب کے خلاف، صفائی کے خلاف اور مضر سمجھتا ہوں۔ یہ بات میری سمجھ میں بھی نہ آئی کہ ساری دنیا میں لوگ تمباکو پینے پر کیوں جان دیتے ہیں۔ مجھ سے تو ریلی کے ڈبے میں جہاں تمباکو پینے والے بھرے ہوں نہیں بیٹا جاتا۔ میرا دم گھٹنے لگتا ہے۔ 65 چوری اور اس کا کفارہ لیکن اس سے کہیں بڑی چوری کا میں کچھ دن بعد مرتکب ہوا جب میں نے پیسے چرائے تو میری عمر بارہ تیرہ سال کی بلکہ اس سے بھی کم تھی۔ دوسری چوری کے وقت میں پندرہ برس کا تھا۔ اس بار میں نے اپنے گوشت کھانے والے بھائی کے بازوبند سے ایک سونے کا کڑا چرایا۔ یہ بھائی پھیں روپے کے مقروض تھے۔ وہ بازو پر خالص سونے کا بازو بند باندھا کرتے تھے۔ اس میں سے ایک کڑا کاٹ لینا کوئی مشکل بات تھی۔ چنانچہ ایسا کیا گیا اور قرض ادا ہو گیا لیکن اتنا سنگین جرم تھا کہ مجھ سے کسی طرح برداشت نہیں ہوسکتا تھا۔ میں نے عہد کرلیا کہ پھر بھی چوری نہ کروں گا۔ میرا بھی ارادہ ہوا کہ اپنے والد کے سامنے جرم کا اعتراف کرلوں مگر ہمت نہ پڑتی تھی۔ یہ بات بھی کہ مجھے والد کے ہاتھ سے مار کھانے کا ڈر ہو۔ جہاں تک مجھے یاد ہے انھوں نے ہم لوگوں کو بھی نہیں مارا۔ خوف تھا تو یہ کہ انھیں بہت دکھ ہوگا۔ آخر میں یہ فیصلہ کیا کہ میں اعتراف نام لکھ کر اپنے والد کو دوں اور ان سے معافی کی درخواست کروں۔ میں نے سارا واقعہ ایک کاغذ پر لکھا اور خود لے جا کر انھیں دیا۔ اس رقے میں میں نے نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کیا بلکہ یہ خواہش بھی کی کہ مجھے اس کی کافی سزا دی جائے اور آخر میں ان سے درخواست کی کہ میرے قصور کے بدلے وہ اپنا دل نہ کڑھائیں۔ میں نے اس بات کا عہد کیا کہ پھر بھی چوری نہ کروں گا۔ میں نے اعتراف نامہ میں دیا تو میں کانپ رہا تھا۔ وہ ان دنوں ناسور میں مبتلا تھے اور صاحب فراش تھے۔ ایک کھرے تخت پر لیٹے رہتے تھے۔ میں نے رقعہ انہیں دے دیا اور چوکی کے سامنے بیٹھ گیا۔ انھوں نے اسے اول سے آخر تک پڑھا اور موتیوں کے قطرے پ پ ان کے رخساروں پر اور کاغذ پرگرنے لگے۔ دم بھر وہ آنکھیں بند کر کے سوچتے رہے اس کے بعد انہوں نے رقعہ چھاڑ کر پھینک دیا۔ وہ اسے پڑھنے کے لیے پہلے بیٹھ گئے تھے اب وہ پھر لیٹ گئے۔ میں بھی رونے لگا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ انھیں کیسا دکھ ہے۔ اگر میں تلاش ہوتا تو آج اتنے دن کے بعد بھی پورے منظر کی تصویر دیا۔ اس واقعہ کی یاد میرے دل میں اب تک تازہ ہے۔ ان محبت کے موتیوں نے میرے دل کو پاک کر دیا اور میرے گناہ کو دھوڈالا۔ اس محبت کو وہی خوب جانتا ہے جس نے اس کا لطف اٹھایا ہے۔ یہ میرے لیے ایسا کاملی سبق تھا۔ اس وقت تو مجھے اس میں سوائے باپ کی محبت کے کچھ نظر نہ آتا تھا مگر آج میں جانتا ہوں کہ بیخالص ایسا تھا۔ جب یہ اہم سا ہمہ گیر ہو جاتا ہے تو جس چیز کو چھوتا ہے اس کی کایا پلٹ دیتا ہے۔ اس کی قوت کی کوئی انتہا نہیں ۔ 