CH 04.cdr سوار سوان میں کسی ایک شخص کی زندگی کے واقعات اور حالات یا شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا بیان کیا جاتا ہے ۔ سوانح نگار اپنے ہم عصروں کے سوانے بھی لکھ سکتا ہے اور تاریخی شخصیتوں کے سوا نے بھی۔ اس صنف کا مقصد کسی اہم خص کے حالات زندگی سے قاری کو روشناس کرانا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اس شخص کے ساتھ ساتھ اپنے ہم عصروں کا حال بھی لکھ سکتا ہے اور اس زمانے کے سیاسی ، سابی اور معاشرتی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈال سکتا ہے۔ ہمارے یہاں مولانا حالی اور شبلی نعمانی نے سوانح نگاری کا سلسلہ شروع کیا۔ حالی نے متاز ادبی شخصیتوں کے سوانح لکھے مثلا حیات سعدی میں شیخ سعدی، یادگار غالب میں غالب اور حیات جاوید میں سرسید کے حالات بیان کیے گئے ہیں۔ شیلی نعمانی نے میر الی، مرة بعمان، الغزالی، المامون اور الفاروق بھی سوائی کتابیں لکھی ہیں شبلی نے سواغ نگاری کے ذریعے اسلاف کی علمی ادبی اور مذہبی زندگی کو موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ not to be الطاف حسین حالی (1837-1914) مولانا الطاف حسین حالی پانی پت میں پیدا ہوئے ۔ علم کی طلب اور شعر و فن کا ذوق انھیں دہلی لایا ۔ یہاں انھوں نے نواب مصطلے خاں شیفت اور مرزا غالب جیسی شخصیتوں سے فیض حاصل کیا۔ غالب اور شیفت کے انتقال کے بعد حالی لاہور چلے گئے اور انگریزی حکومت کے ملازم ہوگئے۔ لاہور میں محمد حسین آزاد کے ساتھ مل کر ڈاکٹڑ ڈبلیو۔ گی۔ لائٹر اور دوسرے انگریز افسروں کے تعاون سے انھوں نے اردو میں جد ی نظم کی بنیاد ڈالی ۔ اردو کے ہوائی ادب میں حالی کی ”حیات سعدی 1886 میں ، ”یادگار غالب“ 1897 میں اور”حیات جاوید 1901 میں شائع ہوئیں۔ ان کی شاعری میں اصلاح کا پہلو نمایاں ہے۔ ان کی طویل نظموں میں ”مدوجزر اسلام“ جو عام طور پر ”مسدس حالی“ کے نام سے مشہور ہے، اور مناجات بیوہ اہم ہیں۔ حالی کا مقدمہ شعر و شاعری“ اردو تنقید میں ایک تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ انھوں نے شاعری کے اخلاقی اور اصلای پہلوؤں پر زور دیا ہے اور اسی نقطہ نظر سے اردو شاعری کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔ حالی کا شمار سرسید کے خاص رفیقوں میں ہوتا ہے۔ سرسید کا بچپن مولانا حالی کی کتاب ” حیات جاوید" سے ماخوذ ہے۔ not to b سرسید کا پین سرسید کے خاندان کا حال جس قدر ہم نے لکھا ہے شاید ناظرین کتاب اس کو قدرے ضرورت سے زیادہ خیال کریں لیکن بائیوگرافی کا اصل مقصد جو ہیرو کے اخلاق و عادات و خیالات کا دنیا پروشن کرتا ہے وہ اس وقت تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک یہ نہ کہا جائے کہ ہیرو میں اخلاق و عادات اور خیالات کہاں سے آئے ؟ اور ان کی بنیاد اس میں کیونکر پڑی؟ انسان میں کچھ صلتیں جمتی ہوتی ہیں جو آباواجداد سے بطور میراث کے اس کو ہوتی ہیں۔ اور زیادہ تر وہ اخلاق و عادات ہوتے ہیں جو چھپن میں نامعلوم طور پر وہ اپنے خاندان کی سوسائٹی سے اکتساب کرتا ہے اور جو رفتہ رفتہ اس درجہ تک بن جاتے ہیں جس کی نسبت حدیث میں آیا ہے کہ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے تو مل جائے لیکن آدری اپنی جبلت سے نہیں مل سکتا۔ پس ہیرو کے خاندان کا حال جس میں وہ پیدا ہوا اور اس سوسائٹی کا حال جس میں اس نے نشوونما پائی درحقیقت ہیرو کے اخلاق و عادات پر ایک ایسی روشنی ڈالتا ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کے پیش کرنے کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سرسید کے پیدا ہونے سے پہلے ان کی بہن صفیت الکسا اور ان کے بھائی سید خاں پیدا ہو چکے تھے۔ سید خاں کے پیدا ہونے کی ان کو نہایت خوشی ہوئی۔ سرسید سے چند مہینے پہلے ان کے ماموں نواب زین العابدین خان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا تھا جس کا نام حاتم علی خاں تھا۔ سرسیدکو اول حاتم علی خاں کی والدہ نے دودھ پلایا اور پھر خودسرسید کی والدہ نے۔ وہ اپنے خاندان کے اکثر بچوں کی نسبت زیادہ قوی اور توانا اور ہاتھ پاؤں سے تندرست پیدا ہوئے تھے۔ سرسید کے بیان سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کے بچپن میں جسمانی صحت اور فزیکل قابلیت کے سوا کوئی ایسی خصوصیت جس سے ان کے بچپن کو معمولی ڈکوں کے پین پر بے تکلف فوقیت دی جا سکےنہیں پائی جاتی تھی ۔ یعنی جیسے کہ بنے بچے ابتدا میں نہایت ذکی اور طباع اور اپنے ہمجولیوں میں سب سے زیادہ تیز اور ہوشیار ہوتے ہیں سرسید میں کوئی اس ستم کا صرح امتیاز نہ تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے قوائے زہ کوشش درمانی ریاضت اور لگاتار غوروفکر سے بذرتی ترقی دی تھی اور اسی لیے ان کی لائف کا آغاز معمولی آدمیوں کی زندگی سے کچھ زیادہ پاکدار معلوم نہیں ہوتا۔ لیکن جس قدر آگے بڑھتے جایئے اسی قدر اس میں زیادہ عظمت پیدا ہوتی جاتی ہے، یہاں تک کہ ہیروک معمولی آدمیوں کی سب سے بالاتر کر دیتی ہے۔ اسی لیے بعض علما کی یہ رائے ہے کہ محنت سے آدی سے ان کے بچپن کو معمولی لڑکوں کے زیادہ تیز اور ہوشیار ہوتے ہیں دی تھی اور اسی لیے ان کی لاة سرسید کا پچین جو چاہے سو ہوسکتا ہے۔ سرسید کو مسماة ماں بی بی نے جو ایک قدیم خیر خواہ خادمہ ان کے گھرانے کی تھی، پالا تھا۔ اس لیے ان کو ماں بی بی سے نہایت محبت تھی۔ وہ پانچ برس کے تھے جب ماں بی بی کا انتقال ہوا۔ ان کا بیان ہے کہ مجھے خوب یاد ہے ماں بی بی مرنے سے چند گھنٹے پہلے قالے کا شربت مجھ پلا رہی تھی۔ جب وہ مرگی تو مجھے اس کے مرنے کا نہایت رنج ہوا۔ میری والدہ نے مجھے سمجھایا کہ وہ خدا کے پاس گئی ہے۔ بہت اچھے مکان میں رہتی ہے۔ بہت سے نوکر چاکر اس کی خدمت کرتے ہیں اور اس کی بہت آرام سے گزرتی ہے تم کچھ رنج مت کرو۔ مجھ کو ان کے کہنے سے پورا یقین تھا کہ فی الواقع ایسا ہی ہے۔ مدت تک ہر جمعرات کو اس کی فاتھہ ہوا کرتی تھی اور کسی محتاج کو کھانا دیا جاتا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ یہ سب کھانا ماں بی بی کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اس نے مرتے وقت کہا کہ میرا تمام زبور سید کا ہے۔ مگر میری والدہ اس کو خیرات میں دینا چاہتی تھیں ۔ ایک دن انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگرتم ہو تو یہ کہاں چینی کے پاس بھیج دوں، میں نے کہا ہاں بھیج دو ۔ والدہ نے وہ سب کہا مختلف طرح سے خیرات میں دے دیا‘‘ بچپن میں سرسید پر نہ تو اسی قیدی کہ کھیلنے کودنے کی بالکل بندی ہو اور نہ اسی آزادی تھی کہ جہاں چاہیں اور جن کے ساتھ چاہیں کھیلتے کودتے پھریں۔ ان کی بڑی خوش می بینی که خود ان کے ماموں ان کی خالہ اور دیگر نزدیکی رشتہ داروں کے چودہ پندرہ لڑکے ان کے ہم عمر تھے جو آپس میں کھیلنے کودنے کے لیے کافی تھے۔ اس لیے ان کو نوکروں اور اجلاقوں کے بچوں اور اشرافوں کے آوارہ لڑکوں سے ملے گئے اور ان کے ساتھ کھیلے کا بھی موقع نہیں ملا۔ ان کے بزرگوں نے یہ اجازت دے رکھی تھی کہ جس کھیل کو تمھارا ہی چاہے شوق سے کھیلوگرکسی کھیل کو چھپا کر مت کھیلو۔ اس لیے سب لڑ کے جوھیل کھیلتے تھے اپنے بڑوں کے سامنے کھیلتے تھے۔ ان کے کھیلوں میں کوئی بات ایسی نہ ہوتی تھی جو اپنے بزرگوں کے سامنے نہ کرسکیں۔ خواجہ فرید کی حویلی جس میں وہ اور ان کے ہم عمراٹ کے رہتے تھے اس کا چوک اور اس کی چستیں ہوشتم کی بھاگ دوڑ کے کھیلوں کے لیے کافی تھیں۔ ابتدا میں وہ اکثر گینده ملا ، کیڑی ، گیڑیں، آنکھ پچولی، چہل چلو وغیرہ کھیلتے تھے۔ اگرچہ گیڑیاں کھیلے کو اشراف معیوب جانتے تھے مگر ان کے بزرگوں نے اجازت دے رکھی تھی کہ آپس میں سب بھائی مل کر گیڑیاں بھی کھیلوتو چھ مضائقہ ہیں۔ ان کا بیان تھا کہ ’باوجود اس قدر آزادی کے بچپن میں مجھے تنہا باہر جانے کی اجازت تھی ، جب میری والدہ نے اپنے رہنے کی جداحویلی بنائی اور وہاں آرہیں تو باوجود یہ کہ اس حویلی میں اور نانا صاحب کی حویلی میں صرف ایک سڑک در میان تھی ۔ جب بھی میں ان کی حویلی میں جاتا تو ایک آدی میرے ساتھ جاتا۔ اس لیے پچپن میں مجھے گھر سے باہر جانے اور عام محبتوں میں بیٹھنے یا آوارہ چھرنے کا بالکل اتفاق نہیں ہوا۔‘ 42 نوائے اردو سرسید لکھتے ہیں کہ میرے نانا میع کا کھانا اندر زنانے میں کھاتے تھے ۔ ایک چوڑا چکلا دستخوان بچھتا تھا۔ بیٹے بیٹیاں، پوتے پوتیاں، نواسے نواسیاں اور بھیڑوں کی بیویاں سب ان کے ساتھ کھانا کھاتے تھے، چوں کے آگے خالی رکاپیاں ہوتی تھیں۔ نانا صاحب ہر ایک سے پوچھتے تھے کہ کون سی چز کھاؤ گے؟ جو کچھ وہ بتاتا وہی چیز چچ میں لے کر اپنے ہاتھ سے اس کی رکابی میں ڈال دیئے۔ تمام بچے بہت ادب اور صفائی سے ان کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ سب کو خیال رہتا تھا کہ کوئی چیز گرنے نہ پائے ، ہاتھ کھانے میں زیادہ نہ چھرے، اور نوالا چنانے کی آواز منہ سے نہ نکلے۔ رات کا کھانا وہ باہر دیوان خانے میں کھاتے تھے۔ زنانہ ہو جاتا تھا، میری والدہ اور میری چھوٹی خالا کھانا کھلانے آتی تھیں ۔ ہم سب لڑکے ان کے سامنے بیٹھتے تھے۔ ہم کو بڑی مشکل پڑتی تھی ۔ کسی کے پاؤں کا دھیا سفید چاندنی پر لگ جاتا تھا تو نہایت ناراض ہوتے تھے۔ روشنائی وغیرہ کا وہاکی کے کپڑے پر ہوتا تھا تو اس سے بھی ناخوش ہوتے تھے۔ شام کو چراغ جلنے کے بعد ان کے پوتے اور نواسے جو کتب میں پڑھتے تھے اور جن میں سے ایک میں بھی تھا، ان کو سبق سنانے جاتے تھے۔ جس کا سبق اچھا یاد ہوتا اس کو کسی قسم کی عمدہ مٹھائی ملتی اور جس کو یاد نہ ہوتا اس کو کچھ نہ دیتے اور گھڑک دیتے۔“ گرمی اور برسات کے موسم میں اب بھی دلی کے اکثر باشندے سہ پہر کو جمنا پر جا کر پانی کی سیر دیکھتے ہیں اور تیرنے والے تیرتے ہیں، مگر پچاس برس پہلے وہاں اشراف تیرنے والوں کے بہت دلچسپ جلسے ہوتے تھے۔ سرسید کہتے تھے کہ ’میں نے اور بڑے بھائی نے اپنے والد سے تیرنا سیکھا تھا۔ ایک زمانہ تو وہ تھا کہ ایک طرف دوئی کے مشہور تیراک مولوی علیم اللہ کا غول ہوتا تھا جن میں مرزاغل اور مرزاطفل بہت سر برآورده نامی تھے۔ اور دوسری طرف ہمارے والد کے ساتھ سوسواسو شاگردوں کا گروہ ہوتا تھا۔ یہ سب ایک ساتھ دریا میں کودتے تھے اور جنوں کے ٹیلے سے شیخ محمد کی بائیں تک یہ سارا گروہ تیرتا جاتا تھا۔ پھر جب ہم دونوں بھائی تیرنا سیکھتے تھے تو اس زمانے میں بھی تھمیں چالیس آدی والد کے ساتھ ہوتے تھے۔ انہیں دنوں میں نواب اکبر خاں اور چند اور رئیس زادے بھی تیرنا سیکھتے تھے۔ زینت المساجد کے پاس نواب احمد بخش خاں کے باغ کے نیچے جمنا بہتی تھی۔ وہاں سے تیرنا شروع ہوتا تھا۔ مغرب کے وقت سب تیراک زینت المساجد میں جمع ہوجاتے تھے اور مغرب کی نماز جماعت سے پڑھ کر اپنے اپنے گھر چلے آتے تھے۔ میں ان جلسوں میں اکثر شریک ہوتا تھا۔‘ تیراندازی کی محبتیں بھی سرسید کے ماموں زین العابدین خاں کے مکان پر ہوتی تھیں۔ وہ کہتے تھے کہ مجھے اپنے ماموں اور والد کے شوق کا وہ زمانہ جب کہ نہایت دھوم دھام سے تیراندازی ہوتی تھی یا نہیں ، مگر جب دوبارہ تیراندازی کا چرچا ہوا وہ بخوبی باد ہے۔ اس زمانے میں دریا کا جانا موقوف ہو گیا تھا۔ ظہر کی نماز کے بعد تیراندازی شروع ہوتی تھی۔ نواب فتح الله بیگ خاں، 43 سرسید کا بچپن نواب سی عظمت اللہ خاں ، نواب ابراہیم علی خاں اور چند شاہزادے اور رئیس اور شوقین اس جلسہ میں شریک ہوتے تھے۔ نواب شمس الدین خاں رییس فیروز پور جھر کہ جب دبئی میں ہوتے تھے تو وہ بھی آتے تھے۔ میں نے بھی اسی زمانے میں تیراندازی سیکھی اور مجھ کو خاصی مشق ہوگئی تھی۔ مجھے خوب یاد ہے کہ ایک دفعہ میرا نشانہ جوتا دے میں نہایت صفائی اور خوبی سے جا کر بیٹھا تو والد بہت خوش ہوئے اور کہا’’ مچھلی کے جانے کو کون تیرنا سکھاۓ‘ یہ جلسہ برسوں تک رہا پھر موقوف ہوگیا۔