حبات الشد انصاری (1911 – 1999) حیات الله انصاری لکھنو میں پیدا ہوئے۔ 1926 میں مدرسہ فرئیل سے مشرقی علوم کی سند حاصل کی ۔ علی گڑھ مسلم یونیورٹی سے بی۔ اے۔ کیا۔ طالب علمی کے دوران ہی قومی تحریکوں میں دل بھی پیدا ہوگئی تھی۔ مہاتما گاندھی سے عقیدت کی بنا پر وہ کانگریں میں شامل ہوئے اور آخر وقت تک کانگریسی رہے۔ 1937 میں ہفتہ وار اخبار ہندوستان جاری کیا۔ 1944 میں پنڈت جواہرتعل نہرو نے لکھنؤ سے روزنامہ قومی آواز‘ جاری کیا اور انصاری صاحب اس کے پہلے مدیر مقرر ہوئے ۔1966 اور 1982 میں راجیہ سبھا کے رکن رہے۔ حیات الله انصاری اور ان کی اہلیہ نے اردو کو اس کا جائز مقام دلانے کے لیے ڈاکٹر ذاکر حسین کے ساتھ ایک تنظی مہم چلائی تھی۔ حیات الله انصاری نے افسانے، ناولٹ اور ناولوں کے ساتھ ساتھ تنقیدی مضامین بھی لکھے اور غیر اردو داں حضرات کو اردو سکھانے کے لیے ایک قاعدہ’’ دس دن میں اردو لکھا۔ 1952 میں لکھنؤ میں تعلیم بالغان کے لیے تعلیم گھر قائم کیا۔ حیات الله انصاری نے پریم چند کے افسانوں سے متاثر ہوکر افسانے لکھے لیکن ان کے افسانوں کی فضا مختلف ہے۔ ان افسانوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں مشاہدہ میل اور فکر تینوں ایک دوسرے کے متوازی ہیں ۔ ان کے افسانے زندگی کے تمام پہلووں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ حیات الله انصاری کے افسانوں کا پہلا جمود انوکھی مصیبت 1939 میں شائع ہوا۔ اس کے بعد بھرے بازار میں شکسته انگورئے“ اور ”انا“ کے عنوان سے ان کے افسانوی مجموعے ، دو ناولٹ مار اور گھروندا‘‘ منظر عام پر آئے۔ پانچ جلدوں پرمشتمل ضخیم ناول ” ہو کے پھول‘‘ چھپا’’ جدید بیت کی سی حیات اللہ انصاری کی تنقیدی کتاب ہے۔ انھوں نے بچوں کے لیے بھی کہانیاں لکھیں جو میاں خوخ اور کالا دی کے نام سے شائع ہو چکی ہیں۔ کیلاش کی لاری نتھو راگڑھ کے خشک بنجر اور تپتے ہوئے پہاڑوں کے ایک درے سے پار کر کے موتی گر کی وادی میں داخل ہوئی اور داخل ہوتے ہی منظر اور موسم اور مسافروں کا مزاج سب کچھ بدل گیا ۔ سامنے ایک طرف ندا دیوی اور ترشول کی برف پوش چوٹیاں چمک رہی تھیں اور دوسری طرف ڈھلواں پہاڑوں پر سیب ، ناشپاتی اور آلوچوں کے باغوں کی ہریالی تھی جو پہاڑوں کے سلسلوں سے زینہ زینہ اترتی ہوئی نیچے جا کر گھنے درختوں اور نامعلوم تاریکیوں میں گم ہو جاتی تھی۔ جب لا ری اسٹینڈ پر پچی کیلاش اپنی بہنوں سمیت اترا تو اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے آج کوئی بہت بڑا تہوار ہے جسے پہاڑ اور ان کی چوٹیاں ، درخت اور چڑیاں آسان اور سورج یہ سب کے سب انسانوں کے ساتھ مل جل کر منا رہے ہیں۔ اس خوش گوار منظر میں کیلاش ایا کھویا کہ اسے اپنی تخت بیماری کی وجہ سے زندگی کی طرف سے جو مائی تھی وہ بالکل دور ہوگئی اور ایسا محسوس ہونے لگا جیسے آسمان کو چومنے والے پہاڑ اشاروں میں کہہ رہے ہیں کہ ہماری شاندار، صاف و شفاف اور دل کش دنیا میں بھاری اور مصیبتوں کا کیا کام۔ لاری اسٹینڈ سے ایک سڑک پر بل کھاتی ہوئی جھوتی جھامتی آبادی کی طرف جاتی تھی۔ اس نے کیلاش کو ایا لبھایا کہ وہ نوکر سے جو اسباب کو اٹھانے میں لگا ہوا تھا یہ کہہ کر کہ میں ڈاک بنگلے کی طرف چلتا ہوں، روانہ ہوگیا ۔ راستہ بہت دلکش تھا اور ہر موڑ قدرت کی نت نئی فیاضیوں سے مالامال تھا۔ کچھ دور نکل کر کیلاش ایک پتھر پر بیٹھ گیا۔ ایک پیالی چائے پی، کچھ دیر سامنے کے منظر سے لطف اٹھایا اور پھر آگے کی طرف چل کھڑا ہوا۔ راستے میں ایک باغ میں ایک آدی تازے سیبوں کو چھیڑ کے بس میں بند کر رہا تھا ۔ اس کے پاس دو مسافر کھڑے تھے جن میں ایک دس گیارہ برس کی خوب صورت سی لڑکی تھی۔ وہ دونوں چھل والے سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے۔ کیلاش ادھر دیکھ رہا تھا کہ اتنے میں پاس سے ایک آواز آئی۔ ”بابوی تر باس میں لے چلوں؟‘ کیلاش نے مڑ کر دیکھا۔ بارہ تیرہ برس کی دبلی پتلی لڑکی کھڑی تھی اور بڑی بڑی ، مظلوم اور مایوس آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ تھرماس واتی کیلاش کو بھاری معلوم ہورہا تھا۔ اس نے وہ لڑکی کے حوالے کر دیا اور پھر اس فیاضی سے جو قدرت نے اس وادی کے ساتھ دھلائی تھی پوچھنے لگا۔ بھی کہاں رہتی ہو؟ لڑکی نے پنچ کی گھنی تاریکیوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: ’’وہاں بہت نچے “ ماں باپ کیا کرتے ہیں؟ ”مرگئے » تم کیا کرتی ہو؟“ کچھ نہیں۔“ کیوں؟ بچہ کو نہیں کرنے دیتا۔“ بچھا کیا تمھارا اپ بھی ہے؟ لڑکی اس بدگمانی پربنس پڑی اور کہنے گی ۔ میرا دو برس کا بھائی ہے جو بہت دل کرتا ہے۔ ہر وقت کھانا مانگتا ہے۔ رات کو یہ وہ سونے دیتا ہے اور نہ ڈر - ڈر!اس وادی میں کس چیز سے؟ ”میری کھریا کا درواز ٹوٹا ہوا ہے ۔ رات بھر میں ڈرتی رہتی ہوں کہ کوئی آ کر ہم کو کھا نہ جائے۔ کیلاش کے دل میں دیا ابل پڑی۔ نوکری کرے گی؟ کوئی رکھے تو کیوں نہ کروں ۔ میں تو بہت محنت سے اس کی سیوا کروں گی۔“ اچھا میں رکھوں گا تجھے بھی اور تیرے چھوٹے بھائی کو بھی لڑکی حیرت زدہ ہو کر کیلاش کو دیکھے گی۔ بابو میچ !؟ ”ہاں بالکل چ‘ لڑکی تھوڑی دیر تک چیرت زدہ رہی ۔ پھر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ اور وہ کیلاش کے پاؤں پر گر پڑی۔ اور شکر گزاری سے پی پی Otto 32 نواۓ اردو اوررات۔ بابوی بابوہی کرے گی۔ اس کے منہ سے اور کچھ نہ نکلا۔ جی خوشی کے مارے رات کو سو نہ کی۔ ذرا ذرا دیر کے بعد اس کی آنکھ کھل جاتی تھی اور ہر بار وہ کروٹ لے کر ٹوٹے کواڑوں کی درزوں سے جانتی تھی کہ پہاڑوں کے اوپر آسان پربہ کی سفیدی تو نہیں نظر آرہی۔ آج اس کا روزانہ والا خوف کہ ہیں رات کو کوئی بھیانک شکل والی چیز اس کی کوڑی کے ٹوٹے چھوٹے دروازے سے مس کر اس کو اس کے سب بھائی بہنوں کو سوتے میں کھانہ جائے دور پہاڑوں میں چھپ گیا تھا۔ اس کے سامنے سکھ سے بھری ہوئی میت تھی اور پھر عیش و آرام سے بھرے ہوئے دن اور رات۔ رجنی نے اپنے پانچوں بھائی بہنوں پر نظر ڈالی۔ جو میلوں کے گودڑ کے پیچھے ایک دوسرے سے چھٹے ہوئے بے خبر سور ہے تھے۔ رجنی سوچ رہی تھی کہ ذرا دیر میں میج ہو جائے گی۔ اور پھر اپنے بھائی بہنوں کو لے کر پانچ سوفٹ کی چڑھائی چڑھ کر بابوی کے پاس جاؤں گی۔ پھر کیا ؟ روٹیاں ملیں گی، پنے کو بھی ملے گا اور رات کو اوڑھنے کو بھی اور ڈر سے بہت دور کی کوٹھری میں سونے کو جگہ ملے گی۔ آخریع قریب آتی گئی اور اس کے دو سال کے دبلے پتلے سوکھے ساکھے بھائی للو نے چیخ مار کر رونا شروع کردیا۔ آج رجنی نے سستی نہیں دکھائی اور جلدی سے اسے پیشاب کرالیا۔ ورنہ ہوتا تو یہ تھا کہ وہ یوں ہی دن چڑھے تک پڑا رہتا تھا اور پھر جب اس کا بستر رجنی کو بھیگا ہوا ملتا تھا تو وہ لڈو کو دھنک کر رکھ دیتی تھی۔ آج رجنی نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ اسے پیشاب کرالیا بلکہ اسے پیار بھی کیا اور بہلایا بھی۔ یہ چیز لو کے لیے کچھ اپنی جیب سی خوشی لے کر آئی کہ وہ رات بھر کی بھوک کو بھول گیا۔ اور اپنی ٹوٹی پھوٹی بولی میں باتیں کرنے لگا۔ جس وقت موتی گر کی چم کی چوٹیوں پر دھوپ کی پہلی چک نظر آتی ہے، اس وقت تک چھ بچوں کا یہ قافلہ سوفٹ پہاڑ پر چڑھ چکا تھا۔ اور بہت تھک چکا تھا۔ ہوا ٹنڈی تھی ۔ تی تھی اور خالف تھی اس وجہ سے بچوں کو خالی پیٹ اوپر چڑھنے میں بہت دشواری ہورہی تھی۔ لوئی مرتبہ رو چکا قا اور جن کے ہاتھ سے اس پر پیٹ بھی چکا تھا۔ جی نے ذرا دیر اسے گود میں بھی لیا تھا لیکن بارہ برس کی لڑکی جے پیٹ بھر کھانا نہ تا ہو کیسے دوسال کے بچے کو لے کر دور تک جاسکتی تھی اس لیے لو چل سکے یانہ چل سکے اسے چلنا تو پڑے گا ورنہ رجنی مار مار کر راستے ہی میں ختم کر دے گی۔ اس وقت تو وہ کھلی ہوئی ناگن کی طرح بکھری ہوئی تھی۔ اسے تخت کوفت تھی کہ یہ دو سال کا ہڈیوں کا ڈھانچہ، میں جہاں جاؤں یا جو کام کروں میری راہ میں حائل رہتا ہے۔ اب دیکھو اس وقت عیش و آرام کی دنیا صرف چارسوفٹ اوپر ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو میں کب کی وہاں چکی ہوتی۔ بھی 33 رجنی کا غصہ دیکھ کر لو جلو سے دوسال بڑا تھا اور منی جو چار سال بڑی تھی سے ہوئے تھے اور ہانپ ہانپ کر ایک ایک قدم آگے بڑھ رہے تھے۔ البت سی اور را مورجنی کی طرح تازہ دم تھے بلکہ ان دونوں نے بھی لو کو باری باری گود میں ذرا ذرا دیر کے لیے اٹھا لیا تھا۔ اس طرح چھوٹے چھوٹے انسانوں کا یہ چھوٹا قافلہ ڈائٹ اور مار، خوف اور آنسو، تھکاوٹ اور ہا پینے ، امیدوں اور تمناؤں کے ساتھ پچاس فٹ اوپر چڑھ گیا۔ اس جگہ رامو کو ایک چٹے کے پاس پڑا ہوا ایک دافی سیب مل گیا لیکن وہ ابھی منہ تک نہیں لے جانے پایا تھا کہ رجنی نے جھپٹ کر اسے چھین لیا اور دانت سے اس کا ایک بڑا سا کڑا کاٹ کر لو کو دیا۔ اور پھر باقی کے دوٹکڑے کر کے لو اور منی کو۔ کلو اور میں سیب کا کوڑا کھا کر پینے کا پانی پی کر تازہ دم ہو گئے اور باتیں کرنے لگے۔ كلو : ”اوپر پا اور ماں ملیں گی۔ معنی : ” نہیں - الو وہ نہیں وہ تو مر گئے۔“ dit 34 نواۓ اردو كلو : ”جو مر جاتے ہیں کیا وہ اور بھی نہیں ملتے؟ معنی : ” (بہت سنجیدگی سے) وہ کہیں نہیں ملتے۔ ہم لوگ ایک اور بیوی کے پاس جارہے ہیں جو پیا ہی کی طرح روٹی دیں گے۔ کپڑے دیں گے اور اوڑھنے کو دیں گے۔ ان دونوں کی باتیں سن کر نہ جانے کیا ہوا کہ رجنی پھل کی گئی۔ اس نے ان دونوں کو اور پھر لوکو پیار کیا اور کہا کہ اب دھیرے دھیرے اٹھتے بیٹھتے چلیں گے۔ پھر ڈھارس دینے لگی کہ اوپر پہنچتے ہی بہت کی روٹیاں ملیں گی جن میں گیہوں کی بھی ہوں گی ۔ گرم گرتے اور پیاسے ملیں گے، چائے ملے گی، سیب ملیں گے، پھر بابو جی کے ساتھ ہم لوگ ان کے دینیں چلے جائیں گے جہاں بہت آرام سے رہیں گے۔“ رجنی جس نے آج تک اس وادی کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھا تھا، پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف دیکھے گی اور سوچنے گئی کہ اس پار کی دنیا کیسی ہوگی ؟ گرمی بھی ہو، وہاں روٹیاں ہوں گی، کرتے پیاسے ہوں گے اور ایسے گھر ہوں گے جن میں ڈرنہ لگتا ہوگا۔ رجنی اب اپنے قافلے کو لے کر مزے مزے اوپر چڑھنے گی۔ جتنا جتنا اوپر چڑھتی جاتی، اس کی خوشی بڑھتی جاتی۔ جن کو معلوم تھا کہ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ پہاڑوں میں گھومنے والے دولت مند کی پہاڑی مرد یا عورت کو رکھ کر اپنے ساتھ میدان میں لے جاتے ہیں جہاں نہ برف پڑتی ہے نہ بھوک ہوتی ہے لیکن یہ بات دور دور اس کے تصور میں نہ تھی کہ میں بھی ان خوش نصیبوں میں ہوسکتی ہوں اور میرے ساتھ میرے پانی بھائی بہن بھی۔ ( سورج اوپر چڑھ رہا تھا اور رجنی بھی اپنے بھائی بہنوں کے ساتھ اوپر چڑھ رہی تھی۔ آخر ڈاک بنگلہ کی سرخ چ ت نے اپنی جھلک دکھلاہی دی۔ کیلاش چائے پی رہا تھا اور کھڑکی سے صاف ستھری ندا دیوی اور اس کے نیچے کے عظیم الشان پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا کہ اس کے نوکر نے آکر خبردی - کل والی لڑکی آئی ہے۔