66 نواۓ اردو اس طرح کا شاندار عفو میرے والد کی طبیعت سے بعید تھا۔ میرا خیال تھا کہ وہ خفا ہوجائیں گے، سر پیٹ لیں گے ۔ مجھے سخت سست کہیں گے ۔ لیکن ان کا سکون دیکھ کر حیرت ہوتی تھی اور یقین اس کی وجہ یہی تھی کہ میں نے صاف صاف اپنے گناہ کا اعتراف کرلیا ۔ گناہ کا پورا اعترف اور آئندہ اس سے باز رہنے کا عہد ، ایسے شخص کے سامنے جو انھیں قبول کرنے کا اہل ہے، تو یہ کی خالص ترین صورت ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ میرے اس اعتراف سے والد کو میری طرف سے پورا اطمینان ہوگیا اور انھیں مجھ سے جو محبت تھی وہ بے انتہا بڑھ گئی۔ مترجم : ساعابدین لفظ وی: قاره قلبی دوست تتہ کیا ہے اسی توجیہہ گناه یا قصور کا بدلہ جوقصور وار کی طرف سے ادا ہو ولی دوست، بہت قریبی دوست خبر دار کیا ، آگاہ کیا عذر معذرت کی قصور یا کی کی صفائی کے طور پر جو بات کہی جائے تور پریشانی، جھن وجہ بیان کرنا، دلیل دینا ایک جان دو قالب :: انتہائی دوتی، گویا جسم دو ہیں لیکن جان ایک ویشنو ہندوؤں کا ایک فرقہ جو گوشت ، پیاز لہسن وغیرہ سے سخت پرہیز کرتا ہے بڑا مکان، یہاں پر عبادت گاہ کے لیے استعمال ہوا ہے سازش، گٹھ جوڑ سوہان روح : ژوح کو تکلیف دینے والا لغزش غلطی ، بھول چوک، گمراہی مسامات : جلد کے بار یک سوراخ جن سے پسینہ نکلتا ہے .. .. .. .. .. .. .. .. .. .. .. .. .. ساز از چوری اور اس کا کفاره 67 . .. .. .. .. امها مممم مهر زہر قاتل وہ زہر جس کے کھانے سے انسان مر جاۓ مہلک زہر مرتکب کام میں ہاتھ ڈالنا، قصوروار صاحب فراش : وہ پیار جو بستر سے نہ اٹھ سکے انا، خون خرابے اور توڑ پھوڑ میں یقین نہ رکھنا یا ان باتوں پرعمل نہ کرنا، عدم تشدد جوسب پر چھایا ہو معانی ، در گذر غور کرنے کی بات: : مضمون مہاتما گاندھی کی آپ بیتی My Experiments with Truth کے اردوتری تلاش ت‘ سے لیا گیا ہے۔ مضمون پڑھتے وقت آپ کو کسی بھی سطر پر یہی شبہ نہیں ہو گا کہ بی ترجمہ ہے۔ اچھے اور کامیاب تر بچے کی یہی خوبی ہے کہ اس پر اصل کا گمان ہو۔ و مہاتما گاندھی نے اپنی سوانخ لکھتے وقت اپنی شخصی کمزوریوں کو چھپایا ہیں ان پر کسی طرح کا پردہ نہیں ڈالا اور کھلے دل سے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کیا اور خود ہی اپنی اصلاح کی ۔ ایک اچھی آپ بیتی کی پہلی خولی سی ہے کہ اس میں کسی طرح کاتقنع نہ ہو۔ اس طرح کی آپ بیتیاں پڑھنے والے کے لیے لطف کے ساتھ ساتھ عبرت اور اصلاح کے مواقع بھی فراہم کرتی ہیں۔ سوالوں کے جواب ھے : 1. ’’انسان پر بنسبت نیکی کے بدی کا اثر جلد پڑتا ہے، ایسا کیوں؟ واضح ہے۔ 2۔ مہاتما گاندھی نے اپنی غلطیوں کے کفارے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا؟ 3۔ گاندھی بتی کا اعتراف نامہ پڑھ کر ان کے والد پر کیا اثر ہوا؟ OL : ایک مضمون لکھے۔ چوری ایک بری عادت ہے۔“ و گاندھی جی کی زندگی سے متعلق کتابیں حاصل کر کے ان کا مطالعہ کیے۔

RELOAD if chapter isn't visible.