‘‘ دلی سے سات کو مغل پر ایک جاٹوں کا گاؤں ہے ۔ وہاں سرسید کے والد کی کچھ ملک بطور معافی کے قی۔ اگر بھی فصل کے موقع پر ان کے والد مغل پر جاتے تو ان کو بھی اکثر اپنے ساتھ لے جاتے اور ایک ہفتہ گاؤں میں رہے۔ سرسید کہتے تھے کہ ’’اس عمر میں گاؤں میں جا کر رہنا، جنگل میں پھرنا، عده دودھ اور دی اور تازہ تازه گی اور جائیوں کے ہاتھ کی پکی ہوئی باجرے یا مکی کی روٹیاں کھانا نہایت ہی مزہ دیتا تھا۔‘| سرسید کے والد کو اکبر شاہ کے زمانہ میں ہر سال تاریخ جلوس کے جشن پر پانچ پارچہ اور تین رقوم جواہر کا خلعت عطا ہوتا تھا۔ مگر اخیر میں جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا۔ انھوں نے دربار کا جانا کم کر دیا تھا اور اپنا خلعت سر سید کو باوجود یہ کہ ان کی عمرم تی دلوانا شروع کر دیا تھا۔ سرسید کہتے تھے کہ ایک بار خلعت ملنے کی تاریخ پرایا اتفاق ہوا کہ والد بہت سویرے اٹھ کر قلعے چلے گئے اور میں بہت دن چڑھے اٹھا ۔ ہر چند بہت جلد گھوڑے پر سوار ہو کر وہاں پہنچا مگر پھر بھی دیر ہوگئی ۔ جب لال پردے کے قریب پہنچا تو قاعدے کے موافق اول دربار میں جا کر آداب بجالانے کا وقت نہیں رہا تھا ۔ داروغہ نے کہا کہ بس اب خلعت پہن کر ایک ہی دفعہ دربار میں جانا۔ جب خلعت پہن کر میں نے دربار میں جانا چاہا تو دربار برخاست ہو چکا تھا اور بادشاہ تخت پر سے اٹھ کر ہوادار پر سوار ہو چکے تھے ۔ بادشاہ نے مجھے دیکھ والد سے جو اس وقت ہوادار کے پاس ہی تھے کہا کہ تمھارابیٹا ہے؟‘ انھوں نے کہا ’’حضور کا خانہ زاد بادشاہ چپکے ہور ہے۔ لوگوں نے جانا کہ بس اب کل میں چلے جائیں گے مگر جب تح خانے میں پہنچ تو وہاں مر گئے تب خانے میں بھی ایک چبوترہ بنا ہوا تھا جہاں کبھی کبھی دربار کیا کرتے تھے۔ اس چبوترے پر بیٹھ گئے، جواہر خانے کے دارونه کوششی جواہر حاضر کرنے کا حکم ہوا، میں بھی وہاں گیا تھا۔ بادشاہ نے مجھے اپنے سامنے بلایا اور کمال عنایت سے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ دیر کیوں کی؟ حاضرین نے کہا عرض کرو تقصیر ہوئی مگر میں چپکا کھڑا رہا۔ جب حضور نے دوبارہ پوچھا تو میں نے عرض کیا کہ سوگیا تھا۔ بادشاہ مسکرائے اور فرمایا بہت سویرے اٹھا کرو۔ اور ہاتھ چھوڑ دیے۔ لوگوں نے کہا آداب بالاو میں آداب بجالایا۔ بادشاہ نے جواہرات کی معمولی متمیں اپنے ہاتھ سے پہنائیں۔ میں نے نذر دی اور بادشاه آٹھ کر خاصی ڈیوڑھی سے محل میں چلے گئے۔ تمام در یاری میرے والد کو بادشاہ کی اس عنایت پر مبارک سلامت کہنے لگے۔ سرسید کہتے تھے کہ 44 نواۓ اردو ’اس زمانے میں میری عمر آٹھ نو برس کی ہوگی ۔ تقری انہیں دنوں میں راجہ رام موہن رائے جو برہمو سماج کے بانی تھے، ان کو اکبرشاه نے کلکتہ سے بلایا تھا تاکہ اضافہ پنشن بادشاہی کے لیے ان کو لندن بھیجا جائے۔ چنانچہ وہ بادشاہ کی طرف سے لندن بھیے گئے اور 1831ء میں وہاں پنچ‘‘ سرسید نے لندن جانے سے پہلے ان کو متعدد دفعہ دربار شاہی میں دیکھا تھا۔ سرسید کہتے تھے کہ’’ مجھ کو اپنی بسم اللہ کی تقریب بخوبی باد ہے۔ سہ پہر کا وقت تھا اور آدھی کثرت سے جمع تھے۔ خصوصا حضرت شاہ غلام علی صاحب بھی تشریف رکھتے تھے۔ مجھ کو لا کر حضرت کے سامنے بٹھا دیا تھا۔ میں اس مجمع کو دیکھ کر بھگا کا سا ہو گیا۔ میرے سامنے خفی رکھی گئی اور غالبا شاہ صاحب ہی نے فرمایا کہ پڑھو بسم الله الرحمن الرحیم - میں کچھ نہ بولا اور حضرت صاحب کی طرف دیکھتا رہا ۔ انھوں نے اٹھا کر مجھے اپنی گود میں بٹھایا اور فرمایا کہ ہمارے پاس بیٹھ کر پڑھیں گے اور اول بسم اللہ پڑھ کر اقراء کی اؤل آیتیں مالم یعلم تک پڑھیں۔ میں بھی ان کے ساتھ ساتھ پڑھتا گیا ۔ سرسید نے جب یہ ذکر کیا تو بطور فخر کے اپنا ہی قاری شعر جو خاص اسی موقع کے لیے انھوں نے بھی کہا تھا، پڑھا۔ به مکتب فتم و آموخته اسرار یزدانی فیض نقش بند وقت جان جان جانانی سرسید کہتے تھے کہ شاہ صاحب اپنی خانقاہ سے بھی نہیں اٹھتے تھے اور کسی کے ہاں نہیں جاتے تھے۔ الا ماشاء اللہ صرف میرے والد پر جو غایت درجہ کی شفقت تھی اس لیے بھی بھی مارے گھر قدم رنج فرماتے تھے۔ بسم اللہ ہونے کے بعد سرسید نے قرآن مجید پڑھنا شروع کیا۔ ان کی نھیال میں قدیم سے کوئی نہ کوئی استانی نوکر رہتی تھی ۔ سر سید نے استانی بی سے جو ایک اشراف گھر کی پردہ شین کی بہتھی، سارا قرآن ناظرہ پڑھا تھا۔ وہ کہتے تھے میرا قرآن ختم ہونے پر ہی کی مجلس جوزنانہ میں ہوئی تھی وہ اس قدر دلچسپ اور جیب تھی کہ پوری ایسی مجلس میں وہ کیفیت میں نے نہیں دیکھی‘ قرآن پڑھنے کے بعد وہ باہر کتب میں پڑھنے لگے۔ مولوی حمید الدین ایک ذی علم اور بزرگ آدی ان کے نانا کے ہاں نوکر تھے جنھوں نے ان کے ماموں کو پڑھایا تھا۔ ان سے معمولی کتاہیں کریمیا، خالق باری، آمد نامہ وغیرہ پڑھیں۔ جب مولوی حمید الدین کا انتقال ہو گیا تو اور لوگ پڑھانے پر نوکر ہوتے رہے۔ انھوں نے فارسی میں گلستان، بوستاں، اور ایسی ہی ایک آدھ اور کتاب سے زیادہ نہیں پڑھا۔ پھر عربی پڑھی شروع کی ۔مگر طالب علموں کی طرح نہیں بلکہ نہایت بے پروائی اور کم توجہی کے ساتھ ۔ اس کے بعد ان کو اپنے خاندانی علم مین ریاضی پڑھنے کا شوق ہوا جس میں ان کی تفصیل کے لوگ دوتی میں اپنامشل نہ رکھتے تھے۔ انھوں نے اپنے ماموں 45 سرسید کا بچپن نواب زین العابدین خاں سے حساب کی معمولی درسی کتابیں تحریر اقلیدس کے چند مقالے پڑھے ۔ اسی زمانے میں طب پڑھنے کا شوق ہو گیا۔ جب انھوں نے پڑھنا چھوڑا ہے اس وقت ان کی عمر اٹھارہ انیس برس کی تھی۔ اس کے بعد بطور خود کتابوں کے مطالعے کا برابر شوق رہا۔ اور دلی میں جو اہل علم اور قاری دانی میں نام آور تھے جیسے دہائی، قالب، اور آزردہ وغیرہ ان سے ملنے کا اورعلمی مجلسوں میں بیٹھے کا موقع ملتا رہا۔ (تلخیص) الطاف حسین حالی لفظ وی: زی ناظرین : ناظر کی بیع، دیکھنے والے اکتاب : کسب کرنا،محنت کر کے حاصل کرنا نشوونما : ترقی ، بڑھوتری نہیں، تیز دماغ والا طباع : جس کی طبیعت میں ان ہو صرت امتیاز فرق جو ظاہر ہو کھلا ہوا فرق قوتیں (یہاں صلاحیتیں مراد ہے) في الواقع دراصل اجلاقوں اجلاف، جلف کی جمع، نچلے طبقے کے لوگ اشرافوں : اشراف ، شریف کی جمع، اعلا خاندان والے سر برآورده : موز، زمہ دار not to be a 46 نواۓ اردو قصير غول : بھیٹر، ہوم، بہت سے لوگ ملک بطورمعانی : عطا کی ہوئی زمین کی ملکیت مچھلی کے بجائے کو تیرا کون سکھائے : مشہور کہاوت ہے، اپنے آبائی کام سے ہرکوئی واقف ہوتا ہے۔ : کوتاہی ، قصور غلطی ہکا بکا ہونا : حیران رہ جانا ، حیرت زدہ بسم اللہ اس تقریب کا نام جس میں بچوں کوقرآن پڑھانیکی ابتدا کی جاتی ہے، الله کے نام سے شروع اقرا سے مالم یعلم : قرآن مجید کی سورہ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں قرآن مجید کی یہ آیتیں سب سے پہلے نازل ہوئی تھیں إلا ماشاء اللہ : مگر جو چاہا الہ نے، مراد بھی بھی : غض، مطلب قرآن ناظرہ پڑھنا : ناظرہ قرآن شریف دیکھ کر پڑھنا سال جلوس : کسی بادشاہ کی تخت نشینی کا سال غایت غور کرنے کی بات: | و حالی نے بائیوگرافی کے تعلق سے لکھا ہے کہ اس کا اصل مقصد اس شخص کے اخلاق و عادات اور خیالات کو پیش کرتا ہے جس کی سوا نے لکھی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ اس شخص کے خاندان کا حال جس میں وہ پیدا ہوا ہے اور اس معاشرے کا حال بھی جس میں اس نے نشوونما پائی ہو، درحقیقت یہ سب مل کر کسی بھی شخص کے اخلاق و عادات پرانی روشنی ڈالتے ہیں جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس لیے حالی نے سرسید کی سوانح حیات جاوید میں ان کے خاندان کا حال تفصیل سے بیان کیا ہے۔ و اس سبق کے مطالعے سے ہم سرسید کے بچپین، ان کے احباب اور رشتے داروں سے متعارف ہونے کے علاوہ اس بات سے بھی واقف ہوجاتے ہیں کہ انھیں حصول علم کا شوق کس طرح دہلی کے اہل علم کی مجلسوں میں لے جایا کرتا تھا۔ و سباق میں لفظ سال جلوس آیا ہے۔ کوئی بادشاہ جس سال تخت نشین ہوا کرتا تھا اس سال کو اس کا سال جلوس کہتے تھے ۔ اس کے علاوہ اس کے دوران بادشاہت جب کوئی واقعہ کی وقت رونما ہوتا تھا تو اس واقعہ کا حوالہ اس کے بادشاہت کے اس سال سے دیا جاتا تھا۔ 47 سرسید کا بچپن لیکن اگر کسی بادشاہ کے تخت نشین ہونے کے بارہ سال کے بعد کوئی واقعہ رونما ہوا ہے تو یہی کہا جاتا تھا کہ یہ واقعہ اس کے بارہویں سال جلوس میں رونما ہوا تھا۔ سوالوں کے جواب لکھے : 1۔ سرسید نے اپنا بچپن کیسے گذارا؟ 2۔ سرسید کے نانا کے یہاں دستر خوان کے آداب کیا تھے؟ 3۔ سرسید نے بچپن میں کون کون سے کھیل کھیلے؟ 4- رسید و گاوں میں جاکر رہنا کیوں پسند تھا؟ و ماں بی بی اور سرسید کے تعلق کو اپنے الفاظ میں بیان کیے۔ و اس مضمون میں جن کتابوں کے نام آئے ہیں انھیں اپنی کاپی میں لکھے ۔

RELOAD if chapter isn't visible.