“ اور اس کا بچہ بھی؟“ ’’ ایک چھوڑ پانی پانی کے ساتھ ہیں۔ پانچ پانچ O بیک 35 نوکر : "جی حضور ؟ کیلاش نے باہر آ کر دیکھا تو رجنی کھڑی تھی اور اس کے گرد بہت سے چھوٹے بڑے، میلے کچیلے، چڑے چند ھے پے تاک سے مدد کر رہے تھے اور کچڑ سے لت پت آنکھوں سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے۔ کیلاش نے رجنی کے پاس جا کرخت سے جواب طلب کیا۔ سب کون ہیں؟ رجنی کیلاش کو دیکھ کر اتنی خوش ہوئی کہ اس نے اس کی نیت کی طرف ذرا بھی تو نہیں کی اور چلا کر کہنے گی۔ میں ان سب کو لے آئی، اب یہ سب آپ کے پاس رہیں گے مینی ہے، بیلو ہے، وہ رامو ہے، وہ تو ہے، وہ لی ہے۔“ کیلاش : ”سب تیرے بھائی ہیں؟ رجنی : جی ہاں، دو بھائی ہیں اور وہ نہیں ہیں۔ رجنی ذرا صاف ستھری تھی اور اس کی صورت میں ایک کشش تھی لیکن چے تو سڑی گلی چیزوں کا ڈھی معلوم ہوتے تھے ۔ ان کو دیکھ کر کیلاش کا جی متلانے لگا۔ اور کل والی رومانی فیاضی جو رات گزر جانے سے باسی ہو چکی تھی حقیقت پسندی سے بدل گئی اور کیلاش سوچنے لگا کہ جن کے ساتھ ایک بچہ ہوتا دو ہوتے تو مکن تھا لیکن اتنوں کو کیسے پالا جاسکتا ہے؟ یہ سب ہمارے چھوٹے سے گھر میں کیسے رہیں گے، ان کو کھایا اور پہنایا کہاں سے جائے گا؟ پھر یہ بہتی ہوئی اکیں، یہ کیچڑ بھری آنکھیں، یہ کوئلہ ایسے ہاتھ پاؤں، یہ اور میل ۱۲ کیلاش کی بہنیں بھی باہر نکل آئی تھیں کہ ہم بھی ذرا کنیا کے مہمانوں کو دیکھیں۔ ) وہ بولیں : بھیا ان سب کو لے چلو گے؟ کیلاش ہی سوال سن کر جھنجھلا گیا اور جان سے کہنے لگا۔ تو نے کل کیوں نہیں بتلایا کہ تیرے ساتھ اتنی بڑی فوج ہے، سب کو میں کہاں رکھ سکتا ہوں؟‘‘ یہ سن کر رجنی پر بل گر پڑی۔ اتنی بڑی مایوسی کا سامنا اس نے زندگی میں پہلی بار کیا تھا۔ اس کا چہرہ بالکل سوکھ گیا اور آنکھیں اندر ڈوب گئیں مگر منہ سے کچھ نہ نکل سکا۔ اس کے سب بھائی بہنوں کا بھی یہی حال ہوا کو تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ رجنی نے اپنی گفتونی فوج کو نفرت بھری آنکھوں سے دیکھا۔ ایسی نفرت جس کا تقاضا یہ تھا کہ ان سب کو مار ڈالو یا خودمر جاؤ۔ خود مرجاؤ۔ پانچ منٹ کے اندر اندر ہی فوج ناکامی اور نامرادی کو اپنے چھوٹے دانوں میں لے کر پسپا ہوئی لیکن کیلاش کے لیے آسان نہ 36 نواۓ اردو تھا کہ ان کو کیوں رخصت کرتا۔ اس کی کیا جو مرگئی تھی پھر کراہنے لگی اور پکارنے لگی کہ کچھ تو کرو۔ اس پار سے نجات پانے کے لیے کیلاش نے رجنی کو پکارا اور دو روپیے اس کے ہاتھ میں رکھ دیے۔ دوروپیے اس سے بہت کچھ خریدا جاسکتا ہے، رجنی اپنی فوج کو لے کر بازار کی طرف بھاگی اور ایک دوکان کے سامنے سب کو پر یاں کھانے اور کھلانے گی۔ پہلے آٹھ آنے کی پوریاں لیں، پھر آٹھ آنے کی اور لیں، پھر چار آنے کی اور لیں، پھر اور چار آنے کی ۔ اس طرح دونوں روپے ختم ہو گئے۔ لیکن نہ بھوک گئی اور نہ کھانے کی حسرت۔ دوپہر کے بعد یہ قافلہ خالی ہاتھ نیچے کی طرف تھکے دل اور تھکے پاؤں کے ساتھ اترنے لگا اور اس طرح کہ بیٹھ گیا تو اٹھنے کی ضرورت ہی محسوں کی یہ جن تاریکیوں سے نکل کے آیا تھا، شام کو ان ہی کی طرف جارہا تھا۔ سورج بھی ڈوبتا جارہا تھا اور وہ لوگ بھی اترتے جارہے تھے مگر بالکل خاموشی سے، نہ رونا، نہ ڈالتا، نہ اظہار حسرت، نہ ڈھارس گویا یہ سب بچ نہیں بوڑھے تھے، اور وہ بھی بڑی چڑے کے نہیں، گودڑ کے بنے ہوئے۔ صرف لو دو ایک بار رویا مگر رجنی کے مارنے نے اس کی بھی آواز بند کردی ۔ سورج ڈوبنے پر یہ لوگ ایہ اپنی پرانی کوٹھری میں پہنچے جہاں بھوک تھی اور سردی تھی ، خوف تھا اور ان تینوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ ا پ نے ہی تھکی ہوی تلسی نے آہستہ سے کہا۔ ” بھوک لگی ہے۔ پھر رامو نے بھی کہا چھ مٹی اور کو نے بھی ۔ دل کی امیدوں کے ساتھ پیٹ کی پریاں بھی غائب ہو چکی تھیں۔ رجنی بچوں کو اندھیرے اور بھوک اور ڈر کی آغوش میں چھوڑ کر پڑوسیوں کی دیاکا امتحان کرنے نکل کھڑی ہوئی۔ حيات الشد انصاری | لفظ وتی: بنجر برف پوش چوٹیاں : : : وہ زمین جس میں کچھ پیدا نہ ہو برف سے ڈھکی ہوئی چوٹیاں دل کو لبھانے والا not to be ولش 37 Y 》 . .. .. .. : تنگ کرنا، پریشان کرتا پانی کا سوتا حرت : کسی چیز کے نہ ملنے کا احساس پسپا : شکست، ہار غور کرنے کی بات: و به افسانہ انسان کی بنیادی ضرورتوں یعنی روٹی، کپڑا اور مکان کے مسائل کے گرد گھومتا ہے اور یہ ثابت کرتا ہے کہ بھوک مٹانے کے اس لیے کتنی مصیبت اٹھانی پڑتی ہے۔ و اس افسانے کے مرکزی کردار رجنی میں ہندوستانی عورت کی ممتا نظر آتی ہے ۔ وہ اپنی فاقہ کشی اور مفلسی کے باوجود چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ایثار اور قربانی کی مثال پیش کرتی ہے۔ سوالوں کے جواب ھے: 1۔ موتی نگر کی وادی میں داخل ہوتے ہی مسافروں کا مزاج کیوں بدل گیا؟ 2۔ رجنی کو ایسی کون سی خوشی حاصل ہوئی جس کی وجہ سے وہ رات بھر سونی کی؟ 3- پہاڑ پر چڑھتے وقت رجنی اور اس کے بہن بھائیوں کے جذبات کیا تھے؟ ۔ کیلاش نے ایسا کیا کہا جسے سن کر رجنی پچھلی سی گر پڑی؟ ملی کام و و افسانے کا مرکزی خیال بتایئے۔ اس افسانے میں ا یک محاورہ استعمال ہوا ہے ”بجلی گرنا“۔ یہ اور اس موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک یا دو جملوں میں استعمال کر کے واضح کیے۔ اس افسانے کے آخری جملے کی وضاحت کیجیے۔ و

RELOAD if chapter isn't visible.