سعادت حسن منٹو (1912 - 1955) من ضلع لدھیان، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کا تعلق کشمیر سے تھا۔ منٹو کی ابتدائی تعلیم امرتسر میں ہوئی ۔ اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ آئے۔ اسی دوران تعلیم منقطع کر کے ملازمت کرلی۔ منٹو ابتدا میں روی ادب سے متاثر ہوئے اور کئی روی کہانیوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ ترقی پسند تحریک کے آغاز میں وہ اس تحریک سے متاثر ہوئے۔ لیکن آگے چل کر وہ اس سے کنارہ کش ہو گئے۔ ابتدا میں اخبار مساوات (امرتسر) سے وابستہ رہے پھر ہفت روزہ مصور (بھی) میں مدیر کی حیثیت سے کام کیا۔ آل انڈیا ریڈیو سے بھی منسلک رہے۔ پھر فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہے۔ کئی فلموں کے لیے کہانیوں کے ساتھ مکالے اور اسکرین پر بھی لکھے۔ ملک کی آزادی کے بعد 1948 میں وہ مستقل طور پر لاہور چلے گئے۔ ’’ تماشا‘‘منٹو کا پہلا افسانہ تھا جو انھوں نے جلیاں والا باغ کے سانحے سے متاثر ہو کر لکھا۔ منٹو نے افسانہ نگاری میں موضوع اور ہیت کے کئی ایسے تجربے کے جو ان سے پہلے افسانہ نگاروں کے یہاں نظر نہیں آتے ۔ منٹو کے افسانوں کی سب سے بڑی خوبی حقیقت نگاری ہے۔ ”نیا قانون‘ ’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے علاوہ سیاہ حاشیے‘‘ کے مختصر افسانے اس بات کا ثبوت ہیں کہ منٹو نے سیاسی مسائل اور موضوعات پر بھی قلم اٹھایا۔ افسانوں کے علاوہ منٹو نے ڈراے خاکے، ادبی اور فکاہیہ مضامین تحریر کیے اور ایک ناول با عنوان بھی شائع ہوا۔ ’’‘‘ ’’سیاه حایے‘‘ ’’ شکاری عورتیں، چھندے‘‘ 'سرکنڈوں کے پیچھے‘‘ ’’ یزید‘‘ ’ٹھنڈا گوشت سڑک کے کنارے‘‘ '' رواں‘‘ ’’لذت سنگ‘‘ ’’خالی بوتلیں خالی ڈبے‘‘ ’’ نمرود کی خدائی‘ وغیرہ ان کے افسانوں کے قابل ذکر مجموعے ہیں۔ نیا قانون منگو کوچوان اپنے اڈے میں بہت عقلمند سمجھا جاتا تھا گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے بھی اسکول کا منھ بھی نہیں دیکھا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڑے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جانے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہورہا ہے استاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرح واقف تھے۔ پچھلے دنوں جب استاد منگو نے اپنی ایک سواری سے اپین میں جنگ چھڑ جانے کی افواہ کی تھی تو اس نے گاما چودھری کے چوڑے کاندھے پتھپکی دے کر مدبرانہ انداز میں پیشین گوئی کی تھی دیکھ لینا چودھری تھوڑے ہی دنوں میں اپین میں جنگ چھڑ جائے گی۔ اور جب گاما چودھری نے اس سے یہ پوچھا کہ اسپین کہاں واقع ہے تو استاد منگو نے بڑی متانت سے جواب دیا تھا۔ ”ولایت میں اور کہاں؟‘ پین میں جنگ چھڑی اور جب ہر شخص کو اس کا پتہ چل گیا تو اسٹیشن کے اڑے میں جتنے کوچوان حلقہ بنائے حقہ پی رہے تھے ، دل ہی دل میں استاد منگو کی برائی کا اعتراف کر رہے تھے اور استاد منگو اس وقت مال روڈ کی چیکیلیٹ پر تانگہ چلاتے ہوئے اپنی سواری سے تازہ ہندومسلم فساد پر تبادلہ خیال کر رہا تھا۔ ( استاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی اور اس کا سبب تو وہ یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ اس کے ہندوستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں مگر اس کے تنفر کی سب سے بڑی وجہ تھی کہ چھاونی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے گویا وہ ایک دلیل سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا۔ جب بھی وہ گورے کے سرخ و سپید چہرے کو دیکھا تو اسے تلی سی آجاتی۔ نہ معلوم کیوں وہ کہا کرتا تھا کہ ان کے لال جھریوں بھرے چہرے کو دیکھ کر مجھے وہ لاش یاد آجاتی ہے جس کے جسم پر سے اوپر کی جھلی گل گل کر جھڑ رہی ہو۔ جب کسی شرابی گورے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا تو سارا دن اس کی طبیعت مكة رہتی اور وہ شام کو اڈے میں آ کر بکی مارکہ سگریٹ پیتا یا حقے کے کش لگاتے ہوئے اس گورے کو جی بھر کر سنایا کرتا۔ بی موٹی گالی دینے کے بعد وہ اپنے سر کو ڈھیلی پڑی سمیت جھٹکا دے کر کہتا تھا۔” آگ لینے آئے تھے اب گھر کے مالک نیا قانون 19 ہی بن گئے ہیں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان بندروں کی اولاد نے۔ یوں رعب گانٹھتے ہیں گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں۔ اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا۔ جب تک اس کا کوئی ساتھی اس کے پاس بیٹھا رہتا وہ اپنے سینے کی آگ اگلتا رہتا۔ شکل دیکھتے ہو نا تم اس کی جیسے کوڑھ ہورہا ہے۔ بالکل مردار ایک روپے کی مار اور گٹ پٹ گھٹ پٹ یوں بک رہا تھا جھسے مار ہی ڈالے گا۔ تیری جان کی تم پہلے پہل ہی میں آئی کہ مطاعون کی کھوپڑی کے پرزے اڑا دوں ۔ لیکن اس خیال سے ٹل گیا کہ اس مردود کو مارنا اپنی ہتک ہے۔ یہ کہتے کہتے تھوڑی دیر کے لیے وہ خاموش ہو جاتا اور ناک کو خاکی قمیص کی آستین سے صاف کرنے کے بعد پھر پیڑ بڑانے لگ جاتا۔ قسم ہے بھگوان کی ، ان لاٹ صاحبوں کے ناز اٹھاتے اٹھاتے تنگ آگیا ہوں ۔ جب کبھی ان کا خوں چہرہ دیکھتا ہوں رگوں میں خون کھولنے لگ جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون دانون بنے تو ان لوگوں سے نجات ملے۔ تیری تم جان میں جان آجائے اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لادیں اور ان کی گفتگو سے اس کو پتہ چلا کہ ہندوستان میں جدید آئین نافذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔ وہ مارواڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے گھر جاتے ہوئے جدید آئین میں انڈیا ایکٹ کے بارے میں آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ سنا ہے پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا۔کیا ہر چیز بدل جائے گی ؟ ہر چیز تو نہیں بدلے گی مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا۔ اور ہندوستانیوں کو آزادی مل جائے گی۔ کیا بیان کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہوگا ؟ ان مارواڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں ناقابل بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا اور چا بک سے بہت بری طرح پیا کرتا تھا مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارواڑیوں کی طرف دیکھا اور اپنی بوڑھی ہوئی مونچھوں کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ اونچے کر کے گھوڑے کی پیٹھ پر بائیں ڈھیلی کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہتا چل بیٹا۔ ذرا ہوا سے باتیں کر کے دکھادے۔“ مارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینطوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسی پی کر ایک بڑی ڈکار لی اور مونچھوں کو منہ میں دبا کر ان کو چوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہاہت تیری اسی کی تیسی‘ شام کو جب وہ اڑے کو لوٹا تو خلاف معمول اسے وہاں اپنی جان پچھان کا کوئی آدی نمل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب وغریب طوفان برپا ہو گیا ،آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا۔ بہت بڑی خبر اور اس خبر کو اپنے اندر سے 20 نواۓ اردو باہر نکالنے کے لیے وہ سخت بے چین تھا۔ لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔ آدھ گھنے تک وہ پا یک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے ہے دلی کی حالت میں ملتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آرہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لا کھڑا کر دیا تھا۔ وہ اس نے قانون کے متعلق جو پہلی اپریل کو ہندوستان میں نافذ ہونے والا تھا ، اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کر کے غور وفکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیش کیا بیان کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہوگا؟ بار بار گونج رہاتھا اور اس کے تمام جسم میں مسرت کی ایک لہر دوڑارہا تھا۔ وہ بے حد مسرور تھا۔ خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک اپنی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں ، سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی بلوں میں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔ جب تو گنجا پڑی بغل میں دبائے اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو پڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا۔ ”لا ہاتھ ادھر .......... ایسی خبر سناؤں کے ہی خوش ہو جائے۔ میری اس کی کھوپڑی پر بال اگ آئیں“ اور یہ کہ کر منگو نے بڑے مزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں ۔ دوران گفتگو میں اس نے کئی مرتب تھوکنے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ہاتھ مار کر کہا تو دیکھتا رہ کیا بنتا ہے، پروں والا بادشاہ کچھ نہ کچھ ضرور کر کے رہے گا۔ استاد منگو موجودہ سوویت نظام کی اشتراکی سرگرمیوں کے متعلق بہت کچھ بن چکا تھا اور اسے وہاں کے نئے قانون اور دوسری نی چیزیں بہت پسند تھیں اس لیے اس نے ”روں والے بادشاہ کو انڈیا ایکٹ“ یعنی جدید امین کے ساتھ ملا دیا اور پہلی اپریل کو پرانے نظام میں جونی تبدیلیاں پیدا ہونے والی تھیں وہ انھیں ”روں والے بادشاہ کے اثر کا نتیجہ بھتا تھا۔ کچھ عرصے سے پشاور اور دیگر شہروں میں سرخ پوشوں کی تحریک جاری تھی۔ استاد منگو نے اس تحریک کو اپنے دماغ میں ”روں والے بادشاہ اور پھر نئے قانون کے ساتھ خلط ملط کردیا تھا۔ اس کے علاوہ جب بھی کسی سے سنتا کہ فلاں شہر میں اتنے مساز پکڑے گئے ہیں یا فلاں جگہ اتنے آدمیوں پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے تو ان تمام واقعات کو نئے قانون کا پیش خیمہ سمجھتا اور دل ہی دل میں بہت خوش ہوتا تھا۔ ایک روز اس کے تانگے میں دو بیرسٹر بیٹھے نئے آئین پر بڑے زور سے تنقید کر رہے تھے اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا۔ 21 نیا قانون جدید آمین کا دوسرا حصہ فیڈریشن ہے جو میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آیا۔ اسکی فیڈریشن دنیا کی تاریخ میں آج تک نہ سنی نہ دیکھی گئی ہے۔ سیاسی نظریے کے اعتبار سے بھی یہ فیڈریشن بالکل غلط ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ کوئی فیڈریشن ہے ہی نہیں۔ ان بیرسٹروں کے درمیان جو گفتگو ہوئی چوں کہ اس میں بیشتر الفاظ انگریزی کے تھے۔ اس سے استاد منگوصرف اوپر کے جھل ہی کو کسی قدر سمجھا اور اس نے خیال کیا ہ لوگ ہندوستان میں نئے قانون کی آمد کو برا بھتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کا وطن آزاد ہو۔ چناں چہ اس خیال کے زیراثر اس نے کئی مرتبہ ان دو بیرسٹروں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھ کر دل ہی دل میں کہا ’’ ٹوڈی پے؟‘‘ جب بھی وہ کسی کو دبی زبان میں ”ٹوڈی پہ کہتا تو دل میں محسوس کر کے بڑا خوش ہوتا تھا کہ اس نے اس نام کو جبکہ استعمال کیا ہے۔ اور یہ کہ وہ شریف آدی اور’’ ٹوڈی ‘‘ میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ اس واقعے کے تیسرے روز گورنمنٹ کان کے تین طلبا کو اپنے تانگے میں بٹھا کر مرنگ جارہا تھا کہ اس نے ان تین لڑکوں کو آپس میں یہ باتیں کرتے سنا۔ نے آئین نے میری امیدیں اور بڑھا دی ہیں۔ اگر...... صاحب اسمبلی کے ممبر ہو گئے تو کسی سرکاری دفتر میں ملازمت ضروری جائے گی ‘‘ ویسے بھی بہت سی جگہیں نکلیں گی ۔ شاید اسی گڑ بڑ میں ہمارے ہاتھ بھی کچھ آجائے ۔ ہاں ہاں کیوں نہیں۔“ وہ بے کارگریجویٹ جو مارے مارے پھر رہے ہیں ان میں کچھ تو کی ہوگی۔‘‘ اس گفتگو نے استاد منگو کے دل میں جدید آئین کی اہمیت اور بھی بڑھا دی اور وہ اس کو ای چ سمجھنے لگا جو بہت پکتی ہو۔ ”نیا قانون۔ ؟ اور وہ دن میں کئی بار سوچتا۔ لین کوئی نئی چیز اور ہر بار اس کی نظروں کے سامنے اپنے گھوڑے کا وہ نیا ساز آجاتا جو اس نے دو برس ہوئے چودھری خدا بخش سے بڑی اچھی طرح ٹھونک بجا کر خریدا تھا۔ اس ساز پر جب وہ نیا تھا جگہ جگہ لوہے کی نیکل چڑھی ہوئی کیلیں سکتی تھیں اور جہاں جہاں پیتل کا کام تھا وہ تو سونے کی طرح دمکتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی نئے قانون کا درخشاں و تاباں ہونا ضروری تھا۔ پہلی بار اپریل تک استاد منگو نے جدید امین کے خلاف اور اس کے حق میں بہت کچھ سنائگر اس کے متعلق جوتصور وہ اپنے ذہن میں قائم کر چکا تھا ، بدل نہ سکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ پہلی اپریل کو نئے قانون کے آتے ہی سب معاملہ صاف ہوجائے گا اور اس کو 22 نواۓ اردو یقین تھا کہ اس کی آمد پر جو چیزیں نظر آئیں گی ان سے اس کی آنکھوں کو ضرور ٹھنڈک پہنچ گی۔ آخر کار مارچ کے انتیس دن ختم ہوگئے اور اپریل کے شروع ہونے میں رات کے چند خاموش گھئے باقی رہ گئے۔ موسم خلاف معمول سرد تھا اور ہوا میں تازگی تھی۔ پہلی اپر میں کون سویرے استاد منگو اٹھا اور اصطبل میں جا کر تانگے میں گھوڑے کو جوتا اور باہر نکل گیا۔ اس کی طبیعت آج غیر معمولی طور پرمسردرتھی۔ وہ نئے قانون کو دیکھنے والا تھا۔ اس نے میج کے سرد دھند کے میں کئی تنگ اور کھلے بازاروں کا چکر لگایا مگر اسے ہر چیز پرانی نظر آئی۔ آسمان کی طرح پرائی۔ اس کی نگاہیں آج خاص طور پر نیا رنگ دیکھنا چاہتی تھیں مگر سوائے اس کلفی کے جو رنگ برنگ کے پروں سے بنی تھی اور اس کے گھوڑے کے سر پر جمی ہوئی تھی اور سب چیزیں پرانی نظر آتی تھیں۔ یہی کافی اس نے نے قانون کی خوشی میں 31 مارچ کو چودھری خدا بخش سے ساڑھے چودہ آنے میں خریدی تھی۔ گھوڑے کی ٹاپوں کی آواز کالی سڑک اور اس کے آس پاس تھوڑا تھوڑا فاصلہ چھوڑ کر لگائے ہوئے بجلی کے کھے، دکان کے بورڈ ، اس کے گھوڑے کے گلے میں پڑے ہوئے کشتگر و کی بھنبھناہٹ ، بازار میں چلتے پھرتے آدی ........... ان میں سے کون سی چیز کی تھی ، ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں لیکن استاد منگو مایوس نہیں تھا۔ بھی بہت سویرا ہے۔ دکانیں بھی تو سب کی سب بند ہیں ۔ اس خیال سے اسے تسلیں تھی۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچتا تھا۔ ہائی کورٹ میں نو بجے کے بعد ہی کام شروع ہوتا ہے۔ اب اس سے پہلے نئے قانون کا کیا نظر آئے گا؟ جب اس کا تانگہ گورنمنٹ کاری کے دروازے پر پہنچا تو کاٹی کے گھڑیال نے بڑی رعونت سے نو بجائے۔ جوطلبا کانچ کے بڑے دروازے سے باہرنکل رہے تھے خوش پوش تھے۔ مگر استاد منگو کو نہ جانے ان کے کپڑے میلے میلے سے کیوں نظر آئے۔ شاید اس کی وجہ تھی کہ اس کی نگاہیں آج کسی خیرہ کن جلوے کا نظارہ کرنے والی تھیں۔ تانگے کو دائیں ہاتھ موڑ کر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر انارکلی میں تھا۔ بازار کی آدھی دکانیں کھل چکی تھیں اور اب لوگوں کی آمدورفت بھی بڑھ گئی تھی۔ حلوائی کی دکانوں پرگاہوں کی خوب بھٹیڑھی ۔ منہاری والوں کی نمائشی چیز میں شیشے کی الماریوں میں لوگوں کو دعوت نظارہ دے رہی تھیں اور بجلی کے تاروں پر کئی کبوتر آپس میں لڑ جھگڑ رہے تھے۔ مگر استاد منگو کے لیے ان تمام چیزوں میں کوئی دل چھی تھی۔ وہ نئے قانون کو دیکھنا چاہتا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح وہ اپنے گھوڑے کو دیکھ رہا تھا۔ استاد منگو طبعا بہت جلد باز واقع ہوا تھا۔ وہ ہر سب کی عملی تشکیل دیکھنے کا نہ صرف خواہش مند تھا کہ تجسس تھا۔ اس کی بیوی گنگاوتی اس کی اس قسم کی بے قراریوں کو دیکھ کر عام طور پر یہ کہا کرتی۔ یا قانون 23 بھی کنواں کھودا نہیں گیا اورتم پیاس سے بے حال ہورہے ہو۔“ کچھ بھی ہو مگر استاد منگو نے قانون کے انتظار میں اتنا بے قرار نہیں تھا جتنا کہ اسے اپنی طبیعت کے لحاظ سے ہونا چاہیے تھا۔ وہ آج نئے قانون کو دیکھنے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے گاندھی یا جواہر لال کے جلوس کا نظارہ کرنے کے لیے تکه ها۔ لیڈروں کی عظمت کا اندازہ استاد منگو ہمیشہ ان کے جلوس کے ہنگاموں اور ان کے گلے میں ڈالے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے کیا کرتا تھا۔ اگر کوئی لیڈر گیندے کے پھولوں سے لدا ہو تو استاد منگو کے نزدیک وہ بڑا آدی ہے اور اگر کسی لیڈر کے جلوں میں بھیڑ کے باعث دوتین فساد ہوتے ہوتے رہ جائیں تو اس کی نگاہوں میں وہ اور بھی بڑا تھا۔ اب نئے قانون کو وہ اپنے ذہن کے اسی ترازو میں تولنا چاہتا تھا۔ انارکلی سے نکل کر وہ مال روڈ کی چمکیلی سطح پر اپنے تائے کو آہستہ آہستہ چلا رہا تھا کہ موٹروں کی دکان کے پاس اسے چھاؤنی کی ایک سواری مل گئی ۔ کرایہ طے کرنے کے بعد اس نے اپنے گھوڑے کو چا بک دکھایا اور دل میں یہ خیال کیا۔ ” چلو بھی اچھا ہوا۔ شاید چھاؤنی ہی سے نئے قانون کا کچھ پتہ چل جائے چھاونی بن کر استاد منگو نے سواری کو اس کی منزل مقصود پر اتار دیا اور جب سے سگریٹ نکال کر بائیں ہاتھ کی آخری دو انگلیوں میں دبا کر سلگایا اور اگلی نشست کے گدے پر بیٹھ گیا۔ جب استاد منگو کو کسی سواری کی تلاش نہیں ہوتی تھی یا اسے کسی بیتے ہوئے واقعے پر غور کرنا ہوتا تھا تو وہ عام طور پر اگلی نشست چھوڑ کر پچھلی نشست پر بڑے اطمینان سے بیٹھ کر اپنے گھوڑے کی باگیں دائیں ہاتھ کے گرد لپیٹ لیا کرتا تھا۔ ایسے موقعوں پر اس کا گھوڑا تھوڑا سا ہنہنانے کے بعد بڑی دی چال چلنا شروع کر دیتا تھا۔ گویا اسے کچھ دیر کے لیے بھاگ دوڑ سے چھٹی مل گئی ہے گھوڑے کی چال اور استاد منگو کے دماغ میں خیالات کی آمد بہت ستھی، جس طرح گھوڑا آہستہ قدم اٹھا رہا تھا اسی طرح استاد کے ذہن میں نئے قانون کے متعلق نئے قیاسات داخل ہورہے تھے۔ وہ نئے قانون کی موجودگی میں میرپل کمیٹی سے تانگوں کے نمبر ملنے کے طریقے پر غور کر رہا تھا۔ اور اس قابل غور بات کو آئین جدید کی روشنی میں دیکھنے کی سعی کررہا تھا۔ وہ اس سوچ بچار میں غرق تھا۔ اسے یوں معلوم ہوا جیسے کسی سواری نے اسے بلایا ہے ۔ پیچھے پلٹ کر دیکھنے سے اسے سڑک کے اس طرف دور بجلی کے کھلے کے پاس ایک گور‘‘ کھڑا نظر آیا جو اسے ہاتھ سے بلا رہا تھا۔ جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے استاد منگو کو گوروں سے بے حد نفرت تھی۔ جب اس نے اپنے تازہ گاہک کو گورے کی شکل میں 24 نواۓ اردو دیکھا تو اس کے دل میں نفرت کے جذبات بیدار ہو گئے۔ پہلے اس کے جی میں آئی کہ بالکل توجہ نہ دے اور اس کو چھوڑ کر چلا جائے مگر بعد میں اس کو خیال آیا ان کے پیسے چھوڑنا بھی بے وقوفی ہے کافی پر جو مفت میں ساڑھے چودہ آنے خرچ کردیے ہیں ان کی جیب ہی سے وصول کرنے چاہئیں ۔ چلو چلتے ہیں۔“ خالی سڑک پر بڑی صفائی سے تانگہ موڑ کر اس نے گھوڑے کو پا یک دکھا یا اور آنکھ جھپکنے میں وہ بجلی کے کھلے کے پاس تھا۔ گھوڑے کی باگیں کھینچ کر اس نے تانگہ ٹھہرایا۔ اور پچھلی نشست پر بیٹھے بیٹھے گورے سے پوچھا۔ صاحب بہادر کہاں جانا مانگتا ہے؟ اس سوال میں بلا کا طنزیہ انداز تھا۔ صاحب بہادر کہتے وقت اس کا اوپر کا مونچھوں بھرا ہونٹ نیچے کی طرف گیا اور پاس ہی گال کے اس طرف جو مدھم سی لکیر ناک کے نتھنے سے ٹھوڑی کے بالائی حصے تک چلی آرہی تھی ، ایک لرزش کے ساتھ گہری ہوگئی ۔ گویا کسی نے نوکیلے چاقو سے شیشم کی سانولی لکڑی میں دھاری ڈال دی۔ اس کا چہرہ ہنس رہا تھا اور اپنے اندر اس نے اس گورے کو سینے کی آگ میں جل کر بھسم کر ڈالا تھا۔ جب گورے‘ نے جوبلی کے لکھے کی اوٹ میں ہوا کا رخ بچا کر سگریٹ سلگا رہا تھا، مڑ کر تانگے کے پائیدان کی طرف قدم بڑھایا تو اچانک استاد منگو اور اس کی نگاہیں چار ہوئیں۔ اور ایسا معلوم ہوا کہ ایک وقت آمنے سامنے کی بندوقوں سے گولیاں خارج ہوئیں اور آپس میں ٹکرا کر ایک آتشیں گول بن کر اوپر کو اڑگئیں۔ استاد مگو جو اپنے دائیں ہاتھ سے باگ کے بل کھول کر تانگے پر سے نیچے اترنے والا تھا اپنے سامنے کھڑے گورے کو یوں دیکھ رہا تھا گویا وہ اس کے وجود کے ذرے ذرے کو اپنی نگاہوں سے چھارہا ہے اور گورا کچھ اس طرح اپنی نیلی پتلون پر سے غیر مرئی چیزیں جھاڑ رہا ہے گویا وہ استاد منگو کے اس جملے سے اپنے وجود کے کچھ حصے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گورے نے سگریٹ کا دھواں نکلتے ہوئے کہا ”جانا مانگتا یا پھر گڑ بڑ کرے گا۔“ ”وہی ہے۔ یہ الفاظ استاد منگو کے ذہن میں پیدا ہوئے۔ اور اس کی چوڑی چھاتی کے اندر ناچنے لگے۔ وہی ہے۔ اس نے یہ الفاظ اپنے منہ کے اندر ہی اندر دہرائے اور ساتھ ہی اسے پورا یقین ہوگیا کہ وہ گورا جو اس کے سامنے کھڑا تھا وہی ہے جس سے پچھلے برس اس کی جھڑپ ہوئی تھی اور خواہ مخواہ کے جھگڑے میں جس کا باعث گورے کے دماغ میں چڑھی ہوئی شراب تھی۔ اسے طوعا و کرہ بہت سی باتیں سہنا پڑی تھیں۔ استاد منگو نے گورے کا دماغ درست کر دیا ہوتا بلکہ اس کے نیا قانون 25 پرزے اڑادیے ہوتے مگر وہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر خاموش ہو گیا تھا۔ اس کو معلوم تھا کہ اس تم کے جھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پرکوچوانوں ہی پر گرتا ہے۔ استاد منگو نے پچھلے برس کی لڑائی اور پہلی اپر میل کے نئے قانون پر غور کرتے ہوئے گورے سے کہا۔ کہاں جانا مانگتا ہے؟ استادمنگو کے لہجے میں ایک ایسی تیزی تھی۔ گورے نے جواب دیا ۔ ہیرامنڈی کرایہ پانچ روپیہ ہوگا۔ استاد منگو کی مونچھیں تھرتھرائیں۔ یہ سن کر گورا حیران ہوگیا۔ وہ چلایا ” پانچ روپے؟ کیا تم ........ پانچ روپے ‘‘ یہ کہتے ہوئے استاد منگو کا داہنا بالوں بھرا ہاتھ بن کر ایک وزنی گونے کی شکل اختیار کر گیا۔ ” کیوں جاتے ہو یا بے کار با تیں بناؤ گے؟ استاد منگو کا لہجہ زیادہ سخت ہو گیا۔ گورا پچھلے برس کے واقعے کو پیش نظر رکھ کر استاد منگو کے سینے کی چوڑائی کو نظر انداز کر چکا تھا۔ وہ خیال کر رہا تھا کہ اس کی کھوپڑی پر کھیلا رہی ہے۔ اس حوصلہ افزا خیال کے زیراثر وہ تانگے کی طرف اکڑ کر بڑھا اور اپنی چھڑی سے استاد منگوکو تانگے پر سے نیچے اترنے کا اشارہ کیا۔ بی کی یہ پیش کی ہوئی پہلی چھری استاد مگو کی موٹی ران کے ساتھ دو تین مرتبہ چھوئی۔ اس نے کھڑے کھڑے اوپر سے پستہ قد گورے کو دیکھا۔ گویا وہ اپنی نگاہوں کے وزن ہی سے اسے نہیں ڈالنا چاہتا ہے۔ پھر اس کا گھونسہ کمان میں سے تیر کی طرح سے اوپر کو اٹھ اور چشم زدن میں گورے کی ٹڈی کے نے جم گیا۔ دھکا دے کر اس نے گورے کو پرے ہٹایا اور نیچے گرا کر اسے دھڑا دھڑ پینا شروع کردیا۔ ششدر و تیر گورے نے ادھر ادھر سمٹ کر استاد منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی اور جب دیکھا کہ اس کے مخالف پرودیوانگی کی کی حالت طاری ہے اور اس کی آنکھوں میں شرارے بریں رہے ہیں تو اس نے زور زور سے چلانا شروع کیا۔ اس چیخ و پکار نے استاد منگو کی بانہوں کا کام اور بھی تیز کردیا جو گورے کو جی بھر کے پیٹ رہاتھا اور ساتھ ساتھ یہ کہتا جاتا تھا۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں ....... پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑوں ۔ اب ہمارا راج ہے ہو؟