CH 05.cdr ڈرا) ڈراما یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کرنا یا کر کے دکھانا ۔ ادب میں یہ اسی صنف ہے جس میں کرداروں، مکالموں اور مناظر کے ذریے کی کہانی کو پیش کیا جاتا ہے۔ قدیم ہندوستان میں سنسکرت کا وی میں بھی اس کی روایت بہت مضبوطی اور اس کو بالی‘ کہا جاتا تھا۔ ارسطو نے ڈرانے کو زندگی کی نقالی کہا ہے۔ داستان، ناول اور افسانے کے مقابلے میں ڈراما اس لحاظ سے حقیقت سے قریب تر ہوتا ہے کہ اس میں الفاظ کے ساتھ ساتھ کردار، ان کی بول چال اور زندگی کے مناظر بھی دیکھنے والوں کے سامنے آتے ہیں۔ کرداروں کی ذہنی اور جذباتی کشمکش کو مکالے اور آواز کے اتار چڑھاؤ کے ذریعے پیش کیا جاتا ہے۔ ڈراما بنیادی طور پر ان کی چیز ہے لیکن ایسے بھی ڈرامے لکھے گئے ہیں اور لکھے جاتے ہیں جو صرف منانے اور پڑھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ ریڈیو کی وجہ سے ڈراموں کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اور ٹیلی وژن پر جس طرح کے سیر میں سب سے زیادہ پیش کیے جاتے ہیں، ان کا تعلق کسی نہ کی طرح ڈراےہی کی صنف سے ہوتا ہے۔ ارسطو نے ڈرامے کے اجزائے ترکی میں چھ چیزوں کو ضروری قرار دیا ہے۔ قصہ، کردار، مکالم، خیال، آرائش اور موسیقی۔ لیکن ضروری نہیں کہ ہر ڈرامے میں سنگیت یا موسیقی کا عضر ہو۔ پلاٹ، کردار، مکالموں اور مرکزی خیال کا ہوتا البتہ ضروری ہے۔ ڈرامے کی کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس میں واقعات کی کڑیاں اس طرح ملائی جائیں کہ بندرت نقطہ عروج تک جس میں اور ناظرین کی توجہ ایک نکتے یا خیال پر مرکوز ہو جائے۔ اس کے بعد ڈراما انجام کی طرف بڑھتا ہے۔ واقعات سے جو نتیجہ برآمد ہوتا ہے، وہ انجام کے ذریے پیش کر دیا جاتا ہے۔ حق و باطل اور خیر و شر کی کشمکش، بنیادی انسانی اقدار اور سابی، قومی و سیاسی مسائل کو ڈراموں میں پیش کیا جا تا ہے۔ اردو میں ڈرامے کا آغاز واجدعلی شاہ کے زمانے میں ہوا جب "رادھا کنھیا کا قصہ اسٹیج کیا جانے لگا۔ امانت کی ”اندرسبھا بھی اسی زمانے میں لکھی گئی جو بے حد مقبول ہوئی ۔ اندرسنا‘‘ کے اثر سے بعد کے پارسی اردو تھیٹر میں بھی رقص و موسیقی کا ڈراما 49 خاصا زور رہا۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں اردو تھیٹر نے بہت ترقی کی اور آغا حشر کے ڈرائے بہت مقبول ہوئے۔ اس کے بعد امتیاز علی تاج، علیم احمد شجاع، ڈاکٹر سید عابد حسین، پروفیسر محمد مجیب ، مرزا ادیب، اشتیاق حسین قریشی اور فضل الرحمن نے ڈراما نگاری پر خصوصی توجہ کی۔ کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی اور ریوتی سرن شرما نے بھی ریڈیائی ڈرامے لکھے اور ڈراما نگاری کی روایت کو مزید استحکام بخشا۔ | not to be reOublished (1902 - 1985) محمد مجیب لکھنو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ایک معروف وکیل تھے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم لکھنو کے اور بیوکانونٹ میں حاصل کی۔ اس کے بعد دہرہ دون کے ایک پرائیویٹ اسکول سے سیر کیمبرج کا امتحان پاس کیا۔ 1919 میں محمد مجیب نے آکسفورڈ سے جدید تاریخ میں بی۔اے (آنرز) کیا۔ بیان میں ان کی ملاقات ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر سید عابد حسین سے ہوئی۔ وہیں انھوں نے جرمن اور روسی زبانیں سیکھیں ۔ فرانسیسی زبان وہ آکسفورڈ میں سیکھ چکے تھے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کے ساتھ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں کام کرنے کا عہد کیا۔ فروری 1926 میں وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ث الجامعه (داس چانسلر) بنائے گئے اور وہ اس عہدے پر چویں برس تک فائز رہے۔ ان کا انتقال دہلی میں ہوا۔ مجیب صاحب انتظامی امور کے ساتھ تصنیف و تالیف کے کام میں بھی برابر لگے رہے۔ اردو اور انگریزی میں ان کی بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ مجیب صاحب نے آٹھ ڈرامے لکھے جن کے نام ہیں: ” کی انجام ’’خانہ جنگی تہ خاتون ہیروئن کی تلاش، آزمائش اور دوسری شام، اور بچوں کے لیے ایک ڈراما آو ڈراما کریں مجیب صاحب صاف، سادہ اور سلیس نثر لکھتے تھے۔ ان کے مکالموں میں بول چال کا فطری انداز ہے۔ نصاب میں جو ڈرامہ شامل ہے وہ مجیب صاحب کے ڈراے آزمائش کا آخری ایکٹ ہے۔ یہ ڈراما 1857 کے الم ناک تاریخی واقعات پرمبنی ہے۔ جنرل بخت خاں اور اس کی ہندوستانی فوجوں کو شکست ہو چکی ہے۔ بہادر شاہ ظفر گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ انگریزوں کا دہلی پر قبضہ ہو جانے کے بعد پکڑ دھکڑ شروع ہو چکی ہے۔ رام سہائے کی بیوی بھاگ وتی نے جنگ آزادی کی دو مجاہد خواتین مسلمی اورشن کنور کو پناہ دے رکھی ہے۔ بخت خاں کے سپاہی اگر چہ ہار گئے ہیں لیکن ان کے حوصلے بلند ہیں۔ هور تاریخی واقعات پینی ہے۔ جن پر پھر شروع ہوچکی ہے۔ ان کے حوصلے بلند ہیں۔ آزمائش (آخری ایکٹ) رام سہانے مل کے مکان میں ایک چھوٹا سا دالان۔ رات ہوگئی ہے۔ ڈیٹ پر ایک دریا جل رہا ہے۔ رام سہانے ملی اس کی روشنی میں کھانا کھا رہا ہے۔ بھاگ وتی، اس کی بیوی، آنچل سے منھ بند کیے کھڑی ہے، اس کو پنکھا جھل رہی ہے اور چپکے چپکے رورہی ہے۔ رام سہاۓ کل کو اس کے رونے کا احساس نہیں ہے اور وہ کھانا کھاتا رہتا ہے۔ رام سہانے مل : کہو، آج پانی کافی مل گیا؟ بھاگ وتی : (روہانی آواز میں بھی شام کو رام پرشاد لے آیا۔ بہت دور جانا پڑا، آس پاس کے کنوؤں میں لاشیں پڑی ہیں۔ رام سہانے مل : رام رام، رام رام ۔۔۔۔ اس کی طرف دیکھ کر) گرتم رو کیوں رہی ہو؟ بھاگ وتی : میرا بھی مر جانے کو جی چاہتا ہے۔ رام سہانے مل : کیوں، تم کیوں بیٹھے بیٹھے جان سے بیزار ہوگئی ہو؟ بھاگ وتی : کیا بتاؤں؟ رام سہانے مل : پرماتما کا شکر کرو۔ اتنی بڑی مصیبت آئی اور گزرگئی۔ بھاگ وتی : ہاں۔ رام سہانے مل : مگر ابھی بہت چوکس رہتا ہے۔ دیکھتی رہنا دروازے سے چہرے والے ہیں۔ بھاگ وتی : نہیں، میں تو برابر چکر لگاتی رہتی ہوں۔ رام سہانے مل : اور کوئی اندر نہ آنے پائے۔ مرد، عورت، بچے۔ بھاگ وتی : نہیں، قصور ہوگا تو میرا ہوگا۔ میں کہہ دوں گی کہ میں نے آپ کو بتائے بغیر کیا ہے۔ مگر بی نہیں ہو سکتا کہ جان پان کی کوئی عورت یا بے پناہ مانگے اور میں اسے پناہ نہ دوں۔ نواۓ اردو رام سہانے مل : (بھاگ وتی کو دیر تک غور سے دیکھ کر) معلوم ہوتا ہے تم نے مجھے بتائے بغیر کسی کو گھر میں چھپا لیا ہے۔ اب تو ہماری جان پرماتما کی دنیا سے ہی سکتی ہے۔ تمھارا دل اتنا کمزور ہے تو تم مجھے کیوں نہیں بلا لیتی ہو؟ بھاگ وتی : میں چاہتی ہوں کہ آپ کو معلوم ہی نہ ہو۔ رام سہائےل : یکون مانے گا کہ میرے گھر میں آری چھپے ہیں اور مجھے معلوم نہیں۔ بھاگوتی : آدی نہیں، لاوارث عورتیں بھوکے پیاسے چ! رام سہانے ل : کس کی عورتیں، کس کے چے؟ بھاگ وتی : یہ میں پوچھتی ہی نہیں ہوں۔ رام سہانے مل : يا پوچھا ہے اور مجھے بتانا نہیں چاہتی ہو۔ ہمارے محلے میں ایسے لوگ ہیں ہی نہیں جنھوں نے بغاوت میں حصہ لیا ہو۔ یہ عورتیں اور کچھ تو باہر سے آئے ہوں گے۔ (بھاگ وتی زمین پر بیٹھ کر اور اپنا منھ بند کر کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتی ہے۔)تاد تویہ ہیں کون؟ بھی پوچھ تاچھ ہوتو میں جواب تو دے سکوں (بھاگ وقتی سر ہلاتی ہے۔ اچھا، نہ بتاؤ۔ (خاموشی) جب لڑائی ہو رہی تھی تو تمھاری زبان پر تین چار نام رہا کرتے تھے۔ بخت خاں کی آل اولاد یہاں تھی ہی نہیں، سدھاری سنگھ بھی باہرکا آدی ہے۔ کیا کسی مسلمان عورت کو پناہ دی ہے؟................ ہندو عورتوں میں تو تمھارے رانی کشن کور سے تعلقات تھے۔ نہارسنگھ روپیہ وصول کرنے آنا چاہتا تو زمین تیار کرنے سے پہلے اسی کو دیتا تھا۔ مگر کیا معلوم رانی بلھ گڑھ میں ہے یا یہاں۔ بہرحال، جہاں بھی ہو، کوئی نہ کوئی اس کا پتہ دے گا ضرور .................... اگر نہار سنگھ کو پکڑ لیا ہے تو شاید اس کو تلاش نہ کریں۔ بھاگ وتی : پکڑ لیا ہے! ( پھر زور سے روتی ہے) رام سہاےل : پکڑ لیا ہے تو اب تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔ اس کے برابر سونا دے کر اسے مول لینا چاہوتو نہ دیں گے تو رانی کشن کور نے تمھارے یہاں پناہ لی ہے....................... بے چاری! (رام سہانے سے اب اور کھایا نہیں جاتا۔ بتن سامنے سے کھسکا دیتا ہے۔ پانی پینا چاہتا ہے مگر پیالا دیرتک ہاتھ میں لیے رہتا ہے اور پی نہیں پاتا۔) کیا بہت رورہی ہے؟ بھاگ وتی : (سر ہلا کر نہیں، اس کا افسویں کر رہی ہے کہ جہادی عورتوں کے ساتھ میدان میں نہیں گئی اور ماری نہیں گئی۔ . . . . . . . . تھے۔ بند گوتوں میں ہونا تھا۔ مگر کیا معلوم ہے تو شاید اس کو ملا آزمائش 53 رام سہانے مل : رام رام، کیا ہمت ہے۔ اس کو اچھی طرح رکھنا۔ میں بھی کبھی اس کے درشن کروں گا... اس کا ہمارے گھر میں رہتا کچھ ایسی خطرناک نہیں ہے۔ مسلمان عورت کی بات اور ہے۔ بھاگ وتی : ایک مسلمان بہن بھی ہے۔ رام سہائےل : ہائے! کون؟ بھاگ وتی : سلی۔ رام سہانے مل : ارے وہی یوسف میاں کی منگیتر؟ وہ تو مورچوں پلاڑی بھی تھی۔ بھاگ وتی : ہاں اس نے گھروں کی چھتوں پر سے بھی گولی چلائی۔ رانی کشن کو بھی اس کے ساتھ بندوق چلا رہی تھیں۔ پھر وہ زمی ہوگیا۔ رانی کشن کنور نے نہ جانے کس طرح اس کو یہاں پہنچایا۔ میں تو بجھتی تھی کہ مر جائے گی، مگر اب بھی چکی ہے۔ سوچ رہی ہے کہ کسی طرح دلی سے نکل جائے اور بخت خاں کی فوج میں مل جائے ۔ رانی کشن کو کہتی ہیں کہ وہ بھی ساتھ جائیں گی۔ رام سہانے مل : دیکھو، ب نہیں ہوسکتا۔ میں اس پر تیار ہوں کہ وہ یہاں چھی رہیں، اور جب خطرہ نہ رہے تو چپکے سے چلی جائیں۔ یہاں وہ سال بھر تک رہیں۔ مگر باہر جا کر پھر کہیں لڑائی میں شامل ہوئیں تو تم پڑھی جاؤ گی، اور مجھے تو ضرور پچھانی ہو جائے گی اور یوسف میاں کو کیا ہوا؟ بھاگ وتی : سلئی کو کچھ معلوم نہیں۔ رام سہانے مل : اورتم کو معلوم ہوگا تو بتاؤ گی نہیں۔ بھاگ وتی : سنا ہے وہ آخر وقت تک لڑتے رہے۔ اردو بازار میں کسی گورے نے ایک عورت کے ساتھ بدتمیزی کی تھی اسے جان سے مار دیا۔ اس میں نہ معلوم کرتے پکڑے گئے، مگر وہ نہیں تھے۔ کہتے ہیں اب اردو بازار پر گولہ باری ہوگی۔ ایک مکان بھی کھڑا نہ چھوڑا جائے گا۔ رام سہانے مل : اب پرماتما بچائے ہم سب کو۔ ایک عورت گھبرائی ہوئی اندر آتی ہے، اس کے منہ سے بات نہیں نکلتی۔ پھر ایک ملازم آتا ہے۔) ملازم : سرکار، دروازے پر چار سپاہی آئے ہیں۔ کہتے ہیں دروازہ کھولو، ہم تلاشی لیں گے۔ رام سہانے مل : میرے گھر میں نہیں آ سکتے۔ میرے پاس امان کا پروانہ ہے۔ 54 نواۓ اردو ملازم : سرکار، وہ ہماری بات نہیں مانیں گے۔ بھاگ وتی : پروانہ میرے پاس ہے۔ چلو میں دکھا دوں گی۔ رام سہانے مل : تم کہاں جاؤ گی؟ بھاگ وتی : میں نہیں جاؤں گی تو اور کون جائے گا؟ میں نے مشہور کر دیا ہے کہ آپ انگریز کمانڈروں سے بات چیت کر رہے ہیں، گھر پر نہیں ہیں۔ رام سہال : نہیں، تم بیٹھو، میں جاتا ہوں۔ (بھاگ وتی جلدی سے دیا بجھا کر بھاگ جاتی ہے۔ رام سہانے مل اندھیرے میں بیٹھا رہتا ہے۔ کچھ دیر بعد دائیں طرف سے بھاگ وتی الٹے پاؤں چلتی ہوئی نظر آتی ہے۔ چار سپاہی اسے مکینوں سے دھمکا رہے ہیں۔ پہلا سپاہی ان کا سردار معلوم ہوتا ہے۔ پہلا سپاہی : تا کہاں ہیں وہ دونوں! | بھاگوتی : (اہی ہوئی روہانی، مگر بہت دبی آواز میں) یہاں کوئی نہیں چھپا ہے۔ پہلا سپاہی : یہاں دو عورتیں بھی ہیں ۔ ہمارے آدمیوں نے ان کو گولی چلاتے دیکھا، پھر وہ بھاگ کر اس گھر میں آتے ہوئے دیکھی گئیں۔ رام سرن اس عورت کو لے جا کر دیوار کے ساتھ کھڑا کرو، باقی تین آدی فیر کرو۔ رام سرن بھاگوتی کی طرف بڑھتا ہے۔) رام سہانے مل : ارے تم لوگوں کو شرم نہیں آتی۔ ایک بے قصور عورت کو اس طرح مار رہے ہو۔ پہلا سپاہی : اچھا، لالا ہی چھے بیٹھے ہیں، سوچا تھالوان ہم کو بہلا پھسلا کر رخصت کر دے گی۔ رام سرن! کھڑا کرد نھیں بھی لائن کے ساتھ۔ بھاگ وتی : (چل کر) اے مجھے مار ڈالو، نہیں چھوڑ دو! یہ بالکل کچھ نہیں جانتے! ارے یہ بالکل بے قصور ہیں۔ پہلا سپاہی : اچھا یہ بے قصور ہیں تو میں تو معلوم ہے کہ دونوں عورتیں کہاں بھی ہیں۔ بھاگ وتی : (ویسے ہی چلا کر) اے انھیں چھوڑ دو! ہائے میری قسمت! یہ بالکل کچھ نہیں جانتے، ہائے ہائے! ان کے دائیں طرف کے کونے سے ملی اورکشن کنور اندر آتی ہیں۔) سلمي : إن دونوں کا پیچھا چھوڑ دو۔ ہم آگئے ہیں ہمیں جو سزا چاہو دے دو۔ سیٹھ صاحب اور ان کی بیوی بالکل آزمائش 55 ا ه ه بے قصور ہیں۔ پہلا سپاہی : (لمی اورشن کنور کو غور سے دیکھنے کے بعد مجھے تو تم اسی گھرانے کی عورتیں معلوم ہوتی ہو۔ کشن کنور : إن دونوں کو چھوڑ دو۔ ہم تمھارے ساتھ چنے کو تیار ہیں۔ شہر میں ہزاروں آدی ہم کو پہچان لیں گے۔ پہلا سپاہی : ہاں، میں تم کو لے کر باہر چلا جاؤں اور اس دوران میں اصلی مجرم نکل جائیں۔ سلمی : تمھاری مرضی، بے گناہوں کا خون کرتا تو تمھارا کام ہی ہے۔ پہلا سپاہی : اچھا تو بتاؤ، کیا نام ہیں تمھارے؟ کشن کنور : کشن کنور پہلا پانی : تم اپنے جرم کا اقبال کرتی ہو؟ سلی : ہم نے کوئی جرم نہیں کیا۔ ہم اپنے ملک کے لیے، اپنے بادشاہ کی طرف سے لڑے ہیں۔ پہلا سپاہی : تم لڑائی میں شریک ہوئی ہو؟ لیلی : دل و جان سے ہم شریک ہوئے ، ہم نے دوسروں کولڑنے پر آمادہ کیا۔ ہم مورچوں پلڑے، ہم نے منوں کو مارا۔ کشن کنور : ہمیں افسوں اس کا ہے کہ اس سے زیادہ نہ کر سکے۔ پہلا سپاہی : تو جاؤ کھڑی ہو جاؤ دیوار سے لگ کر۔ سلی : ہم دیوار سے لگ کر کیوں کھڑے ہوں؟ ہم محن میں کھڑے ہوں گے اور تمھاری بندوقوں پہنسیں گے۔ پہلا سپاہی : تو چلو کھڑی ہو جاؤ! اسی بات پر۔ ملکی اور کشن کور چین میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ پہلے پانی کے اشارے پر تین سپاہی ان سے تین چار قدم ہٹ کر اور ایک گھنے کو زمین پر ایک کر بندوقیں تانتے ہیں۔ بھاگ وتی چن مارکر سپاہیوں اور دونوں عورتوں کے چھ میں آ جاتی ہے۔ مگر غش کھا کر گر پڑتی ہے۔ سپاہی بندوقیں تانے رہتے ہیں، مگر انھیں فائر کرنے کاحکم نہیں ملتا علی کے چہرے پر سکراہٹ ہے اور وہ بندوقوں کی طرف دیکھتی رہتی ہے۔ کشن کنور کی نظر آسمان کی طرف ہے، اس کے چہرے پر وجد کی کیفیت ہے۔ سپاہی فائرنہیں کرتے۔ ایک بارگی پہلا .. .. .. .. 56 نواۓ اردو سپاہی گھٹنوں پر جاتا ہے۔) پہلا سپاہی : (ہاتھ جوڑ کر) ہماری خطا معاف کیجیے۔ ہم صرف اس کا یقین کرنا چاہتے تھے کہ آپ وہی ہیں جنھیں ڈھونڈ کر لانے کا ہمیں حکم دیا گیا تھا۔ تقدیر کے اس انقلاب کو برداشت کرنا لی اور کشن کور کے بس میں نہیں ۔ کشن کنور چیخ مار کر گر پڑتی ہے۔ لیلی کی آنکھیں چڑھ جاتی ہیں، ہاتھ پاؤں جواب دے دیتے ہیں اور وہ زمین پر ڈھیر ہو جاتی ہے۔) رام سہائے مل : ظالموں! اب کب تک ان بے چاریوں کو ستاؤ گے؟ ارے مارتا ہے تو ایک دفعہ ماردو! پہلا سپاہی : (انتہائی ندامت کے انداز میں) ہم انھیں تکلیف دینا نہیں چاہتے تھے، ان کے دل کی آرزو پوری کرنا چاہتے تھے۔ ہمیں جنرل بخت خاں نے انگریزی فوج کی وردیاں پہنا کر بھجوایا ہے کہ انھیں جلد سے جلد تلاش کر کے ان کے پاس پہنچا دیں۔ ہم نے ان کو سلامت نہ پہنچایا تو ہمارے گولی مار دی جائے گی، انگریز میں پڑ کر پھانسی دے دیں گے۔ (بھاگ وی اس دوران میں اٹھ کھڑی ہوتی ہے، اور کشن کور اور سلائی کے منھ پر پانی کے چھینٹ دیتی ہے اور انکے سر سہلاتی ہے۔) بھاگ وتی : تو پیاری تھارے بخت خاں نے تمھیں بلایا ہے۔ اپنے پیاروں کا بدلہ لو، اپنے ملک کی آبرو پڑھاؤ! آہستہ آہستہ ملی اور کشن کور کو ہوش آتا ہے۔ وہ اٹھ کر بیٹھتی ہیں۔ بھاگ وتی انھیں پانی پلاتی ہے۔) پہلا سپاہی : آپ سے پھر آپ کے قدموں پر گر کر معافی مانگتا ہوں۔ (اسلامی اورشن کنور مسکرا دیتی ہیں۔ مگر ابھی ایک اور گستاخی کرنا ہے۔ ہم آپ کو شہر کے باہر صرف قیدی بنا کر لے جا سکتے ہیں۔ ہمیں آپ کی مشکیں کسنا ہوں گی اور گلے میں رسیاں باندھنا۔ (الئی اور کشن کور ایک دوسرے کی طرف دیکھتی ہیں۔ پھر دونوں کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ سپاہی جلدی جلدی آن کی مشکیں کہتے ہیں اور گلے میں پھندا ڈالتے ہیں۔ پھر ایک سپاہی آگے دو بچے پنشن ہو جاتے ہیں۔ پہلا سپاہی روانگی کا حکم دیتا ہے۔) آزمائش کی لفظ اوری: ٹیوٹ پرانی تم ک لکڑی کا چراغ دان روزی (روہانی) : رونے پرآماده جہادی عورتیں جہاد کرنے والی عورتیں، مرادوہ عورتیں جنھوں نے اپنے ملک کی حفاظت کے لیے جنگ میں حصہ لیا آمان کا پروانہ وہ حکم نامہ جس کے ذریعے تحفظ کی ضمانت دی جائے ایک کیلا ہتھیار جو بندوق کی تال پر لگایا جاتا ہے فير : فائر مشکیں کسنا : دونوں بازو پشت پر باندھنا تقين .. .. . مما غور کرنے کی بات: و آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ ڈراما 1857 کے تاریخی واقعات پر مبنی ہے۔ اس آخری ایکٹ میں لالہ رام سہائے کی بیوی بھاگ وتی نے جنگ آزادی میں شرکت کرنے والی دو جہادی عورتوں علمی اور رانی گشن کنور کو اپنے گھر میں چھپا رکھا ہے۔ و 1857 کی جنگ آزادی میں ہندو مسلمان مرد اور عورتوں نے برابر کا حصہ لیا۔ اس وقت بی تفریق نتھی کہ کون ہندو ہے اور کون مسلمان ۔ بس ایک ہی مقصد تھا کہ کسی طرح ملک آزاد ہو جائے اور انگریز ہندوستان چھوڑ کر چلے جائیں۔ سوالوں کے جواب لکھے : 1۔ رام سہائے اور اس کی بیوی بھاگ وتی کے خیالات میں کیا فرق ہے؟ 2۔ رام سہانے مل کے دروازے پر سپاہی آئے تو اس نے کیوں کہا کہ میرے پاس امان کا پروانہ ہے؟ 58 نواۓ اردو 3۔ پی سی او کشن کورکی مشکیں کس کر شہر سے باہر کیوں لے جانا چاہتے تھے؟ و اپنی کلاس میں الگ الگ کرداروں کے ذریعے اس ڈراے کے مکالے ادا کیے۔ ONOي |

RELOAD if chapter isn't visible.