“ لوگ جمع ہوگئے اور پولیس کے دو سپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کو استاد منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ استاد منگو ان دو 26 نواۓ اردو نه من - به هم || : : - . ---- :: ::: ----- - - - . - - - - - - --- .... . - ا ا : ا دا سپاہیوں کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کی چوڑی چھاتی ہم پھولی ہوئی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہورہی لی تھی منہ سے جھاگ بہہ رہا اور اپنی سکراتی ہوئی انا اور انھوں نے حیرت زدہ ھے کی طرف رکھ کر ہاتھی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا۔ ”وہ دن گزر گئے جب خلیل خاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ اب نیا قانون ہے میاں۔ نیا قانون ؟ اور بے چارہ گورا اپنے بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ بے وقوفوں کی مانند بھی استاد منگو کی طرف اب دیکھتا تھا اور بھی ہجوم کی طرف۔ استاد منگوکو پولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے۔ راستے میں اور تھانے کے اندر کمرے میں وہ نیا قانون ، نیا قانون چلاتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔ یا قانون ، نیا قانون۔ کیا یک رہے ہو۔ قانون وہی ہے پرانا؟ اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا۔ سعادت حسن منٹو not to be نیا قانون 27 . لفظ وی .. : : : .. 》 ཞི مجھداری سے بھرا ہوا سنجیدگی، بردباری گیرا، داره باہم گفتگوی آپس میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتا .. .. ༣་ .. .. སྟེ རྒྱུ .. : : نمک .. .. : .རྨི་ .. پیش خیمہ .. : : ٹوٹی بچه .. بے کیف، بے مزا اصل لفظ " ملحون“ یعنی جس پرلعنت بھیجی جائے بے عزتی نیا قانون، با دستور زمین یا جائداد کا مقدمہ کسی کام کے شروع ہونے سے پہلے ہونے والی بات یا واقعہ انگریز کی حکومت کا خوشامدی چمکتا ہوا رون، چک دار تکبر وغرور خوش لباس، اچھے کپڑے پہنے والا جھو کرنے والا، تلاش کرنے والا جس سے آنکھیں چکا چوند ہو جائیں جسے دیکھا نہ جا سکے درخشاں .. تاباں .. رعونت .. خوش پڑیں .. متجسس .. OLO .. شرمی .. : 28 نواۓ اردو هل۹ طوعاوکرہا : مجبور، چارو ناچار چشم زدن میں : پلک جھپکتے ہی ششدر : حیرت زده، مران چیرت زدہ، حیران غور کرنے کی بات: و افسانه یا قانون کا مرکزی کردار منگو کوچوان ہے۔ منگو کوچوان کے ذریے منٹو نے ایک سیدھے سادے ان پڑھ تائے والے کی سمجھ کوخوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ و یہ افسانہ اس دور میں لکھا گیا جب ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت تھی۔ انگریزوں کی ہی حکومت منگو کوچوان کو بہت ملتی تھی۔ وہ انگریزوں سے نفرت کرتا تھا اور اپنے ملک کو آزاد یکھنا چاہتا تھا۔ و اس افسانے سے معلوم ہوتا ہے کہ آزادی سے پہلے ہندوستانی عوام میں انگریزوں کے خلاف غم و غصہ تھا۔ انگریزوں نے نہ صرف حکومت کی بلکہ ہندوستانی عوام پر بہت ظلم بھی ڈھائے اور انھیں بے عزت بھی کیا۔ سوالوں کے جواب ھے: ۔ استاد منگو کون تھا اور اسے دنیا کے حالات کی خبریں کس طرح ملا کرتی تھیں؟ 2۔ منگو کوچوان انگریزوں سے کیوں نفرت کرتا تھا؟ 3۔ ”نیا قانون کے آنے کی خبر سے منگو کوچوان کیوں خوش تھا؟ Ottob و و مگو کا کردار اپنے الفاظ میں بیان کیے۔ ذیل کے الفاظ کے متضا لکھیے۔ جنگ جدید ست سرور گان پنچ لکھے اوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔ ہوا سے باتیں کرنا، خون کھولنا، جان میں جان آنا، نزلہ گرنا o |

RELOAD if chapter isn't visible.